نظم #مسدس#فیس بک اور اُس کا دھندا

فیس بک  کی  بھی  ہے  بڑی عجب کہانی

دنیا تما م ہوئی ہےاس کے پیچھے دیوانی

اس میں کون سی عجب داستاں ہے سہانی

ہر شخص ڈھونڈتا ہے اس میں اپنی کہانی

اب اس  فیس  بک  کے  بغیر ہو نہیں سکتا گزارا

بھیا جی لگواؤاچھی اسپیڈ کا نیٹ گھر میں خدارا

پاپا  دیر سے گھر آئے اپنا  لیب ٹاپ  ساتھ لائے

مُنّی نے بھیا سے کہا چپکے سے لیب ٹاپ لائے

بہت دنوں سے سوچ  رہی تھی  موقع مل جائے

جلدی جاؤ! کرنا ہے سب دوستوں سے ہلو ہائے

ملاقات کا سب سے یہ محفوظ اور معتبر سہارا ہے

ایسے کاموں میں ‘فیس بک’ کا ہی کردار سارا ہے

ابھی ‘لیب  ٹاپ’ کھولا  ہی  تھا  کہ  پکڑ گئے

پہلی ‘چوری’ تھی  ہم  اس میں  ہی جکڑ گئے

ابو کوسامنے دیکھ کرحواس ہمارے بگڑ گئے

پَوچھنے سے پہلے ہی آنسو ہمارے ٹپک گئے

ابو نے اس حالت میں کچھ  نہ کہا اور مسکرا دئے

کہا جارہے  ہیں  نانی  کے  گھر اور قدم  بڑھا دئے

دروازہ بند کرکے ہم  بہن  بھائی اندر ہوئے

جلدی سےفیس بک کھولی اور ‘اینٹر’ ہوئے

پہلے مراکش میں پھپو سے سلام پیام ہوئے

پھر اپنے دوست احباب  سے  ہمکلام  ہوئے

کسی کی تصویر دیکھ رہے تھےکسی کا سلام آرہا تھا

فیس  بک  چلانے  میں  یقین  جانئے  بڑا  مزا آرہا تھا

کافی دیر اس  کھیل  میں آنکھ  دُکھاتے رہے

کزنوں کو’ناراضگی’ کی دھونس دیتے رہے

آپا سے خوب  چیٹنگ  کے مزے  لیتے رہے

دوستوں  کے  بھی  خوب ‘لائک’ آتے  رہے

اس جھمیلے میں وقت کا تو بالکل احساس ہی نہ رہا

امی ابو کے گھر آنے کا  بھی  کوئی احساس  نہ  رہا

فیس بک کے چکر میں راتیں  گزر جاتی ہیں

اس چکر میں بنی بنائی زندگیاں اُجڑجاتی ہیں

نسلیں اپنی ‘حدود’ کا  تَعَیُّن نہیں کر پاتی ہیں

عقلیں بھی اپنے ٹھکانے پر نہیں رہ پاتی ہیں

جنون فیس بک کا لوگوں کے سروں سے جاتا نہیں

فیس بک کے علاوہ  اب دلوں میں کوئی سماتا نہیں

اب  رُخ  فیس  بک  کا  دوسرا بھی  دیکھ لو

ہر کوئی  اپنوں  سے  مل  لیتا  ہے  دیکھ لو

ہوتا ہے ہر چیز کا  دوسرا  بھی پہلو دیکھ لو

کوئی برا نہیں زمانے میں اپنے سوا دیکھ لو

فیس بک  بڑی سہولت  ہے  جدید  زمانے کی

ضرورت ہے اس کو طریقے سے آزمانے کی

فیس بک پرتصویر لگائے بغیر بھی کام چل سکتا ہے

اپنی جھوٹی شہرت جتائے بغیر بھی کام چل سکتا ہے

ہوٹل میں سیلفی کھنچائے بغیر بھی کام چل سکتا ہے

کسی غریب کا دل دکھائے بغیر بھی کام چل سکتا ہے

اس طرح  لوگ فیس بک میں اپنی جھوٹی شان دکھاتے ہیں

اس جھوٹی شان سے  بے چارےغریبوں کا دل دکھاتے ہیں

اخلاق سے  گِرے  ہیں  کرم  ان  کے  برے  ٹھہرے  ہیں

دنیا میں تو ہیں  ہی وہ آخرت میں بھی مجرم ٹھہرے ہیں

دلوں کو جوڑتے ہیں جو آخرت  میں  کامیاب  ٹھہرے ہیں

بلاوجہ فیس بک کے چکر میں تمام بہت بد نام ٹھہرے ہیں

فیس بک پر اگر گھنٹوں راز و نیاز کی فضول باتیں کی جا سکتی ہیں دوستو

پھر فیس بک پر  پہروں “نیکی کی دعوتیں” بھی دی جا سکتی  ہیں  دوستو

خرافات سے کیا مطلب  وہ کام کرو جس سے کام بنتا ہے

فیس بک پر خوب  تعلقات بڑھاؤ ! اس سے کام نکلتا  ہے

اگر نیت ہو سچی تواسلام کے پرچار کا بھی ٹائم نکلتا  ہے

اس طرح اچھے لوگوں کے آنے سے بھی ماحول بنتا ہے

اگر دن رات  نیکی کی دعوت  فیس  بک پر یوں چلتی رہے گی

میں دنیا کی بات نہیں کرتا،پاکستانی عوام تو سنبھلتی رہے گی

فیس بک  کو جس طرح  یہ  ‘جال’ کے طور پر استعمال  کر رہے  ہیں

زیادہ تر رب  تعالیٰ کی بجائے  بھروسا  اپنی ہی عقول  پر کر رہے ہیں

اخلاق  یہ ‘مسلم دنیا’ کے  ہی  خراب  کرنے  کی کوشش  کر رہے  ہیں

شیشے کا گھر ہے دنیا!اس کو چکنا چور کرنےکی کوشش کررہے ہیں

اس فیس بک کے چکرمیں نقصان ان مفاد پرستوں کا ہی ہو رہا ہے

پاکستان کا ‘بچہ بچہ’تو سونا ہےآگ میں تپ کے کندن ہی ہو رہا ہے

یا رب !تو نے اپنے کرم سےپاکستان دیا ہے جس مقصد کیلئے

یا رب!پاکستان کے بچے بچےکو جوہر بنادے اُس مقصد کیلئے

نئی ٹیکنا لوجی وقت کی شدید ضرورت بنادے اِس مقصد کیلئے

ہرپاکستانی بچےکو جدید’علم و ہنر’سکھلا دے اِس مقصد کیلئے

یا رب !سکندر ؔ کی یہ التجا ہے کہ غزوہ ہند  سے پہلے مسلمان متحد ہو جائیں

جدید  ٹیکنا لوجی کے ذریعے ساری دنیا پر قبضہ  پانے کیلئے مستعد  ہو جائیں

سکندرؔ

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s