تندرستی ہزار نعمت ہے

انسانی جسم ہو بہو ایک مشن کی مانند ہے۔ اگر کسی مشین کا ایک پرزہ خراب ہوجائے تو ساری مشین خراب ہوجاتی ہے۔ اسی طرح اگر ہمارے جسم کا کوئی حصہ کسی وجہ سے تندرست نہ رہے تو جسم کے سارے اعضابری طرح متاثر ہوتے ہیں۔

تندرستی ایک بیش قیمت دولت ہے۔ کتنے خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اس دنیا میں صحت اور تندرستی کی نعمت سے مالا مال ہیں۔ ایک غریب آدمی صحت مند ہے تو  اس کی اچھی صحت خود ایک بہت بڑی دولت ہے۔ دولت مند آدمی اگر تندرست نہیں تو اس کی دولت اور خوشحالی بے فائدہ ہے۔ دوسرے الفاظ میں تندرستی مال دولت سے زیادہ افضل ہے۔ دین ودنیا کی کامیابی وکامرانی کیلئے جسمانی صحت کا ہونا اشد ضروری ہے۔ بیمار  آدمی کی روح بھی بیماری ہوتی ہے اور وہ دنیا کا کوئی بھی کام دل جمعی سے نہیں کرسکتا۔ زندگی میں بعض کاموں کیلئے جسمانی طاقت کی ضرورت ہوتی ہے اور بعض کاموں کیلئے ذہنی قوت درکار ہوتی ہے۔ بیمار  آدمی ان دونوں قوتوں سے محروم ہوتا ہے۔

بیمار آدمی نہ اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے اور نہ ہی بنی نوح انسان کیلئے کوئی مفید کام سر انجام دے سکتا ہے۔ جن لوگوں نے بھی اس دنیا میں کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں وہ ذمین ہونے کے ساتھ ساتھ صحت مند اور توانا بھی تھے۔ دنیا کے بڑے بڑے مفکر ، قومی مشاہیر ، عالمگیر شہرت رکھنے والے فاتحین ، بینالاقوامی شہرت رکھنے والے فلسفی اور سائنس دان جسمانی اور ذہنی صحت کے بل بوتے پر ہی اس رتبے کو پہنچے۔

جوشخص مسلسل بیمار رہتا ہے وہ اپنے آپ سے بہت بیزار ہوجاتا ہے۔دنیا کی کوئی نعمت بھی اسے اچھی نہیں لگتی ۔ زندگی اس کیلئے وبال بن جاتی ہے۔ چار پائی  پر مسلسل لیٹے رہنے سے طبیعت میں چڑچڑاپن آجاتا ہے۔ شب وروز بدمزہ اور کڑوی دوائیں پینا پڑتی ہیں۔ زندگی کی زنگینیوں سے اسے نفرت ہوجاتی ہے۔ وہ عمدہ اور مزیدار غذاؤں سے لطف اندوز نہیں ہوسکتا ۔ گھر والے بھی اس کی بیماری سے عاجز آجاتے ہیں۔ بعض لوگ تو تیماردار سے عاجز آکر مریض کی موت کیلئے دعائیں مانگنا شروع کردیتے ہیں۔ بعض بیمار اپنی زندگی سے اس قدراکتا جاتے ہیں کہ وہ اپنے ہاتھوں اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیتے ہیں۔ صحت ایک عظیم نعمت ہے، ہمیں اس نعمت کی قدر کرنی چاہئے ۔ جو بھی اس نعمت کی قدر نہیں کرتا وہ نا شکرا اور احسان فراموش ہے۔ یہ بات تو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ صحت دولت سے خریدی نہیں جاسکتی اور اگر صحت قیمتاََ بک رہی ہوتی تو دولت مند کبھی بیمار نہیں پڑتے۔

صحت قائم رکھنے کیلئے سب سے ضروری چیز مناسب غذا ہے۔ غذا انسانی جسم کیلئے ایندھن کی حیثیت رکھتی ہے۔ انسان کی اکثر بیماریاں غلط اسے پیدا ہوتی ہیں۔ زیادہ کھانے سے بھی اجتناب کرنا چاہئے کیونکہ ثقیل اور مرغن غذائیں بھی صحت کو تباہ کر دیتی ہیں۔ اس لئے غذاہ ہمیشہ سادہ اور خالص کھانی چاہئے۔ کھانا ہمیشہ بھوک رکھ کر کھانا چاہئے۔ وہ لوگ جو سیر ہونے سے پہلے ہی کھانے سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں وہ بہت کم بیمار ہوتے ہیں۔ بری صحبت اور بداطوار لوگوں کی دوستی بھی صحت کیلئے نقصان دہ ہوتی ہے۔ صحت مند رہنے  کیلئے اچھے انسانوں کی صحبت میں رہنا ضروری ہے۔ خوش رہنے سے بھی انسانی صحت پر اچھا اثر پڑتا ہے۔ صبح سویرے اٹھنا عمر اور صحت کیلئے ضروری ہے۔ غلیظ دانتوں سے معدہ خراب ہوجاتا ہے، اس لئے دانتوں کی صفائی بھی صحت قائم رکھنے کیلئے ضروری ہے۔

٭٭٭

میری پسندیدہ شخصیت

قائداعظم محمد علی جناح ۲۵ دسمبر ۱۸۷۶ءکوکراچی میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام جناح پونجا تھا اور کراچی میں کاربار کرتے تھے۔ محمد علی جناح نے میڑک کا  امتحان ۔ ‘سندھ مدرستہ العلوم ہانی اسکول ’ سے ۱۸۹۳ء میں سولہ سال کی عمر میں پاس کیا ۔ ۱۸۹۳ میں اپنے والد کے دوست سر فریڈک کراف کے مشورے سے انہیں بیزسڑی کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے  لندن بھیج دیا گیا۔ آپ نے ۵ جون ۱۸۹۳ میں بیرسڑی کا امتحان پاس کرکے وطن واپس آئے۔ اس دوران قائداعظم نے سیاست میں دلچسپی لینا شروع کردی۔ وہ برطانیہ کے درالعلوم میں برطانیہ کے بڑے بڑے سیاسی رہنماؤں کی تقریریں اکثر سنا کرتے تھے۔

۱۸۹۶ ء میں وطن واپس آئے اور کراچی میں پریکٹس شروع کردی ۔ اگلے سال بمبئی تشریف لے گئے اور بہت جلد چوٹی کے وکیلوں میں شمار ہونے لگا۔ ۱۹۰۰ء بمبئی کے پریذیڈنسی  مجسٹریٹ مقرر ہوئے۔ یہ ملازمت ختم ہونے کے بعد انہیں پندرہ سو روپے ماہوار تنخواہ پر ایک اعلیٰ ترین سرکاری  عہدہ پیش کیا گیا لیکن انہوں نے یہ عہدہ قبول نہ کیا اور کہا کہ میں جلد ہی اس قابل ہوجاؤں گا کہ پندرہ سو روپے ایک دن میں کمانے میں لگوں گا۔

قائداعظم نے ۱۹۰۶ ء میں سیاست میں سرگرم حصہ لینا شروع کیا اور انڈین نیشنل کانگریس میں شامل ہوگئے۔ اسی سال کلکتہ میں کانگریس کا جلسہ شروع ہوا تو مسٹر جناح نے وہاں بڑے زور کی تقریر  کی ۔ اس زمانے میں کانگریس میں دادا بھائی نوروجی اور مولانا محمد علی جوہر جیسے بڑے بڑے لوگ شامل تھے۔کانگریش میں کئی سال تک انتھاک کام کرنے کے بعد جب قائداعظم نے دیکھا کہ ہندوسیاست دان بظاہر تو قوم کے نعرے لگاتے ہیں لیکن کام وہ کرتے ہیں جن سے صرف ہندوؤں کو فائدہ پہنچتاہے اور کانگریس ایک ہندو نواز جماعت ہے اور اس کی سیاسی حکمت عملی سے ہندوستانی مسلمانوں کو نقصان پہنچ رہا ہے اور وہ مسلمانوں کے حقوق و مطالبات کو نظر انداز کر کے ہندوستان میں ہندراج قائم کرنا چاہتی ہے ، اس نتیجے پر پہنچ کر قائداعظم نے بر صغیر کے مسلمانوں کو منظم  کرنے کی کوشش تیز کردیں۔ ۱۹۲۷ء میں انہوں نے آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس کلکتہ میں صدارت کی اور نئے عزائم کے ساتھ ملی جدوجہد کا  آغاز کیا۔ ۱۹۲۸ء میں دہلی کے مسلم لیگ کے اجلاس میں نہرور پورٹ کے جواب میں اپنے مشہور چودہ نکات کا اعلان کیا جس میں برصغیر کے مسلمانوں کے سیاسی مطابات کا تعین کیا گیا ، آپ کی کوششوں میں مسلم لیک کی آواز ہندوستان کے گوشے گوشے میں پہنچ گئی اور مسلمان اس جماعت کے پرچم کے تلے متحد ہونا شروع ہوگئے۔

قائداعظم کی ولولہ انگیز قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے اتحاد ، تنظیم کا سبق سیکھا اور ہندوستان کے گوشے گوشے میں یہ آواز گونجنے لگی کہ مسلمان اپنی مخصوص تہذیب اور معاشرتی اقدار کے لحاظ سے ایک الگ قوم ہیں، اس لیے برصغیر میں مذہبی روایات کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے انہیں ایک الگ خطہ زمین ملنا چاہیے، آخر یہ آواز پوری قوم کی آواز بن گئی اور ۲۳مارچ ۱۹۴۰ کو لاہور کے ایک عظیم الشان اجلاس میں ‘قراردادپاکستان’متفقہ طور پر منظور ہوئی ۔ اس قرارداد سے ہندو اور انگریز تلملا اٹھے ، مخالفت کی تندوتیز ہوائیں چلیں ، مصائب کے طوفان اٹھے مگر قائداعظم مخالف کے ان طوفانوں کے مقابلے میں ڈٹے رہے، آخر مارچ ۱۹۴۷ ء میں حکومت برطانیہ اور ہندو کانگریس اسے ماننے پر مجبور ہوگئے ، ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو حکومت برطانیہ نے پاکستان کے نام سے ایک الگ مملکت کے قیام کا اعلان کردیا۔ اب قائداعظم  محمد علی جناح اس پاکستان کے جو کسی زمانے میں ایک خواب کا درجہ رکھتا تھا لیکن جسے وجود میں لانے کے لیے انہوں نے جان توڑ کوششیں کیں ، سربراہ بن گئے ، بڑھاپے میں بھی قائداعظم پاکستان کی خدمت نوجوانوں کی طرح کرتے رہے، رات دن کام کرنے سے آپ کی طبیعت خراب رہنے لگی، آخر ۷۲ سال کی عمر میں ۱۱ ستمبر ۱۹۴۸ء کو آپ نے جان جانِ آفرین کے سپرد کردی ، آپ کا عظیم الشان مقبرہ کراچی میں ہے۔

قائداعظم ایک قادر الکلام مقرر،بے مشل قانون دان اور سیاست وتدبر میں لاثانی تھے، آپ کا عزم ایک پہاڑ ، آپ کے اقدامات ٹھوس اور باوقار ، اپنا نصیب العین سب سے زیادہ عزیز ، اسی نصب العین کے حصول کی جدوجہد میں جئے اور اسی کے استحکام کے لئے  مرے ، آپ جیسے جلیل القدررہنماروز روز پیدا نہیں ہوتے،آپ کا نام دنیا کی تاریخ میں صف اول کے سیاسی رہنما کی حیثیت سے ہمیشہ زندہ رہے گا۔

٭٭٭

آج کے دور میں کمپیوٹر ایک بنیادی ضرورت بن چکا ہے

گزشتہ صدی کی سب سے بڑی اور اہم ایجاد کمپیوٹر ہے۔ یہ ایسی ایجاد ہے جس نے کم ہی عرصہ میں انسانی سوچ کو وسعت اور بلندی عطا کی ۔ آج کمپیوٹر ہر ایک کی اہم ضرورت ہے جس سے انکار نہیں کیا سکتا۔

ترقی یافتہ ممالک میں کمپیوٹر کے بغیر تو زندگی کا تصور ممکن نہیں کیونکہ یہ زندگی کے ہر شعبہ میں استعمال کیا جاتا ہے بلکہ یہ کہا جاتا ہے کہ اگر کسی چیز کو زیادہ بہتر شکل دینی ہو تو کمپیوٹر سے منسلک کردیں۔ اسی لیے آج کے دور میں بینکوں سے لے کر ذرائع آمدورفت تک کمپیوٹرائز ہوچکے ہیں۔

یہی نہیں بلکہ بڑے بڑے اسپتال ’ اسٹورز’ بے شمار ادارے کمپیوٹر سے بڑے ہیں۔ کمپیوٹر ایسی ایجاد ہے جس نے وقت کو انسان کے اختیار میں کردیا ہے۔ ہر کام بغیر کسی رکاوٹ کے فوراََ  ہی  انجام دینا کمپیوٹر کا کام ہے۔ اسی کی وجہ سے دنیا گلوبل ولیج بن گئی ہے جہاں زمانے بھر کی خبر لمحوں میں ملتی ہے۔ ہر پیغام فوراََ موصول ہوجاتا ہے ۔ یہ معلومات کا ایسا بحر بیکراں ہے جس کانہ کوئی ساحل ہے نہ کنارہ جہاں ہر چیز کے فائدے ہوتے ہیں۔ وہاں اس کے نقصانات بھی ہیں۔ اس کا بھی ایک تاریک پہلویہ ہے کہ کچھ لوگ کمپیوٹر کو صرف کھلونا یعنی کھیلنے کی چیزیا ذہنی عیاشی کا ذریعہ سمجھتے ہیں یا کمپیوٹر پر کھیلتے رہتے ہیں  یا پھر غیر اخلاقی مواد دیکھتے رہتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اسے مثبت طریقے سے استعمال کیا جائے ۔ منفی طور پر نہیں کیونکہ وہ صرف تباہی و بربادی کی راہ ہے۔

٭٭٭

ایک یادگار دلچسپ سفر

پچھلے سال کی بات ہے ہمیں اسکول سے موسم گرما کی چھٹیاں ملی تھیں۔میں نے اور میرے بہن بھائیوں نے ایک روزابا حضور سے خالہ جان کے ہاں کوئٹہ جانے کی فرمائش کی ۔ اباجی کہنے لگے‘تم لوگ تیاری کرو،انشاء اللہ پرسوں جمعہ کو علی الصباح روانگی ہوگی’۔ ابا جان کی زبان سے یہ خوشخبری سن کر ہم سب خوشی سے اچھل پڑے۔تیاریاں شروع ہوگئیں اور ہم لوگ بڑی بےتابی سے جمعہ کا انتظار کرنے لگے۔

خدا خدا  کر کے جمعہ کا دن آیا۔ ہم چاروں بہن بھائی منہ اندھیرے اٹھ بیٹے۔ خوشی سے ہمارے پاؤں زمین پر نہیں پڑتے تھے۔ ہم نے نہادھو کر کپڑے تبدیل کئے ، ناشتے سے فارغ ہوکر اپنے اپنے بیگ اٹھائے ہوئے کار کے پاس آگئے، ڈرائیور نے ہمارا سامان ڈگیء میں رکھا اور اٹیچی کیس کار کے اوپر باندھ دیا۔اتنے میں ابا جان بھی آگئے، اباجان ڈرائیور کے ساتھ اگلی سیٹ پر اور ہم چاروں بہن بھائی کارکی پچھلی سیٹ پر جیسے ہی بیٹھے ڈرائیور نے کا اسٹارٹ کی اور ابا جی کا اشارہ پاکر روانہ ہوگیا۔

ہم کراچی کی پر ہجوم سڑکوں سے کزر کرہائی وے پر آچکے تھے۔ ہماری کار فراٹے بھرتی ہوئی کوئٹہ کی طرف اڑی جارہی تھی۔ راستے کے درمیان اور پہاڑی مناظر سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ہم دس بجے کے قریب خضدار پہنچ گئے۔ ایک صرف ستھرے ہوٹل کے سامنے کار ایک جھٹکے سے رک گئی اور ہم چائے پینے کیلئے نیچے اترے۔ چائے بڑی لذیذ اور خوش ذائقہ تھی ۔ چائے پی کر جیسے ہی کار کی طرف  بڑے،اچانک چھوٹے بھائی کی نظر کار کی چھت پر پڑی ۔ وہ بے اختیار چلایا۔ اباجی ، اباجی !! اٹیچی کیس کہاں گیا؟؟ اباجی نے گبھرا کر کار کی چھت پر دیکھا۔ واقعی اٹیچی کیس غائب تھا۔ ہم سب اس نا گہانی  افتاد  سے سخت پریشان ہوئے کیونکہ اٹیچی کیس میں گرم کپڑے کے دودو جوڑے ، سویڑ تولئے بھی تھے۔ اباجی نے اچھی خاصی رقم بھی اس میں رکھ لی تھی ۔ اباجی کا خیال تھا کہ کسی جگہ پر سڑک کی موڑتیزے سے کاٹتے ہوئے اٹیچی کیس کار سے گر گیاہے۔ لہٰذا چند میل پیچھے چلنا چاہئے، شاید مل جائے۔

ڈرائیور نے یوٹرن لیا اور ہم الٹے پاؤں خضدار سے اتھل کی طرف روانہ ہوگئے ۔ ہم نے کوئی دس  میل کی مسافت طے کی ہوگی کہ ایک جگہ ہم نے لوگوں کا مختصر ہجوم دیکھا۔ ابا حضور نے کار روکنے کا اشارہ کیا ۔ ان کا خیال تھا کہ شاید کوئی حادثہ ہوگیا ہے۔ لیکن جب کار سے اتر کر دیکھا ایک بوڑھا لوگوں کی بھیڑ میں ہمارا اٹیچی کیس سامنے رکھے بیٹھا ہوا تھا اورلوگوں سے کہہ رہا تھا کہ ‘یہ اٹیچی کیس مجھے سڑک پر پڑا ملا ہے ۔ معلوم نہیں کس کا ہے۔ کاش ! مجھے اس کا مالک مل جائے اور اس کی امانت کو اس کے حوالے کر کے خدا کے ہاں سر خرو ہو جاؤں’۔

اپنے  اٹیچی کیس کو سامنے دیکھ کر ہماری خوشی کا کوئی ٹھکانا نہ تھا۔ ابا جان نے اس بوڑھے آدمی سے کہا ‘ بابا جی ! یہ اٹیچی کیس ہمارا ہے۔ ہم کراچی سے آئے ہیں اور کوئٹہ جارہے ہیں ، خضدار پہنچ   کرہمیں  معلوم ہواکہ ہمارا اٹیچی کیس کہیں راستے میں گر گیا ہے۔ ہم اس کی تلاش میں واپس الٹے پاؤں آئے ہیں ’۔یہ بات سن کر بوڑھا بہت خوش ہوا۔ کہنے لگا ‘ٹھیک ہے! آپ کی امانت ہے لے لیں۔ مگر بیٹا مجھے کیسے  یقین آئے کہ یہ اٹیچی کیس آپ کا ہے؟ ‘ اس پر ابا جان نے اٹیچی کیس میں موجود تمام چیزوں کی تفصیل بتائی۔ چنانچہ جب  اٹیچی  کو کھول کر دیکھاگیا تو ابا جان کے بیان کی تصدیق ہوگئی ، بوڑھے نے اٹیچی کیس ہمارے حوالے کردیا۔ اباجان نے بوڑھے کا شکرادا کیا اور بوڑھے کی خدمت میں ہزار روپے بطور انعام پیش کئے ۔ لیکن اس نے قبول کرنے سے صاف انکار کردیا اور کہنے لگا‘میں نے اپنا فرض ادا کیا ہے ، انعام کس بات کا؟’

اس پریشانی سے نجات پانے پر ہم نے اللہ کا شکرادا کیا۔

٭٭٭

طلبہ کے لیے وقت کی اہمیت ؍ وقت کی پابندی

ہے آج رخ ہوا کا موافق تو چل نکل

کل کی کسے خبر ہے کدھر کی ہوا چلے

کسی کام کو وقت مقررہ پر سر انجام دینا پابندی وقت کہلاتا ہے۔ دنیا میں کامیاب زندگی بسر کرنے کیلئے ضروری ہے کہ آدمی وقت کا پابند ہو۔ حاکم ہویا محکوم ، آقا ہویا غلام ، امیر ہویا غریب ، تاجر ہویا کاشتکار ، یہ سب وقت کی پابندی کر کے ہی اپنے مقاصد میں کامیاب ہوتے ہیں ۔ اس کے برعکس چند لمحوں کی تاخیر انسان کیلئے ناقابل تلافی نقصان کا باعث بنتی ہے۔ مشہور فاتح نپولین کا جرنیل میدان جنگ میں چند منٹ دیر سے پہنچا جس کے نتیجے میں اسے شکست فاش ہوئی ۔ اس تاخیر کی سزانپولین کو ساری عمر بھگتنی پڑی اور بڑے بڑے نقصانات سے دوچار ہونا پڑا۔

دولت سے ہر چیز خریدی جا سکتی ہے لیکن گزرے ہوئے وقت کے لمحات کسی قیمت پر بھی واپس  نہیں لائے جاسکتے۔ جس ہوا کا گزرا ہوا جھونکا دریا کا بہتا ہوا پانی ، کمان سے نکلا ہوا تیر واپس نہیں آسکتا اسی طرح وقت کا واپس آنا بھی ممکن نہیں ۔ مظاہر قدرت وقت کی پابندی کا درس دیتے ہیں۔ چاند اور سورج کا وقت مقررہ پر طلوع و غروب ہونا بھی وقت کا پابند ہے۔ اگر چاند ، سورج اور دیگر اجرام فلکی وقت کے پابند نہ ہوں تو دنیا کا نظام درہم برہم ہوجائے۔اسی طرح موسم کا تغیر و تبدیل بھی نظام قدرت کا ایک حصہ ہے۔اگر موسموں کی تبدیلی وقت پر عمل میں نہ  آئے تو فصلوں کا اگنا اور پکنا پھلوں کی مہک اورپھولوں کی خوشبونا ممکن ہوجائے ۔ گرمی سردی ، بہار اور   خزاں کا تصور بھی ختم ہوکر رہ جائے۔ اسلام کے تمام ارکان جیسے نماز ، روزہ ، حج وغیرہ بھی ہمیں وقت کی پابندی کا درس دیتے ہیں ۔ موذن وقت مقررہ اذان دے کر ہمیں نماز کی طرف بلاتا ہے۔ ہم مقررہ وقت پر نماز ادا کرتے ہیں ۔ اسی طرح ہم مقررہ دنوں میں ایک دیئے گئے  نظام الاوقات کے تحت روزے رکھتے ہیں کیا مجال کوئی ایک لمحہ پہلے افطاری کرے۔اسی طرح حج کے لئے بھی ایک خاص وقت مقرر ہے ۔ اللہ تعا لیٰ کو بھی وقت کی پابندی بہت پسند ہے۔

کسی  مفکر نے سچ ہی کہا ہے کہ وقت انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ اگر انسان ذرا بھی غفلت سے کام لے اور اپنے کاموں میں وقت کی پابندی کا خیال نہ رکھے تو یہی وقت اس کی زندگی کو تباہ  برباد کر دیتا ہے۔ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا ، یہ دبے پاؤں گزر جاتا ہے جو شخص آگے بڑھ کر وقت کا دامن تھام لیتا ہے اور اس کے لمحات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔ وہی اپنی زندگی میں کامیاب ہے اور جو وقت کی قدر نہیں کرتے وہ ہمیشہ ذلیل و خوار ہوتے ہیں۔

قوموں کی ترقی کیلئے وقت کی پابندی اور زیادہ ضروری ہے۔ مغربی اقوام جوز راعت  ، تجارت ، صنعت ، وحرفت ، سائنس ، طب اور دوسرے علوم میں ہم سب سے بہت آگے ہیں ان کو یہ مقام وقت کی پابندی سے ملا ہے ۔ ان کے برعکس جن قوموں نے وقت کی پابندی نہیں کی ہے اور اس کی قدر اور قیمت کو نہیں پہنچانا وہ زندگی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ گئی ہیں۔

طلبہ  کیلئے وقت کی پابندی  نہایت ضروری  ہے۔ اگر ایک طالب علم صبح سویرے وقت مقررہ پر اٹھتا ہے وقت پر اسکول جاتا ہے ، پڑھائی محنت اور باقاعدگی سے کرتا ہے، وقت پر کھیلتا ہے اور وقت پر سوتا ہے تو اس کی صحت بھی اچھی رہتی ہے اور وہ تعلیم میں بھی ترقی کرتا ہے۔ اس کے برعکس جو طالب علم وقت کا پابند نہیں ، وہ امتحان میں کبھی بھی نمایاں کی کامیابی حاصل نہیں کرتا۔

٭٭٭

ضرورت ایجاد کی ماں ہے

انسان کے مطابق سائنس دانوں کا یہ نظریہ ہے کہ وہ ہزار ہا سال سے ترقی کی شاہراہ پرگا مزن ہے ۔ انسان کا ابتدائی دور جسے تاریخ میں پھتر اور دھات کا زمانہ کہا گیا ہے بلکہ اسے بھی بہت  پہلے کا زمانہ ، یہ تصور پیش کرتا ہے کہ ایک ننگ دھڑنگ انسان کی شکل کا حیوان اس دنیا میں نظر آتا ہے جس نے ستر پوشی کیلئے درخت کی چھال پہن رکھی ہے ، جو غاروں میں رہتا ہے اور جنگل کے پھلوں سے پیٹ بھرتا ہے ۔ جو چاند ، سورج ، دریا ، پہاڑ اور دیگر مظاہر قدرت کی پر ستش کرتا ہے ۔ یہی وحشی انسان آج کے انسان کا جدا مجد تھا۔

جوں جوں زمانہ گزرتا گیا انسان مہذب ہوتا گیا۔ رہائش کیلئے غاروں کے بجائے اس نے کھلے میدانوں میں چھپر ڈال دیئے ۔ خوراک کیلئے اناج اگانا شروع کیا۔ پھتر اور دھات سے اوزار اور آلات حرب بنائے ۔ جانوروں کی کھالوں سے لباس کا کام لیا۔ اس کے بعد اس نے کچھ اور ترقی کی اور اس کی ضرورتیں بڑھنے لگیں اور ان ضروریات کو پورا کرنے کیلئے وہ ایجادات بھی کرتا رہا ۔ گھاس پھوس کے چھپر سے اس نے کچھ اور ترقی کی اور اس کی ضرورتیں بڑھنے لگیں اور ان ضروریات کو پورا کرنے کیلئے وہ ایجادات بھی کرتا رہا۔ گھاس پھوس کے چھپر سے کچے مکانات بنے اور پھر کچے مکانوں سے پکے مکان ، پھر سر بفلک عمارتیں اور شاندار بنگلے تعمیر ہوئے ۔ انسان نے کپاس کاشت کی اور روئی سے لباس تیار کیا۔ موسم سرمامیں جب گرم کپڑوں کی ضرورت ہوئی تو وہ مختلف جانوروں کی اون کو کام میں لایا اور ان سے گرم کپڑے بنالئے۔اسی طرح جب اسے اپنی دولت اور امارت کے مظاہرے کا شوق ہوا تو اس نے ریشمی ملبوسات تیار کئے اور پہنے۔ وہ کچی سبزیوں اور پھلوں پر گزارا کرتا تھا، پھر ابلے ہوئے کھانے استعمال کرنے لگا اور جب وہ ان سے بھی اگتا گیا تو کھانوں میں طرح طرح کے مصالحے استعمال کرنے لگا۔ پھر بیسیوں قسم کے حلوے ، سینکڑوں قسم کی مٹھائیاں بننے لگیں ۔ شروع شروع میں گائے ، بھینس کا دودھ و افر مقدار میں مل  جاتا تھا۔لیکن ایسا وقت بھی آتا تھا کہ گائے یا بھینس دودھ دینا کردیتی تھی ۔ علاوہ ازیں جنگلوں ، پیاڑوں ، صحراؤں اور سمندری سفر میں یہ مویشی  مہیا بھی نہیں ہوتے تھے ۔ انسان نے دودھ کی ضرورت  کو پورا کرنے کے لئے دودھ کو خشک کرنے کی ضرورت ایجاد کی اور ڈبوں میں بند کر کے سفر و حضر میں اپنے پاس رکھا جہاں اور جس وقت ضرورت ہوا سے استعمال کرے ۔

اسی طرح انسان نے جب ترقی کی کچھ اور منازل طے کیں تو سامان آرام و آسائش ، روزمرہ استعمال کی اشیاء اور آلات حرب میں ہزارہا ایجادات ہوئیں ۔ اس نے اپنا دل بہلانے کیلئے موسیقی کے معمولی ساز بنائے اور پھر ان سازوں سے ہار مونیم ، پیانو، ستار اور سارنگی بنے جو ترقی کرتے کرتے ریڈیوٹیلی و یژن اور سی ڈیز کی شکل اختیار کر گئے ، پہلے انسان مٹی کے برتن استعمال کرتا تھا، جب اس کے بنانے اور روز روز ٹوٹ جانے میں دقتیں محسوس ہوئیں تو چینی ، پیتل ، تابنے کے برتن بنالئے۔ پھر انسانی طبائع اور زیادہ نزاکت اور نفاست پسند ہوئیں تو چینی اور شیشے کے برتن ایجاد ہوئے ۔ بڑے بڑے نوابین نے چاندی اور سونے کے ظروف کا استعمال شروع کیا۔

روزمرہ کی اشیاء انسان پہلے خود اپنے ہاتھ سے تیار کرتا تھا۔ دستی کھڈیاں کپڑا بنتی تھیں ۔ بڑھئی لکڑی کی ، لوہار لوہے کی اشیاء اور سنار سونے چاندی کے زیورات بنانا تھا۔ لیکن اشیاء کو تھوڑے وقت اور کم قیمت پر بنانے کیلئے انسان مشینیں  ایجاد کیں جو نہایت قلیل مدت میں سینکڑوں بلکہ ہزاروں کا ریگروں کا کام کر دیتی ہیں ۔ یہ مشینیں پہلے کوئلہ سے چلتی تھیں ۔ پھر تیل اور پیٹرول نے کوئلہ کی جگہ لے لی اور بالآخر یہ بجلی سے چلنے لگیں ۔ اسی طرح حفظان صحت کیلئے سینکڑوں دوائیں ۔ میدان جنگ میں جیسے جیسے ضرورت پڑتی گئی ٹینک ، تو پیس ، ہوائی جہاز، راکٹ میزائل ، ایٹم اور ہائیڈرو جن جیسے مہلک بم ایجاد ہوئے۔ اگر انسان کو ان کی ضرورت نہ پڑتی تو یہ چیزیں کبھی ایجاد نہ ہوتیں ۔ اس لئے یہ کہنا درست ہے کہ ’’ضرورت ایجاد کی ماں ہے‘‘۔

٭٭٭

 

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s