نظوم کے اہم بنداد کی تشریحات

پہلا ’’عوامی اور منظوم‘‘ شاعر سید ولی محمد نظیر اکبر آبادی(نظم:ہنس نامہ)

ہنس نامہ

بند نمبر ۱۔

دنیا   کی   جو  الفت   کا  ہوا   دل کو  سہارا

اور اس نے خوشی کو مری خاطر میں اتارا

دیکھی  جو  یہ  الفت  تو  مرا  دل  یہ  پکارا

آیا   تھا  کسی  شہر  سے  اک  ہنس    بچارا

اک پیڑ پہ جنگل کے ہوا اس کا گزارا

حوالہ :

تشریح طلب بند نصاب میں شامل  تمثیلی نظم  ’’ ہنس نامہ  ‘‘ کا پہلا بند ہے۔ اس کے شاعر  ’’ پہلے عوامی و جمہور و منظوم  شاعر ’’ سید ولی محمد ‘‘ نظیر اکبر آبادی ہیں

شاعرکا مختصر تعارف:

     نظیر اردو  شاعری کے پہلے عوامی ، منظوم اور ترقی پسند شاعر ہیںآپ کو  ناقدین نے اردو شاعری کا شکسپیر  قرار دیا ہے- عوامی زندگی کی ترجمانی ، عوامی تہواروں کی عکس بندی ، انسانی مساوات نظیر کی شاعری کی بنیادی خصوصیات ہے – رونی ،سلاست، عوامی رنگ،انسانیت سے پیار اور دنیا کی بے ثباتی آپ کی شاعری کی نمایاں خصوصیات ہیں۔

ڈاکڑ فیلن نے لکھا ہے کہ :

’’ ہندوستان میں صرف نظیر ہی  ایسا شاعر ہے  جس کے اشعار نے لوگوں کے دلوں میں راہ کی۔ ‘‘

تصانیف:

بنجارہ نامہ ۔۔۔۔ آدمی نامہ۔۔۔ ہنس نامہ۔۔۔۔ روٹیاں۔۔۔ فناء و بقاء۔۔۔۔اسرارِ قدرت وغیرہ  آپ کی یادگار نظمیں ہیں ۔آپ کا کلام  ’’کلیاتِ نظیر ‘‘ کے نام سے کئی بار شائع ہو چکا ہے۔

مشکل الفاظ کے معانی :

الفت ۔۔محبت ،پیار

خاطر میں اتارنا ۔۔ دل میں جگہ دینا

گزارہ۔۔ قیام ،گزر بسر

تشریح:

تشریح طلب بند میں  نظیر ایک منجھے ہوئے عوامی شاعر کی حیثیت میں قلندرانہ شان کے ساتھ تمثیلی انداز اختیا ر کرتے ہوئے  فرماتے ہیں  کہ  دنیا نا پائیدار شے ہے۔ اس سے لو نہ لگاؤ۔ اس کی مثال  ایک ہنس کی کہانی بیان کرتے ہوئے فر ماتے ہیں کہ ایک ہنس کسی شہر سے اڑ کر ایک جنگل میں  آ وارد ہوا۔وہاں پیار و محبت پاکر اس نے ایک درخت پر اپنا بسیرا کر لیا، اور ہنسی خوشی وہاں رہنے لگا۔

بند نمبر ۴۔

سب ہو کے خوش اس کی مئے الفت لگے پینے

اور پیت سے ہر ایک نے واں بھر لیے سینے

ہر آن جتانے لگے  چاہت کے قرینے

اس ہنس کو جب ہو گئے دو چار مہینے

اِک روز وہ یاروں کی طرف دیکھ پکارا

حوالہ :

تشریح طلب بند نصاب میں شامل  تمثیلی نظم  ’’ ہنس نامہ  ‘‘ کا چوتھا  بند ہے۔ اس کے شاعر  ’’ پہلے عوامی و جمہور و منظوم  شاعر ’’ سید ولی محمد ‘‘ نظیر اکبر آبادی ہیں

شاعرکا مختصر تعارف:

     نظیر اردو  شاعری کے پہلے عوامی ، منظوم اور ترقی پسند شاعر ہیںآپ کو  ناقدین نے اردو شاعری کا شکسپیر  قرار دیا ہے- عوامی زندگی کی ترجمانی ، عوامی تہواروں کی عکس بندی ، انسانی مساوات نظیر کی شاعری کی بنیادی خصوصیات ہے – رونی ،سلاست، عوامی رنگ،انسانیت سے پیار اور دنیا کی بے ثباتی آپ کی شاعری کی نمایاں خصوصیات ہیں۔

ڈاکڑ فیلن نے لکھا ہے کہ :

’’ ہندوستان میں صرف نظیر ہی  ایسا شاعر ہے  جس کے اشعار نے لوگوں کے دلوں میں راہ کی۔ ‘‘

تصانیف:

بنجارہ نامہ ۔۔۔۔ آدمی نامہ۔۔۔ ہنس نامہ۔۔۔۔ روٹیاں۔۔۔ فناء و بقاء۔۔۔۔اسرارِ قدرت وغیرہ  آپ کی یادگار نظمیں ہیں ۔آپ کا کلام  ’’کلیاتِ نظیر ‘‘ کے نام سے کئی بار شائع ہو چکا ہے۔

مشکل الفاظ کے معانی :

مئے الفت۔۔محبت کی شراب

پیت ۔۔ محبت

قرینے۔۔طریقے

تشریح:

تشریح طلب بند میں  نظیر ایک منجھے ہوئے عوامی شاعر کی حیثیت میں قلندرانہ شان کے ساتھ تمثیلی انداز اختیا ر کرتے ہوئے  فرماتے ہیں  کہ جنگل کے پرندوں   نے اس خوبصورت پرندے کو دیکھا تو تمام پرندے اس کی پیت کا دم بھر نے لگے۔ اور خوش ہو ہو کے اس کی محبت کی شراب میں مست رہنے لگے۔جنگل کے سب پرندے اس کا خصوصی قرب  حاصل کرنے کیلئے ہر لمحے اپنی اپنی خالص الفت کے طریقے دکھانے اور آزمانے لگے۔اس طرح جب ہنس کو  دو چار مہینے   محبت کے قرینوں میں گزر گئے  ،تو اس نے ایک دن اپنے دوستوں ،کرم فرماؤں اور محبان سے کہا کہ دوستوں ! اب مجھے اپنے وطن چلنا چاہیئے۔

بند نمبر ۸۔

وہ ہنس جب اس پیڑ سے واں کو چلا ناگاہ

منہ پھیر کے ایدھر سے وطن کی جوں ہی لی راہ

دیکھا جو اسے جاتے ہوئے واں سے تو کر ، آہ!

سب ساتھ چلے اس کے وہ ہمراز  و ہَوا  خواہ

ہر ایک نے اڑنے کیلئے پنکھ پسارا

حوالہ :

تشریح طلب بند نصاب میں شامل  تمثیلی نظم  ’’ ہنس نامہ  ‘‘ کا آٹھواں بند ہے۔ اس کے شاعر  ’’ پہلے عوامی و جمہور و منظوم  شاعر ’’ سید ولی محمد ‘‘ نظیر اکبر آبادی ہیں

شاعرکا مختصر تعارف:

     نظیر اردو  شاعری کے پہلے عوامی ، منظوم اور ترقی پسند شاعر ہیںآپ کو  ناقدین نے اردو شاعری کا شکسپیر  قرار دیا ہے- عوامی زندگی کی ترجمانی ، عوامی تہواروں کی عکس بندی ، انسانی مساوات نظیر کی شاعری کی بنیادی خصوصیات ہے – رونی ،سلاست، عوامی رنگ،انسانیت سے پیار اور دنیا کی بے ثباتی آپ کی شاعری کی نمایاں خصوصیات ہیں۔

ڈاکڑ فیلن نے لکھا ہے کہ :

’’ ہندوستان میں صرف نظیر ہی  ایسا شاعر ہے  جس کے اشعار نے لوگوں کے دلوں میں راہ کی۔ ‘‘

تصانیف:

بنجارہ نامہ ۔۔۔۔ آدمی نامہ۔۔۔ ہنس نامہ۔۔۔۔ روٹیاں۔۔۔ فناء و بقاء۔۔۔۔اسرارِ قدرت وغیرہ  آپ کی یادگار نظمیں ہیں ۔آپ کا کلام  ’’کلیاتِ نظیر ‘‘ کے نام سے کئی بار شائع ہو چکا ہے۔

مشکل الفاظ کے معانی :

ناگاہ۔۔اچانک

ہمراز۔۔ ساتھی، دوست

ہوا خواہ۔۔ خیر خواہ

پنکھ پسارا ۔۔پر پھیلائے

تشریح:

تشریح طلب بند میں  نظیر ایک منجھے ہوئے عوامی شاعر کی حیثیت میں قلندرانہ شان کے ساتھ تمثیلی انداز اختیا ر کرتے ہوئے  فرماتے ہیں  کہ جب ہنس بادل نا خواستہ  اپنے تمام جنگل  کے ساتھیوں سے منہ پھیر کر روانہ ہوا ، تو تمام پرندے اس کی جدائی کے غم میں آہیں بھرنے لگے۔اس کی جدائی کو ان کیلئے برداشت کرنا ممکن نہیں تھا ،لہٰذا جنگل کے سبھی پرندوں نے بھی ہنس کے ساتھ رختِ سفر باندھنے کیلئے اپنے اپنے پر پھیلائے۔اور اس کے ساتھ چلنے کی ٹھانی۔

بند نمبر ۱۱۔

دنیا کی جو الفت ہے تو اس کی ہے یہ کچھ راہ

جب شکل یہ ہو وے تو  بھلا کیوں کہ ہو وے نرباہ

ناچاری ہو جس جا میں تو واں کیجئے کیا  چاہ

سب رہ گئے جو ساتھ کے ساتھی تھے نظیر  ،آہ!

آخر کے تیئیں ہنس اکیلا ہی سدھارا

حوالہ :

تشریح طلب بند نصاب میں شامل  تمثیلی نظم  ’’ ہنس نامہ  ‘‘ کا آخری بند ہے۔ اس کے شاعر  ’’ پہلے عوامی و جمہور و منظوم  شاعر ’’ سید ولی محمد ‘‘ نظیر اکبر آبادی ہیں

شاعرکا مختصر تعارف:

     نظیر اردو  شاعری کے پہلے عوامی ، منظوم اور ترقی پسند شاعر ہیںآپ کو  ناقدین نے اردو شاعری کا شکسپیر  قرار دیا ہے- عوامی زندگی کی ترجمانی ، عوامی تہواروں کی عکس بندی ، انسانی مساوات نظیر کی شاعری کی بنیادی خصوصیات ہے – رونی ،سلاست، عوامی رنگ،انسانیت سے پیار اور دنیا کی بے ثباتی آپ کی شاعری کی نمایاں خصوصیات ہیں۔

ڈاکڑ فیلن نے لکھا ہے کہ :

’’ ہندوستان میں صرف نظیر ہی  ایسا شاعر ہے  جس کے اشعار نے لوگوں کے دلوں میں راہ کی۔ ‘‘

تصانیف:

بنجارہ نامہ ۔۔۔۔ آدمی نامہ۔۔۔ ہنس نامہ۔۔۔۔ روٹیاں۔۔۔ فناء و بقاء۔۔۔۔اسرارِ قدرت وغیرہ  آپ کی یادگار نظمیں ہیں ۔آپ کا کلام  ’’کلیاتِ نظیر ‘‘ کے نام سے کئی بار شائع ہو چکا ہے۔

مشکل الفاظ کے معانی :

اکفت ۔۔محبت

نرباہ۔۔ نباہ ہونا

ناچاری ۔۔مجبوری

 چاہ۔۔چاہت ،محبت، دوستی

تیئیں ۔۔ خود

تشریح:

تشریح طلب بند میں  نظیر ایک منجھے ہوئے عوامی شاعر کی حیثیت میں قلندرانہ شان کے ساتھ تمثیلی انداز اختیا ر کرتے ہوئے  فرماتے ہیں  کہ اے انسانوں دنیا کی کسی چیز سے محبت نہیں کرنا چاہیئے۔ یہ تو حقیقت میں ایک سرائے فانی ہے۔عارضی اور فانی چیزوں سے دل لگانا یا محبت کرنا نادانی ہے۔جیسے ہنس ایک خوبصورت پرندہ تھا جس کی محبت کا جنگل کے سارے پرندے دم بھر نے لگے اور اس کی محبت میں سب کچھ بھول گئے۔بالکل ایسے ہی ہم سب دنیاوی  چیزوں اور ان کے  ظاہری حسن میں ایسے کھو جاتے ہیں کہ سب کچھ بھلا دیتے ہیں ۔جب دارِ فانی سے بلاوا آجاتا ہےتو مال و دولت ، اولاد ،عزیز و اقارب ، دوست و احباب کوئی کام نہیں آتے۔سب حسرت و یاس کی تصویر بنے دیکھتے رہتے ہیں اور وہ ہنس کی مانند سب کو غمزدہ  چھوڑ کر عدم کی جانب کوچ کر جاتا ہے۔

٭٭٭

پہلا (تنقید اورسوانح) نگاراور پہلا قومی شاعر خواجہ الطاف حسین حالی

(نظم:وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا)

بند نمبر ۱:

جہاں  سے  الگ  اک جزیرہ  نما تھا

عرب جس کا چرچا ہے یہ کچھ، وہ کیا تھا

 نہ  کشور  ستاں  تھا  نہ  کشور کشا  تھا

زمانے  سے    پیوند   جس   کا   جدا   تھا

ترقی  کا  تھا  واں  قدم  تک  نہ آیا

تمدن   کا   اس  پر    پڑا   تھا   نہ    سایا

 

 

 

 

 

 

حوالہ :

تشریح  طلب بند نصاب میں شامل  شمس العلماء خواجہ الطاف حسین حالی کی مشہورِ زمانہ نظم مسدس مد و جذر اسلام کے ایک اقتباس ’’ وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا ‘‘کا پہلا بند ہے۔

شاعرکا مختصر تعارف:

مولانا الطا ف حسین حالی اردو کے پہلے قومی شاعر ہیں۔ انہوں نے شاعری کے موضوع میں اضافہ کیا اور شاعری کو بامقصد بنانے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ قومی، اخلاقی، مذہبی اور تعلیمی موضوعات کے ساتھ ساتھ انہوں نے غزل کے روایتی رنگوں کو بھی اپنی شاعری کا حصہ بنایا ۔ سادگی، سچائی ، مقصدیت آپ کے خاص رنگ ہیں ۔ اُردو شاعری کو ایک نیا رُخ عطا کرنے کے سلسلے میں ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔ وہ بلا شبہ جدید غزل کے بانی بھی ہیں۔

حالی  کے  بعد  کوئی   نہ   ہمدرد   پھر   ملا

کچھ رازتھے کہ دل میں ہمارے نہاں رہے

بقول ڈاکٹر سید عبد اللہ:

“حالی کی شاعری میں متانت سنجیدگی اور تاثیر ہے ۔ وہ دبستانِ دہلی کے نمائندہ شاعروں میں سے ہیں۔”

تصانیف:

یاد گارِ غالب۔۔۔۔۔۔ حیاتِ جاوید۔۔۔۔۔۔مقدمہ شعر و شاعری۔۔۔۔۔اورکلیاتِ حالی آپ کی نمایاں تصانیف ہیں۔

مشکل الفاظ کے معانی:

چرچا۔۔ذکر

جزیرہ نما ۔۔زمین کا ایسا خطہ جس کے تین اطراف پانی ہو

پیوند ۔۔ تعلق ، جوڑ

کشور ستاں ۔۔ملک ،فتح کئے ہوئے علاقے

کشور کشا۔۔ فتح

تمدن ۔۔ تہذیب ،شائستگی

تشریح:

مولانا ا لطاف حسین حالی اپنے مخصوص لب و لہجے میں اس مسدس مد و جذر اسلام کے ابتدائی بند میں عرب کا  ناقدانہ  نقشہ کھینچتے ہوئے  فرماتے ہیں کہ عرب جس کی آجکل  چاروں طرف شہرت ہے ۔در حقیقت یہ ایک ایسا جزیرہ نما تھا  جس کا کسی دوسرے ممالک سے کوئی تعلق  اور رابطہ نہ تھا۔ نہ یہاں کسی کی حکومت تھی بلکہ ریاست اور سیاست سے یہ خطہ بالکل نہ آشنا تھا۔  یہاں لا مذہب ،بربریت پسند اور غیر مہذب انسانوں کے گروہ طاقت کے زور پر زندگی گزارتے تھے۔ان میں محبت ،انسانیت اور شرافت نام کی کوئی چیز نہ تھی  بلکہ وہ ایک دوسرے کے  جانی دشمن تھے۔اسی لئے یہ خطہ غیر ترقی یافتہ اور غیر مذہب جزیرہ نما تھا   ،جس پر تہذیب و تمدن اور ترقی کے سائے  کبھی نہ پڑ ے تھے۔

بند نمبر۲:

ہر  اک لوٹ  اور  مار  میں  تھا   یگانہ 

چلن  ان کے  جتنے  تھے  سب  وحشیانہ

 نہ    تھا    کوئی     قانون     کا      تازیانہ

فسادوں  میں  کٹتا     تھا      ان     کا      زمانہ

درندے ہوں جنگل میں بے باک جیسے

وہ تھے قتل  و  غارت  میں  چالاک  ایسے

 

 

 

 

 

 

حوالہ :

تشریح  طلب بند نصاب میں شامل  شمس العلماء خواجہ الطاف حسین حالی کی مشہورِ زمانہ نظم مسدس مد و جذر اسلام کے ایک اقتباس ’’ وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا ‘‘کا دوسرا بند ہے۔

شاعرکا مختصر تعارف:

مولانا الطا ف حسین حالی اردو کے پہلے قومی شاعر ہیں۔ انہوں نے شاعری کے موضوع میں اضافہ کیا اور شاعری کو بامقصد بنانے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ قومی، اخلاقی، مذہبی اور تعلیمی موضوعات کے ساتھ ساتھ انہوں نے غزل کے روایتی رنگوں کو بھی اپنی شاعری کا حصہ بنایا ۔ سادگی، سچائی ، مقصدیت آپ کے خاص رنگ ہیں ۔ اُردو شاعری کو ایک نیا رُخ عطا کرنے کے سلسلے میں ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔ وہ بلا شبہ جدید غزل کے بانی بھی ہیں۔

حالی  کے  بعد  کوئی   نہ   ہمدرد   پھر   ملا

کچھ رازتھے کہ دل میں ہمارے نہاں رہے

بقول ڈاکٹر سید عبد اللہ:

“حالی کی شاعری میں متانت سنجیدگی اور تاثیر ہے ۔ وہ دبستانِ دہلی کے نمائندہ شاعروں میں سے ہیں۔”

تصانیف:

یاد گارِ غالب۔۔۔۔۔۔ حیاتِ جاوید۔۔۔۔۔۔مقدمہ شعر و شاعری۔۔۔۔۔اورکلیاتِ حالی آپ کی نمایاں تصانیف ہیں۔

مشکل الفاظ کے معانی:

وحشیانہ۔۔وحشیوں جیسے ، جنگلیوں جیسے

یگانہ۔۔ماہر ، مشاق ، طاق

تازیانہ۔۔ کوڑا ، چابک

بے باک  ۔۔نڈر ، بے خوف

تشریح:

مولانا ا لطاف حسین حالی اپنے مخصوص لب و لہجے میں اس مسدس مد و جذر اسلام کےپیش  نظر  بند میں عرب کا  ناقدانہ  نقشہ کھینچتے ہوئے  فرماتے ہیں کہ اسلام سے قبل عرب  غیر مہذب اور وحشی تھے۔یہ لوگ اس قدر درندہ صفت تھے کہ بات بات پر لڑتے ، ایک دوسرے کو قتل کرتے اور لوٹ مار کرنا ان کا محبوب مشغلہ تھا۔وہ ساری زندگی لڑنے جھگڑنے میں گزار دیتے۔ یہ لوگ قانون کے نام سے نا آشنا تھے۔انہیں نہ سزا کا ڈر تھا اور نہ اخلاقی اقدار کا۔اس لئے ہر جرم بے خوف و خطر کر لیا کرتے تھے۔وہ درندوں اور جنگلی جانوروں کی طرح سفاک اور بے رحم تھے،اور ایک دوسرے کے لہو کے پیاسے تھے۔چوری ، لوٹ مار اور قتل و غارت گری ان کے محبوب مشغلے تھے۔

بند نمبر۴:

بڑھا    جانب   بو قبیس   ابرِ    رحمت

یکا  یک ہوئی  غیرتِ  حق  کو  حرکت 

چلے آتے  تھے جس کی دیتے  شہادت

ادا   خاکِ   بطحا  نے   کی  وہ  ودیعت

دعائے      خلیل ؑ    اور     نوید ِ    مسیحا ؑ

ہوئی    پہلوئے   آمنہ   سے     ہویدا

 

 

 

 

 

 

حوالہ :

تشریح  طلب بند نصاب میں شامل  شمس العلماء خواجہ الطاف حسین حالی کی مشہورِ زمانہ نظم مسدس مد و جذر اسلام کے ایک اقتباس ’’ وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا ‘‘کا چوتھا بند ہے۔

شاعرکا مختصر تعارف:

مولانا الطا ف حسین حالی اردو کے پہلے قومی شاعر ہیں۔ انہوں نے شاعری کے موضوع میں اضافہ کیا اور شاعری کو بامقصد بنانے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ قومی، اخلاقی، مذہبی اور تعلیمی موضوعات کے ساتھ ساتھ انہوں نے غزل کے روایتی رنگوں کو بھی اپنی شاعری کا حصہ بنایا ۔ سادگی، سچائی ، مقصدیت آپ کے خاص رنگ ہیں ۔ اُردو شاعری کو ایک نیا رُخ عطا کرنے کے سلسلے میں ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔ وہ بلا شبہ جدید غزل کے بانی بھی ہیں۔

حالی  کے  بعد  کوئی   نہ   ہمدرد   پھر   ملا

کچھ رازتھے کہ دل میں ہمارے نہاں رہے

بقول ڈاکٹر سید عبد اللہ:

“حالی کی شاعری میں متانت سنجیدگی اور تاثیر ہے ۔ وہ دبستانِ دہلی کے نمائندہ شاعروں میں سے ہیں۔”

تصانیف:

یاد گارِ غالب۔۔۔۔۔۔ حیاتِ جاوید۔۔۔۔۔۔مقدمہ شعر و شاعری۔۔۔۔۔اورکلیاتِ حالی آپ کی نمایاں تصانیف ہیں۔

مشکل الفاظ کے معانی:

غیرتِ حق۔۔اللہ کی رحمت ،اللہ کی مرضی

بو قبیس ۔۔مکہ کے قریب ایک پہاڑ کا نام

بطحا ۔۔ مکہ معظمہ کا دوسرا نام

ودیعت۔۔پیدا کرنا

ہویدا ۔۔ظاہر، عیاں

نوید۔۔ خوشخبری

خلیل ؑ۔۔حضرت ابراہیم ؑ    کا لقب، مراد اللہ عزوجل کا دوست

مسیحا ۔۔ عیسیٰ ؑ کا لقب ،مراد مردوں کو زندہ کرنے والا

تشریح:

مولانا ا لطاف حسین حالی اپنے مخصوص لب و لہجے میں اس مسدس مد و جذر اسلام کےپیش  نظر  بند میں عرب کا  ناقدانہ  نقشہ کھینچتے ہوئے  فرماتے ہیں کہ عربوں کی اس نا گفتہ بہ حالت دیکھ کر  اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جوش آ گیا  اور رحمت کا بادل برسنے کیلئے بو قبیس پہاڑ کی جانب بڑھنے لگا۔ پھر مکہ مکرمہ کی خاک سے وہ ہستی پیدا ہوئی  جس کی گواہی تمام سابق انبیاء کرام ؑ اور مختلف مذاہب کے پیشواؤں نے دی تھی۔ حضرتِ ابراہیم علیہ السلام کی دعا  اور حضرتِ عیسٰ علیہ السلام کی سنائی ہوئی خوش خبری کا ظہور حضرتِ آمنہ رضی  اللہ تعلی ٰ عنہا کے پہلو سے ہوا  یعنی  آنحضرت محمد ﷺ  اس دنیا میں تشریف لائے۔

بند نمبر۶:

بد اندیش کے  دل  میں  گھر  کر نے  والا

خطا   کار    سے   در گزر   کر نے  والا

قبائل   کو  شیر   و  شکر  کر نے   والا

مفاسد   کا    زیر   و   زبر  کرنے   والا

اور   ایک  نسخئہ     کیمیا   ساتھ    لایا

اتر   کر   حرا   سے   سوئے   قوم   آیا

 

 

 

 

 

 

حوالہ :

تشریح  طلب بند نصاب میں شامل  شمس العلماء خواجہ الطاف حسین حالی کی مشہورِ زمانہ نظم مسدس مد و جذر اسلام کے ایک اقتباس ’’ وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا ‘‘کا چھٹا بند ہے۔

شاعرکا مختصر تعارف:

مولانا الطا ف حسین حالی اردو کے پہلے قومی شاعر ہیں۔ انہوں نے شاعری کے موضوع میں اضافہ کیا اور شاعری کو بامقصد بنانے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ قومی، اخلاقی، مذہبی اور تعلیمی موضوعات کے ساتھ ساتھ انہوں نے غزل کے روایتی رنگوں کو بھی اپنی شاعری کا حصہ بنایا ۔ سادگی، سچائی ، مقصدیت آپ کے خاص رنگ ہیں ۔ اُردو شاعری کو ایک نیا رُخ عطا کرنے کے سلسلے میں ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔ وہ بلا شبہ جدید غزل کے بانی بھی ہیں۔

حالی  کے  بعد  کوئی   نہ   ہمدرد   پھر   ملا

کچھ رازتھے کہ دل میں ہمارے نہاں رہے

بقول ڈاکٹر سید عبد اللہ:

“حالی کی شاعری میں متانت سنجیدگی اور تاثیر ہے ۔ وہ دبستانِ دہلی کے نمائندہ شاعروں میں سے ہیں۔”

تصانیف:

یاد گارِ غالب۔۔۔۔۔۔ حیاتِ جاوید۔۔۔۔۔۔مقدمہ شعر و شاعری۔۔۔۔۔اورکلیاتِ حالی آپ کی نمایاں تصانیف ہیں۔

مشکل الفاظ کے معانی:

خطا کا ر۔۔گناہگار ،غلطی کر نے والا

بد اندیش۔۔برا چاہنے والا

در گزر ۔۔ معاف کرنا

مفاسد۔۔فسادات ،لڑائی جھگڑے

دل میں گھر کرنا ۔۔ دل میں جگہ پانا

زیر و زبر کرنا ۔۔تہ و بالا کرنا ، تباہ و برباد کر نا

شیر و شکر ۔۔ گھل مل جانا ۔ایک ہو جانا

نسخئہ کیمیا۔۔ قرآن ِ مجید

تشریح:

مولانا ا لطاف حسین حالی اپنے مخصوص لب و لہجے میں اس مسدس مد و جذر اسلام کےپیش  نظر  بند میں آپ صلی اللہ علیہ و آ لہ وسلم کی رحمت و محبت و شفقت  کا  بھر پور نقشہ   کھینچتے ہوئے  فرماتے ہیں کہ گنہگاروں کی بڑی سے بڑی خطاؤں   کو معاف فرما  دینا آنحضرت محمد صلی اللہ علیہ و آ لہ وسلم کی اعلیٰ  صفات میں ایک صفت تھی۔آپ  صلی اللہ علیہ و آ لہ وسلم نے تو اپنی بیٹی اور چچا کے قاتلوں کو بھی معاف فرما دیا۔اپنے قول و فعل کی بناء پر ہی دشمن آپ صلی اللہ علیہ و آ لہ وسلم کو  صادق اور امین کہتے اور آپ صلی اللہ علیہ و آ لہ وسلم نے ان ہی  اوصاف ِ حمیدہ کی بناء پر ان کے دلوں میں اپنے لئے جگہ بنالی ۔آپ صلی اللہ علیہ و آ لہ وسلم کی شخصیت تمام برائیوں کو ختم کرنے والی اور قبائلی دشمنیوں کو جو پشت در پشت چلی آرہی تھیں ،ختم کرنے والی تھی۔آپ صلی اللہ علیہ و آ لہ وسلم کی بدولت ہی دشمن آپس میں شیر و شکر ہو گئے ۔ ان میں خلوص ، محبت ، اتحاد اور اتفاق کی صفات پیدا ہو گئیں ۔آپ صلی اللہ علیہ و آ لہ وسلم  غارِ حرا میں نبوت سے سر فراز ہوئے اور اپنی  قوم کو تاریکی سے روشنی کی طرف لانے کیلئے قر آنِ مجید جیسا نسخئہ کیمیا اپنے ساتھ لائے ۔

٭٭٭

شاعرِ مشرق ،حکیم الامت ،قومی اور عالمِ بالا کے شاعر حضرتِ علامہ ڈاکٹر محمد اقبال(نظم:جواب ِ شکوہ)

بند نمر ۱۔

ہم سے کب پیار ہے ؟ہاں نیندتمہیں  پیاری ہے

کس  قدر تم   پہ  گراں صبح  کی  بیداری  ہے

تمہیں   کہدو  ،  یہی    آئین ِ   وفاداری    ہے

طبع  آزاد   پہ  قیدِ  رمضاں  بھاری   ہے

جذب   باہم  جو  نہیں ، محفلِ انجم  بھی  نہیں

قوم مذہب سےہے مذہب جو نہیں ،تم نہیں

 

 

 

 

 

 

حوالہ :

تشریح طلب  بند نصاب میں شا مل  عالمِ بالا کے شاعر ، حکیم الامت ،شاعرِ مشرق حضرتِ عللامہ اقبال کی مشہورِ زمانہ نظم ’’ جوابِ شکوہ ‘‘ کا پہلا بند ہے۔در اصل یہ ایک طویل نظم ہے  جس میں چھتیس بنداد ہیں ، جس میں علامہ اقبال نے اللہ عزو جل کی طرف سے بندوں کے اللہ تعالیٰ سے شکوے کا جواب دیا ہے۔  

شاعرکا مختصر تعارف:

علامہ اقبال ان چند عظیم شعراء میں شامل ہیں ،جنہوں نے شاعری کے ذریعے مردہ روحوں میں نئی روح پھونک کر اک عظیم ذہنی انقلاب پیدا کیا۔ اقبال نے زندگی کے ہر گوشہ پر اظہار خیال کیا ہے۔عمل کا پیغام،خودی کا احساس،قومی محبتاور  عظمتِ اسلام آپ کی شاعری کے نمایاں موضوع ہیں۔ اقبال کی شاعر ی میں ایک پیغام ِ دعوت فکر و عمل کے ساتھ زبان و بیان کا حُسن اور طرز ادا کی ساری دلکشی موجود ہے۔

خود ی کیا ہے رازِ درون حیات

خودی کیا ہے بے داری کائنات

مولوی عبد الحق کہتے ہیں کہ:

“حالی کی طرح اقبال نے بھی شاعری کے ذریعے ملک و قوم کو جگانے کا کام شروع کیا۔”

تصانیف:

بانگِ درا۔۔۔۔۔بالِ جبرائیل۔۔۔۔۔۔ضربِ کلیم۔۔۔۔۔۔۔پیامِ مشرق۔۔۔۔۔۔۔ارمغانِ حجاز اور    زبورِ عجم وغیرہ آپ کی مایہ ناز تصانیف ہیں۔

مشکل الفاظ کے معانی:

گراں ۔۔ناگوار، بھاری

بیداری۔۔جاگنا

جذب ِ باہم ۔۔ باہمی تعلق

محفلِ انجم ۔۔ ستاروں کی محفل

تشریح:

حضرت علامہ اقبال اپنے منفرد لب و لہجے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کے شکوے کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ تم سچے نہیں ہو اور تمہارا حال یہ ہے کہ تم صبح سویرے نماز کیلئے اپنے بستر سے بھی نہیں اٹھ سکتے ۔تمہیں ہم سے پیار نہین بلکہ تم نیند کو گلے لگائے بیٹھے ہو۔تمہاری طبیعت میں حد درجہ آزادی ہے ۔ یہاں تک کہ ماہِ  رمضان کے روزے بھی تم پر مصیبت  ہیں اور تم  روزوں کا خاص احترام بھی نہیں کرتے۔جس وفا داری کا تم دعویٰ کرتے ہو  ، کیا یہی تمہاری وفا داری ہے۔ اور کیا یہی وفا کا دستور ہے۔دین کسی قوم کا محتاج نہیں بلکہ قوم دین کے اپنانے سے تشکیل پاتی ہے ۔جب تم نے دین کو چھوڑ دیا اور دین کی اساسی باتوں اور سنہرے اصولوں کو چھوڑدیا ،تو پھر تم ایک قوم کی حیثیت سے کیسے زندہ رہ سکتے ہو؟ جس طرح ستارے ایک دوسرے کو سہارا دیتے ہیں اور قائم ہیں ،اسی طرح دین افراد کو متحد رکھتا ہے ۔یعنی دین کے بغیر تمہارا قومی اتحاد کسی صورت برقرار نہیں رہ سکتا۔ دوسرے الفاظ میں باہمی جذب و کشش سے تمہاری قوم قائم اور برقرار رہ سکتی ہے۔

بند نمر ۲۔

نوعِ  انساں کو  غلامی  سے چھڑایا  کس نے؟

صفحہءِ  دہر  سے  باطل  کو  مٹایا  کس  نے  ؟

میرے  قرآن  کو سینوں  سے  لگایا  کس  نے؟

میرے  کعبے کو  جبینوں  سے  بسایا  کس  نے؟

ہاتھ    پر   ہاتھ    دھرے    منتظرِ   فردا    ہو!

تھے  تو   آبا وہ  تمہارے  ہی  ، مگر  تم  کیا  ہو ؟

 

 

 

 

 

 

حوالہ :

تشریح طلب  بند نصاب میں شا مل  عالمِ بالا کے شاعر ، حکیم الامت ،شاعرِ مشرق حضرتِ عللامہ اقبال کی مشہورِ زمانہ نظم ’’ جوابِ شکوہ ‘‘ کا دوسرا  بند ہے۔در اصل یہ ایک طویل نظم ہے  جس میں چھتیس بنداد ہیں ، جس میں علامہ اقبال نے اللہ عزو جل کی طرف سے بندوں کے اللہ تعالیٰ سے شکوے کا جواب دیا ہے۔

شاعرکا مختصر تعارف:

علامہ اقبال ان چند عظیم شعراء میں شامل ہیں ،جنہوں نے شاعری کے ذریعے مردہ روحوں میں نئی روح پھونک کر اک عظیم ذہنی انقلاب پیدا کیا۔ اقبال نے زندگی کے ہر گوشہ پر اظہار خیال کیا ہے۔عمل کا پیغام،خودی کا احساس،قومی محبتاور  عظمتِ اسلام آپ کی شاعری کے نمایاں موضوع ہیں۔ اقبال کی شاعر ی میں ایک پیغام ِ دعوت فکر و عمل کے ساتھ زبان و بیان کا حُسن اور طرز ادا کی ساری دلکشی موجود ہے۔

خود ی کیا ہے رازِ درون حیات

خودی کیا ہے بے داری کائنات

مولوی عبد الحق کہتے ہیں کہ:

“حالی کی طرح اقبال نے بھی شاعری کے ذریعے ملک و قوم کو جگانے کا کام شروع کیا۔”

تصانیف:

بانگِ درا۔۔۔۔۔بالِ جبرائیل۔۔۔۔۔۔ضربِ کلیم۔۔۔۔۔۔۔پیامِ مشرق۔۔۔۔۔۔۔ارمغانِ حجاز اور    زبورِ عجم وغیرہ آپ کی مایہ ناز تصانیف ہیں۔

مشکل الفاظ کے معانی:

صفحئہ دہر۔۔روئے زمیں

باطل ۔۔جھوٹ،مگر یہا  ں جھوٹے عقائد مراد ہیں

نوعِ انسان ۔۔ تمام انسان

جبین ۔۔پیشانی  ،      ماتھا

آباء باپ دادا

منتظر فردا ۔۔ بہتر  مستقبل کا انتظار کر نے والے 

تشریح:

حضرت علامہ اقبال اپنے منفرد لب و لہجے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کے شکوے کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ بے شک تم (مسلمانوں )  نے اس دنیا سے کفر و باطل کو مٹایا اور بندگانِ خدا کو غلامی کے چنگل سے نجات دلائی اور یہ بھی درست ہے کہ تم نے خانہ کعبہ کو  ’’لات‘‘ ’’ہبل ‘‘ اور ’’منات ‘‘  جیسے بتوں سے پاک کرکے  اس میں  میری (اللہ عزوجل ) عبادت کا طریقہ رائج کیا اور سچی کتاب یعنی قرآنِ پاک کو سینے سے لگایا ،یعنی اس کے احکامات پر خوشی اور جذ بے سے عمل کیا ۔ لیکن یہ کام تو تمہارے بزرگوں نے سر انجام دئے تھے، تم نے تو کچھ بھی نہیں کیا ۔تم تو بے عمل ہو ،ہاتھ پاؤں تک نہیں ہلاتے ، صرف سہانے مستقبل کے خواب دیکھ رہے ہو اور یہ سمجھ رہے ہو کہ تمہارے بگڑے کام خود بخود ٹھیک ہو جائیں گے۔در حقیقت تم نری بے وقوفی کی حالت میں  ہو ۔ اس طرح تمہاری حالت اچھی نہیں بلکہ اور ابتر ہو جائے گی۔

بند نمر ۳۔

ایک ہی سب کا نبی ﷺ، دین بھی، ایمان بھی ایک

منفعت ایک ہے اس قوم  کی ، نقصان بھی  ایک

کچھ  بڑی  بات تھی  ہوتے  جو مسلمان بھی  ایک

حرمِ   پاک بھی ، اللہ بھی ، قرآن بھی  ایک

کیا   زمانے  میں  پنپنے  کی   یہی  باتیں  ہیں  ؟

فرقہ  بندی   ہے کہیں   اور کہیں  ذاتیں   ہیں  !

 

حوالہ:

تشریح طلب  بند نصاب میں شا مل  عالمِ بالا کے شاعر ، حکیم الامت ،شاعرِ مشرق حضرتِ عللامہ اقبال کی مشہورِ زمانہ نظم ’’ جوابِ شکوہ ‘‘ کا تیسرا  بند ہے۔در اصل یہ ایک طویل نظم ہے  جس میں چھتیس بنداد ہیں ، جس میں علامہ اقبال نے اللہ عزو جل کی طرف سے بندوں کے اللہ تعالیٰ سے شکوے کا جواب دیا ہے۔

شاعرکا مختصر تعارف:

علامہ اقبال ان چند عظیم شعراء میں شامل ہیں ،جنہوں نے شاعری کے ذریعے مردہ روحوں میں نئی روح پھونک کر اک عظیم ذہنی انقلاب پیدا کیا۔ اقبال نے زندگی کے ہر گوشہ پر اظہار خیال کیا ہے۔عمل کا پیغام،خودی کا احساس،قومی محبتاور  عظمتِ اسلام آپ کی شاعری کے نمایاں موضوع ہیں۔ اقبال کی شاعر ی میں ایک پیغام ِ دعوت فکر و عمل کے ساتھ زبان و بیان کا حُسن اور طرز ادا کی ساری دلکشی موجود ہے۔

خود ی کیا ہے رازِ درون حیات

خودی کیا ہے بے داری کائنات

مولوی عبد الحق کہتے ہیں کہ:

“حالی کی طرح اقبال نے بھی شاعری کے ذریعے ملک و قوم کو جگانے کا کام شروع کیا۔”

تصانیف:

بانگِ درا۔۔۔۔۔بالِ جبرائیل۔۔۔۔۔۔ضربِ کلیم۔۔۔۔۔۔۔پیامِ مشرق۔۔۔۔۔۔۔ارمغانِ حجاز اور    زبورِ عجم وغیرہ آپ کی مایہ ناز تصانیف ہیں۔

مشکل الفاظ کے معانی:

منفعت ۔۔ فائدہ ،نفع

حرمِ پاک۔۔ خانہ کعبہ

پنپنا ۔۔ ترقی پانا ، نمو د پانا

فرقہ بندی ۔۔ گروہ بندی

تشریح:

حضرت علامہ اقبال اپنے منفرد لب و لہجے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کے شکوے کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ دنیا بھر کے مسلمان ایک متحد قوم ہیں اور ان سب کا فائدہ ،نقصان ایک ہے ۔تمام جہان کے مسلمانوں کا رسول ﷺ ، دین، ایمان، خانہ خدا یعنی کعبۃاللہ ، اللہ عزوجل اور قرآن بھی ایک ہے ۔ اگر دنیا مین تمام مسلمان بھی ایک ہوتے تو کتنا اچھا ہوتا ۔لیکن تمہارا تو یہ حال ہے کہ تم میں اتحاد اور یگانگت کی بجائے باہم پھوٹ پڑی ہوئی ہے ۔کہیں مسلمان فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں اور کہیں ذات پات کے چکر میں پڑے ہوئے ہیں ۔کیا دنیا میں ابھرنے اور ترقی کر نے کی یہی علامت ہوتی  ہیں؟ مراد یہ  ہے کہ تم غیر مسلموں کی طرح مختلف گروہوں اور ذات پات میں  تقسیم ہو کر رہ گئے ہو۔ اس لئے تم اس دنیا میں فی الحال ترقی نہیں کر سکتے ۔تعمیر و ترقی کیلئے باہم اتحاد بڑا ضروری ہے اور تم اس کی برکتوں سے محروم ہو۔

بند نمر ۴۔

مثل   بو     قید    ہے   غنچے      پر یشا ں      ہو جا

ر خت     بر دوش      ہوائے   چمنتا ں  ہو   جا

ہے   تنک   مایہ    تو  ذرے  سے   بیا با ں  ہو   جا

نغمہ     مو ج     سے    ہنگا مہ   طو فا ن   ہو   جا

قوت  عشق    سے   ہر   پست   کو  با لا  کر دے

دہر  میں  اسم  محمد ﷺ سے   اجا لا  کر دے

 

 

 

 

 

 

حوالہ :

تشریح طلب  بند نصاب میں شا مل  عالمِ بالا کے شاعر ، حکیم الامت ،شاعرِ مشرق حضرتِ عللامہ اقبال کی مشہورِ زمانہ نظم ’’ جوابِ شکوہ ‘‘ کا تیسرا  بند ہے۔در اصل یہ ایک طویل نظم ہے  جس میں چھتیس بنداد ہیں ، جس میں علامہ اقبال نے اللہ عزو جل کی طرف سے بندوں کے اللہ تعالیٰ سے شکوے کا جواب دیا ہے۔

شاعرکا مختصر تعارف:

علامہ اقبال ان چند عظیم شعراء میں شامل ہیں ،جنہوں نے شاعری کے ذریعے مردہ روحوں میں نئی روح پھونک کر اک عظیم ذہنی انقلاب پیدا کیا۔ اقبال نے زندگی کے ہر گوشہ پر اظہار خیال کیا ہے۔عمل کا پیغام،خودی کا احساس،قومی محبتاور  عظمتِ اسلام آپ کی شاعری کے نمایاں موضوع ہیں۔ اقبال کی شاعر ی میں ایک پیغام ِ دعوت فکر و عمل کے ساتھ زبان و بیان کا حُسن اور طرز ادا کی ساری دلکشی موجود ہے۔

خود ی کیا ہے رازِ درون حیات

خودی کیا ہے بے داری کائنات

مولوی عبد الحق کہتے ہیں کہ:

“حالی کی طرح اقبال نے بھی شاعری کے ذریعے ملک و قوم کو جگانے کا کام شروع کیا۔”

تصانیف:

بانگِ درا۔۔۔۔۔بالِ جبرائیل۔۔۔۔۔۔ضربِ کلیم۔۔۔۔۔۔۔پیامِ مشرق۔۔۔۔۔۔۔ارمغانِ حجاز اور    زبورِ عجم وغیرہ آپ کی مایہ ناز تصانیف ہیں۔

مشکل الفاظ کے معانی:

مثلِ بو ۔۔خوشبو کی طرح

غنچہ۔۔ کلی

پریشاں ہوجا ۔۔پھیل جا ، منتشر ہوجا

رخت ِ بردوش ۔۔کاندھے پر سامان لئے ہوئے

تنک مایہ ۔۔ حقیر ، کمتر

 دہر ۔۔ دھر تی، دنیا

تشریح:

حضرت علامہ اقبال اپنے منفرد لب و لہجے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کے شکوے کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اے مسلمان ! تو خوشبو کی طرح کلی میں قید کیوں ہے ؟ اس قید سے رہائی حاصل کر اور فضاء میں پھیل جا ،یعنی اسلام کا پیغام لے کر دنیا  پر چھا جا ۔ اسلامی تعلیمات کو ہوا کے دوش  کا سامان بنا کر پوری دنیا میں پھیلا دے ۔اپنی کم مائیگی پر افسوس مت کر ،تو تو دریا کی موج سے بننے والے زمزمے کی طرح ہے۔ ، تو خود کو وسعت دے اور ایک وسیع طوفان یا  صحرا کا شور پیدا کر دے۔یعنی تیرا ہر عمل اسلام کے مطابق ہو۔ اور تو اسلام کا سچا شیدائی بن جا ۔اس دنیا کو دکھا دے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب ﷺ کے احکامات پر عمل پیرا ہو کر دنیا کا کس طرح نقشہ بدلا جا سکتا ہے ؟ اور دنیا کے تمام مسائل کس طرح حل کئے جا سکتے ہیں ؟ اس کرہ ارض کی  بے چینی ، بے راہ روی ،افرا تفری ، لوٹ مار اور غارت گری ،نفسا نفسی کا حل آپ ﷺ کے بتائے ہوئے طریقوں میں مضمر ہے۔

٭٭٭

مرثیہ نگاری کے امام،اردو کے ’’ہیومر اور ٹینیسن‘‘ میر ببر علی انیس(نظم:صبح کا سماں)

بند نمر ۱۔

وہ  صبح  اور  وہ  چھاوٗ ں  ستاروں کی اور  وہ  نور

دیکھے  تو  غش کرے   ارنی گوئے  اوجِ  طور

پیدا   گلوں    سے    قدرتِ   اللہ    کا   ظہور

وہ    جا بجا    درختوں   پہ  تسبیح    خواں   طیور

گلشن  خجل  تھے   وادیءِ  مینو    اساس   سے

جنگل  تھا  سب  بسا  ہوا  پھولوں کی باس  سے

 

 

 

حوالہ:

تشریح طلب بند نصاب میں شامل قادر الکلام شاعر اور مرثیہ نگاری کے امام میر ببر علی انیس کی نظم  ” صبح کا سماں ”  کا پہلا بند ہے۔ در اصل ” صبح کا سماں ” یا  ” آمد صبح ” کے نام سے میر انیس کی کوئی نظم نہیں ہے ۔یہ میر انیس کے طویل مرثیے کے صبح کا بیان ہے۔

شاعرکا مختصر تعارف:

ناقدین نے آپ کو مرثیہ نگاری کا امام تسلیم کیا ہے۔آپ ایک قدرالکلام شاعر ہیں۔آپ کا پورا خاندان شعراء سے بھرا پڑا ہے۔آپ کے دادا ’’میر حسن ‘‘عظیم مثنوی نگار تھے۔اور والد  ’’ میر خلیق‘‘ مرثیے کے بہترین شاعر تھے۔منظر نگاری ،کردار نگاری،سراپا نگاری،جذبات نگاری اورماحول کی عکاسی  آپ کی شاعری کی نمایاں خصوصیات ہیں۔

ڈاکٹر ابواللیث صدیقی رقم طراز ہیں:

’’ شبلی ،حالی، رام بابو سکسینہ نے لکھا ہے کہ اردو داں طبقے میں پرانی شاعری کی اگر کوئی چیز مقبول ہے ،تو وہ انیس ؔ کی مرثیہ نگاری ہے۔

تصانیف:

مراثی انیس ۔۔۔۔ لا تعداد سلام  ۔۔پانچ  مراثی کے مجموعے اب تک شائع ہو چکے ہیں۔

مشکل الفاظ کے معانی:

غش کرنا۔۔ بے ہوش ہونا

اوج۔۔ بلندی

ارنی گوئے ۔۔حضرتِ موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کی بارگاہ   میں عرض کیا کہ یا اللہ عزوجل تو مجھے اپنا جلوہ دکھا۔

تسبیح خوا ہ ۔۔تسبیح پڑھنے والے

تشریح:

تشریح طلب  بند میں انیس اپنے مخصوص تاثراتی لب و لہجے میں وادی  کربلا میں امامِ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی  شہادت   کے دن ہونے والی صبح کے حسین منظر کو بیان کرتے ہوئےکہتے ہیں کہ  اس روز صبح کا منظر بڑا ہی پر کیف تھا  دن کی روشنی میں ستاروں کی چمک ماند پڑ رہی تھی ،گویا ہر سو نور  ہی نور پھیلا ہوا تھا ۔اگر اس حسین صبح کے نظارے کو موسیٰ علیہ السلام بھی دیکھ لیتے تو بالکل اسی طرح  بیہوش ہوجاتے ، کہ جب موسیٰ علیہ السلام نے اللہ عزوجل سے اپنا جلوا دکھانے کی ضد کی تھی اور ایک معمولی تجلی پر ہی نور کی تاب نہ لا کر بیہوش ہو گئے تھے اور کوہِ طور جل کر راکھ ہوگیا تھا ۔اس جنت نما کربلا کی وادی میں چاروں طرف  پھولوں کی بہار سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کا بھر پور اظہار ہو رہا تھا ،اور جگہ جگہ درختوں کی ڈالیوں میں پرند بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مگن تھے۔اس وادی کی خوبصورتی دنیا کے تمام حسین باغوں کو شرمندہ کر رہی تھی۔اور تمام جنگل آمد  امام حسین  رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خوشی میں پھولوں کی خوشبو سے بسا ہوا تھا۔

بند نمر ۲۔

ٹھنڈی ہوا میں  سبزہ صحرا کی وہ لہک

شرمائے جس سے اطلسِ زنگاری  فلک

وہ جھومنا درختوں کا  پھولوں کی وہ مہک

ہر برگِ گل پہ قطرہ شبنم کی وہ جھلک

ہیرے خجِل تھے گوہر یکتا نثار تھے

پتے بھی ہر شجر کے جواہر نگار تھے

 

 

 

حوالہ:

تشریح طلب بند نصاب میں شامل قادر الکلام شاعر اور مرثیہ نگاری کے امام میر ببر علی انیس کی نظم  ” صبح کا سماں “  کا دوسرا  بند ہے۔ در اصل ” صبح کا سماں ” یا  ” آمد صبح ” کے نام سے میر انیس کی کوئی نظم نہیں ہے ۔یہ میر انیس کے طویل مرثیے کے صبح کا بیان ہے۔

شاعرکا مختصر تعارف:

ناقدین نے آپ کو مرثیہ نگاری کا امام تسلیم کیا ہے۔آپ ایک قدرالکلام شاعر ہیں۔آپ کا پورا خاندان شعراء سے بھرا پڑا ہے۔آپ کے دادا ’’میر حسن ‘‘عظیم مثنوی نگار تھے۔اور والد  ’’ میر خلیق‘‘ مرثیے کے بہترین شاعر تھے۔منظر نگاری ،کردار نگاری،سراپا نگاری،جذبات نگاری اورماحول کی عکاسی  آپ کی شاعری کی نمایاں خصوصیات ہیں۔

ڈاکٹر ابواللیث صدیقی رقم طراز ہیں:

’’ شبلی ،حالی، رام بابو سکسینہ نے لکھا ہے کہ اردو داں طبقے میں پرانی شاعری کی اگر کوئی چیز مقبول ہے ،تو وہ انیس ؔ کی مرثیہ نگاری ہے۔

تصانیف:

مراثی انیس ۔۔۔۔ لا تعداد سلام  ۔۔پانچ  مراثی کے مجموعے اب تک شائع ہو چکے ہیں۔

مشکل الفاظ کے معانی:

لہک۔۔ لہرانا، چاہت کا اظہار کرنا  

اطلس ۔۔ایک قسم کا ریشمی کپڑا

زنگاری ۔۔نیلگوں رنگ

فلک ۔۔آسمان

مہک ۔۔ خشبو

برگِ گل ۔۔پھول کی پنکھڑی

گوہر یکتا۔۔ بے مثل موتی ، سچے موتی

جوہر نگار ۔۔ موتی بکھیرنے والا

تشریح:

تشریح طلب  بند میں انیس اپنے مخصوص تاثراتی لب و لہجے میں وادی  کربلا میں امامِ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی  شہادت   کے دن ہونے والی صبح کے حسین منظر کو بیان کرتے ہوئےکہتے ہیں کہ صبح کے وقت اس حَسین وادی میں  معطر ہوائیں چل رہی تھیں ۔ان ٹھنڈی اور معطر ہواؤں سے سبزے میں حلاوت پیدا ہورہی تھی اور وہ لہرا رہاتھا۔اس دلکش منظر کو دیکھ کر خوبصورت چاند اور ستاروں سے سجا ہوا نیلگوں آسمان بھی شرما رہا تھا۔ہوا سر مستی میں پھولوں کی مہک کو چاروں طرف منتشر کر رہی تھی۔ ہر پھول کی پنکھڑی اور  ہر پتے پر شبنم کے قطرے ایسے دکھائی دیتے تھے جیسے بے مثل موتی قربان ہورہے ہوں۔ یعنی ایسا لگ رہا تھا جیسے پھولوں اور پتوں پر شبنم کے قطرے نہیں ، ہیرے جواہرات ہوں ۔ جو ان کے حسن کو چار چاند لگا رہے تھے۔

بند نمر ۳۔

وہ دشت وہ  نسیم  کے جھونکے وہ سبزہ زار

پھولوں  پہ  جا بجا  وہ  گہر  ہائے  آبدار

اٹھنا  وہ  جھوم  جھوم کے شاخوں کا بار بار

بالائے  نخل  ایک  جو  بلبل  تو  گل  ہزار

خواہاں  تھے نخلِ گلشنِ  زہرا  ؓ جو آب  کے

شبنم  نے  بھر  دئے  تھے  کٹورے  گلاب  کے

 

 

 

 

 

حوالہ:

تشریح طلب بند نصاب میں شامل قادر الکلام شاعر اور مرثیہ نگاری کے امام میر ببر علی انیس کی نظم  ” صبح کا سماں “  کا تیسرا بند ہے۔ در اصل ” صبح کا سماں ” یا  ” آمد صبح ” کے نام سے میر انیس کی کوئی نظم نہیں ہے ۔یہ میر انیس کے طویل مرثیے کے صبح کا بیان ہے۔

شاعرکا مختصر تعارف:

ناقدین نے آپ کو مرثیہ نگاری کا امام تسلیم کیا ہے۔آپ ایک قدرالکلام شاعر ہیں۔آپ کا پورا خاندان شعراء سے بھرا پڑا ہے۔آپ کے دادا ’’میر حسن ‘‘عظیم مثنوی نگار تھے۔اور والد  ’’ میر خلیق‘‘ مرثیے کے بہترین شاعر تھے۔منظر نگاری ،کردار نگاری،سراپا نگاری،جذبات نگاری اورماحول کی عکاسی  آپ کی شاعری کی نمایاں خصوصیات ہیں۔

ڈاکٹر ابواللیث صدیقی رقم طراز ہیں:

’’ شبلی ،حالی، رام بابو سکسینہ نے لکھا ہے کہ اردو داں طبقے میں پرانی شاعری کی اگر کوئی چیز مقبول ہے ،تو وہ انیس ؔ کی مرثیہ نگاری ہے۔

تصانیف:

مراثی انیس ۔۔۔۔ لا تعداد سلام  ۔۔پانچ  مراثی کے مجموعے اب تک شائع ہو چکے ہیں۔

مشکل الفاظ کے معانی:

نسیم ۔۔صبح کی ٹھنڈی ہوا

گُہر ہائے آبدار ۔۔چمکدار موتی

 بالائے نخل۔۔ درختوں کے اوپر

گلشنِ زہرا ؓ ۔۔ حضرتِ فاطمہ ؓ کے باغ  کے درخت ، یعنی حضرت فاطمہ ؓ کی اولاد

شبنم ۔۔اوس

تشریح:

تشریح طلب  بند میں انیس اپنے مخصوص تاثراتی لب و لہجے میں وادی  کربلا میں امامِ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی  شہادت   کے دن ہونے والی صبح کے حسین منظر کو بیان کرتے ہوئےکہتے ہیں کہ جنگل میں صبح کے وقت عجیب عالم تھا ۔ہوا کے لطیف جھونکے  قلب و جگر کو سکون و تازگی بخش رہے تھے۔ سبزہ بہت پر کشش و دلفریب نظارہ پیش کر رہا تھا ۔پھولوں پر شبنم کے قطرے  چمکدار موتیوں کی طرح چمک رہے تھے۔ہوا کے چلنے سے درختوں کی شاخیں ادھر اُدھر ڈول رہی تھیں ، جیسے جھولا جھول رہی ہوں ۔اگر کسی درخت پر ایک بلبل تھا ۔تو ہزاروں کی تعداد میں گل کھلے ہوئے تھے۔ چونکہ حضرتِ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے  باغ کے پھل و پھول ، یعنی اہلِ بیت ِ  اطہار رضوان اللہِ تعالیٰ عنہم  پیاسے تھے۔، اس لئےشبنم نے گلاب کے کٹوروں کو پانی سے بھر دیا تھا ۔تاکہ وہ اپنی پیاس کی شدت کو کم کر سکیں ۔شاعر نے  گلاب کے پھولوں کو  کٹوروں سے تشبیہ دے کر اس بند میں  مزید خوبصورتی پیدا کر دی ہے ۔

بند نمر ۴۔

وہ قمریوں کا چار طرف سرو کے ہجوم

کو کو کا شور نالہ  حق سِرُّہ کی دھوم

سبحانَ رَ بّنا  کی صدا تھی علی العموم

جاری تھے وہ جو ان کی عبادت کے تھے رسوم

کچھ گل فقط نہ کرتے تھے ربِّ عُلا کی حمد

ہر خار کو بھی نوکِ زباں تھی  خدا کی حمد

 

 

 

 

حوالہ:

تشریح طلب بند نصاب میں شامل قادر الکلام شاعر اور مرثیہ نگاری کے امام میر ببر علی انیس کی نظم  ” صبح کا سماں “  کا چوتھا بند ہے۔ در اصل ” صبح کا سماں ” یا  ” آمد صبح ” کے نام سے میر انیس کی کوئی نظم نہیں ہے ۔یہ میر انیس کے طویل مرثیے کے صبح کا بیان ہے۔

شاعرکا مختصر تعارف:

ناقدین نے آپ کو مرثیہ نگاری کا امام تسلیم کیا ہے۔آپ ایک قدرالکلام شاعر ہیں۔آپ کا پورا خاندان شعراء سے بھرا پڑا ہے۔آپ کے دادا ’’میر حسن ‘‘عظیم مثنوی نگار تھے۔اور والد  ’’ میر خلیق‘‘ مرثیے کے بہترین شاعر تھے۔منظر نگاری ،کردار نگاری،سراپا نگاری،جذبات نگاری اورماحول کی عکاسی  آپ کی شاعری کی نمایاں خصوصیات ہیں۔

ڈاکٹر ابواللیث صدیقی رقم طراز ہیں:

’’ شبلی ،حالی، رام بابو سکسینہ نے لکھا ہے کہ اردو داں طبقے میں پرانی شاعری کی اگر کوئی چیز مقبول ہے ،تو وہ انیس ؔ کی مرثیہ نگاری ہے۔

تصانیف:

مراثی انیس ۔۔۔۔ لا تعداد سلام  ۔۔پانچ  مراثی کے مجموعے اب تک شائع ہو چکے ہیں۔

مشکل الفاظ کے معانی:

قمری ۔۔ فاختہ کی قسم کا ایک پرندہ

سرو ۔۔ایک مشہور درخت جو مخروطی شکل میں بالکل سیدھا بڑھتا ہے۔

 حق سِرُّہ۔۔اللہ تعالیٰ کے راز سچے ہیں

نالہ حق سرہ ۔۔ مشہور ہے کہ قمری حق  سرہ پڑھتی ہے

سبحانَ ربّنا ۔۔پاک ہے ہمارا  رب

علی العموم۔۔ عام طور پر

رب ِ عُلا ۔۔بڑا پالنے والا۔

تشریح:

تشریح طلب  بند میں انیس اپنے مخصوص تاثراتی لب و لہجے میں وادی  کربلا میں امامِ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی  شہادت   کے دن ہونے والی صبح کے حسین منظر کو بیان کرتے ہوئےکہتے ہیں کہ سرو کے درختوں کے گِرد قمریاں حق سرہ کی صدائیں بلند کر رہی تھیں ، کوئل کوک رہی تھی۔ ایک طرف  سبحانَ ربّنا ،یعنی ہما را  رب پاک ہے کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں تو دوسری جانب کسی اور پرندے کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں ۔غرض یہ کہ تمام پرندے اپنی میٹھی آواز اور اپنے مخصوص انداز میں  اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء میں مصروف و مشغول تھے۔ اور پرور دگار کی پاکی ،بزرگی ،بڑائی اور یکتائی کے نغمے آلاپ رہے تھے۔ اِدھر صرف پھول ہی اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء میں مشغول نہیں تھے ،بلکہ کانٹے بھی اس پاک پرور دگار کی حمد و ثناء میں مصروف تھے۔ یعنی در حقیقت سارا جنگل کا جنگل اللہ رب العالمین کے ذکرِ خیر سے مشکور و مامون تھا۔

بند نمر ۵۔

چیونٹی بھی ہاتھ اُٹھا کے یہ کہتی تھی بار بار

اے دانہ کش ضعیفوں کے رازق ، تیرے نثار

یا حَیُّ یا قدیر کی تھی ہر طرف پُکار !

تہلیل تھی کہیں ، کہیں تسبیحِ کر دگار

طائر ہوا میں مست ، ہرن سبزہ زار میں

جنگل کے شیر ہونک رہے تھے کچھار میں

 

 

 

 

 

 

حوالہ:

تشریح طلب بند نصاب میں شامل قادر الکلام شاعر اور مرثیہ نگاری کے امام میر ببر علی انیس کی نظم  ” صبح کا سماں ”  کا پانچواں بند ہے۔ در اصل ” صبح کا سماں ” یا  ” آمد صبح ” کے نام سے میر انیس کی کوئی نظم نہیں ہے ۔یہ میر انیس کے طویل مرثیے کے صبح کا بیان ہے۔

شاعرکا مختصر تعارف:

ناقدین نے آپ کو مرثیہ نگاری کا امام تسلیم کیا ہے۔آپ ایک قدرالکلام شاعر ہیں۔آپ کا پورا خاندان شعراء سے بھرا پڑا ہے۔آپ کے دادا ’’میر حسن ‘‘عظیم مثنوی نگار تھے۔اور والد  ’’ میر خلیق‘‘ مرثیے کے بہترین شاعر تھے۔منظر نگاری ،کردار نگاری،سراپا نگاری،جذبات نگاری اورماحول کی عکاسی  آپ کی شاعری کی نمایاں خصوصیات ہیں۔

ڈاکٹر ابواللیث صدیقی رقم طراز ہیں:

’’ شبلی ،حالی، رام بابو سکسینہ نے لکھا ہے کہ اردو داں طبقے میں پرانی شاعری کی اگر کوئی چیز مقبول ہے ،تو وہ انیس ؔ کی مرثیہ نگاری ہے۔

تصانیف:

مراثی انیس ۔۔۔۔ لا تعداد سلام  ۔۔پانچ  مراثی کے مجموعے اب تک شائع ہو چکے ہیں۔

مشکل الفاظ کے معانی:

دانہ کش ۔۔ دانہ کھینچنے والا نہایت ہی معمولی کیڑا

یا حی ۔۔اے پیدا کرنے والے

 یا قدیر ۔۔ اے قدرت والے

نتہلیل ۔۔ حمد کرنا

تسبیحِ کر دگار۔۔اللہ تعالیٰ کی تسبیح پڑھنا

ہونک رہے تھے۔۔ دہاڑ رہے تھے

کچھار ۔۔شیر کی غار

تشریح:

تشریح طلب  بند میں انیس اپنے مخصوص تاثراتی لب و لہجے میں وادی  کربلا میں امامِ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی  شہادت   کے دن ہونے والی صبح کے حسین منظر کو بیان کرتے ہوئےکہتے ہیں کہ  چیونٹی بھی ہاتھ اٹھا کر اللہ عز وجل کی حمد و ثناء کر رہی تھی  کہ ’’ اے ہم کمزوروں کو رزق دینے والے تیرے قربان جاؤں ، کہ تونے ہمیں محض اپنے  فضل وکرم سے کثیر رزق عطا فرمایا ‘‘۔ ہر طرف سے ’’یا حَّیُ ، یا قدیر ‘‘  کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں ۔ہر سُو  اس پیاری و دلکش صبح میں اللہ عزوجل کی تعریفوں کی پکار تھی ، اور جنگل کے باسی اللہ تعالیٰ کی تسبیح پڑھنے میں مصروف تھے۔غرض یہ کہ ہر شے اس پاک بے نیاز کی حمد و ثناء میں مشغول  تھی۔اور کلمہ طیبہ  کا ورد کر رہی تھی۔ ہرن سبزہ زاروں میں اور شیر اپنی کچھاروں  میں دہاڑ  دہاڑکر اللہ عزوجل کی حمد و ثناء میں مصروف تھے۔گویا صبح کا منظر نہایت ہی پُر کیف اور سہانا تھا۔  

٭٭٭

عظیم نغمہ نگار ساقی جاوید(نظم:محنت اپنی آن)

بند نمر ۱۔

محنت اپنے دل کا اجالا، محنت سر کا سایہ

محنت اپنی پاک زمیں کا سب سے بڑا سرمایہ

محنت سے جو پیار کرے وہ سب سے بڑا انسان

محنت   زندہ قوموں کی ہے عظمت  کی پہچا

محنت اپنی آن۔۔۔۔محنت اپنی شان

 

 

 

 

 

 

 

حولہ :

تشریح طلب بند نصاب میں شامل  جذبہ حب الوطنی سے سر شار  معروف ملی نغمہ نگار  جناب  ساقی  جاوید  کی مشہور نظم ’’ محنت اپنی آن ‘‘ کا پہلا بند ہے۔

شاعرکا مختصر تعارف:

ساقی جاوید معروف شاعر ہیں ۔کراچی  ریجن کے مختلف سیکنڈری اسکولوں میں تدریس کے فرائض انجام دے چکے ہیں۔ بعد میں صدرِ مدرس کی حیثیت سے ریٹائرڈ  ہوئے۔آپ کی  شہرت کی اصل وجہ قومی نغمے ہیں،جن میں سے ایک نغمہ ’’چاند میری زمیں اور پھول میرا وطن‘‘ بہت زیادہ مشہور ہوا۔قومی جذبہ، حب الوطنی،  اتحاد اور ایقان آپ کی شاعری کی نمایاں  خصوصیات ہیں۔

تصانیف:

’’چاند میری زمیں اور پھول میرا وطن‘‘اور ’’محنت اپنی آن وغیرہ آپ کی مشہور نظمیں ہیں۔

مشکل الفاظ کے معانی:

سرمایہ۔۔دولت

عظمت ۔۔ بڑائی ،بلندی

آن ۔۔ عزت ،شان

تشریح:

تشریح طلب بند میں شاعر ساقی جاوید جذبہ حب الوطنی سے سر شار ہو کر لوگوں  کو محنت کی طرف راغب کرتے ہوئے اپنے مخصوص لب و لہجے میں کہتے ہیں کہ  محنت ہی سے انسان کو عزت ملتی ہے۔ یہی محنت اقوام کو دنیا میں بلند مقام پر فائز کر دیتی ہے ۔اور اسی محنت  کی بناء پر وہ قوم یا ملک ترقی یافتہ ممالک کی صف میں نظر آتا  ہے۔ ساقی اس محنت کے فلسفے کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ محنت ہی انسان کے دل کو خوشی اور اطمینان بخشتی ہے، یعنی محنت سے انسان حلال روزی کماتا ہے ،تو اسے حاصل کر کے خوش اور مطمئن رہتا ہے۔ اسی  محنت سے راحت و آرام کے سامان مہیا ہوتے ہیں ۔    ہمارے  ملک کا سب سے بڑا سرمایہ محنت ہی ہے ،یعنی اسی  محنت کی بدولت ہم اپنے ملک کا نام بلند  اور روشن کر سکتے ہیں اور اس کی عظمت کو چار چاند لگا سکتے ہیں ۔جو شخص محنت سے پیار کرتا ہے ،وہ سب سے بڑا انسان ہوتا ہے۔

بند نمر۲۔

محنت دل کے دئے جلائے ، من کے پھول کھلائے

جس مٹی میں ملے پسینہ وہ سونا بن جائے

محنت سے ہر کھیت پھلے ہر فصل پروان چڑھے

محنت   زندہ قوموں کی ہے عظمت  کی پہچان

حنت اپنی آن۔۔۔۔محنت اپنی شان

 

 

 

 

 

 

 

 

حولہ :

تشریح طلب بند نصاب میں شامل  جذبہ حب الوطنی سے سر شار  معروف ملی نغمہ نگار  جناب  ساقی  جاوید  کی مشہور نظم ’’ محنت اپنی آن ‘‘ کا دوسرا بند ہے۔

شاعرکا مختصر تعارف:

ساقی جاوید معروف شاعر ہیں ۔کراچی  ریجن کے مختلف سیکنڈری اسکولوں میں تدریس کے فرائض انجام دے چکے ہیں۔ بعد میں صدرِ مدرس کی حیثیت سے ریٹائرڈ  ہوئے۔آپ کی  شہرت کی اصل وجہ قومی نغمے ہیں،جن میں سے ایک نغمہ ’’چاند میری زمیں اور پھول میرا وطن‘‘ بہت زیادہ مشہور ہوا۔قومی جذبہ، حب الوطنی،  اتحاد اور ایقان آپ کی شاعری کی نمایاں  خصوصیات ہیں۔

تصانیف:

’’چاند میری زمیں اور پھول میرا وطن‘‘اور ’’محنت اپنی آن وغیرہ آپ کی مشہور نظمیں ہیں۔

مشکل الفاظ کے معانی:

دل کے دئے جلانا ۔۔دل کو خوشی دینا

من کے پھول کھلانا۔۔ مرادیں پوری ہونا

فصل۔۔ اناج ،پیداوار،کھیتی

تشریح:

تشریح طلب بند میں شاعر ساقی جاوید جذبہ حب الوطنی سے سر شار ہو کر لوگوں  کو محنت کی طرف راغب کرتے ہوئے اپنے مخصوص لب و لہجے میں کہتے ہیں کہ محنت سے دل کے چراغ جلتے ہیں ۔آرزوؤں اور خواہشات کی تکمیل اسی محنت کے طفیل ہوتی ہے ۔جب ہمارا کسان  محنت و مشقت کر کے مٹی میں اپنا پسینہ شامل کرتا ہے  تو یہی مٹی سونا بن جاتی ہے۔ ہرے بھرے کھیت اور پروان چڑھتی ہوئی فصلیں خوش حالی کا باعث بنتی ہیں ،کیوں کہ محنت ہی زندہ قوموں کی عظمت کی پہچان ہے۔محنت ہی ہماری عزت و آبرو اورشان ہے ۔

بند نمر ۳۔

محنت کا انعام خوشی، محنت کا صلہ خوش حالی  

بستی بستی بولے اپنے دل کے  لہو کی لالی

محنت ہے ماتھوں کی کسوٹی ،سینوں کی میزان

محنت   زندہ قوموں کی ہے عظمت  کی پہچان

محنت اپنی آن۔۔۔۔محنت اپنی شان

 

 

 

 

 

 

 

حولہ :

تشریح طلب بند نصاب میں شامل  جذبہ حب الوطنی سے سر شار  معروف ملی نغمہ نگار  جناب  ساقی  جاوید  کی مشہور نظم ’’ محنت اپنی آن ‘‘ کا تیسرا  بند ہے۔

شاعرکا مختصر تعارف:

ساقی جاوید معروف شاعر ہیں ۔کراچی  ریجن کے مختلف سیکنڈری اسکولوں میں تدریس کے فرائض انجام دے چکے ہیں۔ بعد میں صدرِ مدرس کی حیثیت سے ریٹائرڈ  ہوئے۔آپ کی  شہرت کی اصل وجہ قومی نغمے ہیں،جن میں سے ایک نغمہ ’’چاند میری زمیں اور پھول میرا وطن‘‘ بہت زیادہ مشہور ہوا۔قومی جذبہ، حب الوطنی،  اتحاد اور ایقان آپ کی شاعری کی نمایاں  خصوصیات ہیں۔

تصانیف:

’’چاند میری زمیں اور پھول میرا وطن‘‘اور ’’محنت اپنی آن وغیرہ آپ کی مشہور نظمیں ہیں۔

مشکل الفاظ کے معانی:

صلہ ۔۔ بدلہ

کسوٹی ۔۔ معیار ، پرکھ

میزان ۔۔ ترازو

تشریح:

تشریح طلب بند میں شاعر ساقی جاوید جذبہ حب الوطنی سے سر شار ہو کر لوگوں  کو محنت کی طرف راغب کرتے ہوئے اپنے مخصوص لب و لہجے میں کہتے ہیں کہ  محنت کا انعام خوشی کی صورت میں ملتا ہے،اور محنت کے بدلے میں  ملک و قوم کو خوشحالی نصیب ہوتی ہے ۔محنت ہی کی بدولت ہی زندگی کی  آسائشیں  نصیب ہوتی ہیں اور شہروں سے محنت کے ثمرات نظر آتے ہیں ۔محنت سے خون میں تیزی پیدا ہوتی ہی اور پیشانی پر  پسینہ چمکتا ہے ۔دلوں میں  محنت کی عظمت جھلکتی ہےاور مزید اجاگر ہوتی ہے ، تو اس کے ثمرات  سے ہر طرف مَسرّت و شادمانی کی لہر دوڑ جاتی ہے بے شک محنت زندہ قوموں کی بڑائی کی علامت ہے۔

بند نمر ۴۔

محنت کے سب قطب منارے، محنت کے اہرام

محنت کرنے   والے  ہاتھو!  تم  کو  مرا  سلام

محنت   کی   حرمت    کی   گواہی  دیتا ہے قرآن

محنت   زندہ قوموں کی ہے عظمت  کی پہچان

محنت اپنی آن۔۔۔۔محنت اپنی شان

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

حولہ :

تشریح طلب بند نصاب میں شامل  جذبہ حب الوطنی سے سر شار  معروف ملی نغمہ نگار  جناب  ساقی  جاوید  کی مشہور نظم ’’ محنت اپنی آن ‘‘ کا چوتھا   بند ہے۔

شاعرکا مختصر تعارف:

ساقی جاوید معروف شاعر ہیں ۔کراچی  ریجن کے مختلف سیکنڈری اسکولوں میں تدریس کے فرائض انجام دے چکے ہیں۔ بعد میں صدرِ مدرس کی حیثیت سے ریٹائرڈ  ہوئے۔آپ کی  شہرت کی اصل وجہ قومی نغمے ہیں،جن میں سے ایک نغمہ ’’چاند میری زمیں اور پھول میرا وطن‘‘ بہت زیادہ مشہور ہوا۔قومی جذبہ، حب الوطنی،  اتحاد اور ایقان آپ کی شاعری کی نمایاں  خصوصیات ہیں۔

تصانیف:

’’چاند میری زمیں اور پھول میرا وطن‘‘اور ’’محنت اپنی آن وغیرہ آپ کی مشہور نظمیں ہیں۔

مشکل الفاظ کے معانی:

قطب منار ے ۔۔ قطب الدین ایبک کا بنایا ہوا  بہت بلند مینار

اہرام ۔۔مصر کے قدیم باد شاہوں کے مقبرے جو ہزاروں سال سے ابھی تک قائم ہیں

حر مت ۔۔ عزت ،عظمت

تشریح:

تشریح طلب بند میں شاعر ساقی جاوید جذبہ حب الوطنی سے سر شار ہو کر لوگوں  کو محنت کی طرف راغب کرتے ہوئے اپنے مخصوص لب و لہجے میں کہتے ہیں کہ  یہ بلند و بالا عمارتیں اور عالیشان محلات ،یہ سب انسای محنت کے شاہکار ہیں ۔ یہ سب محنت کی بدولت ہی وجود میں آئے ہیں ۔ساقی جا وید محنت کر نے والوں کو مخاطب کر تے ہوئے کہتے ہیں کہ اے ، محنت کر نے والوں ! میں تمہاری عظمت کا قائل ہوں اور تمہیں خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں اور تمہاری عظمت کے اعتر اف میں تمہیں سلام پیش کرتا ہوں  ۔قرآانِ مجید نے بھی  محنت کی عظمت کی گواہی دی ہے ۔ بے شک  محنت زندہ قوموں کی عظمت کی پہچان ہے۔

٭٭٭

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s