نظموں کے مرکزی خیالات

مولوی اسمٰعیل میرٹھی(نظم:حمد شریف)

شاعرکا مختصر تعارف:

محمد  اسمٰعیل میرٹھی ایک مستند ماہرِ تعلیم ہیں۔میرٹھ اور سہارنپور میں بحیثیت استاد اور آگرہ نارمل اسکول میں بحیثیت صدر مدرس تیعنات رہے۔آپ کی لکھی ہوئی درسی کتابیں ہر سطح پر مقبول ہوئیں۔اگر آپ کو بچوں کا شاعر کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا۔آپ نے بچوں کی اصلاح کیلئے بہت کام کیا۔آپ کا لہجہ نرم ، انداز سادہ اور عام فہم، زبان سلیس اور الفاظ بچوں کے ذہن کے مطابق بے حد معیاری ہوتے ہیں ۔آپ کے کلام میں قومی اور ملی احساسات نمایاں ہیں۔

تصانیف:

جریدہ عبرت ۔۔۔۔۔مثنوی فکرِ کلیم۔۔۔۔۔۔ریزہ جواہر۔۔۔۔۔۔سفینہ ءِ اردو۔۔۔۔۔۔ادیبِ اردو۔۔۔۔۔کمکِ اردو۔۔۔۔ترجمانِ فارسی اور قواعدِ  اردو وغیرہ آپ کی مایہ ناز تصانیف ہیں۔

نظم کا مرکزی خیال:

تما م تعریفیں اللہ تعالیٰ کیلئے ہیں ۔وہی (اللہ عزوجل) تمام کائینات کا مالک و خالق ہے اور اس کا نگراں بھی ۔لہٰذا ہمیں ہر وقت اس کی حمد و ثناء کرنی چاہیئے۔

٭٭٭

خوشبوئے حسان  اور صاحبِ اعجاز شاعرمولانا ظفر علی خان(نظم:نعت ِﷺشریف)

شاعرکا مختصر تعارف:

مولانا ظفر علی خان عاشقِ رسول ،سیاسی مدبر اور ایک نڈر و بیباک صحافی ہیں۔اپنے اخبار ’’ زمیندار ‘‘ کے ذریعے مسلمانوں کو سیاسی استحکام دیا۔انگریزی استعمار کے خلاف زبردست آواز  اٹھائی ۔آزادی کے متوالے کی حیثیت میں کئی بار جیل کی ہوا کھائی ،اور  ان اخبا ر ’’زمیندار ‘‘ بھی اس سلسلے میں کئی بار بند ہوا۔مولانا کے کلام میں شوخی ،رنگینی،زور بیانی،روانی اور منظر نگاری کے اوصاف پائے جاتے ہیں۔عشقِ رسول ﷺ آپ کی شاعری کا خاص موضوع ہے۔
تصانیف:

نگارستان،بہارستان،چمنستان اور حسیات آپ کے شعری مجموعے ہیں۔ؤپ نے حیدر آباد دکن میں قیام کے دوران ’’رسالہ افسانہ ‘‘ جاری کیا ۔والد کا جری کیا ہوا ہفت روزہ ’’زمیندار ‘‘ روزنامچے میں تبدیل کردیا۔ ’’معرکہ مذہب و سائنس ‘‘ ،جنگل میں منگل‘‘ اور ’’غلبہ روم ‘‘ آپ کی یادگار تصانیف ہیں۔

نظم کا مرکزی خیال:

اس نعت شریف کا مر کزی خیال کچھ یو ں ہے کہ تمام انسانوں کا مر کز صرف رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ اقدس ہی ہو  سکتی ہے۔  اور آپ ﷺ سے عقیدت و محبت تمام مسلمانوں کے ایمان کا جز ہے۔ جس کا اظہار بھی ضروری ہے،کیوں کہ اس عقیدت کے بغیر ہمارا ایمان مکمل نہیں ہو سکتا۔

٭٭٭

صوفی اور آفاقی شاعر حضرت شاہ عبدالطیف بھٹائی   ؒ(نظم:وائی)

شاعرکا مختصر تعارف:

شاہ عبد الطیف بھٹائی صبوبہ  سندھ کے سب سے بڑے صوفی شاعر ہیں – انکی زندگی اور شاعری دونوں میں یک رنگی ہے۔  سادگی ، خلوص ،انسانی محبت ، استغناء ، عاجزی اور انکساری ان  کی طبیعت اور  ان کی  شاعری کا خاص  مزاج ہے – جبکہ ’’ تصوف ‘‘ ان کا خاص موضوع ہے۔ انہوں نے انسان ،خدا اور کائنات کے رشتوں کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے ،اسی لئے وہ آفاقی شاعر کہلاتے ہیں۔صنفِ ’’وائی ‘‘ کے مؤجد بھی خود شاہ صاحب ہی ہیں۔آپ نے ایک ساز ’’تنبورہ‘‘ بھی ایجاد کیا۔   اس نظم کا ترجمہ  محترم ’’ شیخ ایاز ‘‘ مرحوم نے کیا ہے۔

تصانیف:

’’شاہ جو رسالو ‘‘ آپ کی شاعری کا مجموعہ ہے جو  کئی زبانوں میں ترجمہ ہو کر چھپ چکا ہے۔

نظم کا مرکزی خیال:

وائی در اصل سندھی زبان میں لوک گیتوں کی ترقیافتہ شکل ہے ،جس کے مؤ جدشاہ صاحب ہی ہیں۔ اس صنف میں  ہر مضموں کو بڑی لطافت اور چابکدستی سے بیان کیا جا سکتا ہے۔

نصاب میں شامل وائی میں شاہ صاحب نے اللہ عزوجل کی قدرت وکبریائی اور عظمت، اختیار کو بیان کیا ہے۔تمام  کائینات کی مخلوقات  اس رب ِتعالیٰ کی زیر، نگیں ہیں ، بلخصوص انسان اس (اللہ عزوجل) کے در کا معمولی گدا ہے ۔لہٰذا ایسے عظیم  ’’رب  تعالیٰ‘‘ کی تعریف ممکن نہیں۔

٭٭٭

پہلا ’’عوامی اور منظوم‘‘ شاعر سید ولی محمد نظیر اکبر آبادی(نظم:ہنس نامہ)

شاعرکا مختصر تعارف:

     نظیر اردو  شاعری کے پہلے عوامی ، منظوم اور ترقی پسند شاعر ہیںآپ کو  ناقدین نے اردو شاعری کا شکسپیر  قرار دیا ہے- عوامی زندگی کی ترجمانی ، عوامی تہواروں کی عکس بندی ، انسانی مساوات نظیر کی شاعری کی بنیادی خصوصیات ہے – رونی ،سلاست، عوامی رنگ،انسانیت سے پیار اور دنیا کی بے ثباتی آپ کی شاعری کی نمایاں خصوصیات ہیں۔

ڈاکڑ فیلن نے لکھا ہے کہ :

’’ ہندوستان میں صرف نظیر ہی  ایسا شاعر ہے  جس کے اشعار نے لوگوں کے دلوں میں راہ کی۔ ‘‘

تصانیف:

بنجارہ نامہ ۔۔۔۔ آدمی نامہ۔۔۔ ہنس نامہ۔۔۔۔ روٹیاں۔۔۔ فناء و بقاء۔۔۔۔اسرارِ قدرت وغیرہ  آپ کی یادگار نظمیں ہیں ۔آپ کا کلام  ’’کلیاتِ نظیر ‘‘ کے نام سے کئی بار شائع ہو چکا ہے۔

نظم کا مرکزی خیال:

یہ ’’نظیر ‘‘ کی ایک تمثیلی نظم ہے،جس میں  انہوں نے ہنس کی صورت میں انسانی  زندگی کا  خاص المیہ بیان کیا ہے۔

اس نظم کا مر کزی خیال کچھ یوں ہے کہ انسان کو دنیا کی لذتوں  میں نہیں پڑنا چاہیئے ۔ یہ دنیا فانی ہے اور ہر انسان کو اپنے رب حقیقی کے پاس  اکیلے اور خالی ہاتھ ہی  لوٹ کر جانا ہے۔ لیکن انسان دنیا میں  والدین  ،عزیز و اقارب دوست اور احباب کی محبتوں میں جکڑ جاتا ہے ۔سب اسے پیار کرنے لگتے ہیں ۔لیکن جب جانے کا وقت آتا ہے تو سب آنسو بہانے لگتے ہیں اور ساتھ جانے کیلئے مچلنے لگتے ہیں ۔لیکن انسان اکیلا ہی  ان کو غمزدہ چھوڑ کر اس دنیا سے سدھار جاتا ہے۔

٭٭٭

پہلا (تنقید اورسوانح) نگاراور پہلا قومی شاعر خواجہ الطاف حسین حالی

(نظم:وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا)

شاعرکا مختصر تعارف:

مولانا الطا ف حسین حالی اردو کے پہلے قومی شاعر ہیں۔ انہوں نے شاعری کے موضوع میں اضافہ کیا اور شاعری کو بامقصد بنانے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ قومی، اخلاقی، مذہبی اور تعلیمی موضوعات کے ساتھ ساتھ انہوں نے غزل کے روایتی رنگوں کو بھی اپنی شاعری کا حصہ بنایا ۔ سادگی، سچائی ، مقصدیت آپ کے خاص رنگ ہیں ۔ اُردو شاعری کو ایک نیا رُخ عطا کرنے کے سلسلے میں ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔ وہ بلا شبہ جدید غزل کے بانی بھی ہیں۔

حالی  کے  بعد  کوئی   نہ   ہمدرد   پھر   ملا

کچھ رازتھے کہ دل میں ہمارے نہاں رہے

بقول ڈاکٹر سید عبد اللہ:

“حالی کی شاعری میں متانت سنجیدگی اور تاثیر ہے ۔ وہ دبستانِ دہلی کے نمائندہ شاعروں میں سے ہیں۔”

تصانیف:

یاد گارِ غالب۔۔۔۔۔۔ حیاتِ جاوید۔۔۔۔۔۔مقدمہ شعر و شاعری۔۔۔۔۔اورکلیاتِ حالی آپ کی نمایاں تصانیف ہیں۔

نظم کا مرکزی خیال:

اس مسدس ’’مد و جذر ‘‘ میں  حالی نے مسلمانوں کے عروج و زوال کی  داستان رقم کی ہے۔اس نظم کے جو بنداد نصاب میں شامل ہیں ان میں عربوں کے قبل از اسلام حالات اور اسلام کے بعد ان پر آپ ﷺ کی تعلیمات کے اثرات بیان کیئے ہیں ۔

نصاب میں شامل بنداد کا مرکزی خیال کچھ یوں ہے کہ  اسلام سے قبل عربوں کے بہت برے حالات تھے ،وہ جہالت اور گمراہی کی نجاست میں غرق تھے۔اللہ  عز وجل نے ان پر رحم و کرم فرمایا اور ان پر آپ ﷺ کو مبعوث فرمایا ۔ اس طرح اس قوم اور پوری دنیا کی تقدیر ہی بدل گئی۔جو لوگ جہالت و گمراہی کا پیکر تھے اب ہو پوری دنیا کے تمدن کیلئے روشن مینار بن گئے۔

٭٭٭

شاعرِ مشرق ،حکیم الامت ،قومی اور عالمِ بالا کے شاعر حضرتِ علامہ ڈاکٹر محمد اقبال

(نظم:جواب ِ شکوہ)

شاعرکا مختصر تعارف:

علامہ اقبال ان چند عظیم شعراء میں شامل ہیں ،جنہوں نے شاعری کے ذریعے مردہ روحوں میں نئی روح پھونک کر اک عظیم ذہنی انقلاب پیدا کیا۔ اقبال نے زندگی کے ہر گوشہ پر اظہار خیال کیا ہے۔عمل کا پیغام،خودی کا احساس،قومی محبتاور  عظمتِ اسلام آپ کی شاعری کے نمایاں موضوع ہیں۔ اقبال کی شاعر ی میں ایک پیغام ِ دعوت فکر و عمل کے ساتھ زبان و بیان کا حُسن اور طرز ادا کی ساری دلکشی موجود ہے۔

خود ی کیا ہے رازِ درون حیات

خودی کیا ہے بے داری کائنات

مولوی عبد الحق کہتے ہیں کہ:

“حالی کی طرح اقبال نے بھی شاعری کے ذریعے ملک و قوم کو جگانے کا کام شروع کیا۔”

تصانیف:

بانگِ درا۔۔۔۔۔بالِ جبرائیل۔۔۔۔۔۔ضربِ کلیم۔۔۔۔۔۔۔پیامِ مشرق۔۔۔۔۔۔۔ارمغانِ حجاز اور    زبورِ عجم وغیرہ آپ کی مایہ ناز تصانیف ہیں۔

نظم کا مرکزی خیال:

دورہ یورپ کے بعد مسلمانوں کی زبوں حالی دیکھ کرعلامہ کے منہ سے بلا اختیار ’’شکوہ ‘‘ نکل گیا ۔ جس  پر آپ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا  حتیٰ کے کفر کے فتوے بھی صادر ہوئے۔ان الزاما ت کی پاداش میں آپ نے اس شکوے کا  جواب لکھا ، جو کہ’’ نظم جوابِ شکوہ ‘‘ کے نام سے بہت مشہور ہوئی۔یہ ایک طویل نظم ہے ،جس میں  ’’۳۶ ‘‘ بنداد ہیں۔اس کے ’’۴‘‘ بنداد نصاب میں شامل کئے گئے ہیں۔

ان بندا د کا مرکزی خیال کچھ یوں ہے کہ مسلمانوں پر اللہ عز و جل نے بے شمار نعمتیں اور رحمتیں نازل فرمائی ہیں۔اس کے باوجود ہم لوگ اس کے احکاما ت سے بے توجہی اور لاپروائی کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اور اسلاف کے کار نامون سے سبق نہیں سیکھتے ہیں۔اور اگر ہم لوگ کامیاب ہونا چاہتے ہیں ،تو ہمیں پھول کی خوشبو کی مثال بن کر آپ ﷺ کے نام اور پیغام کو دینا کے کونے ،کونے تک پہنچانا ہوگا۔

نظم ’’جنگِ یرموک کا ایک واقعہ ‘‘

مرکزی خیال:

اس نظم میں حضرتِ عللامہ اقبال نے  جنگِ یرموک کا نقشہ کھینچا ہے ۔جس میں ایک نوجوان جذبئہ شہادت سے لبریز ہو کر  حضرتِ ابو عبیدہ ؓ سے جنگ میں شرکت کرنے کی پر اثر درخواست کرتا ہے۔اس کا جذبہ اور جانثاری دیکھ کر  حضرت ابو عبیدہ ؓ  کم عمر ہونے کے باوجود اسے جنگ میں شرکت کرنے کی اجازت دے دیتے ہیں۔

اس نظم کا مرکزی خیال کچھ یوں ہے کہ مومن کی نگاہ میں یہ فانی زندگی کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔وہ اللہ عز و جل اور اس کے حبیبﷺ کی خوشنودی کی خاطر کفار سے جنگ کرتا ہے،اور جامِ شہادت نوش کرکے  اللہ تعالیٰ کی عنایت کردہ زندگی کو اس کے مقاصد کی تکمیل میں صرف کرتا ہے۔تاکہ آخرت میں سرخرو ہو اور آپ ﷺ کے ہاتھ سے حوضِ کوثر کا پانی پی کر کامیاب لوگوں میں شمار ہو۔

٭٭٭

قومی ترانے کے خالق  ابوالاثر حفیظ جالندھری(نظم:صحرا کی دعا)

شاعرکا مختصر تعارف:

ابوالاثر حفیظ جالندھری بچپن ہی سے ان اوصاف کے مالک تھے – جن کی وجہ سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ شخص بڑا ہو کر کیا گل کھلاے گا –  شاہنامہ اسلام لکھ  کر یہ ثابت کر دکھایا –  موسیقی و ترنم ، اسلامی جزبات  اور سلاست و  روانی آپ کی شاعری کے بنیادی جز و  ہیں – آپ ایک نڈر اور بے باک صحافی بھی ہیں۔آپ ریڈیو پاکستان سے بھی وابستہ رہے۔

 بقول ڈاکڑ سید عبد اللہ:

                 ’’ حفیظ کی تخلیقی زندگی اس  کی عملی  زندگی کے ساتھ ساتھ چلتی ہے – وہ ایک باعمل شاعر ہے جو جہاد زندگی سے مغرور کبھی نہیں ہوا ‘‘

تمنا ہے کہ اس دنیا  میں کوئی کام کر جاؤں

اگر کچھ ہو سکے تو خدمت اسلام کر جاؤں

تصانیف:

                          نعمہ زار ۔۔۔۔۔۔لالہ زار ۔۔۔۔۔سوزو ساز ۔۔۔۔۔۔تلخابہ شیریں اور شاہنامہ اسلام آپ کے شاعری کے مجموئے ہیں۔

نظم کا مرکزی خیال:

یہ نظم شاہنامہ اسلام سے ماخوذ ہے،جو کہ اسلام کی منظوم تاریخ ہے۔اس نظم میں شاعر کی آپ ﷺ سے عقیدت اور محبت خوب جھلکتی ہے۔

اس نظم کا مرکزی خیال کچھ یوں ہے کہ آپ ﷺ  اور آپ ﷺ کے تین سو تیرہ جانثاروں نے  اللہ تعالی کی رِضا اور خوشنودی کی خاطر کس بے سرو سامانی کے عالم میں ریگستان میں  چلچلاتی دھوپ اور ریت سے اٹھنے والے طو فانوں کا سامنا کیا۔ یہ منظر دیکھ کر صحرا بھی پریشان ہوگیا اور بارگاہِ ایزدی میں  گڑگڑا کر بارش کی دعا کرنے لگا۔

٭٭٭

شاعرِ مزدور  احسان الحق دانش(نظم:برسات)

شاعرکا مختصر تعارف:

   احسان دانش دنیائے اردو میں ’’شاعر مزدور ‘‘کہلاتے ہیں –  ان کی شاعری میں  نرمی ،شائستگی اور سوزوگدازکی کیفیت پائی  جاتی ہے ۔احسان دانش  بنیاوی طور پر نظم کے شاعر ہیں ۔جبکہ ان کی غزلیں بھی ایک خاص مزاج رکھتی ہیں – مزدوروں ، کسانوں اور غریب طبقے سے  ہمدردی ان کی شاعری کا خاص موضوع ہے –

جب  آدمی   کے     حال     پہ  آتی   ہے مفلسی

کس کس طرح سے  اس کو ستاتی  ہے مفلسی

تصانیف:

نوائے کارگر۔۔۔چراغاں ۔۔۔۔۔آتشِ خاموش۔۔۔بادِ نو اور  زخم و مرہم آپ کے کلام کے مجموعے ہیں۔’’جہانِ دانش ‘‘ کے نام سے آپ نے اپنی سوانح عمری لکھی۔

نظم کا مرکزی خیال:

اس نظم کا مرکزی خیال کچھ یو ں ہے کہ برسات کا موسم اور اس کے حسین و جمیل رنگ  ہر انسان ،حیوان ،چرند ،پرند ، حتیٰ کہ حشرات الارض میں بھی  مستی کی کیفیت پیدا کر دیتے ہیں ۔ اور ہر ذی روح پر سرور و وجد کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔در حقیقت یہ سب خالقِ حقیقی کی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

٭٭٭

مرثیہ نگاری کے امام،اردو کے ’’ہیومر اور ٹینیسن‘‘ میر ببر علی انیس(نظم:صبح کا سماں)

شاعرکا مختصر تعارف:

ناقدین نے آپ کو مرثیہ نگاری کا امام تسلیم کیا ہے۔آپ ایک قدرالکلام شاعر ہیں۔آپ کا پورا خاندان شعراء سے بھرا پڑا ہے۔آپ کے دادا ’’میر حسن ‘‘عظیم مثنوی نگار تھے۔اور والد  ’’ میر خلیق‘‘ مرثیے کے بہترین شاعر تھے۔منظر نگاری ،کردار نگاری،سراپا نگاری،جذبات نگاری اورماحول کی عکاسی  آپ کی شاعری کی نمایاں خصوصیات ہیں۔

ڈاکٹر ابواللیث صدیقی رقم طراز ہیں:

’’ شبلی ،حالی، رام بابو سکسینہ نے لکھا ہے کہ اردو داں طبقے میں پرانی شاعری کی اگر کوئی چیز مقبول ہے ،تو وہ انیس ؔ کی مرثیہ نگاری ہے۔

تصانیف:

مراثی انیس ۔۔۔۔

نظم کا مرکزی خیال:

نظم  ’’ صبح  کا سماں ‘‘ اصل میں انیس کی کوئی الگ سے نظم نہیں ہے ،بلکہ ان کے طویل مرثیے کا حصہ ہے۔جس میں انہونے اپنی قادرالکلامی سے کربلا کے میدان میں ہونے والی صبح کا حسین منظر بیان کیا ہے۔ انیس  خوبصورت تراکیب ،تشبیہات اور استعارات سے خیالات کو  وسعت و گہرائی عطا کرتے ہیں

اس نظم کا مرکزی خیال کچھ یوں ہے کہ جب سیدنا حضرت امام حسین  رضی اللہ تعالیٰ عنہ وادیِ کربلا میں شہادت کے دن میدانِ جنگ میں  تشریف لانے والے تھے، تو اس صبح کا منظر نہایت حسین اور دلکش تھا ،اور اگر یہ منظر حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی دیکھ لیتے تو وہ بھی  بے ہوش ہو جاتے۔وادی کے تمام چرند و پرند، شجر و ہجر اور درند و انسان سب حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آمد پر ان کے استقبال کیلئے دل و جان سے منتظر تھے۔

٭٭٭

عظیم نغمہ نگار ساقی جاوید(نظم:محنت اپنی آن)

شاعرکا مختصر تعارف:

ساقی جاوید معروف شاعر ہیں ۔کراچی  ریجن کے مختلف سیکنڈری اسکولوں میں تدریس کے فرائض انجام دے چکے ہیں۔ بعد میں صدرِ مدرس کی حیثیت سے ریٹائرڈ  ہوئے۔آپ کی  شہرت کی اصل وجہ قومی نغمے ہیں،جن میں سے ایک نغمہ ’’چاند میری زمیں اور پھول میرا وطن‘‘ بہت زیادہ مشہور ہوا۔قومی جذبہ، حب الوطنی،  اتحاد اور ایقان آپ کی شاعری کی نمایاں  خصوصیات ہیں۔

تصانیف:

’’چاند میری زمیں اور پھول میرا وطن‘‘اور ’’محنت اپنی آن وغیرہ آپ کی مشہور نظمیں ہیں۔

نظم کا مرکزی خیال:

اس نظم میں  مصنف بلخصوص طلباء کو حب الوطنی اور قومی ترقی کا واضح درس دے رہیں ہیں۔

اس نظم کا مرکزی خیال کچھ یوں ہے کہ   اقوام کی ترقی کا راز صرف اور صرف محنت ہی میں پوشیدہ ہے۔محنت ہی سے عزت اور عظمت نصیب ہوتی ہے۔محنت کے ذریعے  ہی دنیا میں اعلیٰ  سے اعلیٰ مقام حاصل کیا جا سکتا ہے۔

٭٭٭

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s