غزلیات کے اہم اشعارکی تشریحات # نظموں کے مرکزی خیالات

 مولوی اسمٰعیل میرٹھی(نظم:حمد شریف)

 

شعر نمبر ۱۔

خدایا باطن و ظاہر بھی تو ہے

خدایا اول و آخر بھی تو ہے

 

 

 

حوالہ:

تشریح طلب شعر نصاب میں   شامل  بچوں کے   پسندیدہ شاعر  اسمٰعیل میرٹھی کی ’’ حمد شریف‘‘ کا مطلع ہے ۔ مطلع  غزل کے پہلے شعر کو کہتے ہیں ، جس میں شاعر ’’ قافیہ ‘‘ اور  ’’ردیف ‘‘ استعمال کرتا ہے۔مذکورہ بالا شعر میں ’’ آخر و ظاہر ‘‘ قافیہ اور ’’ بھی تو ہے ‘‘ ردیف ہے ۔

شاعرکا مختصر تعارف:

محمد  اسمٰعیل میرٹھی ایک مستند ماہرِ تعلیم ہیں۔میرٹھ اور سہارنپور میں بحیثیت استاد اور آگرہ نارمل اسکول میں بحیثیت صدر مدرس تیعنات رہے۔آپ کی لکھی ہوئی درسی کتابیں ہر سطح پر مقبول ہوئیں۔اگر آپ کو بچوں کا شاعر کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا۔آپ نے بچوں کی اصلاح کیلئے بہت کام کیا۔آپ کا لہجہ نرم ، انداز سادہ اور عام فہم، زبان سلیس اور الفاظ بچوں کے ذہن کے مطابق بے حد معیاری ہوتے ہیں ۔آپ کے کلام میں قومی اور ملی احساسات نمایاں ہیں۔

تصانیف:

جریدہ عبرت ۔۔۔۔۔مثنوی فکرِ کلیم۔۔۔۔۔۔ریزہ جواہر۔۔۔۔۔۔سفینہ ءِ اردو۔۔۔۔۔۔ادیبِ اردو۔۔۔۔۔کمکِ اردو۔۔۔۔ترجمانِ فارسی اور قواعدِ  اردو وغیرہ آپ کی مایہ ناز تصانیف ہیں۔

مشکل الفاظ کے معانی:

باطن ۔۔ چھپا ہوا، نظر  نہ آنے والا، پوشیدہ

ظاہر ۔۔ عیاں، نظر آنے والا، جو آنکھوں کے سامنے ہو

تشریح:

 تشریح طلب شعر میں مولوی اسمٰعیل میرٹھی اپنے خاص لب و لہجے میں اللہ عز و جل کی حمد و ثناء  بیان  کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ( یہ در اصل اللہ تعالیٰ سے خطاب ہے ) اے پاک بے نیاز ! دنیا کی ابتداء سے پہلے بھی تو تھا  اور دنیا کی انتہا یعنی قیامت کے بعد بھی تو ہی ہوگا ۔ یا پروردگار تیری ذاتِ اقدس کے علاوہ  باقی ہر شے کو زوال ہے ۔ پہاڑوں کی بلندی، دریاؤں کی روانی ،سمندر کی پر جوش لہروں ، پھولوں کی خوشبو اور پرندوں کی چہچہاہٹ الا کہ ہر شے میں تیرا ہی جلوہ موجود ہے ۔تو ہماری شہ رگ کے قریب ہے ۔کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں تو موجود نہ ہو۔تو ہمیں ہر جگہ دیکھتا ہے اور تجھ سے کوئی شے پوشیدہ نہیں۔

شعر نمبر ۳۔

ورائے عقل ہے تیری خدائی

نہیں اول کو آخر سے جدائی

 

 

 

حوالہ:

تشریح طلب شعر نصاب میں   شامل  بچوں کے   پسندیدہ  شاعر  اسمٰعیل میرٹھی کی ’’ حمد ‘‘ کا  تیسرا  شعر ہے

شاعرکا مختصر تعارف:

تصانیف:

مشکل الفاظ کے معانی:

ورائے عقل ۔۔عقل سے آگے ، وہ مقام جہاں عقل کی حد ختم ہو جاتی ہے ۔

تشریح:

 تشریح طلب شعر میں مولوی اسمٰعیل میرٹھی اپنے خاص لب و لہجے میں اللہ عز و جل کی حمد و ثناء  بیان  کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ( یہ در اصل اللہ تعالیٰ سے خطاب ہے ) اے پاک بے نیاز ! ،اے ارض و سماء کے خالق و مالک  تیری اول و آخر ہونے کی صفت ایسی ہے جس کا بیان کرنا نا ممکن ہے۔ اول ہونا اتنا ہی اہم ہے کہ جتنا ا  ّخر ہونا ۔جب یہ کائینات وجود میں نہیں آئی تھی۔، تو تیری ذاتِ والا إو جو د تھی  اور جب اس کائینات کا وجود ختم ہو جائیگا تب بھی تو ہی ہو گا ۔ اے مشرقین و مغر  بین کے مالک !  تیری   حاکمیت کی حدیں  انسانی عقل و شعور سے بہت آگے ہیں ۔

شعر نمبر۴۔

مگر خود ناظر و منظور ہے تو

زمیں و آسمان کا نور ہے تو 

 

 

 

حوالہ:

تشریح طلب شعر نصاب میں   شامل  بچوں کے   پسندیدہ  شاعر  اسمٰعیل میرٹھی کی ’’ حمد ‘‘ کاچوتھا    شعر ہے

شاعرکا مختصر تعارف:

تصانیف:

مشکل الفاظ کے معانی:

ناظر ۔۔ دیکھنے والا

منظور ۔۔جس کو دیکھا جائے

تشریح:

 تشریح طلب شعر میں مولوی اسمٰعیل میرٹھی اپنے خاص لب و لہجے میں اللہ عز و جل کی حمد و ثناء  بیان  کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ( یہ در اصل اللہ تعالیٰ سے خطاب ہے ) اے پاک بے نیاز ! اے ارض و سماء کے خالق و مالک! یہ زمیں و آسماں ، یہ چاند تارے ،یہ جنگل  بیا باں اور صحرا ، یہ دریا اور سمندر کی ہر شے اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ سب کا خالق و مالک تو ہے ۔ اور ہر چیز میں تیرا ہی نور موجود ہے ۔تو ہی اس جلوے  کو  دیکھتا ہے اور یہ سب نظارے تجھے دیکھتے ہیں ۔ یعنی تو ہی دیکھنے والا ہی  ، اور تو ہی  دکھانے والا ہے۔

شعر نمبر۵۔

کہ تیری سلطنت ہے جاوِدانی

مسلم ہے تجھ ہی کو حکمرانی 

 

 

 

حوالہ:

تشریح طلب شعر نصاب میں   شامل  بچوں کے   پسندیدہ  شاعر  اسمٰعیل میرٹھی کی ’’ حمد ‘‘ کاپانچواں شعر ہے

شاعرکا مختصر تعارف:

تصانیف:

مشکل الفاظ کے معانی:

مُسلَّم۔۔ تسلیم شدہ

جاوداں۔۔ہمیشہ قائم رہنے والی

تشریح:

 تشریح طلب شعر میں مولوی اسمٰعیل میرٹھی اپنے خاص لب و لہجے میں اللہ عز و جل کی حمد و ثناء  بیان  کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اے  اللہ عزوجل و پاک بے نیاز ! تو بادشاہوں کا بادشاہ ہے ، تو حکمرانوں کا حکمران ہے اور تو شہنشاہوں کا شہنشاہ ہے ۔کون ہے جو تیرے سامنے دم مار سکے۔ تیری حکمرانی تسلیم شدہ ہے ۔حکومت و بادشاہت کرنا صرف تجھ ہی کو زیب دیتا ہے ۔تو ہی ایسا حکمران ہے کہ جس کی حکومت کو کبھی زوال نہیں اور وہ ہمیشہ قائم و دائم رہنے والی ہے ۔

٭٭٭

خوشبوئے حسان  اور صاحبِ اعجاز شاعرمولانا ظفر علی خان(نظم:نعت ِﷺشریف)

شعر نمبر ۱۔

دیکھے  کہ  جبرئیل ؑ ہے دربانِ مصطفیٰﷺ

دیکھی نہیں کسی نے اگر شا نِ مصطفیٰ ﷺ

 

 

 

حوالہ:

تشریح طلب شعر نصاب میں شامل  خشبوئے  حسان اور صاحبِ اعجاز شاعر مولانا ظفر علی خان کی نعت شریف کا مطلع ہے ۔ مطلع  غزل کے پہلے شعر کو کہتے ہیں ، جس میں شاعر ’’ قافیہ ‘‘ اور  ’’ردیف ‘‘ استعمال کرتا ہے۔مذکورہ بالا شعر میں ’’ شان  و در بان ‘‘ قافیہ اور ’’ مصطفیٰ ﷺ‘‘ ردیف ہے ۔

شاعرکا مختصر تعارف:

مولانا ظفر علی خان عاشقِ رسول ،سیاسی مدبر اور ایک نڈر و بیباک صحافی ہیں۔اپنے اخبار ’’ زمیندار ‘‘ کے ذریعے مسلمانوں کو سیاسی استحکام دیا۔انگریزی استعمار کے خلاف زبردست آواز  اٹھائی ۔آزادی کے متوالے کی حیثیت میں کئی بار جیل کی ہوا کھائی ،اور  ان اخبا ر ’’زمیندار ‘‘ بھی اس سلسلے میں کئی بار بند ہوا۔مولانا کے کلام میں شوخی ،رنگینی،زور بیانی،روانی اور منظر نگاری کے اوصاف پائے جاتے ہیں۔عشقِ رسول ﷺ آپ کی شاعری کا خاص موضوع ہے۔

خدا عزوجل کی حمد ، پیغمبر کی مدح ، اسلام کے قصے

مرے مضمون   ہیں   ،جب سے شعر کہنے  کا   شُعُور آیا

تصانیف:

نگارستان،بہارستان،چمنستان اور حسیات آپ کے شعری مجموعے ہیں۔ؤپ نے حیدر آباد دکن میں قیام کے دوران ’’رسالہ افسانہ ‘‘ جاری کیا ۔والد کا جری کیا ہوا ہفت روزہ ’’زمیندار ‘‘ روزنامچے میں تبدیل کردیا۔ ’’معرکہ مذہب و سائنس ‘‘ ،جنگل میں منگل‘‘ اور ’’غلبہ روم ‘‘ آپ کی یادگار تصانیف ہیں۔

مشکل الفاظ کے معانی:

دربانِ مصطفیٰ ﷺ۔۔دروازے کی نگرانی کرنے والا

تشریح:

پیشِ نظر شعر میں عاشقِ رسول ، خوشبوئے حسان مولانا ظفر علی خان  آپ صلی اللہ علیہ و آ لہ وسلم  کی تعریف و توصیف بیان کرتے ہوئے اپنے مخصوص عاشقانہ لہجے میں فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل کے بعد سب سے افضل و برتر  رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آ لہ وسلم  کی ذات ِ مبارک ہے ۔رسولِ اکرم ﷺ کی شان  اور مرتبے کا اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جبرئیل علیہ السلام جو کہ اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتوں میں سے ایک ہیں ،حضورِ اقدس ﷺ کے دروازے کے دربان ہیں ۔جس شخص کا دربان اتنے اعلیٰ مرتبے کا ہو ،تو وہ ہستی خود کتنی عظیم المرتبت ہوگی۔

شعر نمبر ۲۔

اپنی مثال آپ ہیں یارانِ مصطفیٰ ﷺ

اسلام  کا  زمانے  میں  سکہ  بٹھا  دیا

 

 

 

حوالہ:

تشریح طلب شعر نصاب میں شامل  خشبوئے  حسان اور صاحبِ اعجاز شاعر مولانا ظفر علی خان کی نعت شریف کا دوسرا شعرہے ۔

شاعرکا مختصر تعارف:

تصانیف:

مشکل الفاظ کے معانی:

یاران ِ مصطفیٰ ﷺ۔۔رسولِ اکرم ﷺ کے ساتھی یعنی صحابہ کرام ؓ

سکہ بٹھانا۔۔دھاک بٹھانا ، حکومت قائم کرنا

تشریح:

پیشِ نظر شعر میں عاشقِ رسول ، خوشبوئے حسان مولانا ظفر علی خان  آپ صلی اللہ علیہ و آ لہ وسلم  کی تعریف و توصیف بیان کرتے ہوئے اپنے مخصوص عاشقانہ لہجے میں فرماتے ہیں کہ رسولِ اکرم ﷺ نے جو مشعل روشن فرمائی تھی ،آپ ﷺ کے وصال کے بعد  صحابہ کرامؓ نے اس کی کرنوں سےپورے عالم کو منور کر دیا ۔ یہ سب آپ  صلی اللہ علیہ و آ لہ وسلم  کی خاص تربیت کا نتیجہ تھا  کہ انہوں نے پورے عالم میں  اسلام کی عظمت کی دھاک بٹھا دی اور ان کی شرافت ، دیانت ،عفو و درگزر  اور شجاعت  پوری دنیا میں ضرب المثل بن گئی ۔آپ ﷺ کا ہر ساتھی  اپنے طور پر بے مثل تھا۔حضرت ابو بکر ؓ  کا  صدق ، حضرت عمر ؓ کی اما رت ، حضرت عثمان ؓ کی حیا اور حضرت علی ؓ کی شجاعت بے مثل تھی۔یہ آپس میں رحیم  اور کفار پر شدید تھے۔

شعر نمبر ۳۔

میری ہزار جان ہو قربانِ مصطفیٰ ﷺ

میرے ہزار دل ہوں تصدق حضور ﷺ پر

 

 

 

حوالہ:

تشریح طلب شعر نصاب میں شامل  خوشبوئے  حسان اور صاحبِ اعجاز شاعر مولانا ظفر علی خان کی نعت شریف کا تیسرا  شعرہے ۔

شاعرکا مختصر تعارف:

تصانیف:

مشکل الفاظ کے معانی:

تَصَدُّق  ہونا۔قربان ہونا ، فدا ہونا

جان۔۔زندگی

تشریح:

پیشِ نظر شعر میں عاشقِ رسول ، خوشبوئے حسان مولانا ظفر علی خان  آپ صلی اللہ علیہ و آ لہ وسلم  کی تعریف و توصیف بیان کرتے ہوئے اپنے مخصوص عاشقانہ لہجے میں آپ ﷺ سے رشتہ جوڑتے  ہوئے  فرماتے ہیں کہ حضورِ اکرم ﷺ کی ذاتِ مبارک  کائینات میں  سب سے ارفع و اعلیٰ ہے ۔اور ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ آپ ﷺ کو اپنے والدین ،اپنی اولاد، اپنے مال و اسباب  حتیٰ کہ اپنی جان  سے بھی بڑھ کر کو چاہے ۔ کیوں کہ یہ ایمان کا اولین جزو ہے ۔اسی بنا ء پر آپ ﷺ ہم سب کو اور شاعر ِہٰذا کو  اپنے دل و جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں ۔ اسی لئے  شاعر مولانا ظفر علی خان آپ ﷺ پر اپنی ہزار جانیں اور ہزار دل قربان کرنے کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں ۔

شعر نمبر ۴۔

چھوٹے مگر نہ  ہاتھ سے دامانِ مصطفیٰ ﷺ

رشتہ مرا خدا کی  خدائی سے چھوٹ جائے 

 

 

 

حوالہ:

تشریح طلب شعر نصاب میں شامل  خوشبوئے  حسان اور صاحبِ اعجاز شاعر مولانا ظفر علی خان کی نعت شریف کا چوتھا شعرہے ۔

شاعرکا مختصر تعارف:

تصانیف:

مشکل الفاظ کے معانی:

رشتہ ۔۔تعلق

خدائی ۔۔سلطنت یعنی دنیا

تشریح:

پیشِ نظر شعر میں عاشقِ رسول ، خوشبوئے حسان مولانا ظفر علی خان  آپ صلی اللہ علیہ و آ لہ وسلم  کی تعریف و توصیف بیان کرتے ہوئے اپنے مخصوص عاشقانہ لہجے میں آپ ﷺ سے رشتہ جوڑتے  ہوئے  فرماتے ہیں کہ  جب رسول مقبول ﷺ کی محبت دل میں موجزن ہو جاتی ہے  تو  وہ پھر انہی  کا ہو جاتا ہے ۔ انہی  کے بتائے ہوئے طریقوں پر اپنی زندگی گزارتا ہے ۔ وہ کوشش کرتا ہے کہ اس کا کوئی فعل اس کے محبوب ﷺ کے بتائے ہوئے راستے سے ہٹ کر نہ ہو ۔دنیا کی خواہش اور مال و دولت کی ہوس کو دل سے نکال پھینکتا ہے ۔وہ ماں باپ ، بہن بھائی ، دوست احباب اور عزیز و اقارب کو  چھوڑنا تو گوارہ کر سکتا ہے ، مگر دامنِ رحمت  ﷺ کا  چھوت جانا ہر گز گوارا نہیں کرتا ۔

٭٭٭

صوفی اور آفاقی شاعر حضرت شاہ عبدالطیف بھٹائی   ؒ(نظم:وائی)

شعر نمبر ۱۔

ہر اک آدمی اس کے در کا گدا ہے

وہی ایک شایانِ جود و سخا ہے

 

 

 

حوالہ:

تشریح طلب شعر نصاب میں شامل  عظیم صوفی شاعر حضرت شاہ عبد الطیف  بھٹائی ؒ کی ’’ وائی ‘‘ (جو  کہ حمد کی ایک شکل ہے )  کا  مطلع ہے ۔ جس کے مترجم شیخ ایاز ہیں ۔

شاعرکا مختصر تعارف:

شاہ عبد الطیف بھٹائی صبوبہ  سندھ کے سب سے بڑے صوفی شاعر ہیں – انکی زندگی اور شاعری دونوں میں یک رنگی ہے۔  سادگی ، خلوص ،انسانی محبت ، استغناء ، عاجزی اور انکساری ان  کی طبیعت اور  ان کی  شاعری کا خاص  مزاج ہے – جبکہ ’’ تصوف ‘‘ ان کا خاص موضوع ہے۔ انہوں نے انسان ،خدا اور کائنات کے رشتوں کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے ،اسی لئے وہ آفاقی شاعر کہلاتے ہیں۔صنفِ ’’وائی ‘‘ کے مؤجد بھی خود شاہ صاحب ہی ہیں۔آپ نے ایک ساز ’’تنبورہ‘‘ بھی ایجاد کیا۔   اس نظم کا ترجمہ  محترم ’’ شیخ ایاز ‘‘ مرحوم نے کیا ہے۔

تصانیف:

’’شاہ جو رسالو ‘‘ آپ کی شاعری کا مجموعہ ہے جو  کئی زبانوں میں ترجمہ ہو کر چھپ چکا ہے۔

مشکل الفاظ کے معانی:

شایان۔۔لائق ،مناسب

جود و سخا ۔۔ عنایت ، بخشش

گدا ۔۔ سوالی ،مانگنے والا ، بھکاری

تشریح:

تشریح طلب شعر میں  شاہ عبد اللطیف بھٹائی ؒ اپنے مخصوص صوفیانہ انداز میں اللہ عزوجل کی حمد و ثناء بیان کرتے ہوئے  فرماتے ہیں کہ اللہ رب العالمین تمام جہانوں کا پیدا کرنے والا ہے ۔وہ (عزوجل ) ہر شے کا بلا شرکت غیرے مالکِ کل و مختار ہے ۔وہی ذاتِ پاک ہم سب کی حاجت روا اور مشکل کشا ہے ۔تمام مخلوقات  بلخصوص انسان ،ملائکہ اور جنات سب اس کے سخت محتاج ہیں ۔سب اس کے حاجت مند ہیں اس کو کسی کی حاجت نہیں ۔ہر اک اس رب العالمین کے دربارِ عالیہ کا سوالی ہے ۔سب سے عظمت والی بات یہ ہے کہ اس کے دربارِ عالیہ سے مانگنے والا کبھی بھی مایوس اور خالی ہاتھ واپس نہیں لوٹتا ۔

شعر نمبر۲۔

بہر حال بندوں پہ اس کی عطا ہے

کوئی   بے   ہنر   یا   اپاہج   ہو  کوئی

 

 

 

حوالہ:

تشریح طلب شعر نصاب میں شامل  عظیم صوفی شاعر حضرت شاہ عبد الطیف  بھٹائی ؒ کی ’’ وائی ‘‘ (جو  کہ حمد کی ایک شکل ہے )  کا  دوسرا   شعرہے ۔ جس کے مترجم شیخ ایاز ہیں ۔

شاعرکا مختصر تعارف:

تصانیف:

مشکل الفاظ کے معانی:

اپاہج۔۔معذور،لنگڑا لولہ

عطاء ۔۔ انعام، بخشش

بہر حال۔۔ ہر حال میں

تشریح:

تشریح طلب شعر میں  شاہ عبد اللطیف بھٹائی ؒ اپنے مخصوص صوفیانہ انداز میں اللہ عزوجل کی حمد و ثناء بیان کرتے ہوئے  فرماتے ہیں کہ ذاتِ باری تعالیٰ کی رحمت کے خزانے ہر ایک پر کھلے ہوئے ہیں۔اس کی نظر میں شاہ ہو یا گدا ،امیر ہو یا غریب ، تندرست و توانا ہو یا معذور، خوبصورت ہو یا بد صورت، عقلمند ہو یا بے وقوف، تعلیم یافتہ ہو یا ان پڑھ  ،اور ہنر مند ہو یا بے ہنر سب برابر ہیں ۔و ہ عزوجل ہر ایک کی مرادیں بر لاتا ہے اور ہر ایک  پر اپنا انعام و اکرام نازل فرماتا ہے ۔اس کی عطا و بخشش کی کوئی حد نہیں ۔ وہ ہر کسی کو نوازتا ہے ، کیوں کہ  سب اس کی مخلوق ہیں۔

شعر نمبر ۳۔

جسے جو ملا ہے ،ا سی سے ملا  ہے

وہ  چاہے  تو عزت ،  وہ  چاہے  تو  ذلت

 

 

 

حوالہ:

تشریح طلب شعر نصاب میں شامل  عظیم صوفی شاعر حضرت شاہ عبد الطیف  بھٹائی ؒ کی ’’ وائی ‘‘ (جو  کہ حمد کی ایک شکل ہے )  کا  تیسرا  شعر ہے ۔ جس کے مترجم شیخ ایاز ہیں ۔

شاعرکا مختصر تعارف:

تصانیف:

مشکل الفاظ کے معانی:

عزت ۔۔مرتبہ ، شان ،بڑائی

ذلّت ۔۔ رُسوائی ،بدنامی ،شرمندگی

بہر حال۔۔ ہر حال میں

تشریح:

تشریح طلب شعر میں  شاہ عبد اللطیف بھٹائی ؒ اپنے مخصوص صوفیانہ انداز میں اللہ عزوجل کی حمد و ثناء بیان کرتے ہوئے  فرماتے ہیں کہ عزت اور ذلت صرف  اللہ عزوجل کے ہاتھ میں ہے ۔وہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے۔گنہگار  جب اپنے گناہوں پر نادم ہوتا ہے تو ذاتِ باری تعالیٰ کو بہت پیارا لگتا ہے۔ اللہ عزوجل اس کے نہ صرف گناہوں کو ہی معاف کر دیتا ہے بلکہ اس کے درجات کو بھی بلند فرما دیتا ہے ۔جو بھی انسان کو ملتا ہے ۔،صرف اس پاک پروردگار سے ہی نصیب ہوتاہے۔دراصل یہاں شاہ صاحب  نےقرآنِ پاک سے استدلال  کیا ہے ۔یہ تو واضح قرآن کا  فیصلہ ہے جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ ’’ عزت اور ذلت اللہ عزوجل کے ہاتھ میں ہیں ۔بیشک وہ  (اللہ) ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘

شعر نمبر ۴۔

وہی  خالق   بزمِ  ہر دوسرا   ہے

عدم سے کیا اس نے تخلیق سب کو

 

 

 

حوالہ:

تشریح طلب شعر نصاب میں شامل  عظیم صوفی شاعر حضرت شاہ عبد الطیف  بھٹائی ؒ کی ’’ وائی ‘‘ (جو  کہ حمد کی ایک شکل ہے )  کا  تیسرا  شعر ہے ۔ جس کے مترجم شیخ ایاز ہیں ۔

شاعرکا مختصر تعارف:

تصانیف:

مشکل الفاظ کے معانی:

عدم۔۔غیر موجود،  نہ ہونا

تخلیق۔۔ بنانا، ایجاد کرنا ،پیدا کرنا

خالق۔۔تخلیق کرنے والا

بزم۔۔محفل

ہر دو سرا ۔۔ دونوں جہاں

تشریح:

تشریح طلب شعر میں  شاہ عبد اللطیف بھٹائی ؒ اپنے مخصوص صوفیانہ انداز میں اللہ عزوجل کی حمد و ثناء بیان کرتے ہوئے  فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل کائینات کا مالک و خالق ہے ۔ اس نے بغیر کسی سابقہ مثال کے چند لمحوں کے اندر ہر شے کو تخلیق فرمایا ۔آسمان اور زمین ، جنت اور دوزخ، چرند وپرند ،صحرا و سمندر ، دریا اور پہاڑ، انسان اور حیوان غرض یہ کی کائینات کی ہر شے کو اس نے تخلیق فرمایا ۔ مارنے کے بعد زندہ کرنے پر بھی وہی قادر ہے ۔ وہ دونوں جہانوں کا مالک و مختار ہے۔ یعنی اس دنیائے فانی کے بعد جو دوسری زندگی شروع ہونے والی ہے ، اس کا بھی وہی مالک اور خالق ہے۔

٭٭٭

خدائے سخن ،شہنشاہِ غزل سید میر تقی میرؔ(غزل)

شعر نمبر ۱۔

ایسا کچھ کر کے چلو  یاں کہ بہت یاد رہو

بارے  دنیا  میں  رہو  غمزدہ  یا  شاد  رہو

 

 

 

حوالہ:

تشریح طلب شعر نصاب میں شامل  خدائے سخن ،سر تاج الشعرا   اور غزلوں کے امام  سید میر تقی میر کی  غزل کا مطلع ہے۔

شاعرکا مختصر تعارف:

  ناقدین نے بلا شکرکت غیرے میر کو شہنشاہ غزل تسلیم کیا ہے – آپ ایک سچے اور فطری شاعر ہیں ۔عشق آپ کا خاص موضوع ہے – رنج ، علم ،آنسو  ، اور زمانے کی ناقدری  و  بدحانی آپ کی شاعری کی نمایاں خصوصیات ہیں ۔

 میر درد کے والد ناصر عند لیب نے کیا  خوب کہا : 

                                                   ’’  اے میر تو  میر مجلس خواہی شد‘‘۔        

ترجمہ : اے میر تو ایک دن شاعری کی محفل کی جان  بنے گا ۔

 آپ  سے متعلق  مجنوں گو  رکھپوری رقم طراز ہیں کہ :

                                                         ’’  میر الم کو ایک نشاط اور درد کو سرور بنا دیتے ہیں ‘‘۔

تصانیف:

نکات الشعراء ۔۔۔۔۔۔۔کلیاتِ میر۔

مشکل الفاظ کے معانی:

بارے۔۔الغرض ، آخر کار

شاد ۔۔ خوش

یاں ۔۔یہاں

تشریح:

تشریح طلب شعر میں  خدائے سخن میر تقی میر اپنے مخصوص درد مندانہ لہجے میں  دنیا کی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ زندگی رنج و الم ،راحت و تکلیف  سے عبارت ہے ۔بعض حضرات اپنے منہ میں  سونے کا  چمچہ لے کر پیدا ہوتے ہیں ۔ ساری زندگی عیش و  عشرت سے گزارتے ہیں ۔ کوئی غم انہیں چھو کر بھی  نہیں گزرتا ۔لیکن  جب  وہ دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں تو انہیں کوئی یاد نہیں کرتا ۔آپ کے نزدیک یہ کامیاب لوگوں کی زندگی نہیں ہے ۔آپ مزید فرماتے ہیں کہ زندگی چاہے عسرت میں گزرے  یا یسرت میں گزرے ، لیکن اسے گزارنے  کا انداز ایسا ہونا چاہیئے  کہ مرنے کے بعد لوگ یاد کریں ۔ وہی لوگ دنیا  و آخرت میں کامیاب  و کامران ہیں  جنہوں نے اپنی زندگی میں  مخلوقِ خدا عزوجل  کے فائدے کیلئے کام کئے ۔ یعنی نیکی اور بھلائی کے کاموں کی وجہ سے انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔  

شعر نمبر ۲۔

لطف کیا  سرو کے مانند گر آزاد رہو

عشق پیچے کی طرح حسنِ گرفتاری ہے

 

 

 

حوالہ:

تشریح طلب شعر نصاب میں شامل  خدائے سخن ،سر تاج الشعرا   اور غزلوں کے امام  سید میر تقی میر کی  غزل کا دوسرا  شعر ہے۔

شاعرکا مختصر تعارف:

تصانیف:

مشکل الفاظ کے معانی:

عشق پیچہ ۔۔اس کو آکاس بیل بھی کہتے ہیں  یہ درختوں سے لپٹ کر اپنی  خوراک حاصل کرتی ہے

سرّ و۔۔ ایک درخت کا نام  اس میں نہ پھول کھلتے ہیں اور نہ پھل ۔ اس پر کسی بھی موسم کا کوئی اثر نہیں ہوتا

تشریح:

تشریح طلب شعر میں  خدائے سخن میر تقی میر اپنے مخصوص درد مندانہ لہجے میں  دنیا کی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ زندگی آفات و مصائب کا  گڑھ ہے ۔ اگر انسان تمام غموں اور فکروں سے  آزاد  زندگی  بسر کرتا ہے  تو زندگی کا صحیح لطف نہیں اٹھا پاتا ۔اسی لئے میر تقی میر   مزید فرماتے ہیں کہ جس طرح عشق پیچہ درختوں سے لپٹ جاتی ہے اور اپنی زندگی کی بقاء کیلئے انہی سی خوراک حاصل کرتی ہے ۔بالکل اسی طرح اگر جذبہ عشق دائمی ہو تو اس کا احساس ہی بڑا  لطیف اور مسہور کن ہوتا ہے ۔اس کے مقابلے میں سرو کا درخت  بے مقصد ہوتا ہے ،نہ اس میں پھول کھلتے ہیں ، نہ اس میں پھل آتے ہیں اور نہ ہی اس پر کسی موسم کا اثر ہوتا ہے ۔لہٰذا اس درخت کی کوئی قدر نہیں کرتا ۔اس لیے انسان کو اپنی زندگی کا ایک مقصد  متعین کر کے  اس کے حصول میں لگن اور محنت سے مگن ہو جانا  چا ہیئے ۔

شعر نمبر ۳۔

دشت  میں قیس رہو ، کوہ میں  فرہاد رہو

ہم کو دیوانگی شہروں  ہی میں خوش آتی ہے

 

 

 

حوالہ:

تشریح طلب شعر نصاب میں شامل  خدائے سخن ،سر تاج الشعرا   اور غزلوں کے امام  سید میر تقی میر کی  غزل کا تیسرا  شعر ہے۔

شاعرکا مختصر تعارف:

تصانیف:

مشکل الفاظ کے معانی:

خوش آنا ۔۔پسند آنا

دیوانگی ۔۔ دیوانہ پن ، پاگل پن

دشت ۔۔ جنگل ، بیا بان

کوہ  ۔۔ پہاڑ

قیس ۔۔مجنو ں کا نام  

تشریح:

تشریح طلب شعر میں  خدائے سخن میر تقی میر اپنے مخصوص درد مندانہ لہجے میں  اپنے عشق کا موازنہ مجنوں اور فرہاد  سے  کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ قیس نے لیلیٰ سے عشق کیا تو عرب کے  صحرا ء میں لیلیٰ ،لیلیٰ کی  صدائیں لگاتا  پھرتا رہا  اور اسی طرح  فرہاد نے  شیریں سے عشق کیا تو پہاڑ کھود کر  نہر لانے کی کوشش میں ، ساری زندگی  ختم کر دی ۔ لیکن میں وہ عاشق ہوں  جس کو عشق کی دیوانگی شہروں اور بستیوں میں  ہی بھلی معلوم ہوتی ہے ۔میر  تقی میر مزید فرماتے ہیں کہ ویرانوں میں تو سب غم کی زندگی گزار ہی لیتے ہیں ، مزہ تو جب ہے  کہ مسرت و شادمانی سے بھر پور محفلوں اور مجلسوں میں غم و اندوہ کی کیفیت میں زندگی بسر کی جائے۔ تلمیح کے اطلاق سے شعر بہت  بلیغ ہو گیا ہے ۔

شعر نمبر ۴۔

داد بے داد رہو  شب کو کہ فریاد رہو

وہ گراں  خواب  جو ہے ناز  کا سو ہے 

 

 

 

حوالہ:

تشریح طلب شعر نصاب میں شامل  خدائے سخن ،سر تاج الشعرا   اور غزلوں کے امام  سید میر تقی میر کی  غزل کا  چوتھا  شعر ہے۔

شاعرکا مختصر تعارف:

تصانیف:

مشکل الفاظ کے معانی:

گراں خواب۔۔گہری نیند

داد  ۔۔ تحسین ،آفرین ، تعریف

بے داد ۔۔ ظلم ، جفا

فریاد ۔۔ شکایت کرنا

تشریح:

تشریح طلب شعر میں  خدائے سخن میر تقی میر اپنے مخصوص درد مندانہ لہجے میں  محب اور محبوب  کا موازنہ  کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ عاشق کو ہمیشہ اپنے محبوب سے شکایت رہی ہے  کہ وہ اپنے حسن کے غرور میں مست رہتا ہے  اور محب کی بالکل فکر اور پرواہ نہیں کرتا ۔ اسی حقیقت کو میر  مزید بیان کرتے ہوئے  فرماتے ہیں کہ  میرے محبوب کو  اپنے حسن پر بڑا ناز ہے ،وہ ہر وقت خوابیدہ انسان کی طرح جسے اپنے گرد و پیش کی خبر نہیں ہوتی ،اپنے حسن میں مدہوش رہتا ہے ۔ اس کو قطعی پرواہ نہیں کہ اس کا عاشق اس کی جدائی میں تڑپ رہا ہے اور کیسی بے چینی  کی زندگی گزار رہا ہے  ۔ اسے میرے نالہ و فریاد کی بالکل پرواہ نہیں ۔ وہ ان احساسات سے  بالکل نا آشنا ہے ۔

٭٭٭

پہلا صوفی شاعرخواجہ میر دردؔ(غزل)

شعر نمبر ۱۔

کس لئے آئے تھے ہم  کیا کر چلے

تہمت  چند  اپنے   ذمے   دھر   چلے

 

 

 

حوالہ:

تشریح طلب شعر نصاب میں شامل  پہلے صوفی شاعر خواجہ میر درد  کی  غزل کا  مطلع ہے۔ مطلع غزل کے پہلے شعر کو کہتے ہیں  جس میں شاعر  ’’قافیہ اور ردیف ‘‘ استعمال کرتا ہے ۔

شاعرکا مختصر تعارف:

خواجہ میر درد اردو شاعری میں تصوف کے امام کہلاتے ہیں۔ ان کی شاعری صوفیانہ ،عاشقانہ، اور شاعرانہ رنگوں سے بھری ہوئی ہوتی ہے۔ وہ سیدھی سچی بات کو مختصر ترین الفاظوں میں پیش کرنے کا ہنر خوب جانتے ہیں۔ درد کی شاعری اور ان کے مزاج میں دردمندی سوگواری اور خاکساری تھی ۔ خود ان کا تخلص بھی درد پسندی کی علامت بن گیا ہے۔ 

مرا جی ہے جب تک تری جستجو ہے

زباں جب تلک ہے یہی گفتگو ہے

نظر مرے دل کی پڑی درد کس پر

جدھر دیکھتا ہوں وہی روبرو ہے

محمد حسین آزاد کہتے ہیں کہ:

“درد” تلواروں کی آبداری نشتروں میں بھردیتے ہیں۔

تصانیف:

واردات۔۔۔۔آہِ سرد۔۔۔۔اسرارالصلوٰۃ۔۔۔۔۔نالہ درد۔۔۔شمع محفل۔۔۔۔واقعات درد۔۔۔حرمتِ غنا۔۔۔۔۔ایک دیوان فارسی اور ایک دیوان اردو  ’’درد  ‘‘کی مایہ ناز تصانیف ہیں۔

مشکل الفاظ کے معانی:

تہمت چند ۔۔چند الزامات

تشریح:

تشریح طلب شعر میں  صوفیت کے امام  اور صبر و قناعت کے پیکر  خواجہ میر درد  اپنے  مخصوص لب و لہجے  میں فرماتے ہیں کہ انسان کی تخلیق کا  مقصد اللہ عزوجل کی اطاعت و فرمانبرداری  اور دی گئی تمام نعمتوں کی  شکر گزاری تھی ۔ لیکن انسان انسان اپنے تخلیق کے مقصد کو فراموش کر بیٹھا ۔ جن کاموں کے کرنے کا حکم دیا گیا تھا ،ان کو چھوڑ دیا  اور جن کاموں کے  نہ کرنے کا حکم تھا ،ان کو اپنا لیا ۔ لیکن جب آخری وقت آیا  اطاعت ، فرمانبرداری اور بندگی کی جگہ نا فرمانی ، بے راہ روی  اور حکم عدولی جیسے الزامات کا سامنا کرنا پڑا ۔خواجہ میر درد اسی کیفیت کو بڑے کرب کے ساتھ بیان کتے ہوئے فرماتے ہیں کہ افسوس صد افسوس انسان کس لئے آیا تھا اور کیا کر کے جا رہا ہے ۔

 شعر نمبر ۲۔

ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے 

زندگی   ہے   یا   کوئی   طوفان   ہے

 

 

 

حوالہ:

تشریح طلب شعر نصاب میں شامل  پہلے صوفی شاعر خواجہ میر درد  کی  غزل کا  دوسرا  شعر ہے۔

شاعرکا مختصر تعارف:

تصانیف:

مشکل الفاظ کے معانی:

طوفان۔۔

تشریح:

تشریح طلب شعر میں  صوفیت کے امام  اور صبر و قناعت کے پیکر  خواجہ میر درد  اپنے  مخصوص لب و لہجے  میں  زندگی کے  مصائب و آلام  کی نشاندہی کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ زندگی مصائب اور آلام سے عبارت ہے  ۔ پریشانیاں پل بھر کیلئے بھی  انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتیں ۔اسے ہر دن مجبوریوں کے طوفان سے نبرد آزما ہونا پڑتا ہے ۔جب حالات انسان کو زیادہ پریشان کر دیتے ہیں  تو وہ زندگی پر موت کو ترجیح دینے لگتا ہے ۔ بلآ خر انسان اس زندگی کے ہاتھوں فائدے کی بجائے  نقصان اٹھا کر اس دنیا سے چلا جاتا ہے ۔

شعر نمبر ۳۔

ایک   دم  آئے  ادھر  اُدھر چلے 

کیا ہمیں کام ان گلوں سے اے صبا

 

 

 

حوالہ:

تشریح طلب شعر نصاب میں شامل  پہلے صوفی شاعر خواجہ میر درد  کی  غزل کا  تیسرا  شعر ہے۔

شاعرکا مختصر تعارف:

تصانیف:

مشکل الفاظ کے معانی:

صبا ۔۔ صبح کی ہوا

گُل ۔۔پھول ، مراد زندگی کی رنگینیاں

ایک دم۔۔بہت تھوڑا وقت  ،سانس لینے بھر کا  وقفہ

تشریح:

تشریح طلب شعر میں  صوفیت کے امام  اور صبر و قناعت کے پیکر  خواجہ میر درد  اپنے  مخصوص لب و لہجے  میں  دنیا کی بے ثباتی کا  تذکرہ  کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے انسان کو ایک قلیل مدت کیلئے دنیا میں بھیجا ہے ۔اس لئے اس کا اس  دنیا کی رنگینیوں سے دل لگنا  اور  یہاں کی  دلچسپیوں  میں کھو جانا مناسب نہیں ۔خواجہ میر درد مزید فرماتے ہیں کہ زندگی تو ہوا کا ایک  جھونکا ہے ، پانی کا ایک بلبلہ ہے  جس پر کبھی  بھی انحصار نہیں کیا جا سکتا ہے ۔لہٰذا اس دنیا سے دل لگانا  سراسر  گھاٹے کا سودا ہے ۔ یعنی ہر صورت  آخرت کی فکر دامن گیر ہونی چاہیئے۔

شعر نمبر ۴۔

تم  رہو  اب  ہم   تو  اپنے  گھر  چلے

دوستو !  دیکھا   تماشا   یاں   کا  بس

 

 

 

حوالہ:

تشریح طلب شعر نصاب میں شامل  پہلے صوفی شاعر خواجہ میر درد  کی  غزل کا  چوتھا   شعر ہے۔

شاعرکا مختصر تعارف:

تصانیف:

مشکل الفاظ کے معانی:

تماشا۔۔

تشریح:

تشریح طلب شعر میں  صوفیت کے امام  اور صبر و قناعت کے پیکر  خواجہ میر درد  اپنے  مخصوص لب و لہجے  میں  دنیا کی حقیقت  کا  تذکرہ  کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ دنیا ایک تماشا گاہ ہے ۔ جو بھی یہاں آتا ہے تو اس کے تماشے میں  کھو جاتا ہے  اور اپنی تخلیق کے مقصد کو بھول جاتا ہے ۔ لیکن یہ تماشا  اور اس کی تمام رنگینیاں  وقتی اور عارضی ہیں ۔اسی لئے خواجہ  میر درد اس  حقیقت کو سمجھتے ہوئے دنیا والوں سے مخاطب ہوکر فرماتے ہیں کہ اے دنیا والوں تمہیں یہ عارضی خوشیاں اور رنگینیاں مبارک ہوں ،مجھے یہ بالکل راس نہیں  آئیں ۔ تم اب یہاں موج مستی کرو  ،  میں تو اپنے اصلی گھر یعنی مالکِ حقیقی  کے پاس جا رہا ہوں۔

شعر نمبر ۵۔

چشم نم آئے تھے  دامن  تر چلے

شمع  کی مانند  ہم  اس  بزم  میں

 

 

 

حوالہ:

تشریح طلب شعر نصاب میں شامل  پہلے صوفی شاعر خواجہ میر درد  کی  غزل کا   پانچوا ں   شعر ہے۔

شاعرکا مختصر تعارف:

تصانیف:

مشکل الفاظ کے معانی: 

چشم نم ۔۔روتے ہوئے

دامن تر ۔۔ گنہگار

تشریح:

تشریح طلب شعر میں  صوفیت کے امام  اور صبر و قناعت کے پیکر  خواجہ میر درد  اپنے  مخصوص لب و لہجے  میں  دنیا  میں انسان کی حقیقت  کا  تذکرہ  کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جب انسان دنیا میں آتا ہے تو روتا ہوا آتا ہے ، یعنی جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو روتا ہوا ہی پیدا ہوتا ہے ،یہ رونا اس کی زندگی کی علامت ہوتی ہے ۔اور جب یہی انسان دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو اس کا دامن گناہوں  کی گندگی سے آلودہ ہوتا ہے ۔اسی حقیقت کو خواجہ میر درد نے  زندگی کو شمع سے تشبیہ دے کر سمجھایا ہے  کہ شمع محفل میں رات بھر روشن رہتی ہے  اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری رہتے ہیں اور اس کا دامن آنسوؤں سے تر ہوجاتا ہے ۔یعنی شمع کی زندگی صرف ایک رات ہوتی ہے بالکل یہی حالت انسان کی ہے ۔یعنی کی یہ انسان غفلت میں اپنے نامئے اعمال میں گناہوں کا ڈھیر لے کر بہت ہی مختصر عرصے میں اپنے خالقِ حقیقی کے پاس چلا جاتا ہے ۔ تشبیہ کے اطلاق نے شعر کو بہت بلیغ کر دیا ہے ۔

شعر نمبر ۶۔

جب تلک بس چل سکے  ساغر چلے

ساقیا ! یاں  لگ   رہا  ہے  چل   چلاؤ

 

 

حوالہ:

تشریح طلب شعر نصاب میں شامل  پہلے صوفی شاعر خواجہ میر درد  کی  غزل کا   چھٹا شعر ہے۔

شاعرکا مختصر تعارف:

تصانیف:

مشکل الفاظ کے معانی: 

ساقیا ۔۔شراب پلانے والا

یاں ۔۔ یہاں

چل چلاؤ ۔۔ روانگی کا وقت

ساغر۔۔ شراب کا پیالہ

تشریح:

تشریح طلب شعر میں  صوفیت کے امام  اور صبر و قناعت کے پیکر  خواجہ میر درد  اپنے  مخصوص لب و لہجے  میں  دنیا  میں انسان کی حقیقت  کا  تذکرہ  کرتے ہوئے  ساقی سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں کہ اے ساقی اب ایسا محسوس ہو رہا ہے  کہ  ہماری محفل یعنی زندگی کی روانگی کا وقت آگیا ہے ۔ کچھ لوگ تو آگے جا چکے ہیں ، کچھ لوگ انتظار میں بیٹھے ہیں اور کچھ لوگ روانگی کی تیاری میں مصروف ہیں ۔لہٰذا جہاں تک تجھ سے ممکن ہو سکے  ، شرابِ معرفت کا دور جاری رکھ  تاکہ لوگ  زیادہ سے زیادہ  معرفت ِ الٰہی کے نشے میں مد ہوش  ہو کر اپنی آخرت سنوارتے  رہیں ۔

٭٭٭

پہلا فلسفی اور عہد ساز  شاعرمرزا نوشہ اسداللہ خان غالب  ؔ (غزل)

شعر نمبر ۱۔

آخر اس درد کی دوا کیا ہے 

دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے 

 

 

 

حوالہ:

تشریح طلب شعر نصاب میں شامل  پہلے فلسفی اور الہامی شاعر مرزا نوشہ اسد اللہ خان غالب   کی  غزل کا   مطلع  ہے۔ مطلع غزل کے پہلے شعر کو کہتے ہیں  جس میں شاعر  ’’قافیہ اور ردیف ‘‘ استعمال کرتا ہے ۔

شاعرکا مختصر تعارف:

ایسا بھی کوئی ہے جو غالب کو نہ جانے

شاعر تو بہت اچھا ہے پہ بدنام بہت ہے

مرزا غالب فکر و فلسفے کے سب سے بڑے شاعر ہیں۔ ان کی عظمت ان کی فکر میں پوشیدہ ہے ۔ شوخی و ظرافت ، جدت طرازی  اور حیات و کائنات پر بحث ان کی شاعری کے خاص رنگ ہیں ۔جبکہ نئی فکر اور نیا لہجہ ان کی شاعری کا خاص جوہر ہے۔

آتے ہیں غیب سے یہ مضامین خیال میں

غالب صریر نامہ نوائے سروش ہے

ڈاکٹر سلیم اختر کہتے ہیں کہ:

“غالب ایک لاشعور شاعر ہے۔

تصانیف:

لطائفِ غیبی ۔۔۔۔۔۔عودِ ہندی۔۔۔۔۔اردوئے معلّیٰ۔۔۔۔۔۔ نامہ غالب ۔۔۔۔۔۔مکاتیبِ غالب۔۔۔۔۔۔ایک دیوان اردو۔۔۔۔۔چار دیوان فارسی۔۔۔۔۔مجموعہ قصائد۔۔۔۔۔۔پنج آہنگ۔۔۔۔۔مہرِ نیم روز۔۔۔دستنبو۔۔۔۔۔۔سبد ِ چین اور قاطع برہان   وغیرہ وغیرہ آپ کی مایہ ناز تصانیف ہیں۔

مشکل الفاظ کے معانی:

دلِ ناداں ۔۔نا سمجھ دل

تشریح:

تشریح طلب شعر میں  پہلے فلسفی  اور لاشعور کے  شاعر مرزا اسد اللہ خان غالب  اپنے ناسمجھ دل سے مخا طب ہو کر اپنے مخصوص لب و لہجے میں فر ماتے ہیں کہ اے میرے  نادان و نا سمجھ دل  تو اتنا  بے قرار و مضطرب  کیوں ہے ؟کیا تو نہیں جانتا کہ مرضِ عشق کا کوئی علاج ممکن نہیں  بلکہ دوا دارو کرنے سے یہ مرض اور بڑھ جاتا ہے ۔ لہٰذا تو اپنے آپ پر قابو رکھ اور اس مرض سے خود کو بچالے ورنہ درد میں مبتلا رہنا تیرا مقدر بن جائے گا ۔یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ جو بھی مرضِ عشق میں مبتلا ہوا  تو بے چینی و بے قراری اس کا مقدر ہو جاتی ہے اور محب کو کسی کروٹ چین نصیب نہیں ہوتا ۔ عشق میں ہمیشہ سب سے پہلے دل متاثر ہتا ہے۔غالب نے اس تلخ حقیقت کو  سہلِ  ممتنع میں  بڑی شوخی سے بیان کر دیا ہے۔

شعر نمبر ۲۔

یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے  

ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار  

 

 

 

حوالہ:

تشریح طلب شعر نصاب میں شامل  پہلے فلسفی اور الہامی شاعر مرزا نوشہ اسد اللہ خان غالب   کی  غزل کا   دوسرا  شعر  ہے۔

شاعرکا مختصر تعارف:

تصانیف:

مشکل الفاظ کے معانی:

مشتاق  ۔۔چاہنے والا

تشریح:

تشریح طلب شعر میں  پہلے فلسفی  اور لاشعور کے  شاعر مرزا اسد اللہ خان غالب  اپنے ناسمجھ دل سے مخا طب ہو کر اپنے مخصوص لب و لہجے میں فر ماتے ہیں کہ

٭٭٭

سراج الدین بہادر شاہ ظفر ؔ  (غزل)

شاعرکا مختصر تعارف:

سراج الدین بہادر شاہ ظفر مغل بادشاہ اکبر شاہ ثانی کے بیٹے تھے۔بیس سال تک برسرِ اقتدار رہے۔۱۸۵۷؁ کی جنگِ آزادی کے نتیجے میں گرفتار ہوئے ۔پانچ سال اسیری کی کوفت برداشت کرنے کے بعد بڑی کسمپرسی میں اس شہنشاہ نے رنگون میں وفات پائی۔ آپ کا شمار ماہر اور استادانِ فن میں ہوتا ہے۔آپ نے شاہ نصیر ،شیخ ابراہیم ذوق اور غالب جیسے اساتذہءِ فن سے اصلاح لی ،مگر ان میں سے کسی کے رنگ کو نہیں اپنایا۔ آپ نے غزل میں دنیا کی بے ثباتی،پند و نصائح،اور تصوف وغیرہ کے مضامین کو بڑے قرینے سے سجایا ہے۔آپ کا کلام سادگی، سلاست اور فصاحت و بلاغت سے پر ہے۔

تصانیف:

کلیاتِ ظفر

٭٭٭

غزل کے نوح ،مسیحا   اور رئیس المتغزلین سید فضل الحسن  حسرت موہانی(غزل)

شاعرکا مختصر تعارف:

حسرت کی شاعری دورِ جدید میں اپنے رنگ تغزل کی بناء پر امتیازی حیثیت کی حامل ہے۔ انہوں نے غزل کو ایک نئی زندگی بخشی۔ سادگی، سہل ممتنع، معاملہ بندی، سیاسی اور عوامی رنگ کے ساتھ خالص عاشقانہ مضامین حسرت کی شاعری کی خاص شان ہے۔

کلیم الدین احمد کہتے ہیں کہ:

“حسرت کی شاعری میں ترنم ، لہجے میں نرمی اور بے ساختگی ہے”

تصانیف:

رسالہ اردوئے معلیٰ ۔۔۔۔۔۔۔۔کلیاتِ حسرت

٭٭٭

علی سکندر جگر مراد آبادی(غزل)

شاعرکا مختصر تعارف:

جگر مراد آبادی ولد علی نظر ایک علمی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ پر دادہ اور والد دونوں ہی صاحبِ دیوان  شاعر تھے۔

آپ کی شاعرانہ خدمات پر  بھارتی حکومت نے اپنے سب سے بڑے اعزاز ’’پدم بھوشن ‘‘ سے نوازا اور آپ کے آخری مجموعے ’’آتشِ گل ‘‘پر پانچ ہزار انعام اور دو سو روپیہ ماہواروظیفہ مقرر کیا۔رنگِ تغزل،وقارِ حسن،نشاطیہ  انداز اور منقش منظر نگاری آپ کی شاعری کی نمایاں خصوصیات ہیں۔

تصانیف:

کلیاتِ جگر۔۔۔۔۔۔۔۔آتشِ گل

٭٭٭

جدید  طرزِ احساس کا شاعر ناصر رضا  کاظمی(غزل)

شاعرکا مختصر تعارف:

ناصر کاظمی ولد محمد سلطان نے اپنی شاعری کا آغاز صرف پندرہ برس کی عمر میں کیا۔ابتداء نظموں سے کی ،جن میں اختر شیرانی کا رنگ جھلکتا ہے۔جلد ہی غزلوں کی طرف متوجہ ہوئےاور پھر ہر طرف چھا گئے۔ان کی ابتدائی غزلوں میں میرؔ کا رنگ صاف جھلکتا ہے۔ان کی غزلوں میں فکر کی گہرائی، خیال کی ندرت اور بیان کی حسنِ ادا پائی جاتی ہے۔کلام میں روانی، سلاست، اختصار و ایجاذ، تشبیہ و استعارہ  اور شوخی و رنگینی پائی جاتی ہے۔آپ مدتوں ریڈیو پاکستان سے وابستہ رہے۔ ’’اوراقِ نو ، ہمایوں ‘‘اور  ’’ ہم لوگ ‘‘ جیسے رسالوں سے منسلک رہے۔

تصانیف:

پہلا مجموعہ  ’’ برگ ِ نے ‘‘۔۔۔۔۔۔۔۔دوسرا مجموعہ  ’’دیوان ‘‘ (وفات کے بعد شائع ہوا اور انعام کے کے مستحق قرار پائے۔) اور ’’پہلی بارش‘‘ آپ کی یادگار  تصانیف ہیں۔

٭٭٭ 

شاعرِ مشرق ،حکیم الامت ،قومی اور عالمِ بالا کے شاعر حضرتِ علامہ ڈاکٹر محمد اقبال(جنگِ یرموک کا ایک واقعہ)

حوالہ :

تشریح طلب  بند نصاب میں شا مل  عالمِ بالا کے شاعر ، حکیم الامت ،شاعرِ مشرق حضرتِ عللامہ اقبال کی مشہورِ زمانہ نظم ’’ جوابِ شکوہ ‘‘ کا پہلا بند ہے۔در اصل یہ ایک طویل نظم ہے  جس میں چھتیس بنداد ہیں ، جس میں علامہ اقبال نے اللہ عزو جل کی طرف سے بندوں کے اللہ تعالیٰ سے شکوے کا جواب دیا ہے۔

شاعرکا مختصر تعارف:

علامہ اقبال ان چند عظیم شعراء میں شامل ہیں ،جنہوں نے شاعری کے ذریعے مردہ روحوں میں نئی روح پھونک کر اک عظیم ذہنی انقلاب پیدا کیا۔ اقبال نے زندگی کے ہر گوشہ پر اظہار خیال کیا ہے۔عمل کا پیغام،خودی کا احساس،قومی محبتاور  عظمتِ اسلام آپ کی شاعری کے نمایاں موضوع ہیں۔ اقبال کی شاعر ی میں ایک پیغام ِ دعوت فکر و عمل کے ساتھ زبان و بیان کا حُسن اور طرز ادا کی ساری دلکشی موجود ہے۔

خود ی کیا ہے رازِ درون حیات

خودی کیا ہے بے داری کائنات

مولوی عبد الحق کہتے ہیں کہ:

“حالی کی طرح اقبال نے بھی شاعری کے ذریعے ملک و قوم کو جگانے کا کام شروع کیا۔”

تصانیف:

بانگِ درا۔۔۔۔۔بالِ جبرائیل۔۔۔۔۔۔ضربِ کلیم۔۔۔۔۔۔۔پیامِ مشرق۔۔۔۔۔۔۔ارمغانِ حجاز اور    زبورِ عجم وغیرہ آپ کی مایہ ناز تصانیف ہیں۔

٭٭٭

قومی ترانے کے خالق  ابوالاثر حفیظ جالندھری(نظم:صحرا کی دعا)

شاعرکا مختصر تعارف:

ابوالاثر حفیظ جالندھری بچپن ہی سے ان اوصاف کے مالک تھے – جن کی وجہ سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ شخص بڑا ہو کر کیا گل کھلاے گا –  شاہنامہ اسلام لکھ  کر یہ ثابت کر دکھایا –  موسیقی و ترنم ، اسلامی جزبات  اور سلاست و  روانی آپ کی شاعری کے بنیادی جز و  ہیں – آپ ایک نڈر اور بے باک صحافی بھی ہیں۔آپ ریڈیو پاکستان سے بھی وابستہ رہے۔

 بقول ڈاکڑ سید عبد اللہ:

                 ’’ حفیظ کی تخلیقی زندگی اس  کی عملی  زندگی کے ساتھ ساتھ چلتی ہے – وہ ایک باعمل شاعر ہے جو جہاد زندگی سے مغرور کبھی نہیں ہوا ‘‘ –

تما ہے کہ اس دنیا  میں کوئی کام کر جاؤں

اگر کچھ ہو سکے تو خدمت اسلام کر جاؤں

تصانیف:

                          نعمہ زار ۔۔۔۔۔۔لالہ زار ۔۔۔۔۔سوزو ساز ۔۔۔۔۔۔تلخابہ شیریں اور شاہنامہ اسلام آپ کے شاعری کے مجموئے ہیں۔

نظم کا مرکزی خیال:

یہ نظم شاہنامہ اسلام سے ماخوذ ہے،جو کہ اسلام کی منظوم تاریخ ہے۔اس نظم میں شاعر کی آپ ﷺ سے عقیدت اور محبت خوب جھلکتی ہے۔

اس نظم کا مرکزی خیال کچھ یوں ہے کہ آپ ﷺ  اور آپ ﷺ کے تین سو تیرہ جانثاروں نے  اللہ تعالی کی رِضا اور خوشنودی کی خاطر کس بے سرو سامانی کے عالم میں ریگستان میں  چلچلاتی دھوپ اور ریت سے اٹھنے والے طو فانوں کا سامنا کیا۔ یہ منظر دیکھ کر صحرا بھی پریشان ہوگیا اور بارگاہِ ایزدی میں  گڑگڑا کر بارش کی دعا کرنے لگا۔

٭٭٭

شاعرِ مزدور  احسان الحق دانش(نظم:برسات)

شاعرکا مختصر تعارف:

   احسان دانش دنیائے اردو میں ’’شاعر مزدور ‘‘کہلاتے ہیں –  ان کی شاعری میں  نرمی ،شائستگی اور سوزوگدازکی کیفیت پائی  جاتی ہے ۔احسان دانش  بنیاوی طور پر نظم کے شاعر ہیں ۔جبکہ ان کی غزلیں بھی ایک خاص مزاج رکھتی ہیں – مزدوروں ، کسانوں اور غریب طبقے سے  ہمدردی ان کی شاعری کا خاص موضوع ہے –

جب  آدمی   کے     حال     پہ  آتی   ہے مفلسی

کس کس طرح سے  اس کو ستاتی  ہے مفلسی

تصانیف:

نوائے کارگر۔۔۔چراغاں ۔۔۔۔۔آتشِ خاموش۔۔۔بادِ نو اور  زخم و مرہم آپ کے کلام کے مجموعے ہیں۔’’جہانِ دانش ‘‘ کے نام سے آپ نے اپنی سوانح عمری لکھی۔

نظم کا مرکزی خیال:

اس نظم کا مرکزی خیال کچھ یو ں ہے کہ برسات کا موسم اور اس کے حسین و جمیل رنگ  ہر انسان ،حیوان ،چرند ،پرند ، حتیٰ کہ حشرات الارض میں بھی  مستی کی کیفیت پیدا کر دیتے ہیں ۔ اور ہر ذی روح پر سرور و وجد کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔در حقیقت یہ سب خالقِ حقیقی کی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

٭٭٭

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s