طرزِ تحریر کی خصوصیات# رشید احمد صدیقی

رشید احمد صدیقی

(۱) ابتدائیہ

“طنز اور مزاح میں بہت نازک سا فرق ہے۔ ہنسنا ہنسانا تو سب جانتے ہیں لیکن بظاہر ہنسا کر دل کو مضطرب اور

روح کو افسردہ چھوڑ دینا سب کو نہیں آتا۔”

مندرجہ بالا الفاظ خود رشید احمد صدیقی نے اپنی طنز و مزاح نگاری کی وضاحت کے سلسلے میں  ارشاد کیے  ہیں ۔ان کے یہ الفاظ ان کی ادبی حیثیت اور مقام و مرتبے کے تعین کے لئے کافی ہیں۔ اردو ادب میں رشید احمد صدیقی کا نام کئی حیثیتوں سے معتبر ہے۔ وہ بیک وقت ایک محقق ، خاکہ نگار، انشاء پرداز، نقاد اور طنز و مزاح نگار ہیں۔ انہوں نے ادب کے سنگلاخ  میدانوں کو اپنے قلم کی رنگینی سے گل و گلزار بنائے رکھا ۔لیکن دو حیثیتوں سے انہوں نے اردو ادب میں ایک ممتاز مقام حاصل کیا۔ ایک طرف تو دور جدید میں وہ مزاح نگاروں کے قافلہ سالار دکھائی دیتے ہیں ،تو دوسری طرف خاکہ نگاری کے میدان کے  اچھوتے شہسواربھی ہیں۔ طنز و مزاح میں انہیں ملکہ حاصل ہے۔ وہ اس انداز سے طنز و مزاح میں باتے کرتے ہیں کہ قاری کے لبوں پر خفیف سی مسکراہٹ اور تبسم چھوڑ جاتے ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ قاری کے سوچنے کے لئے بھی بہت کچھ چھوڑ جاتے ہیں۔ ان کی تحریریں پڑھنے میں شاعری کا مزہ دیتی ہیں۔ اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کوئی غزل پڑھی جارہی ہے۔ شاید اسی طرز پر فدا ہو کرپروفیسر نذیر صدیقی کچھ یوں رقم طراز ہوئے  کہ:

“اردو نثر میں اگر کسی نے غزل گوئی کی ہے توہ وہ رشید احمد صدیقی ہیں”

طرز تحریر کی خصوصیات:

رشید احمد صدیقی کی طرز تحریر کی نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:

(۲) منفرد مزاح نگاری:

رشید احمد صدیقی کا شمار اردو کے بہت بڑے مزاح نگاروں میں ہوتا ہے وہ نہ صرف یہ کہ ہنسی ہنسی میں بہت کچھ کہہ جاتے ہیں ،بلکہ قاری کے لئے لمحہ فکریہ بھی چھوڑ جاتے ہیں۔  فلسفیانہ اور فکر انگیز خیالات کو ہلکے پھلکے انداز میں پیش کرنے کا جو سلیقہ انکے یہاں ملتا ہے ،اسکی مثال اردو ادب میں بمشکل ملے گی۔  کلیم الدین احمدرقمطراز ہیں:

“رشید احمد صدیقی کی سوچ میں ہمیشہ بوجھ کا عنصر غالب رہتا ہے اور اسے زیادہ اہم یہ ہے

کہ وہ مزاح نگاری کو بھی ادب کی ایک صنف ہی سمجھتے ہیں اسلئے اپنی تحریروں میں ادبی محاسن

کرنے کی کوشش کرتے ہیں”

(۳) طنز و ظرافت:

آل احمد سرور رقمطرازہیں:

“جس طرح انگریزوں میں ’’سونیٹ ‘‘کے یہاں طنزیاتی روح نظر آتی ہے ،اسی طرح ’’رشید‘‘ اور ’’اکبر ‘‘دونوں اس

لحاظ سے ممتاز ہیں کہ انہوں نے خون خرابے والی چیزیں لکھی ہیں ۔ یہ اور بات ہے کہ ان پر خون خرابہ نہ ہوا”۔

رشید احمد صدیقی کے یہاں ظرافت کی جان طنز ہے وہ اکبر کے پیرو ہیں وہ ہر اس چیز پر طنز کرتے ہیں جو معاشرتی ناہمواری کا باعث بنتی ہے۔ اور یہی چیز فرد کی آزادی ، سکون اور آسودگی تباہ کردیتی ہے۔  چنانچہ خواہ پولیس ہو یا گواہ، ڈپٹی کلکٹر ہو یا مزدور، مولوی ہو یا سیاستدان ، صنعتکار ہو یا کاشتکار، عوام ہو یا خواص یا کوئی لیڈر جہاں کہیں بھی انہیں خامی یا اونچ نیچ نظر آتی ہے وہ انکی قلم کی گرفت سے نہیں بچ سکتی۔

(۴) خاکہ نگاری:

اردو ادب میں خاکہ نگاری کے میدان میں رشید احمد صدیقی بہت بلند درجہ رکھتے ہیں۔  ان کی خاکہ نگاری کے دو مجموعوں “گنج ہائے گراں مایہ” اور “ہم نفسانِ رفتہ” نے اردو ادب میں انہیں “شہرت عام بقائے دوام”کا درجہ دیا ہے۔  انکی خاکہ نگاری کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے مشہور و معروف شخصیات کے مضبوط اور کمزور پہلوؤں کی بڑی ایمانداری اور غیر جانبداری کے ساتھ نقاب کشائی کی ہے۔ انکی خاکہ نگاری کی کتاب “گنج ہائے گراں مایہ” کے بارے میں ڈاکٹر سید عبد اللہ رقمطراز  ہیں۔

“گنج ہائے گراں مایہ ، میں جو تصویریں ہیں وہ اتنی روشن ، واضح ، پُر اثر اور دلکش ہیں،

کہ ان سے ہمارے ادب میں ایک قابل قدر اضافہ ہوتا ہے۔

(۵) تنقیدی شعور:

پروفیسر رشید احمد صدیقی اگرچہ باقاعدہ نقاد نہیں ہیں ،لیکن ان کا تنقیدی شعور بڑا تیز ہے ۔گوکہ انہوں نے براہ راست تنقیدی مقالات نہیں لکھے ،۔لیکن وہ اس فن کی باریکیوں سے بخوبی واقف تھے اسلئے کلیم الدین احمد نے  ان کے متعلق کہا ہے۔

“ایک اچھا روایتی نقاد ہونے کی صلاحیت تو وہ رکھتے ہیں لیکن ادب یا فن کا رخ نہیں موڑ سکتے”

چنانچہ بعض شعراء اور مصنفین کی قلمی کاوشوں پر جو مقدمات انہوں نے لکھے ہیں، اور اس ذیل میں جو طرز نگارش انہوں نے اختیار کیا ہے اور جس استدلال اور طنزیاتی انداز سے مصنف یا شاعر کا تعارف کرایا ہے۔ وہ بذات خود ایک اعلیٰ درجے کے تنقیدی ادب کے بہترین نمونے ہیں۔

(۶) منفرد اسلوب:

ان کے اسلوب ہیں شوخی، شگفتگی، رعنائی اور زبان و بیان کی لطافتوں کے ساتھ ساتھ ایک خاص قسم کی پروقار سنجیدگی بھی پائی جاتی ہے۔ یہ سنجیدگی ان کی فکر انگیز اور معنی آفرینی کے ساتھ ملکر انکی تحریروں میں ایک عالمانہ رنگ پیدا کردیتی ہے اور یہی چیز انہیں دوسرے مزاح نگاروں سے منفرد بنادیتی ہے۔اسی لئے ڈاکٹر سید عبداللہ رقمطراز ہیں۔

جدید اردو نثر کے ممتاز طنز نگار رشید احمد صدیقی ہیں، وہ طنز و مزاح کے ساتھ ساتھ لفظی بازیگری اور فلسفیانہ عمل دونوں سے کام لیتے ہیں‘‘۔

(۷) علی گڑھ کے ماحول کا اثر:

بقول ڈاکٹر ابو اللیث صدیقی :

“رشید صاحب کو علی گڑھ کے ذرے ذرے سے محبت ہے اور والہانہ محبت ہے ،اسی لئے انہوں نے

ساری عمر وہیں گزاری اور وہیں آسودہ خاک ہوئے۔”

رشید احمد صدیقی کے طنز و مزاح میں جہاں تاریخی حوالہ جات ملتے ہیں وہاں انکی تحریروں میں علی گڑھ کے ماحول کا پورا عکس نمایاں ہے ۔ انہیں علی گڑھ سے عشق ہے اور علی گڑھ کی زندگی سے وہ اس قدر متاثر ہیں کہ انکی تحریروں میں علی گڑھ کی زندگی ، وہاں کے اشخاص، واقعات اور حوالہ جات اس کثرت سے ملتے ہیں کہ جو علی گڑھ کے ماحول سے ناآشنا ہو وہ ا ن کے مضامین سے لطف اندوز نہیں ہوسکتا۔ان کی خاکوں پر مشتمل کتاب ’’ گنجہائے گرانمایہ‘‘  نہ صرف علی گڑھ کے ماحول بلکہ اس کی شخصیات کا بہترین مرقع ہے۔اسی طرز سے متاثر ہو کر ڈاکٹر عبادت بریلوی فرماتے ہیں ،کہ

’’ رشید کی طبیعت کا تمام رجحان حقیقت پسندی کی طرف ہے۔

(۸) رمزو اشارات:

طنز و مزاح کو استعمال کرتے ہوئے رشید احمد صدیقی رمز و کنائے سے بھی بہت کام لیتے ہیں۔ لیکن ان کے اشاروں اور کنایوں کی معنویت کو سمجھنے کے لئے ایک خاص ذہنی سطح چاہیے، چنانچہ وہ فکر انگیز خیالات اور فلسفے کی آمیزش سے اپنے مزاح کو عام قاری کی ذہنی سطح سے بلند کردیتے ہیں ان کے طنز کے نشتر سے صرف خواص ہی لطف اندوز ہوسکتے ہیں  ،یہی وجہ ہے کہ ان کے مزاحیہ انداز کا عوام میں اتنا رواج نہ ہوسکا جتنا کہ ان کے دیگر ہم عصر مزاح نگاروں کے انداز کا ہوا۔

بقول آل احمد سرور:

“رشید صاحب کے فن میں انکے اپنے مزاح کی جھلک ہے اور ان کا مزاح ، طنزو مزاح کا وہ معیار رکھتا ہے جو ان ہی کا اپنا حصہ ہے۔”

(۹) لفظی بازی گری یا قولِ محال:

رشید احمد صدیقی اپنی طنز و ظرافت کے سلسلے میں الفاظ اور انکے معنوں سے کھیلتے ہیں۔ الفاظ و معانی کٹھ پتلیوں کی طرح ان کے ہاتھوں کی جنبش سے ایک مخصوص دائرے میں گردش کررہے ہوتے ہیں لیکن اس لفظی بازی گری میں علم و ادب کا دامن ان کے ہاتھ سے نہیں چھوٹتا۔ تعلیم یافتہ، مہذب  اور خواص کے لئے وہ علم و آگہی کے دروازے کھول دیتے ہیں۔قولِ محال کی برجستگی سے انہوں نے اپنے اسلوب کو آب و تاب دی ہے کہ پیچیدہ سے پیچیدہ خیال  کوبھی اس خوبی سے اظہار و بیان کی گرفت میں لے آتے ہیں  کہ قاری متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

نمونہءِ تحریر ملاحظہ ہو۔

’’ اس زمانے میں لوگ اپنی کمزوریوں اور دوسروں کی بیویوں کو آرٹ سمجھتے ہیں۔‘‘

بابائے اردو مولوی عبدالحق ان کے متعلق کچھ یوں رقمطراز ہیں۔

’’ ان کا آرٹ بلیغ فقروں اور دلچسپ اشاروں ،شوخ رنگوں اور گہری باتوں کا فن ہے۔بات سے بات نکالنا اور ہر بات میں نئی بات پیدا کرنا ان کا فن ہے۔قولِ محال کا فن کوئی آسان بات نہیں ،رشید احمد صدیقی کو اس میں بڑی مہارت حاصل ہے۔‘‘

(۱۰) تحریف نگاری رشید احمد  صدیقی کا خاص فن ہے:

تحریف نگاری میں ’’پطرس‘‘ اور ’’ چراغ حسن حسرت‘‘ کے ساتھ ساتھ رشید احمد صدیقی کا نام بھی نمایاں نظر آتا ہے۔انہوں نے تحریف کیلئے غالب کے اشعار کا انتخاب کیا ہے۔انہوں نے جہاں کہیں بھی غالب کے کسی مصرعے کی تحریف کی ہے ،خود غالب کی روح کو بھی مسکرانے پر مجبور کر دیا ہے۔

نمونہءِ تحریر ملاحظہ ہو۔

غالب کا مشہور مصرعہ ہے۔

’’ انگلیاں فگار اپنی  خامہ  خونچکاں اپنا ‘‘

آپ اپنی تحریر میں اس مصرعے کی درج ذیل  حالت کر دیتے ہیں اور بےتحاشا بھاگنے والے بچے کی کیفیت بیان کر دیتے ہیں کہ ہنسی ضبط نہیں ہوتی۔

تحریف ملاحظہ ہو۔

کہنیاں فگار اپنی گھٹنا خونچکاں اپنا

(۱۱) تصانیف:

(۱) گنج ہائے گرانمایہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خاکوں کا مجموعہ                                     (۲) ہم نفسانِ رفتہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خاکوں کا مجموعہ

(۳) مضامینِ رشید۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مضامین کا مجموعہ                                (۴) طنزیات و مضحکات ۔۔۔۔۔۔۔۔ مضامین کا مجموعہ

(۵) شیرازہءِ خیال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مضامین کا مجموعہ                                 (۶) نقش ہائے رنگ رنگ۔۔۔۔۔۔۔ مضامین کا مجموعہ وغیرہ وغیرہ۔۔

(۱۲) اختصار و جامعیت رشید کی خاص خوبی ہے:

                              اختصار و جامعیت آپ کی تحاریر کا خاص جوہر ہے۔آپ خاص مواقع کی تصویر ہی نہیں کھینچتے بلکہ انہیں نظروں کے سامنے متحرک کر دیتے ہیں۔

مضمون ’’الیکشن ‘‘سے نمونہءِ تحریر ملاحظہ ہو۔

’’ اصل لیڈر نہ مار کھاتا ہے اور نہ مرنا گوارا کرتا ہے ۔لیڈر مار کھانا شروع کردے تو پھر قوم کی رہبری کون کرے!مار کھانا اور رہبری کرنا دونوں کام ایک ہی لیڈر سے کیونکر انجام پا سکتے ہیں،تاہم یہ دستور چلا آتاہے کہ مار کھانا قوم کا حق ہے اور مار سے بچنا ،لیڈر کا فرض۔‘‘

(۱۳) شائستگی اور شگفتگی رشید احمد صدیقی کا خاص وصف ہے

آپ کے طنز میں نہ زہر ناکی ہے اور نہ ہی تلخی اور جھنجھلاہٹ،بلکہ مخصوص شائستگی و شگفتگی ہے۔چونکہ شعر و ادب کے استاد ہیں اس لئے قدرتی طور پر آپ کی تحاریر میں اعلیٰ درجے کی ادب کی چاشنی ملتی ہے۔آپ شرافت کو انسانیت کا جوہر سمجھتے ہیں۔

اپنے ایک مضمون میں رقمطراز ہیں۔نمونہءِ تحریر ملاحظہ ہو۔

’’ ہندوستان میں جوانی کا انجام دو طریقوں پر ہوتا ہے۔اکثر شفا خانے میں ورنہ جیل خانے میں۔‘‘

اپنے ایک اور مضمون میں رقمطراز ہیں ۔تحریر ملاحظہ ہو۔

’’ ہمارے محلے کے چوکیدار کی آواز ایسی ہوتی ہے گویا چور کو دیکھ کر مارے خوف کے اس کی چیخ نکل گئی ہو۔‘‘

(۱۴) تبصرہ اپنی ناقص رائے میں:

الغرض رشید احمد صدیقی کے اسلوب میں زبان و بیان کی لطافتیں، سادگی و سلاست ، مشاہدہ ، گہرائی، وسعت نظر اور فکر و فلسفہ کی آمیزش سبھی کچھ شامل ہے۔ آپ کی  ذات نے اردو ادب پر بہت گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔آپ کا فن ہر لحاظ سے متوازن ہے۔آپ ہی نے اردو ادب میں پہلی مرتبہ سنجیدہ مضامیں کی بنیاد رکھی۔آپ اعلیٰ پائے کے تنقید نگار تو نہ بن سکے،لیکن اعلیٰ پائے کے خاکہ نگار ضرور ہیں۔آپ کا طنز و مزاح عام قاری کی پہنچ سے دور ہے ،اسے سمجھنے کیلئے علمی لیاقت ضروری ہے۔اسی رمز میں آپ نے فرمایاکہ:

’’ کوئی معقول آدمی ،معقول ادیب اور شاعر بن ہی نہیں سکتا۔‘‘

یہ آپ ہی کا حصہ ہے کہ آپ نے ہمیشہ ممدوح ہی کے کردار کو نمایاں کیا ،اور خود نمائی سے پرہیز کیا  ،ورنہ اکثر خاکہ نگار ممدوح کے پہلو میں خود کو نمایاں کرتے نظر آتے ہیں ۔آپ کی تحاریر میں علیگڑھ کی چھاپ شدت سے نمایاں نظر آتی ہے۔گویا آپ اور علیگڑھ لازم و ملزوم ہیں ،اور آپ اپنی تحاریر میں قصدََ یا سہواََ کہیں نہ کہیں  علیگڑھ کا حوالہ ضرور دیتے ہیں۔مخصوص طرزِ فکر  آپ کی خاص پہچان ہے۔آپ کی تحاریر سے لطف اندوز ہونے کیلئے مخصوص طرزِ فکر کی ضرورت ہوتی ہے۔عام قاری آپ کی تحاریر سے لطف اندوز نہیں ہوسکتا۔

ڈاکٹر قمر رئیس کی اس رائے سے ہم مکمل اتفاق کرتے ہیں:

“اردو طنز و مزاح میں رشید احمد صدیقی اور پطرس دونوں کے اثرات لامحدود ہیں ۔

دونوں اردو کے مزاحیہ ادب میں سب سے معتبر اور مستحکم روایت کا درجہ رکھتے ہیں۔”

 

⚝⚝⚝

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s