اردو افسا نے و ڈرامے کی مختصر تاریخ

اردوافسانے کی مختصر تعریف

تعارف:

افسانہ جدید صنعتی اور مشینی دور کی پیداوار ہے۔ اس مشینی دور کی تھکا دینے والی مصروف زندگی میں لو‏گوں کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ بھاری بھرکم داستانیں اور ناول و‎غیرہ پڑھیں۔ فطری طور پر انسان اپنے جذبات کی تسکین اور ذہنی تفریح کا سامان بھی چاہتا ہے۔ اسی احساس اور نظریہ کے تحت مختصر افسانہ وجود میں آیا۔ اردو کا موجودہ افسانہ دراصل  داستان اورناول کی ترقی یافتہ شکل ہے۔ اس کے لئے انگریزی میں “Fiction” اور short story”” کے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں۔

اڈگرالن پو نےکہا:

“یہ ایک نثری داستان ہے جس کے پڑھنے میں آدھے گھنٹے سے دو گھنٹے تک کا وقت لگے۔”

اسچیؤ  :Eschwichنے کہا:

” یہ ایک ایسی فکری داستان ہے جس میں خاص واقعہ یا کسی خاص کردار پر روشنی ڈالی گئی ہو۔”

عموما ًً لوگوں کا خیال ہے کہ:

“افسانہ اس مختصرکہانی کو کہتے ہیں جس میں زندگی کے کسی ایک پہلو پر روشنی ڈالی گئی ہو اور ایک ہی نشست میں پڑھی جا سکے۔”

اردو افسانے کا ابتدائی دور۱۹۰۵؁۔۱۹۳۰؁:

اردو افسانے کا آغاز بیسویں صدی میں ہوا۔ منشی پریم اردو کے سب سے پہلے افسانہ نگار ہیں۔ لیکن اردو افسانے کو جدید رنگ دینے میں ان کے ساتھ سلطان حیدر جوش اور سجاد حیدر یلدرم بھی شامل ہیں۔ اکثر لوگ علامہ راشد الخیری اور سلطان حیدر جوش کو بھی افسانے کے بانیوں میں شمار کرتے ہیں۔

” اردو افسانے کی یہ خوش قسمتی تھی کہ اس کو ابتدائی  دور   میں ہی ایسی عظیم ہستیاں مل گئیں کہ جن کی کوششوں سے  اردو افسانہ بہت جلد ترقی کی راہوں پر گامزن ہوا۔”

منشی پریم چند اور سماجی حقیقت:

پریم چند  نے اپنا پہلا افسانہ  “انمول رتن” ۱۹۰۵ ؁ میں لکھا اور یہ افسانہ ۱۹۰۷ ؁ میں ادبی رسالہ ‘‘ زمانہ ’’میں چھپا جو کہ کانپور سے شائع ہوتاتھا۔انہوں نے ہندوستانی دیہات کی سچی تصاویر پیش کیں۔ منشی پریم چند  کا بنیادی مقصد ہندوستان کی تہذیب و تمدن کی عکاسی اور آزادی کی جدوجہد کرنا تھا۔ جبکہ  سید سجاد حیدر یلدرم  کا ترکی زبان سے اردو میں ترجمہ کیا ہوا افسانہ ” نشہ کی پہلی ترنگ” ۱۹۰۰؁ میں منظرِ عام پر آیا ۔شاید اسی بناء پر اکثر لوگ سجاد حیدر یلدرم کو  منشی پریم چند پر سبقت دیتے ہیں۔

                ” پریم چند  نے بھوک، افلاس، جہالت، بیماری، ذہنی و جسمانی ناآسودگی جیسے موضوعات پر قلم اٹھایا۔ ان کا  افسانہ “کفن” اس کی بہترین مثال ہے۔ سلطان حیدر جوش، سدرشن اور اعظم کریوی نے بھی پریم چند کی آواز کے ساتھ آواز اٹھائی”

رومانی دور اور سجاد حیدر یلدرم:

سجاد حیدر یلدرم بھی اردو افسانے کے ابتدائی دور سے ہی تعلق رکھتے ہیں لیکن انہوں نے پریم چند اور سلطان حیدر جوش کے راستے پر چلنے کی بجائے “رومانیت” کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا۔ ان کے ساتھ نیاز فتح پوری اور مجنوں گورگھ پوری شامل ہو گئے۔

                “یلدرم کے افسانوں میں رومانیت بالکل مغربی انداز کی پیش کی گئی ہے۔ کیونکہ فطری طور پر وہ مغرب جیسی آزادی کے حق میں تھے۔ نیاز فتح پوری کو اردو کا بڑا افسانہ نگار کہا جا سکتا ہے کیونکہ فنی اعتبار سے ان کے افسانے بہت عمدہ ہیں۔”

تراجم کا دور۱۹۳۰- ۱۹۳۵ :

۱۹۳۰  میں اردو افسانے میں ایک بڑی تبدیلی رونما ہوئی۔ افسانہ نگاروں نے امریکی، فرانسیسی، عربی، روسی،اطالوی ،ہسپانوی،جرمنی، چینی اور ترکی کے افسانوں کے اردو میں تراجم  کیے ۔اس سے اردو افسانے کا دامن خوب وسیع ہوا  اور نئی نئی تیکنیکیں بھی اردو افسانے میں شامل ہونے لگیں۔اس طرح اردو افسانہ اس دور میں خوب پروان چڑھا۔

                “ان افسانہ نگاروں میں  فضلِ حق ،ظفر قریشی، جلیل قدوائی، اختر حسین رائے پوری،حامد علی خان،محشر عابدی،اور عبدالقادر سروری نمایاں ہیں۔

انگارے کی تحریک اور اردو افسانہ:

۱۹۳۲؁ میں پانچ افسانوں پر مشتمل مجموعہ ‘‘انگارے ’’ منظرِ عام پر آیا۔گویا یہ معاشرے کے باغی اور  سوشلسٹ ،کمیونسٹ اور مادر پدر آزادی جیسے نظریات کے حامل افسانے  تھے۔یہ افسانے ‘‘فرائڈ’’ کے جنسی نظریات کے پرتو  تھے۔اس وجہ سے اس دور میں بے حیائی اور بد اخلاقی کو واضح فروغ ملا، لہٰذا  ۱۹۳۵ ؁ میں ان افسانوں کے خلاف ملکی سطح پر زبردست احتجاج بھی کیا گیا۔جس سے یہ تحریک کمزور پڑنے لگی۔

ایسے منفی رجحانات رکھنے والے افسانہ نگاروں میں  سجاد ظہیر،رشید جہاں،احمد علی اور محمود الظفرنمایاںشخصیات ہیں۔

ترقی پسند تحریک :

۱۹۳۶ ؁ اردو افسانے کی تاریخ میں اہم موڑ ثابت ہوا۔پریم چند کی سربراہی میں ‘‘انجمن ترقی پسند مصنفین ’’تحریک کی بنیاد ڈالی گئی۔ان افسانہ نگاروں نے معاشرتی مسائل کو موضوع بنایا اور تاریکیوں میں امید کی کرن دکھائی گئی۔

اس دور کے افسانہ نگاروں  میں ،عصمت چغتائی، سعادت حسن منٹو ،اوپندر ناتھ  اشک ،احمد ندیم قاسمی،غلام عباس ،علی عباس حسینی  ، ہاجرہ مسرور،

خدیجہ مستوراور سہیل عظیم آبادی نمایاں مقام رکھتے ہیں۔

پاکستان بننے کے بعد اردو افسانے کا ارتقاء:

قیامِ پاکستان کے فوراًً بعد فسادات پھوٹ پڑے ،جس سے پورے برِّ صغیر کا ماحول متاثر ہوا ۔اس کا بھر پور اثر اردو افسانے پر بھی پڑا۔تقسیم کے بعد مسائل میں بے پناہ اضافہ ہوا ۔ بڑے پیمانے پر ہجرت ہوئی تو دونوں ممالک کے افسانہ نگاروں نے ہجرت کے مسائل کو موضوع بنایا۔ایک طرف ان مسائل کو منظر عام پر لایا گیا تو دوسری طرف ان بھیانک سازشوں کا بھی پردہ چاک کیا گیا، جو مذہب ،سیاست ،زبان اور دولت کی بنیادوں پر کی گئی تھیں۔

اس نازک دور کے افسانہ نگاروں میں سعدت حسن منٹو، مرزا ادیب، قدرت اللہ شہاب، کرشن چندر، ممتاز مفتی،اشفاق احمد، شفیق الرحمٰن، انتظار حسین،شوکت صدیقی،احمد ندیم قاسمی اور بانو قدسیہ وغیرہ کے نام نمایاں ہیں۔

دورجدید اور افسانہ نگار:

زندگی کے مسائل ہر دور میں ہوتے ہیں ۔اس دور میں معاشرت بھی جدید طرز اختیار کر چکی ہے۔اسی لئے دورِ جدید کے افسانوں میں زندگی کے مسائل کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنا لوجی اور اس کے فوائد بھی آشکار کئے جا رہے ہیں۔اس دور کے افسانہ نگار نئے تجربات اور مشاہدات کو اپنے افسانوں کا موضوع بنا رہے ہیں۔

ان جدید دور کے افسانہ نگاروں میں ڈاکٹر احسن فاروقی، عرش صدیقی، ڈاکٹر یونس جاوید، نسیم درانی، مستنصر حسین تارڑ،فطمہ ثریہ بجیہ، خلیل احمد،رشید امجد، اعجاز راہی اور محمد منشاءیاد وغیرہ نمایاں ہیں۔

پاکستان میں نمائندہ افسانوں کا حال:

پاکستان میں اردو افسانے کے ارتقاء کیلئے اہم افسانہ نگاروں کے ایک ایک افسانے کو ترتیب سے پیش کیا جارہا ہے ،یہ فہرست ڈاکٹر سلیم اختر نے اردو کی مختصر تاریخ میں پیش کی ہے۔

حجاب امتیاز علی تاج (درزی) سعادت حسن منٹو (ٹوبہ ٹیک سنگھ)احمد ندیم قاسمی(الحمد للہ)میرزا ادیب (درونِ تیرگی)ممتاز مفتی(آپا) غلام عباس(آنندی)قدرت اللہ شہاب (ماں جی) ڈاکٹر احسن فروقی (پتھر) خدیجہ مستور (راستہ) ہاجرہ مسرور (راجا ہل)شوکت صدیقی (تیسرا آدمی) اشفاق احمد (گڑریا )شفیق الرحمٰن(جینی) بانو قدسیہ (توجہ کی طالب ) انتظار حسین (آخری آدمی)عرش صدیقی (فرشتہ)محمد منشاء یاد(دام شنیدن)یونس جاوید (رات کی اونچی دیوار)مستنصر حسین تارڑ (بابا بگلوس) وغیرہ وغیرہ۔

حاصل ِ مطالعہ اپنے ناقص تبصرے کی صورت میں :

یعنی اوردو افسانے کے ارتقاء کا جو دور منشی پریم چند اور سجاد حیدر سے شروع ہوا تھا ہنوز جاری و ساری ہے۔اس نے منزل بہ منزل خوب ترقی کی ہے اور جدت بھی اختیار کی ہے، اب تو اردو افسانہ انگریزی افسانے کو بھی پیچھے چھوڑ گیا ہے۔وقت کے ساتھ ساتھ اس میں بہت سے تغیرات آئے۔ افسانے کی شکل میں تقسیم کا دور ایک تاریخی حقیقت بن کر محفوظ ہوگیا ہے ۔زندگی کی طرح ہمارا افسانہ بھی متحرک ہے۔لہٰذا افسانے کا یہ ارتقائی سفر ہنوز جاری و ساری ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں تبدیلیان بھی ہوتی رہیں گی۔

٭٭٭

اردو ڈرامہ نگاری کا ارتقاء

ابتدائیہ:

ڈرامہ ادب کی ایک مقبول اور قدیم صنف ہے۔ مغرب میں یونان ڈرامے کے  فن   کا مرکز تھا۔ ایس کائی  لیس، سوفو کلیز ،اسٹو فنز اور پیڈیز جیسے مشہورِ زمانہ ڈرامہ نگار اسی قدیم سرزمین کے فرزند تھے  ۔

ہندوستان میں بھی ڈرامے کی تاریخ دو ہزار برس پرانی ہے ۔سنسکرت زبان کے ڈرامہ نگار بھبھوتی اور کالی داس ڈرامے کی دنیا کے روشن آفتاب و مہتاب کی  حیثیت رکھتے  ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اردو ڈرامہ  سنسکرت ڈرامہ نگاری کے مرہونِ منت ہے۔

ہندو دھرم اور سماج میں شری کرشن جی اور رام چندر جی  کی لیلاؤوں کیلئے ڈرامے ہی کو ذریعہ بنایا گیا تھا۔

کالی داس کے ڈرامے  مالویکی، اگنی مترا ، شکنتلہ اور  وکرم روشنی شاہکار ڈرامے تصور کئے جاتے ہیں ، جن میں شکنتلہ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

ڈرامے کی تعریف:

بقول ارسطو  ’’ڈرامہ انسانی اعمال کی نقال ہے۔

یا

ڈرامہ انسانی زندگی کی عملی تصویر ہے۔

یا

زندگی کا کوئی پہلو ڈرامے کامو ضوع بن سکتا ہے اس کی تکمیل   ادبی اصنا ف کی طرح محض الفا ظ سے نہیں ہو تی بلکہ مجسم عمل کی ضرورت پڑتی ہے۔

اردو کا پہلا ڈرامہ:

اردو ڈرامہ نگاری کی تاریخ میں پہلے ڈرامے کے تعین کیلئے کوشش و جدو جہد جاری ہے ۔۔ مختلف محققین نے مختلف ڈراموں کو  اردو ادب کا پہلا ڈرامہ قرار دیا ہے ۔ مثلاً  عبد الحئ ،سید محمود، ڈاکٹر اعجاز حسین اور مولانا حامد حسن قادری نے  کالی داس کے ڈرامے شکنتلہ کو ہی اردو ادب کا اولین ڈرامہ قرار دیا ہے۔ پروفیسر مسعود حسین اور ڈاکٹر اشرف نے  نواب واجد علی شاہ کے ڈرامے ’’ رادھا کرشن ‘‘کو اولین ڈرامہ قرار دیا ہے۔ بادشاہ حسین نے ممبئی میں اسٹیج کئے  گئے ڈرامے ’’بابو جالندھر ‘‘ کو اولین ڈرامہ تسلیم کیا ہے ۔پروفیسر احتشام حسین نے ’’ راجہ گوپی چندر ( ۱۸۵۲) ‘‘کو اولین  ڈرامہ تسلیم کیا ہے۔ ڈاکٹر رام بابو سکسینہ اور  ڈاکٹر ابو اللیث صدیقی  نے امانت  لکھنوی کے ڈرامے ’’ اندر سبھا (۱۸۵۳)  ‘‘ کو اولین ڈرامہ تسلیم کیا ہے ۔

رہسوں اور سبھاؤں کا دور:

بعض ناقدین  کے مطابق اردو ڈرامے کے باقاعدہ آغاز کا سہرا واجد علی شاہ اختر پیا کے سر ہے۔ لکھنؤ کا یہ نواب رقص و سرور کا دلدادہ تھا ۔رام لیلا کی محافل سے متاثر ہو کر اس نے بھی شاہی قلعے میں رقص ونغمے کی محافل سجائیں ۔ ان محافل کو باقاعدہ اسٹیج کیا جانے لگا اور ان کا نام  ’’رہس ‘‘   رکھا گیا۔

واجد علی شاہ نے اپنے پہلے مثنوی ’’ افسانہ عشق ‘‘ کو اس طرز پر لکھا اور اسٹیج کیا ۔اس کے علاوہ ان کا ڈرامہ ’’ رادھا کرشن  کنہیا ‘‘ لکھنؤ باغ میں اسٹیج کیا گیا۔

واجد علی شاہ کے دور میں ہی امانت لکھنوی نے اپنا منظوم ڈرامہ ’’ اندر سبھا‘‘ تحریر کیا جو کہ رقص وسرور کی ہنگامہ آرائیوں پر مشتمل تھا۔ ابتدائی بند ملاحظہ ہو۔

سبھا میں دوستو اندرونی آمد آمد ہے

پری جمالو کے افسر کی آمد آمد ہے

خوشی سے چہچہے لازم ہے مورت بلبل

اب اس چمن میں گلِ تر کی آمد آمد ہے

واجد علی شاہ کی سرپرستی میں اور بھی ڈرامے ہوئے جن میں عیش و نشاط کا سامان بہم تھا۔ ’’مگر اندر سبھا ‘‘ سارے ہندوستان میں بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہندوستان کی مقامی زبانوں  ’’ دیونا گری ،گورمکھی اور گجراتی ‘‘ میں اس ڈرامے کے ترجمے ہوئے۔ اس کے علاوہ غیر ملکی زبانوں میں بھی اس کے ’’ چالیس ‘‘ ایڈیشن شائع ہوئے۔

زبا ن و بیان  سلا ست ،شگفتگی اور روانی کی  وجہ سے  اندر سبھا کی مقبو لیت   کو دیکھتے ہو ئے پیر بخش کا نپو ری نے  ’’نا گرسبھا‘‘ لکھا۔ ۱۸۵۶ میں ما سٹر احمد حسین کا   ’’بلبل بیمار‘‘ ایدل جی کھوری   کے ’’خورشید‘‘ اور ’’حا تم ‘‘  ’’ ہیرا  ‘‘اور پگلا حجا م اسٹیج  ہو ئے۔ ’’ ہیرا ‘‘ میں سیلانی کا کردار اور ’’ پگلا حجا م‘‘میں       حجام   کا کردار خود  ایدل جی کھوری  نے ادا کیا۔

اردو ڈرامے کے ارتقاء میں تھیٹریکل کمپنیوں کا کردار:

سبھاؤں خصوصاً ’’اندر سبھا ‘‘ کی  کامیابی کے بعد ہندوستان کے طول و عرض خصوصاً ممبئی کے پارسیوں کی توجہ اسٹیج اور ڈراموں کی جانب مبذول ہو گئی۔ اس کے علاوہ جنگل میں بھی ڈرامے کو اسٹیج کرنے کا رواج عام ہوا۔ جسکا ذکر ’’ عشرت رحمانی، پروفیسر مسعود حسین رضوی اور دیگر ناقدین ‘‘ نے اپنے مضامین میں کیا ہے ۔

اس دور کے ڈرامہ نگار درج ذیل ہیں

رونق بنارسی (حاتم طائی عرف افسر سخاوت ) ۔حسینی میاں ظریف (نیرنگ عشق عرف گلزارِ عِصمت )،حافظ محمد عبداللہ (پسندیدہ آفاق  معروف بہ علی بابا و چہل قزاق ) ،  سید مہدی حسن احسن لکھنوی (دستاویزِ محبت ) ،پنڈت نرائن پرشاد  بیتاب دہلوی (مہا بھارت ،امرت ،کرشن سوامی ) ، مستی الف خان حباب( شررِ عشق)  ، عباس علی( گل  رو زرینہ) ، مرزا نظیر بیگ نظیر  ( فسانہ عجائب ناٹک معروف بہ جان عالم و انجمن آراء) ، امراؤ علی ( ) ، طالب بنارسی ( لیل و نہار  ، راجہ گوپی چند، دلیر دل شیر عرف قسمت کا ہیر پھیر)  اور نسروان جی  آرام ( گل بکاؤلی )  ۔

ڈرامے کے ارتقاء میں اردو ڈرامے کے  شیکسپیر آغا  حشر کا شمیری کا حصہ : (۱۸۷۹ تا۱۹۳۵)

اردو ڈرامہ ابھی  احسن لکھنوی ، پنڈت نرائن بیتاب دہلوی اور طالب بنارسی کی نگارشات کی زد میں تھا ۔سارا ہندوستان ان کے رنگ و آہنگ میں مست تھا۔ کہ ڈرامے کی دنیا میں ایک ایسا آفتاب طلوع ہوا جس کی روشنی سے دیگر تمام ستاروں کی روشنی ماند پڑ گئی۔

یہ شخص اردو ڈرامے کا شیکسپئر  آغا حشر کاشمیری تھا۔جس نے شیکسپئر کے ڈراموں کو اس خوبصورتی سے اردو میں ڈھالا کہ اس کی روح بھی قائم رہی اور اس میں مشرقی تمدن بھی سما گیا۔

ان کے ڈراموں کی فہرست طویل ہے ،مگر مشہور ڈرامے درج ذیل ہیں:

سفید خون ۔۔خوبصرت بلا ۔۔ آنکھ کا نشہ۔۔ ترکی حور۔۔ میرِ ہوس۔۔ یہودی کی لڑکی ۔۔ بلوا  منگل عرف  بھگت سور داس ۔۔ نعرہ توحید۔۔ سنسار چکر۔۔رستم سہراب۔

’’آفتابِ محبت ‘‘ ان کا پہلا ڈرامہ  ہے جو احسن لکھنوی کے چیلینج پر لکھا۔

انکا پہلا کمرشل ڈرامہ  ’’ مرید شک ‘‘ ہےجو الفریڈ تھیٹریکل کمپنی کیلئے لکھا جس کے مالک کاوس جی کھٹاؤ تھے۔

ان کا سب سے پہلا ہندی ڈرامہ’’ بلوا  منگل عرف  بھگت سور داس  ‘‘ہے جو اپنی اشتراکی کمپنی انڈین شیکسپئر تھیریٹیکل کمپنی کیلئے لکھا۔اس کمپنی کی بنیاد راجہ راگھو  راؤ کی شراکت میں ۱۹۱۰  میں ڈالی تھی۔

ان کا پہلا مجلسی ڈرامہ سلور کنگ عرف نیک پروین تھا جو ۱۹۱۰ میں اسٹیج کیا گیا تھا۔

حشر کے علاوہ بیسویں صدی کے دوسرے ڈرامہ نگار درج ذیل ہیں۔

محمد ابراہیم محشر انبا لوی ،رحمت علی ،دُوَرِکا  پَرشاد اُفق،غلام علی دیوانہ ، مرزا عباس اور آغا شاعر دہلوی بہت مشہور ہوئے۔

بیسویں صدی کے وسط میں ڈرامے کا فنی و ادبی ارتقاء  :

آغا حشر کے بعد اردو ڈرامے کی مقبولیت پر حکموں نے قبضہ کر لیا ۔لہٰذاڈرامہ تجارت کے ہاتھوں سے نکل کر  خلص فنی و ادبی نگاہوں کا مرکز بن گیا۔ اس دور کے فنی و ادبی ڈرامہ نگار ذیل میں درج ہیں جو  کہ بہت مشہور ہوئے۔

مولانا عبد الحلیم شرر( شہیدِ فا  )۔مولانا محمد حسین آزاد( ڈرامہ اکبر )۔ مرزا ہا دی رسو ا(مرقع لیلی مجنو ں) احمد علی  شوق قدوائی (قاسم و زہرا) ۔ مولانا ظفر علی خان ( جنگ ِ روس و جاپان )۔کرشن چندر  ( زخمی پنجاب )۔ منشی امراؤ علی ( البرٹ )۔

جدید ڈرامہ نگاری کا آ غاز اور  امتیا ز علی:

جدید ڈرامہ نگاری کا آغا ز  امتیا زعلی تاج  جیسے ڈرامہ نگار سے ہو تا ہے ان کا ڈرامہ  انا ر کلی (۱۹۳۲)میں طبع ہوا یہ دور جدید  کا سنگِ میل ثا بت ہوا۔

بقول احمد سلیم:

انار کلی ڈرامہ اپنی کردار نگا ری مو ضوع اور مقصد کی ہم آہنگی اور ادبی حسن کی بدولت بے مثال کا رنا مہ ہےــ

جدید ڈرامو ں میں  حکیم شجاع کا (باپ کا گناہِ ) مجیب  عالم کا ( انجام ) ڈاکٹر  عابد حسین (پردہ غفلت)  جیسے نما یا ں نام ہیں۔

یک با بی ڈرامےاور مغربی اثرات :

مغربی علوم و فنو ن کی زیر اثر یک بابی ڈرامے کی ابتدا ء ہو تی ہے۔اس فن کا فرو غ بھی تراجم سے ہوا۔اس میں امتیا ز علی تاج کے علا وہ  ڈاکٹر  اشتیا ق حسین کا’’نقش آخر’ ’  شاہد دہلوی کا ’’کھڑکی‘‘ عابد علی عابد،،اشفاق احمد، احمد ندیم قاسمی،،کے نام قابل ذکر ہیں۔

مزرا ادیب  بھی اس فن کے بے تاج بادشاہ ہیں ان کو اس فن کی باریک بینیو ں  کا علم ہے۔ ان کے ڈرامو ں میں ’’آنسو اور ستارے،لہو اور قالین اور رشتے کی دیوار‘‘ اپنی مثا ل آپ ہیں۔

اردو ڈرامے کے ارتقاء میں ترقی پسند تحریک کا حصہ:

انقلاب ، روس کے بعد ساری دنیا میں فکر کی ایک نئی لہر دوڑ گئی۔بر صغیر پاک و ہند بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے ۔چند دانشوروں نے ترقی پسند تحریک کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا۔  اس تحریک کے تحت حقیقت نگاری  ڈرامے کی روح قرار پائی۔سردار جعفری ،مرزا ادیب اور پروفیسر محمد مجیب نے اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

قیام پا کستان کے بعد ڈرامہ نگاری کا ارتقاء :

قیام پاکستان کے  بعد کے ڈرامو ں میں  اسٹیج کی رونقیں بحا ل ہو گئیں اس میں معین الدین نے ہجرت کے دکھ،اور انسانی اقدار کی پاما لی کو طنز ومزاح کے ساتھ پیش کیا، ان کے ڈرامو ں میں ’’تعلیم با لغان‘‘مرزا غالب بندر روڈ پر‘‘ اور ’’لال قلعے سے لا لو کھیت تک ‘‘ بہت نما یا ں ہیں۔فلمی اور ٹیلی ویژن کے اثرات: فلمی اور ٹیلی ویژن کے آجانے سے اسٹیج کی رونقوں میں کمی واقع آگئی۔ اس ضمن میں ان کہی، انکل عرفی، شمع، تعبیر، خاک اور خون، طاہرہ، خدا کی بستی، دیواریں وغیرہ۔

ڈرامے کے ارتقاء میں ریڈیو اور ٹیلیویژن  کا کردار اور عہد حا ضر کے ڈرامے:

مو جو دہ دور میں  میڈیا کی ترقی نے خوشگوار اثرات مرتب کئے عہد حا ضر میں کما ل احمد رضوی، اور انور مقصود نے طنز ومزاح، فا طمی ثریا بجیا نے  گھریلو زندگی کے مسائل، سلیم احمد نے تاریخی مو ضو عات، اور اشفا ق احمد  نے روحانی اور نفسیا تی  الجھنو ں  کے حوالے سے ڈرامے پیش کئے،۔

یہا ں امجد اسلام امجد، با نو قدسیہ  ، عبد القادر جونیجو،مستنصر حسین تارڑ ، منو بھائی  اور حسینہ معین کے  ڈرامے بیش بہا خزانے سے کم نہیں۔

تبصرہ اپنی ناقص رائے میں:

المختصر ڈرامے نگا ری کی صنف   تیز ی سے اپنی ترقی کی منا زل طے کر رہی ہے اور اس میں نئے نئے مو ضو عا ت کا  زبر دست اضا فہ ہو رہا ہے لیکن خا لص

ادبی  ڈرامے  آ ج بھی لکھے جا رہے ہیں۔ اسی طر ح یک با بی ڈرامو ں  کا سفر بھی جاری  ہے اور مستقبل میں اس کی تر قی اور کا میا بی  کے امکا نا ت  روشن ہیں۔یعنی کہ اردو ڈرامہ  اردو ادب میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ۔

٭٭٭

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s