ہمارے مشا ہیر اور امتِ مسلماں کا دورِ موجود میں کردار (ایک تجزیہ ایک مضمون )

سید سکندر سجاد کے قلم سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نحمدہ نصلی علیٰ رسولہ  الکریم ﷺ

آج میرے ذہن میں یہ سوال کیوں ابھرا ؟ کہ اس پُر فِتن دور میں اُمّتِ مسلماں پر مغربیت پسند عناصر ہی کیوں چھائے ہوئے ہیں اور تمام تر رعنائیوں کے ساتھ کیوں قابلِ تقلید نظر آتے ہیں ؟یا  اُمّت ِ مسلماں کے لئے مغربی معاشرت کے ہی ہیروز کیوں آئیڈل بن گئے ہیں  ؟کیوں کہ میرے مُعَزز قارئین ِکرام  آج بروزِ جمعہ مسجدِ امامِ اعظم ابو حنیفہ ؒ  میں خطیب مفتی اسمٰٖعیل نورانی صاحب کا ایک جملہ میرے دل کو چیرتا ہوانکل گیا ۔”انہوں نے کہا کہ آپ حضرات کو یاد ہے ؟ کہ15 شوال سیدالشہداء حضرتِ امیر  حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یومِ شہادت ہے ۔”اور پھر کیا تھا میرے دماغ میں پورا غزوہ ءِاُحَد کا واقعہ گھوم گیا اور میری نظروں کے سامنے وہ مناظر ایک ایک کرکے حرکت کرتے نظر آنے لگے ۔حضرتِ جُبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت اور  میرے آقا و مولا  حضرتِ محمدﷺکے دندانِ مبارک کی شہادت کے تمام مناظر میری ان آنکھوں کے سامنے زندہ  تصویر کی طرح چلتے پھرتے نظر آنے لگے۔اس واقعے کی خبر سن کر کس طرح حضرتِ اُویس قرنی رضی اللہ عنہ نے اپنے تمام دندان کو توڑ ڈالا تھا ۔آپ ﷺ کی حفا ظت کرتے ہوئے کس طرح حضرتِ اُمِّ عمارہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے دونوں بازوکفار کی یلغار میں کٹ گئے تھے۔یہ مشاہیر ہمیں کیوں یاد نہیں رہتے؟

اس واقعے نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور میں نے فیصلہ کر لیا کہ میں بعد نماز جمعہ ہی اپنی قوم اور اپنے چاہنے والوں کیلئے یہ تجزیہ اور اس کے محرکات دل کھول کر پیش کردوں ۔اس لئے میں اس منفرد عنوان کے ساتھ رقم طراز ہوں ۔

غالب نے کیا خوب کہا تھا کہ

میں چمن میں کیا گیا گویا دبستاں کھل گیا

بلبلیں سن کرمرے نالے غزل خواں ہوگئیں

اور آج رب ِذولجلال سے میری بھی یہی دعا ہے کہ اے میرے رب العلمین !  میرے اس نغمے کو میرے اس طرز کو بھی پُر اثر بنا دے تا کہ پڑھنے والے اپنے دل پر اثر لیں  اور اپنی  درست سَمت کا تعین  کرلیں  ۔آمین

آجکل ہمارے معاشرے میں مغربیت کا اثر چھایا ہوا ہے۔ ہر شخص اس  وقت کامیابی “ابروڈ “میں ہی ڈھونڈ رہا ہے ۔ ہر بچے اور بڑے کی اس وقت دلی خواہش یہی ہے کہ کسی طرح میں امریکہ ،برطانیہ ،کینیڈا، جرمنی اور ہالینڈ وغیرہ کہیں بھی بس “سیٹلڈ “ہو جاؤں،  تاکہ میرا اور میرے  بچوں کا مستقبل سنور جائے۔ یہ بات بھی کسی حد تک درست بھی ہے کہ دنیاوی ترقی اس وقت مغربی ممالک میں ایشائی ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے ۔

ظاہر سی بات ہے کہ ان مغربی ممالک نے 1914 کی جنگِ عظیم کے بعد کامیابیاں سمیٹیں ہیں ۔اور اٹھارویں صدی میں جتنی بھی سائنسی ترقی ہوئی وہ سب تقریباً 90  فیصد مغربی ممالک میں ہوئی ۔جبکہ اس دوران اسلامی دنیا اپنے اندرونی معملات میں اتنی الجھ چکی تھی کہ اس کو سوچنے تک کی مہلت بھی نہ ملی اور وہ اپنے ذاتی معاملات اور عیاشیوں میں ہی کھو کر رہ گئے ۔ تو نتیجے کے طور پر مغربی ممالک کو ہی آگے آناتھا ۔

اُس دور میں اسلامی سلطنتوں نے اپنے جنگی حکمتِ عملی کو بھی نہیں بدلا اور دورِ جدید کی ضروریات کے مطابق اپنی فوجوں کی تربیت کے بجائے عیاشیوں میں ہی مبتلا رہے ۔ تو ان حالات میں مغربی ممالک کو لازمی کامیابیاں ملنی تھیں ۔ لیکن اس کے باوجود ہر جگہ اس برطانوی سامراج کو شدید مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے ۔ جیسا کہ میں ہندوستان سے مثال پیش کروں گا کہ اگر نواب حیدر علی کا اچانک انتقال نہ ہوتا تو بھی انگریزوں کو ہندوستان میں قدم جمانے میں کافی مشکلات ہوتیں  اور اگر نواب حیدر علی اور ان کے بیٹے حضرتِ ٹیپو سلطان شہیدؒ  انگریزوں سے مزاحم نہ ہوتے تو انگریز بہت پہلے ہندوستان پر قابض ہو جاتے۔

تاریخی طور پر انگریزوں ، پرتگیزیوں ، یونانیوں اور فزانسیسیوں نے 18 ویں صدی اور آدھی 19 ویں صدی تک ہی باقاعدہ اختیار  اور اقتدار اپنے پاس قائم رکھ پایا ہے۔ پھر دوسری جنگِ عظیم 1939 کے بعد منظر نامہ پھر بدل گیا ہے اور اب دنیا میں ممالک آزاد حیثیت میں اپنی حکومتیں چلا رہے ہیں ۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ امریکہ اور اس کے حوارین کا اثر و رسوخ زیادہ ہے۔ لیکن آگے کے حالات اب پھر بدل رہے ہیں ۔ اب پھر دیگر ممالک  اپنی حیثیت منوارہے ہیں ۔ چین نئی طاقت کے طور پر اُبھر رہاہے ۔ انڈیا بھی ایک نئی طاقت کے طور پر سامنے کھڑا ہے ۔ لیکن ادھر اسلامی بلاک بھی تیار ہے ، صرف ایک جھٹکے کی دیر ہے ۔ آپ ذرا غور کریں  پاکستان ، ایران ، عراق ، قازقستان ، اُزبکستان ، ترکمانستان ، آذربائیجان ، ترکی ، انڈونیشیا ، ملائیشیا  اور عرب ریاستیں ایک بہت طاقتور بلاک کی صورت میں نظر آرہیں ہیں ۔ اس کے علاوہ افریقہ میں بھی  اسلام ایک بہت بڑا چینج لا سکتا ہے ۔ پاکستان کی صورت میں یہ جدید ٹیکنا لوجی اور ایٹمی جدید صلاحیتوں سے بھی مالامال ہیں ۔ یہی نہیں یہ بیلسٹک میزائل سسٹم اور نیشنل ڈیفیس سستم سے بھی لیس ہیں ۔ اور ایسا لگتا ہے کہ بہت جلد دنیا پر یہ اپنی کمانڈ پا لیں گے  انشاء اللہ ۔ دوسری بات مغربی ممالک  کی حکومت  پوری دنیا پر صرف 150 سال تک  قائم رہی ہے ۔لیکن یہ ایک زندہ  حقیقت ہے کہ اسلامی دنیا  تقریباً پوری دنیا پر کم و بیش 1200 سال تک قابض رہی ہے ۔

یہ بات قابلِ قبول ہے کہ فاتح قوم ہمیشہ اپنے اثرات مفتوح قوم پر چھوڑتی ہے ۔ اس لئے پوری دینا ابھی مغربی طرز پر چلنے کو ہی اپنی کامیابی سمجھ رہی ہے ۔ آج کی اسلامی دنیا بھی اسی مغربی طرز کو اپنی کامیابی کے طور پر لے رہی ہے ۔ اس لئے مغرب کا چرچہ زیادہ ہو رہا ہے ۔ اور ہمارے پیارے پاکستان کو بھی یہ سیلاب اپنے نمکین پانی میں بہائے لئے چلا جا رہا ہے ۔ اس وقت یہ صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ تمام اسلامی دنیا کا قریباً قریباً یہی حال ہے ۔

ہر بچہ اور نوجوان مغربی فیشن کا دلدادہ نظر آتاہے ۔ کوئی ٹام کروز کے ایکشن میں اداکاری کرتا نظر آتاہے ،تو کوئی فٹبال کھلاڑیوں کی طرح اپنا ہیئر کٹ بنواتا نظر آتا ہے ۔ تو کوئی موت میت میں غیر مسلموں کی طرز پر موم بتیاں جلا کر تعزیت کرتا نظر آتا ہے ۔ میں یہ نہیں کہتا کہ موم بتیاں جلا کر تعزیت نہیں کی جا سکتی ۔ لیکن اسلامی اصولوں کے مطابق تعزیت کا یہ طریقہ نہیں ۔

اسی طرح ہمارا سارا تعلیمی نظام لارڈ میکالے کی بنائی گئی تعلیمی پالیسی کا رہینِ منّت نطر آتا ہے ۔ تو جناب لارڈ میکالے صاحب اسلام کے بہت بڑے خیر خواہ تھے ، جو ہم ان کی تعلیمی پالیسی کو مِن و عَن ماننے پر مجبور نظر آتے ہیں ۔ ارے جناب لارڈ صاحب تو برطانیہ سامراج کے چہیتے اور بہت بڑے نمک خوار تھے ۔ تو یقیناًوہ یہ چاہتے تھے کہ ایسا تعلیمی سسٹم تیار کیا جائے تاکہ ایک لمبے عرصے تک ہماری ذہنیت کے لوگ موجود رہیں ۔ تاکہ برطانوی سامراج کی جڑیں مضبوط رہیں اور انہو ں نے ہی یہ پالیسی ڈیزائن فرمائی تھی کہ ڈِوائِڈ اینڈ رُوول ۔ اسی سیاست کے تحت برطانوی سامراج جاتے جاتے پوری اسلامی سلطنت کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کر گیا تھا ۔ تاکہ بعد میں یہ نئی نویلی ریاستیں اِس سامراج کی دستِ نگر رہیں اور بعد میں ایساہی ہوا۔

آج ہمارے زیادہ تر اسلامی ممالک میں نظامِ عدل بھی برطانوی طرز کا ہے اور آپ نے مشاہدہ فرمایا ہو گا کہ وکیل چاہے کچھ بھی کرے مگر کوٹ پہننا لازمی سمجھتا ہے اور یہی اپنا اسٹیٹس سمجھتا ہے ۔ اسی طرح ہمارا مسلمان کتنا بھی مذہبی کیوں نہ ہو مگر انگریزی تعلیم کے بغیر اپنے بچوں کی تعلیم ادھوری سمجھتا ہے ۔ دھیرے  دھیرے کچھ ہم نے ، کچھ ہمارے میڈیا نے اور زیادہ ہمارے علماء ِ کرام نے رہی سہی کسر پوری کردی ۔ لیکن اس چکر میں ہماری نوجوان نسل ہمارے ہاتھوں سے نکلی جارہی ہے ۔ لیکن اکثریت ابھی بھی نیوٹرل ہے ، اگر آج ہم نے اس نسل کو دین کی سمجھ سے مالا مال کر دیا تو آنے والا وقت یقینی ہمارا ہے۔

اب یہ ہمارا وقت  اور فرض ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو  مسلم اکابرین کے طور طریقے بتائیں  ۔ ان کی سائنسی  ایجادات اور دینا کیلئے کی گئی خدمات ان کے گوش و گزار کروائیں ، ان کے کارنامے جتائیں ۔ اپنے بچوں کو  اپنے سپہ سالاروں کے قصے سنائیں، انہیں بتائیں کہ کس طرح حضرتِ مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رومی سلطنت سے “خیبر” چھینا تھا اور “قموس “قلعے کو فتح   کیاتھا ۔  اس دن آپ نے اپنی روحانی طاقت سے 40 من وزنی قموس کے دروازے کو اُکھاڑ کر پھینک دیا تھا ۔ ان کو ایسی باتیں سنائیں تاکہ نوجوانوں میں روحانی   پاکیزگی اور بالیدگی کا جذبہ بھی موجزن ہو ۔ اسی طرح حضرتِ خالد ،حضرتِ شرجیل ، حضرتِ ضرار بن الازور ،حضرتِ مثنیٰ بن حارِثہ رضوان اللہِ تعالیٰ عنہم ،اور قتیبہ بن مسلم ؒ کی فتوحات کے واقعات بیان کئے جائیں ۔

اسی طرح عثمانی سلاطین کی کامیابیاں نوجوان نسل کے سامنے گنوائی جائیں کہ کس طرح اِن نیک حضرات نے دینا کے تین برِ اعظموں پر تقریباً 1200 سال تک حکومت کی تھی اور آج تک یہ قوم کسی   کی غلام نہیں بنی ۔ اسی طرح سلطان محمود غزنوی ؒ  نے ہندوستان کو کتنی مرتبہ تاراج کیا اور ملتان میں کس طرح قرامطہ جو کہ نسلاً خوارج تھے ، کیسے قلع قمع کیا ؟اسی طرح ہندوستان میں مغلوں نے تقریباً 500 سال حکمرانی کی۔اسی  طرح ابنِ بیطار،ابنِ رُشد ،الخوار زمی،ابن الہیثم ، جابر بن حیان ،ابو نصر فارابی وغیرہ نے 1000 ہزار سال تک کیسے سائنسی دنیا میں ہلچل مچائے رکھی ۔

یہ سب مغربی ممالک ہماری اِسی سلطنتِ عثمانیہ کے  باج گزارتھے ۔ ہم ان کو بتائیں کہ آج بھی مسلمان تعلیمی میدان میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں اور پوری دنیا میں بڑی بڑی پوسٹوں پر براجمان ہیں۔ تو یہ نوجوان نسل اپنے مشاہیر اور رہبر و رہنما کیوں نہیں  بدلے گی  ؟ بلکہ میں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ ضرور بدلے گی ۔ یہاں ہمارے علمائے کرام اور اساتذہ کرام کا کردار سب سے اہم ہے ۔ میں ان سے پُر زور اپیل کرتا ہوں کہ وہ میدان میں آئیں اور اپنی ذمہ داریا ں  نبھائیں ۔

تو اے میری نوجوان نسل اب آپ کے سامنے سارے محرکات آچکے ہیں ۔آپ میں اپنے اسلاف کی طرح بے شمار خصوصیات ہیں ۔ آپ کو اپنے مشاہیر اپنے اسلامی مشاہیر سے منتخب کرنا چاہیئے ۔  حضرت ِ سید الشُہَدا ء امیر حمزہ رضی اللہ عنہ ،حضرتِ خالد رضی اللہ عنہ ،امامِ اعظم ابو حنیفہؒ  حضرتِ محمود غزنوی ؒ، امام احمد رضا ؒ ،حضرتِ علامہ اقبالؒ ،حضرتِ انور شاہ کشمیریؒ ، مولانا    محمد علی جوہر ؒ،مولانا حامد بدایونیؒ ،ڈاکٹر عبد القدیر  خان ،عارفہ عبدالکریم  وغیرہ  میں سے کسی کو بھی   اپنا ہیرو بنایا  جا سکتا ہے اور یہ تمام حضرات جن کے نام میں نے گنوائے  ہیں ان  کی حیثیت کو مغربی میڈیا بھی متنازع قرار نہیں دے سکتا ۔

پھر ذرا یہ سوچو کہ مغربی دنیا تمام مسلم ممالک کو کیوں دہشت گرد قرار دینے کے چکر میں ہے اور یہ میڈیا  تمام مسلمانوں کو دقیا نوس ، بنیاد پرست اور نہ جانے کیا کیا سمجھتے ہیں اور قرار دیتے ہیں، جان بوجھ کر ۔ تاکہ آج کا  مسلم نوجوان پھر سے اِن اَسلاف کی پیروی کرکے دنیا پر قابض نہ ہو جائے ۔  لہٰذا اے میری قوم کے نوجوانوں اپنا مستقبل سنوارنے کیلئے اپنے مسلم اکابرین کو ہی اپنا ہیرو بنائیں اور ان کے کارناموں سے سبق حاصل کر نے  کے لئے  فیض اُٹھائیں ۔ یہاں میں حضرت ِسلطان صلاح الدین ایوبی ؒ    کا تذکرہ  لازمی کروں گا کہ کس طرح انہوں نے اُس نازک دور میں متحدہ یورپی لشکروں کو ذلت آمیز پے درپے شکستوں سے دو چار کر کے عالمِ اسلام کو ان کے خونی پنجوں سے آزاد و مامون رکھا تھا ۔

تو لہٰذا میری قوم کے جیالو! تمہارے رہبر رہنما اور قومی مشاہیر مغربی دنیا کے اسکالر ،انٹیلیکچؤل نہیں بلکہ مسلمان دانشوران، سلاطین، فوجی سپہ سالار اور سائنسدان ہو نے چاہیئے ۔ تاکہ تم دُرست سَمت میں اپنا سفر جاری  رکھ سکو ۔ اللہ عزوجل تمہارا حامی و ناصر ہو ۔ کامیابی صرف اور صرف اللہ کے دین رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اور بزرگانِ دین کی پیروی میں مُضمِر ہے ۔۔۔آؤ آگے بڑھ کر دین و دنیا کی تمام کامیابیاں سمیٹ لو؟!!!!!

علامہ  اقبال ؒ نے کیا خوب فرمایا تھا کہ

قوتِ عشق  سے  ہر پست  کو  بالا  کر دے

دہر میں اسمِ محمد ﷺ سے اجالا کر دے

بات پوری ہوگئی ۔ آپ سے مخاطب ہو کر دل کی بھڑاس بھی نکل گئی اور میرے دل میں  جو بات مشاہر سے متعلق اپنی نوجوان نسل کے دل  و دماغ میں ڈالنی تھی ۔وہ بھی پوری ہوگئی ۔انشاء اللہ تعالیٰ اب یہ نوجوان نسل اپنے مشاہیر منتخب کرنے میں احتیاط  سے کام لیگی ۔ میں یہاں یہ نہیں کہتا کہ مغربی دانشوران قابلِ عزت و احترام نہیں  ۔ وہ بھی تعریف کے لائق ہیں اور وہ اپنی قوم کیلئے بہتر سوچ رہے ہیں ۔ میں تو صرف اپنی نوجوان نسل کو یہ باور کروانے کی کوشش کررہا ہوں کہ ہمارے مشاہیر مغربی مشاہیر سے ہر معاملے میں پاکیزہ اور موازنے سے بالکل عاری ہیں ۔ بس ہمیں اپنے اسلامی ہیروز کو ہی اپنے آئیڈیل کے طور پر منتخب کرنا چاہیئے۔

اللہ عزوجل ہماری ، پاکستان اور دنیا کے تمام مسلمانوں کی حفاظت کرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آمین و آخر و دعوانا عن الحمدُ للہِ رب العا لمین ۔

  رات بہت ہو چکی ہے ۔ دل کی بھڑاس بھی نکل چکی ہے ۔ لہٰذا اب میں بھی آپ تمام حضرات سے  درج ذیل  قطعہ  پیش کرتے ہوئے اجازت چاہتا ہوں ۔

ہماری  ترکیب  الگ ، ہماری  تہذیب  الگ ، ہماری   ریاضت  و عبادت  الگ

پھر ہم  کیوں نقش قدم  ڈھونڈتے ہیں اوروں کے دنیا  میں  چلنے  کے لئے

اسلاف کے کارنامے بھرے پڑے ہیں   اپنی راہ کو منتخب کر نے  کے لئے

کامیابی منتظر ہے آپ کی!صرف دیر ہے بزرگوں کی راہ پر،چلنے کے لئے

سکندرؔ

اسلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

احقر ،سید سکندرؔ سجاد۔

مورخہ11 ،جولائی2017

 

Advertisements

2 thoughts on “ہمارے مشا ہیر اور امتِ مسلماں کا دورِ موجود میں کردار (ایک تجزیہ ایک مضمون )

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s