نظم# مُسدّس # فرینچ بیچ پر پکنک

چھٹیوں  میں بچوں نے پکنک  کیلئے بہت  تنگ  کر رکھا تھا

 کسی  ساحل ِ سمندُر پر جانے کیلئے ، جینا حرام کر رکھا تھا

چلو سنہرا بیچ یا فرینچ بیچ ہر کوئی مجھ سے دن رات کہتا تھا

کرتا بھی میں کیا کرتا ؟ کوئی  ہٹ  مجھے  فری نہیں  ملتا تھا

ان سب کو لے کر کہیں جاؤں میں کیسے بتاؤ!اپنا پیچھا چھڑاؤں کیسے ؟

پھنس گئی ہے جان میری کس عذاب میں بتاؤ !میں وعدہ نبھاؤں  کیسے ؟

بہت “تگ و دو” کے بعد  ایک  دن  ایسا  آ ہی  گیا

خواب ! جو  بچوں نے  دیکھا تھا ،  پورا ہو ہی  گیا

ایک معزز خاتون کی وساطت سے ہٹ مل  ہی  گیا

پھر کیا تھا ؟ فرینچ بیچ چلنے کا پرو گرام ہو ہی گیا

ایک  میرے  قریبی  عزیز  نے  اے۔ سی  بس  بُک  کروائی

خوشنما پھول کھل گیا ہو آب و گیا صحراء میں جیسے کوئی

بروز اتوار صبح  دس بجے گھر سے نکلنے کا طے ہوا

سب  جمع   ہو  جائیں  گے  آنٹی  کے  گھر  یہ  طے  ہوا

تھا  بس  والے  سے  بھی   وہیں  کا   ایڈریس  طے  ہوا

پھر  کیا  تھا  ؟  کچھ  ہی  دیر میں  رخت  سفر شرع  ہوا

بس میں چلے جاتے تھےایسے کہ متوالے ہوں جیسے کوئی

بس میں ہر کوئی نغمے گا رہا  تھا کہ سنگر ہو جیسے کوئی

ہر بچے کی بس آ رزو تھی کہ جلد سے جلد پہنچ جائیں

بس ہوا میں اُڑنے لگے کاش !جہاز  کے  پَر لگ جائیں

لیکن قسمت  میں یہ  لکھا  تھا کہ رش  میں  پھنس جائیں

ایسے رش میں کچھ نہیں ہو سکتا تھا اب روئیں یا گائیں

منزل کے قریب  اپنا یہ حال دیکھ  کر ہر بچہ افسُردہ ! ہو گیا تھا

سڑک پر ٹریفک ہونے سے ہر بچہ غصے سے سُرخ ہو گیا تھا

اللہ  اللہ  رختِ سفر شروع ہوا  پَر ہم  نے  رش  میں نکلنے  سے  پہلے

چیزیں  ساری  ضرورت  کی  خرید  لیں  ہم نے آگے بڑھنے سے پہلے

ایک  بچے نے آواز لگائی  کہ  شاول بوکس خرید  لیں چلنے سے  پہلے

ایک بچی چیخ کر بولی کہ میں بھی اپنا کیپ خریدوں گی چلنے سے پہلے

اس دھینگا مشتی میں خریدی ساری چیزیں  ہم نے اور چل دئے

بچوں کا بھی سامان خریدا،اے ۔سی بس میں بیٹھے اور چل دئے

چند منٹ کی ڈرائیو کے  بعد ہم  بھی  جو توں کر کے فرینچ بیچ پہنچ گئے

گاڑی  سے جھٹ  اترے ، اچھلے کودے ، سب  ہٹ  میں جا کر گھس گئے

نانا جان کچھ یوں گویا ہوئے کہ پہلے کھانا کھالو!نہ کہ پانی میں گھس گئے

نانی جان نے لگوایا  کھانا بڑے  سلیقے سے اور سب کھانے میں جُت گئے

اس طرح کچھ دیر لینے کو ہم بڑوں کو تھوڑا سا سانس مل گیا

پھل فروٹ ،چائے وائے کے واسطے، تھوڑا سا سانس مل گیا

بعد از کھانے کی فراغت  بچے سارے  چیختے چلاتے  پانی  میں مست  ہو گئے

میں نے دیکھا بڑے  پانی  سے ڈر رہے تھے  بہت ! بچے لہروں میں گھس  گئے

جو تھے بچوں  میں   بڑے ! ہمت  دکھائی  انہوں نے اور گہرے پانی میں اُتر گئے

گارڈ نے بھی سیٹی بجا ئی اور خبردار کیا کہ جو گئے گہرے پانی میں وہ مر گئے

گارڈ کی اس بات نے میرے دل پر کچھ  اثر کیا ایسا گہرا

میں بھی پکارا زور سے!کہ باہرآجاؤ آگے پانی ہے گہرا

اب ذرامیں نے ٹھانی کہ کر دوں تھوڑی سی فرینچ بیچ کی منظر کشی

گہرے پانی میں چٹّا ن کو کاٹ کر قدرت نے کر دی  ہے تصویر کشی

وہاں پانی کی لہریں بہت تیز ہیں اور  منظر میں ہے عجب جاذب دلکشی

شاعر کے خیال میں اگر ساتھ  ہو محبوب ! تو چھا جائےعجب مد ہوشی 

اس وجہ  سے اس  بیچ  کو انتظامیہ  نے کر دیا  ہے  پرائیویٹ

جا سکتا ہےصرف وہی کہ جس کے پاس اپنا ہٹ ہے پرائیویٹ

پھر کیاتھا!تھکے ہارے سب شام کو  پانی سے باہر  نکل آئے

ریت  جھاڑی ، نہائے  دھوئے ، چائے پی  اور  بسکٹ  کھائے

بڑوں  نے کہا اب کرو چلنے کی تیاری ! ڈھلنے لگے ہیں سائے

ہنسی  خوشی وین میں بیٹھ  کر ساحل کو کرنے لگے بائے بائے

سکندر ؔ کا دل ابھی  بھی  پانی میں جانے اور نہانے کیلئے للچا رہا تھا

کیا کریں؟ مجبوری تھی گھر جانا تھا سو چل دیئے ، ڈرائیور بلا رہا تھا

سکندرؔ

One thought on “نظم# مُسدّس # فرینچ بیچ پر پکنک

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s