نظم # مسدس #ہمارا تعلیمی نظام اور پاکستان

پاکستانی بچوں کی ذہانت دیکھئے  کہ کیا کیا جناب پڑھ لیتے ہیں

انگلش ہو ، چائینیز ہو، جرمن ہو ، فارسی ہو ، یہ  پڑھ  لیتے ہیں

کتاب میں ہو ،کاپی  میں ہو ،سائن بورڈ  پر ہو یہ  پڑھ  لیتے  ہیں

حتیٰ  کہ  ماں باپ اور استادکے دماغوں کی لکیر یہ پڑھ لیتے ہیں

مگر نہ جانے کون سا خناس  ان معصوم  دماغوں میں پل رہا   ہے

کہ مغربی طرز کے  چکر میں آپا  ان کا آپے  سے باہر نکل رہا ہے

کوئی “اے ، او لیول “میں پھنس کر اپنی زبان  بھول  گیا  ہے

غیروں کی چال چلتے چلتے اپنے اسلاف کی چال بھول گیا ہے

کوئی “ابروڈ “جانے کی خوشی میں بھیا اپنی اوقات بھول گیا ہے

باپ “بچوں “کے کرتوت  دیکھ  کر اوسان  اپنے  بھول  گیا  ہے

اس تعلیمی نظام سے تولاکھ درجہ بہتر ہمارا قدیمی تعلیمی نظام تھا

کم از کم اُس نظام میں پڑھ لکھ  کر بچے کے مستقبل  میں دوام تھا

یہ اسکول  تو ہے بہت بڑا  ،مگر  تربیت سے  بالکل خالی ہے

اس  کی  دنیا میں  مثال “اونچی دکان پھیکے پکوان” والی  ہے

تعلیم  کو بنایا ہے “بزنس” اس کی فطرت تعلیم بیچنے والی ہے

ایسے “شخص “کا آخرت میں حصہ نہیں یہ عمل سے خالی ہے

اس  طرز کے اسکولوں  کی  ہمارے  ملک میں  ہے  بھر مار

تعلیم  کے نام  پر جہاں  “مال ہی مال “بن رہا  ہے  بے شمار

اُس  زمانے میں  بڑی  عمارتیں  تھیں  نہ  بڑے  اسکول  تھے

بس جناب اعلیٰ مسجد سے ملحق دو چار کمرے بے اصول تھے

نہ ہی کوئی ضخیم نصاب تھا اور نہ ہی فیسوں کے وبال وبول تھے

اس  زمانے کے اساتذہ ہر میدان ِ عمل  میں  بے حد با اصول تھے

اِن مدرسوں سے پڑھ کر نکلنے والےطلباء کی مثال کوئی اور  نہ ہوگا

انسانیت کی لا زوال خدمت  کرنے میں ان کی مثال  کوئی  اور نہ  ہوگا

پرائیویٹ  اسکولوں میں تعلیم  کہاں ہر کوئی  مال  تول رہا ہے

 نئی نئی دکانیں کھل رہی ہیں اور کارو بارمنہ  سے بول  رہا ہے

اسکول کا مالک ہر چیز کے دام اپنی مرضی کے وصول  رہا ہے

بچہ  کے بھی بس کمر پہ  فضول  کا ڈھیروں  وزن جھول رہا ہے

دھوکہ تعلیم کے نام پر یہ ملک وقوم سے جان توڑ کر کر رہے ہیں

والدین  سے تعلیم کے نام پر یہ بھاری بھاری رقمیں بٹور رہے ہیں

گورنمنٹ  کے اسکولوں کا اس سے بھی  زیادہ  برا حال ہے

ہر اسکول میں  بھاری تنخواہ لینے والے ٹیچروں کا جال  ہے

وہ پڑھاتے ہیں اپنےسینٹروں میں ، یہاں بچوں کا کیا اکال ہے؟

سسٹم کی خرابی سے اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنا محال ہے

عوام  بیچاری  اب جائے تو جائے کدھر ، ٹھوکر کھائے تو کھائے کدھر

مہنگائی کے اس دور میں  غریب اپنےبچے  ،پڑھائے  تو پڑھائےکدھر

ہر اسکول  امتحان کے زمانے میں ،  زیادہ  کمائی کروا رہا ہے

نقل  کیلئے  اپنی مرضی  کا سینٹر ، بورڈ سے جاکر لگوا رہا ہے

یہ “مافیا “بورڈ کی ٹیم پر  اپنے روپیہ پیسے کا جادو چلوا رہا ہے

فی بچہ امتحان  میں  روپیہ  لے کر کھلے عام  نقل  کروا رہا  ہے

اس طرح  قوم  کے بچوں  کا  مستقبل  برباد  کیا  انہوں  نے

نقل کے چکر میں ان  ہونہار بچوں کو خوار کیا  انہو ں  نے

اس طرح  ہر بچہ بہت  اچھے  نمبروں  سے ڈیل ہو گیا

مگر اپنی  پریکٹیکل لائف  میں ، بری  طرح  فیل  ہو گیا

آتا جاتا  کچھ  نہیں  تھا ، اس  لئے فیلڈ  میں نا اہل ہو گیا

اب پچھتا رہا ہے  کہ مجھ سے یہ  کام ، کیا   ذلیل ہو گیا

در حقیقت تعلیمی نظام چلانے والے قوم سے ہیں مخلص نہیں

بس مال کماتے ہیں قوم کی خدمت کر تے   ہیں بے لوث نہیں

جب  تک حکومت   ہماری  ،ملک سے مخلص نہیں ہوگی

تعلیم  بھی ہمارے ملک کی ، کسی سے   درست نہیں ہوگی

یہ  پیٹ  کے  پجاری  ہیں  آگ  ان کی ، ٹھنڈی  نہیں  ہوگی

دشمنوں  کے ایجنٹوں  سے  ،  تعلیم  کی  خدمت  نہیں ہوگی

اس کیلئے تو با کردار و مخلص لوگوں  کو آگے لانا ہوگا

الیکشن میں حقدار و مخلص لوگوں کو منتخب کروانا ہوگا

ملک و قوم کو اگر  ترقی  کی  راہ پر گامزن  کروانا ہے

اظہارِ  خیال  بچوں  سے  مادری  زبان  میں  کروانا ہے

اغیار کے تعلیمی  نظام کو لازمی  ملک  بدر کروانا   ہے

ہر حال  میں ملک  کے بچوں کو محنت  سے پڑھا نا ہے

سکندر ؔ  اس  طرح  علم  و عمل  سے  دنیا  میں  اپنا  کام  ہوگا

اللہ عزوجل کی رحمت سے دنیا میں پاکستان کا روشن نام ہوگا

3 thoughts on “نظم # مسدس #ہمارا تعلیمی نظام اور پاکستان

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s