غزل# آنسوؤ ٹھہر جاؤمت گرو میری آنکھوں سے

اس نےعشق کے  پردے  میں  ستم  ڈھا  رکھا  ہے

ہم نے بھی طوفان کو اپنے دل  میں  دبا  رکھا  ہے

آنسوؤ  ٹھہر  جاؤ  مت  گرو  میری  آنکھوں  سے

قیمتی موتیوں  کو پلکوں  میں اپنی  چھپا رکھا ہے

گردشِ ایام  نے تھکا  ڈالا ، دم  لینے کا  وقت  نہیں

آئینے  نے  بدلتے  حالات  کو اندر  چھپا  رکھا  ہے

ذرا سی ٹھیس کیا لگی  دل میں طوفان مچلنے لگے

کیسے راز ہیں کہ جن  کو سینے میں  دبا رکھا  ہے

دنیا  والو ! سنگ  اُٹھاؤ  اور  دیوانے  پر  برسا دو

قدرت  نے  دیوانے کا  یہی  انجام  لکھ رکھا  ہے

زخموں پر تو نمک چھڑکا میرے رشتے داروں نے

حسد نے اپنوں کے دلوں میں خود کو زندہ رکھا ہے

زندگی کی گاڑی تو چلتی  رہتی  ہے، رکتی کب ہے ؟

ہم  نے  بھی  دل کے غموں  کو ایندھن  بنا رکھا  ہے

حکومت کے لوگو!عوام کا خیال رکھنا تمہارا کام تھا

مگر خون چوس کر تم  نے،اپنا  اقتدار جما رکھا ہے

انسانیت  تڑپتی  رہے  گی  ظلم  ہے کہ بڑھتا رہے گا

کاتبِ تقدیر نے،دینا کو جو فنا کرنے کا لکھ رکھا ہے

ایک اورشامِ غریباں  برپا ہو گئی سکندر ؔ کی نظرمیں

وقت کے یزید  نے جو ظلم کا  بازار گرم کر رکھا ہے

سکندرؔ

One thought on “غزل# آنسوؤ ٹھہر جاؤمت گرو میری آنکھوں سے

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s