عوام میں قومی بیداری اور پاکستان شناسی (ایک تجزیہ ایک مضمون)

 

سید سکندر سجاد کے قلم سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نحمدہ نصلی علیٰ رسولہ  الکریم ﷺ

حمد و ثناء کے بعد یہ عاجز  بندہ !اپنے کرم فرماؤں کےسامنے یہ بات رکھنا چاہتا ہے کہ کیا بحیثت قوم ہم میں “قومی بیداری”اور” پاکستان شناسی” کا شُعُور بیدار ہوا ہے ؟ تو میں کہوں گا کہ اس میدان ہمارے تجزیہ نگاروں بزرگوں، دانشوروں ،رہنماؤں اور حکومتی عناصر کو عوام کی تربیت کے لئے میدانِ عمل میں اترنا ہوگا ۔جی ہاں بڑی درد مندی  اور بیداریءِ احساس کے ساتھ اسلامی سانچے میں ڈھلتے ہوئے اس میدانِ عمل میں اترنا ہوگا ۔جہاں تک میرا محتاط اندازہ ہے کہ حضرتِ قائد اعظم ؒ کے بعد ابھی تک ہمارے کسی لیڈر ،کسی مدبر ،کسی مذہبی اسکالر اور کسی دانشور نے اس طرف توجہ نہیں دی ہے۔شاعر(احقر) نے کیا خوب کہا ہے کہ

جو  لوگ  خدمت  کے  جذبے  سے معمور  ہوتے ہیں

ارادے  ان  کے  اٹل ، لالچ  سے وہ  دور  ہوتے  ہیں

قیمتی  زندگیاں  اپنی  قومی  خدمت میں لٹا  دیتے ہیں

قوم ابھر تی ہے شان سے ایسا جوہرجو پلا دیتے ہیں

جب بھی کوئی  مخلص حکومت  اپنے ملک کی خدمت پر معمور ہوتی ہے ،تو سب سے پہلے قوم میں سیاسی سماجی اور فلاحی شعور بیدار کرنے اور اِس میدان میں ان کی تربیت کرنے کا اہتمام کرتی ہے ۔بد قسمتی سے اس مملکتِ خدا داد میں حضرتِ قائدِ اعظم ؒ کے بعد بالکل کام نہیں ہوا  ،جس کی پاداش میں آج یہ پاکستانی قوم پاکستان کی مسلمہ حیثیت اور اہمیت سے نا شناس ہے ۔جس کے نتیجے میں آج ہم اس مقام پر کھڑےہیں ۔لہٰذا ہم نے  اس سلسلے میں  کسی بھی میدان میں  کماحقہٗ کوئی میدان نہیں مارا ۔

پہلے میں اپنے اس تجزیئے میں پاکستان کی اہمیت اور اس کی خاصیت ،اپنے پڑھنے والے کرم فرماؤں کے گوش وگزار کرلوں ۔ویسے تو مجھے یقین ہے کہ  اس سَمت میں یقیناً معلومات ضرور ہوں گی مگر صرف توجہ درکار ہے۔اس لیے میں پہلے اس کا تذکرہ ضروری سمجھتا ہوں۔

پاکستان دنیا کے اس خطے میں واقع ہے جہاں قدرتی موسم مکمل ہیں یعنی “گرمی سردی بہار اور خزاں” ۔اسی لئے یہاں ہر قسم کا پھل ،سبزی میوہ اور اناج اگایا جا سکتا ہے۔آپ سب کے علم میں یہ بات ہوگی کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے ۔لیکن اس کے باوجود کسی حکومت نے اس طرف خاطر خواہ کوئی توجہ نہیں دی ۔قدرتی ،صاف اور پینے کے قابل پانی کے ذخائر سے مالامال ہے ۔یورپیئن تجزئی نگار یا “تھنک ٹینک” اس طرف بڑا واضح اشارہ کر چکے ہیں ۔اس کے علاوہ ہماراملک معدنی ذخائر سے مالامال ہے بالخصوص بلوچستان اور سندھ بلعموم خیبر پختونخواہ اور پنجاب ۔ماشاء اللہ ہم معدینات کے معاملے میں خود کفیل ہیں۔ گیس کے ذخائر ہوں ،تیل ہو یا تانبہ ،پیتل سونا  اور چاندی ہو اللہ تعالیٰ نے ہماری ضرورت سے زیادہ ہمیں دیا ہے ۔ہمارے  سندھ میں وادیءِ  گورکھ کے پہاڑ یورینئم کے ذخائر سے مالامال ہیں ۔لیکن ہم اپنے اس ملک میں ایسے ماہرین پیدا نہیں کر پائے ،جو اس سے استفادہ حاصل کر پائیں ۔اور کہا جاتاہے کہ اب جو جنگ ہوگی تو وہ پانی پر ہوگی اور آبی مسائل دن بہ دن بڑی خطرناک صورتِ حال پیدا کرتے جارہے ہیں۔اور ہم اس نایاب قدرتی شے کو بڑی بیدردی سے ضائع کر رہے ہیں ۔نتیجہ ! “پاکستان شناسی”  اور “قومی بیداری” کے فقدان کا مسئلہ ہے۔دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام پاکستان کا ہے ۔اگر ہم جنگی حالت میں ہوں  تو بڑی آسانی سے اشیائے خورد و نوشت اپنے ہی ملک سے حاصل کر سکتے ہیں ۔ چائینہ ایسے ہی نہیں پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہا ہے یقیناً اس کے مفادات بھی پاکستان سے جڑے ہیں۔  اس میں سبزیوں اور تازہ پھلوں کا بھی مسئلہ  بھی شامل ہے وہ پاکستان سری لنکا اور ایسے دوسرے ممالک سے ایسی ہی شراکت کا فائدہ اٹھانا چاہتاہے  تاکہ اپنے ملک کی خوراک کا مسئلہ ٹھیک کر سکے ۔کیوں ؟ کیوں کہ وہ لوگ “چین شناسی” اور” قومی بیداری “اور قوم سےمحبت کا سلیقہ جانتے ہیں۔انہوں نے تو اپنے ملک سے شمالی کوریا کو زمینی طور پر جوڑنے کیلئے ایک بہت طویل آہنی پل تک  تعمیر کر ڈالا ہے ،جوکہ شمالی کوریا کے حصے میں ادھوراہے اور ابھی استعمال میں نہیں آسکا ہے ۔وہ “سی پیک “کے ذریعے پاکستان کے راستے پوری عرب دنیا تک اپنی رسائی چاہتاہے ۔اسی طرح سری لنکا میں بھی اس کے مفادات ہیں ۔کیوں کہ وہ  لوگ اپنے وطن سے مخلص ہیں ۔انہیں “چین شناسی” گھٹی میں پلائی گئی ہے ۔یہ یاد رہے کہ چائینہ 1960 کی دہائی میں آزاد ہوا ہے۔اس کی ترقی قابلِ رشک ہے اور آج یہ ملک امریکہ کو آنکھیں دکھا نے کے قابل ہو گیا ہے ۔

پاکستان قدرتی طور پر ثقافتی اقدار کا حامل  ملک ہے ۔اس ملک  میں تاریخی اور تہذیبی اقدار موجود  ہیں ،جو اس ملک کو دوسرے ممالک سے ممتاز کرتی ہیں ۔ہمارے ملک کی وزارتِ ثقافت بالکل خاموش ہے اور اس کی وجہ وُہی ” قومی  بیداری “،”ملک سے سچی محبت “اور” پاکستان شناسی” ہے ۔اس ادارے  میں ایسے لوگ ہی تعینات نہیں ہیں جو کلچر اور سویلائزیشن کی سمجھ بوجھ اپنے مفادات کے مطابق رکھنے کی صلا حیت رکھتے ہوں ۔یہاں دانستہ اور غیر دانستہ شفارشی بھرتیاں ہوتی ہیں ۔وجہ صرف “پاکستان شناسی “اور” پاکستان سے محبت” کی کمی ہے۔۔ یہاں میں ترکی کی مثال پیش کرنا چاہونگا ۔کہ ترکی سالانہ اپنے ملک میں صرف  وزارتِ ثقافت اور ٹورزم کے ذریعے کتنا زرِ مبادلہ حاصل کر رہا ہے اور یہ منسٹری ان کی کتنی فُعّال ہے  جناب وہ اس ضمن میں اربوں کھربوں لیرا حکومت کے خزانے میں جمع کروارہے ہیں ۔ لیکن ہماری وزارت ثقافت اس سلسے میں بالکل خاموش ہے ۔اگر صرف سندھ کو ہی مثال بنایا جائے تو میں یہ واضح کر دوں کہ کراچی سے ٹھٹھہ تک کے سفر میں صرف   “ڈھائی ہزار “مقامات  موجود ہیں جو اپنی بڑی واضح تاریخی حیثیت رکھتے ہیں ۔اسی طرح سندھ اور بلوچستان کے سنگم پر وادیءِ گورکھ  سیاحت کا بہترین مرکز موجود ہے ۔جس کو محفوظ بناکر اگر عوام کیلئے کھول دیا جائے تو اربوں روپیہ زرِ مبادلہ کی شکل میں حکومت کے کھاتے میں جمع ہو سکتا ہے ۔اور ملک  و قوم کی ترقی میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔لیکن درحقیقت ایسا نہیں ہورہا ہے ۔کیونکہ ہماری قوم “پاکستان شناسی “،”خود شناسی “اور” قومی بیداری “میں پیچھے رہ گئی ہے ۔بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ اس قوم کو دانستہ پیچھے رکھا گیا ہے ۔

تقریباً 300 مقامات پر “ڈیم یا بیراج “بناکر صاف پانی کے ذخائر کو محفوظ کیا جاسکتا ہے ۔اسی طرح اپنے نہری نظام کو ٹھیک کرکے زراعت کو آسمان کی بلندیوں پر پہنچایا جا سکتا ہے۔اور اپنے آپ  اور ملک کو قرضے کی لعنت سے محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔یہ ملک پوری دنیا کیلئے ترقی و خوشحالی کی اعلیٰ مثال بن سکتا ہے۔

اس وضاحت کے ساتھ اب میں اپنے عنوان کی طرف آتا ہوں جی ہاں قائدِ اعظم محمد علی جناح ؒ کے بعد کوئی ایسا لیڈر سامنے نہیں آیا کہ جس نے “پاکستان شناسی” کی بات کی ہو ۔ضیاءالحق کے بعد تو حکومت باہر سے تشریف لائی ہے انہوں نے  اپنی زیادہ تر زندگی   بیرونِ ملک ہی گزاری ہے ۔ان لوگوں کو تو پاکستانی ساخت یا برانڈ کی عادت ہی نہیں ہے ۔یہ لوگ اپنی قومی زبان میں گفتگو کرتے ہوئے لڑکھڑاتے ہیں ۔پاکستانی قومی لباس زیب تن کرتے ہوئے شرمندگی محسوس کرتے ہیں اور  تو اور پاکستانی کھانے بھی ان کے ذہنوں سے محو ہو چکے ہیں ۔اب ان حضرات کے چکر میں ہماری  عوام بھی اپنے کھانے بھول چکی ہے وہ میکڈونلڈز ،سب وے،پیزا ہٹ اور کے ۔ایف ۔سی وغیرہ کے چکر میں پڑ چکی ہے۔سافٹ ڈرنک کے عشق نے تو اس قوم  کو اسکی صحت کے ساتھ تباہ و برباد کر دیا ہے ۔اس کی وجہ اپنے ملک کی چیزوں سے محبت کی کمی ہے ۔اس چکر میں ہم اپنا ابھی تک کوئی واشنگ پاؤڈر  ہی نہیں بنا سکے کیوں کہ ہمیں تو  سرف ایکسل ،ایرئل ایرئل شیرون کے نام پر جو کہ فلسطینی مسلمانوں کا یہودی قاتل ہے ،لکس وغیرہ یہ سب آئیٹم یہودی کمپنیوں کے ہیں اور ہم ان کو کثیر زرِ مبادلہ کما کر بلکہ اپنا لہو پلا کر دے رہے ہیں در حقیقت ہم ان ناسوروں کو خود پال رہے ہیں ۔وجہ صاف اور ظاہرہے  کہ  ہم اپنی مصنوعات کو گھٹیا اور بے کا ر سمجھ رہے ہیں ۔جناب ایسا تو انڈیا تک میں نہیں ہوتا ۔تو جناب اگر  ہمارے  اینکر پرسن حضرات کا ٹیلویژن پر بیٹھ کر غیر ملکی آقاؤں کی اور ان کی مصنوعات کی تعریف سے وقت بچے تو  یہ حضرات کچھ ملک کی طرف توجہ دے سکیں ۔یہاں میں ایک تجزیہ نگار حسن نثار صاحب کا تذکرہ کرتا چلوں ان صاحب  کو  میں نے  کبھی مسلمانوں  اور پاکستان کے حق میں بولتا ہوا نہیں دیکھا ۔یہ ہمیشہ ہی ہر بار  اسلام سے جڑی ہر چیز کی تکذیب کرتے نظر آتے ہیں اور سیکولر نظریات کو ہی انسانیت کا نجات دہندہ سمجھتے ہیں ۔بھئی اللہ نے تم جیسے لوگوں کو  موقع دیا ہے تو غیر ملکی آقاؤں کی طرف کیوں جھکتے ہو؟اپنے ملک کی خدمت کرو!قوم کو اِس وقت رہنمائی کی ضرورت ہے  نہ  کہ تنقید کی ؟ آپ لوگ ایسے پرو گرام ترتیب دیں کہ عوام میں آگاہی اور شُعُور بیدار ہو ،ان کو پاکستانی اشیاء پاکستانی کھانے ،پاکستانی کپڑے ،پاکستانی گاڑی ،اے سی،اور پاکستانی برینڈ کا شُعُور دیں ۔ان کو بتائیں کہ پاکستانی اشیاء خرید کر وہ پاکستان کی خدمت کر رہے ہیں اور پاکستان کو فائدۃ پہنچا رہے ہیں اور باہر کی چیزیں خرید کر ہم اپنا قیمتی زرِ مبادلہ دوسرے ملکوں میں بھیج رہے ہیں جس کی وجہ سے ہمارے ملک  کی ترقی مسدود ہورہی ہے ۔اس “بھولی بھالی “عوام کو یہ باور کروانا ہے جیسا بھی ہے ہمیں اپنی غیرت کی خاطر اپنے ملک کی ہی بنی ہوئی اشیاء ہی خریدنی ہیں تاکہ قیمتی زرِ مبادکہ ملک ہی میں رہے اور باہر نہ جانے پائے ۔ اور ہم میں اتنی غیرت ہے کہ ہمیں دوسروں کی بجائے اپنا دستِ نگر خود بننا ہے اور اپنے پیروں پر خود کھڑے ہونا ہے ۔ان بیرونی غیر ملکی آقاؤں نے ملک کو سخت نقصان پہنچایا ہے ۔ہماری حکومت کے کرتا دھرتاؤں نے جان بوجھ کر قومی ادارے پرائیوٹائز کئے اور ان کو تباہ و برباد کیا ۔مثال کے طور پر بھٹوصاحب نے قوم کو روس جیسے ملک سے اسٹیل مل لگواکر دی ۔ یہ ادارہ کئی سال تک ملک کی خدمت کرتا رہا اور حکومت کو خطیر زرِ مبادلہ کما کر دیتا رہا اس کو بڑی خوبی کے ساتھ برباد کیا گیا۔اسی طرح پی۔ آئی ۔اے، پی۔ٹی۔سی۔ایل،کراچی پورٹ ٹرسٹ،کے۔ای۔ایس ۔سی  سوئی گیس کمپنی ۔تمام بڑے ادارے “آئی ۔ایم ۔ایف” کے احکامات کی پاسداری میں نجی اداروں کو کوڑیوں کے دام فروخت کئے گئے، جس سے حکومتی طاقت میں  اور اس کے ذخائر  میں زبردست کمی کی گئی ۔ہمیں  قوم کو یہ شُعُور دینا ہے کہ باوثوق ذرائے کے مطابق اس چیز سے لڑنے کیلئے غیر ملکی آقاؤں نے ہمارے میڈیا کو اربوں روپیہ اس مد میں دیا کہ تم لو گ یہاں بیٹھ کر ہمارے ملکوں کا مقدمہ لڑو۔اور ایسے کئی پروگرام پاکستانی عوام نے بھی دیکھے ہوں گے  ہیں اور ان لوگوں نے بھی۔ ہمیں ٹی وی چینلز پراس کی بجائے محب ِ وطن پروگرام شروع کرنے چاہئیے تاکہ قوم میں وطن سے محبت کا جذبہ اجا گر ہو ۔اور ایسے پروگرام شروع کئے جائیں کہ جس سے قوم کے طور طریقوں میں بہتری  آئے ۔میں ایک مثال پیش کرتا ہوں ۔اگر ہم میں سے کوئی بھی چاہے پڑھا لکھا ہو یا غیر پڑھا لکھا ،اگر سفر میں ہوں تو ہم لوگ گاڑیوں بیٹھے بیٹھے بہت ساری چیزیں کھالیتے ہیں اور اس کا کچرا چلتی ہوئی گاڑی سے ہی سڑک پر بکھیر دیتے ہیں ؟ کیا ہم اپنے گھروں میں ایسا کرتے ہیں ؟نہیں ہر گز نہیں ۔تو لہٰذا ہم پاکستان کو اپنا گھر نہیں سمجھتے ہیں ۔اسی طرح مارکیٹوں میں لوگ اپنی دکان صاف کر کے کچرا دوسری دکان کےسامنے سڑک پر اڑتا ہو چھوڑ دیتے ہیں یہ کچرا ان حضرت کی دکان سے تو صاف ہو جاتا ہے لیکن آگے گندگی پھیلاتاہے  ،اگر یہ حضرات تھوڑی سی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اور اپنے ملک کی خدمت کا جذبہ دل میں رکھتے ہوئے ایک ڈسٹ بن خرید لیں اور یہ کچرا صرف اس میں ڈالدیں ،تو پورا مارکیٹ صاف ہو سکتا ہے اسی طرح پورا ملک ۔بھائیو! اس صفائی سے ہماری قوم کی صحت میں تقریباً 70 فیصد اضافہ ہو جائے گا اور بیماریوں کی مد میں خرچ ہو نے والا قوم کا قیمتی پیسہ بھی بچ جائےگا ۔۔کیاہم اپنے گھروں میں ایسا کرتے ہیں ؟نہیں ہرگز نہیں تو ثابت ہوا کہ  ہم صرف اپنے گھر کو اپنا گھر سمجھتےہیں اور اپنے محلے کو اپنے شہر کو اپنے صوبے کو اور اپنے ملک کو اپنا نہیں سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے ہم پسماندگی کا شکار ہیں ۔

اب میں مضمون کے اختتام کی طرف بڑھتے ہوئے قوم کی خدمت میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں ۔اے میری پیاری قوم پہلے ہم سب آپﷺ کے امتی اور غلام ہیں ۔آپ ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنا ہم سب پر فرض ہے ۔اسلام میں صفائی پر بہت زور دیا گیا ہے ۔اپنے ملک کہ جہاں ہم رہتے ہیں اس کی صفائی کا ہمیں بہت خیال رکھنا چاہئیے۔اسی طرح ہمیں اپنے ملک سے بہت محبت کرنا چاہئیے۔لہٰذا ہمیں ایسے جملے استعمال نہیں کرنے چاہئیے کہ “پاکستان میں سب چلتاہے ” ۔”یہاں دونمبری اور رشوت کے بغیر کام نہیں چل سکتا ” ۔” اس ملک نے ہمیں دیا ہی کیا ہے؟ “۔ مجھے تو پاکستان بالکل اچھا نہیں لگتا “۔اس ملک سے ہمیں کیا فائدہ ؟”۔وغیرہ وغیرہ۔ میں آپ سب سے گزارش کروں گا کہ اپنی مادری زبان کے ساتھ اپنی قومی زبان کو اہمیت اور فوقیت دیں ۔جہاں کہیں بھی اپنی بین الاقوامی  پلیٹ فارم پر ہوں ،تو خدارا اپنی قومی زبان کو اہمیت دیں ،اپنے ملک کو اہمیت دیں ،اپنی برانڈ کو اہمیت دیں اور احساسِ کمتری کا شکار نہ ہوں۔اپنی بات کہنے کیلئے انگریزی زبان جاننے کے باوجود انٹپریٹر بلواکر اپنی قومی زبان “اردو” میں  اظہارِ خیال کریں ۔مجھے  قومی کرکٹ  ٹیم کے کھلاڑیوں پر بڑا افسوس ہوتا ہے کہ فاتح ہونے کے باوجود اپنی کمتری اور احساسِ کمتری کا اظہار کرتے ہیں ۔ا پنی زبان بولتے ہوئےکتراتے ہیں ۔اور ٹوٹی پھوٹی انگریزی بول کرااپنا اور  اپنی پوری قوم کا مزاق اڑواتے ہیں اور پاکستان کو شرمندہ کرواتے ہیں ۔ان کو چاہیئے کہ اس مقام پر انٹرپریٹر بلوا کر برے طمطراق سے اپنی قومی زبان میں اعتماد کے ساتھ اظہارِ خیال کریں ،تاکہ ہم سب کا مورال بلند ہو ۔اسی میں ہم سب کی اور ہمارے پیارے پاکستان کی بڑائی اور بھلائی ہے۔

اے میرے پیارے پاکستانی بھائیوں !” اللہ عزوجل اور اس کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد اپنے وطن ،اپنی مٹی،اپنی ثقافت اور اپنی تہذیب سے پیا ر کرو” اور اس ملک کا خوب خیال رکھو ۔ یاد رکھو !یہ ملک ایسے ہی ہمیں جھولی میں ڈال کر  نہیں دیا گیا ہےبلکہ قدرت ہمارے اور اس خطے کے ذریعے ہم سے کوئی بڑا کام لینا چاہتی ہے۔اس لئے اس ملک کو مضبوط  سے مضبوط تر بنانے کی ضرورت ہے ۔۔۔۔

بات پوری ہوگئی ۔آپ سے مخاطب ہو کر دل کی بھڑاس بھی نکل گئی اور پاکستان کی تقدیس کا جو کانٹا میرے دل میں چبھ رہاتھا اس کی تڑپن بھی دور ہوگئی۔اب میں آپ کے حضور یہ قطعہ پیش کرکے  رُخصت کی اجازت چاہتاہوں کہ

اپنی  مٹی پر چلنا سیکھو  تو زمانے میں تر  جاؤگے

سنگِ  مر مر پر  چلے اگر  تو ضرور  پھسل  جاؤگے

اپنی  تہذیب  و تمدن  و  ثقفت  کو ہر  گز  نہ  چھوڑنا

ورنہ ترقی کی دوڑ میں دوستو!  پیچھے رہ جاؤ گے

 سکندرؔ

اسلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

احقر ،سید سکندرؔ سجاد۔

مورخہ 05 ،جولائی2017

 

 

2 thoughts on “عوام میں قومی بیداری اور پاکستان شناسی (ایک تجزیہ ایک مضمون)

  1. Ma sha Allah zabadast … kash yeh parh k aqal ajay … Allah hum sub ko hidayat dy aur apny watan pakistan sy sachi muhbat dy ameen aur khas kar jis tasufii tolyy k shikanjy mai hai ln sub Allah apny gaib sy hum sub ki madad farma aur is azab sy nikal dy ameen summmma ameen.

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s