ہمارا غریب پرور شہر کراچی (نظمِ مخمس)۔

جو سب سے بڑا ہےشہر وہ ہمارا  کراچی ہے

 جو غریب پرور  ہے شہر وہ ہمارا  کراچی  ہے

جو روشنیوں کا  ہے شہر وہ ہمارا  کراچی ہے

جو قائد کا مسکن ہے شہر وہ ہمارا  کراچی ہے

اندیکھے  اندر   کے   دشمن  کی  نظر  کھا  گئی  ہے  اس   شہر  کو

بڑے  بڑے  ماڈرن  شاپنگ  مال  ہیں  یہاں

ہر قوم  کی محنت کے انمٹ  نشاں ہیں یہاں

دن رات محنت کر کے مال کماتے  ہیں  یہاں

جا جا کے ہوٹلوں  میں خرچ کرتے ہیں یہاں

بے  تحاشا  خرچ   کرنے  کی عادت   ہو   گئی   ہے   اس   شہر   کو

رونقیں اب ساری  ختم ہو گئی ہیں اس شہر کی

بتیاں بھی اب ساری بجھ  گئی ہیں اس شہر کی

سڑکیں اب  ساری ٹوٹ  گئی  ہیں  اس  شہر کی

حکومت کو  ذرہ بھر پرواہ نہیں ہے اس شہر کی

 سیاسی   حکومتوں  کی   بے   حسی نگل  گئی  ہے  اس   شہر  کو

ریونیو سب  سے  زیادہ  جینیریٹ  ہوتا  ہے  یہاں

ہر شہری  بھی سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے یہاں

سیا ست کی دکان سب سے زیادہ  چمکتی ہے یہاں

عوام بھی لیڈ ر کے  ہاتھوں  بیوقوف بنتی ہے یہاں

عوام   کے   بھولے  پن  کی عادت   بگاڑ  گئی   ہے  اس   شہر  کو

جب سے گندی سیاست کا کھچڑا پکنے لگا ہے یہاں

نفرت کا بیج  دلوں میں  سب کے  پنپنے لگا ہےیہاں

ہر کوئی ایک دوسرے سے فساد کرنے لگا ہے یہاں

تعصب کا  زہر رگوں میں گردش کر نے  لگا ہے یہاں

باہر کے “آقاؤں  کی  حکمت  و دانائی  “مار گئی ہے  اس  شہر کو

ملک میں پیار ،امن و آشتی کا یہ شہر گہوارہ تھا

وطن کے متوالوں کی چاہت کا یہ شہر شہ پاراتھا

دہشت  گردوں کی ہٹ لسٹ  پر یہ   شہر  سارا تھا

غیروں نے نہیں  اپنوں نے اس  شہر کو اُجاڑا تھا

سیاست  بازی   کی   چُپقلش   برباد   کر  گئی   ہے  اس    شہر  کو

گلیاں  اس  شہر  کی  گندے  پانی  سے  بھر  گئیں  ہیں

سڑکیں اس  شہر کی  ندیوں کا منظر پیش  کر رہیں  ہیں

عورتیں  اس شہر  کی  رو  رو کر  دعائیں  کر رہیں  ہیں

پانی اس شہر میں پینے کا عورتیں دور سے لا رہیں ہیں

دو دنوں کی “دھواں دار” بارش نے  جھنجھوڑا  ہے اس شہر  کو

پی پی پی بیس سال سے حکومت کر رہی ہے اس شہر میں

ایم کیو ایم تیس سال سے حکومت کر رہی ہے اس شہر میں

ن لیگ دس سال سے وفاقی حکومت کر رہی ہےاس شہرمیں

 تیس سال سےان کی حکومت  مال کھا رہی  ہے اس شہر میں

درندوں  کی  طرح  حکومت  نے   بھنبھوڑا   ہے   اس   شہر  کو

اب ذرا دیکھوآ کے اس  شہر کا  کیا حال ہو گیا ہے

گلی محلے کا ہر باسی غم سے اب نڈھال ہو گیا ہے

شہرِ  چراغاں  اب   کھنڈرات  میں  تبدیل  ہو گیا ہے

ملت کے پاسبانو !کہاں ہو  آؤ ؟ تمہیں کیا ہو گیا ہے

سکندرؔ پکارتا ہے آؤ!ظالموں کے شکنجے بچانا ہے اس شہر کو

سکندرؔ

Advertisements

One thought on “ہمارا غریب پرور شہر کراچی (نظمِ مخمس)۔

  1. Allah hymary karachi par khas raham o karam ata kary ameen aur kash yaha k basiyon ko aqal o himat ajay jis sy woh apna any wala kal behter kar saky amen summma ameen ..
    Best topic …
    Best writing….
    We appriciate keep it up……

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s