(مسدس )بچے ،پتنگ بازی اور بسنت

پتنگ  بازی   بھی عجب  کھیل  بڑا  ہے

جس بچے کو  دیکھو چھت  پہ کھڑا ہے

نہ کوئی چھوٹا اس میں نہ کوئی بڑا ہے

ہر اک  نفس پہ  اس کا جنون  چڑھا ہے

اس کھیل   میں  ڈور   سے گردنیں  بھی کٹ  جاتی ہیں

اور  لوگوں کے منہ سے  بد دعائیں بھی نکل جاتی ہیں

دیکھو ! یہ لڑکا  جو ابھی پتنگ لے کر گیا ہے

مصیبت  خود  اپنے ساتھ  مول  لے کر گیا  ہے

روپیہ  بھی بہت سا را  باپ کا خرچ  کر گیا ہے

اپنا قیمتی وقت یہاں زندگی  کا برباد کر گیا ہے

وقت اب اپنا یہ سارا پتنگ بازی میں صرف کر دیگا

جب تک نہ کاٹ دے “دو چار “پتنگیں  دم نہ لے گا

روک ٹوک نہ ہونے سے دل  اس کا  بڑھ  گیا تھا

من مانی اپنی کرنے میں خوب چو کس ہو گیا تھا

مال کمانے  جو اس کا باپ ملک سے باہر  گیاتھا

ڈر باپ کا سارا ! اس  کے دل  سے  نکل  گیا تھا

ماں پریشان تھی کہ  کروں اس کی تربیت  کیسے؟

زندگی کی پٹری پر اپنے لختِ جگر کو لاؤں کیسے؟

ہر  کوئی  پتنگ  اڑا  رہا  ہے  ایسے

” فریضہ ” کوئی  نبھا  رہا ہو جیسے

چھوٹے گی جان !اس  سے  کیسے ؟

قوم اس کھیل   سے بچے گی کیسے؟

مزے کی بات  دیکھو !حکومت نے پابندیاں لگا رکھی ہیں

پولیس نے پھر بھی سرِبازار ان کی دُکانیں کھلوا رکھی ہیں

ہر کوئی  دیکھو ” پتنگ  اڑانے ” آگیا  ہے

لوگوں  کے بیچ “پیچ سے پیچ ” لڑ گیا ہے

کٹ  جانے  پہ  پتنگ “مُنا  روٹھ ”  گیا  ہے

جھٹ سے گود سے “اما ں کی” اُتر گیا ہے

پتنگ  کٹ  جانے  پہ  “ابا ” کو سرسام  ہو گیا تھا

پورے  محلے میں   منے کا “ابا” بد نام ہو گیا تھا  

آسمان بھی”پتنگوں”سے بھر گیا تھا

 “چیل  کوؤں ” کو بھی ڈر لگ  گیا  تھا

ڈور سے”بچے کا کان”بھی کٹ گیا تھا

باپ اس  کا  لڑنے میدان  میں آگیا  تھا

ایسے  موقعوں  پر کب  ہوتی  ہیں تحمل  سے  باتیں

کسی کا سر پھٹتا ہےاور کوئی کھاتا ہے جوتے لاتیں

کس  نے  بسنت کو تیوہار بنا دیا ہے؟

ہاتھ میں لا کر ڈور کا پِنا تھما دیا ہے؟

اِ س دن پتنگ  اُڑانا رسم  بنا  دیا  ہے؟

کس نے میلہ سا شہر میں لگا دیا ہے؟

“اس قبیح رسم” سے تو موتیں کئی ہو گئی ہیں

ماتم کی کئی گھروں میں تو صفیں بچھ گئی ہیں

یا رب ! “مسلمانوں” کو عقل  و شُعُور دے  دے

یا رب ! حمیت  و غیرت  ان کو بھر  پور دے  دے

بری رسموں سے بچنے کی طاقت ضرور دے دے

آپس میں ایک رہنے کی عادت  فی الفور  دے دے

اس طرح ہی  سکندر ؔ ختم ہوں گی دین  سے بدعتیں

مٹ  جائیں  گی  دھیرے  دھیرے  آپس  میں  نفرتیں

سکندرؔ

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s