جس کو خیالوں میں سوچتا ہوں ،خواب دیکھتا ہوں #غزل

جس  کو خیالوں میں سوچتا ہوں ، خواب دیکھتا ہوں

وہ ستاروں کے جھُرمُٹ میں کہیں گُنگُنا رہی ہوگی

تخیل کی حسین وادی  مجھےایک رُخ دکھا رہی ہے

دنیا میں نہ سہی ،عدم میں  کہیں مسکرا رہی ہو گی

دنیا کے ستمگروں نے عاشق کو بہت بدنام کیا ہے

محبت بھی ظلم کے شکنجے میں کہیں کسمسا رہی ہوگی

لوگو !عشق کو سمجھو ، شہوت پرستی کو پیار نہ جانو

تمہاری اس دلگی میں   عشق کی رسوائی  ہو رہی ہوگی

میرے  مقدر کا ستارہ بھی  کبھی نہ کبھی  ضرور چمکے گا

وہ بھی میرے نام کی تسبیح کہیں پڑھ رہی ہو گی

غموں کے بعد خوشیاں دل پرلازم آتی ہیں دوستو

خبر نہیں یہ خوشی میرے دل پر  کتنی دیر رہی ہوگی

اہلِ ستم  کو  بھی  معلوم  ہوگا  کہ محبت  کیا  ہے؟

مامتا  کبھی  تو ان کے قریب  سے  گزری  ہوگی ؟

حکمرانو ! ہوش میں آؤ ؟ مت اُجاڑو اپنے  وطن  کو

چمن  کے اجڑ جانے پر، وحشت تو تمہیں بھی ہوگی

اہلِ حق کا کیا ہے وہ  نصیحت سے کب باز آتے ہیں

سدھرو گے تم کب ؟  نہ جانے کون سی گھڑی ہوگی

مقدمہ ملک کا ہے سکندر ؔ  بھی قلم سے لڑتا رہے گا

یہاں نہ ملے انصاف ، قیامت میں تو داد رسی  ہوگی

سکندرؔ

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s