رمضان شریف میں ٹی وی چینلز پر رمضان ٹرانسمیشن کا تماشا

تجزیہ !سید سکندر سجاد کے قلم سے

 !!! بھیا !مرزا غالب نے کیا خوب کہا تھا

ہوتا  ہے شب و روز تماشا مرے آگے

اک کھیل ہے اورنگِ سلیماں مرے نزدیک

اک بات ہے اعجازِ مسیحا مرے آگے

ہے موج زن اک قلزمِ خوں کاش  ! یہی ہو

آتا ہے ابھی دیکھیے کیا کیا مرے آگے

ہماری رمضان ٹرانسمیشن پر  لوگوں   نے کیا کچھ نہیں لکھا   ۔تو ہم میں کیا خرابی ہے؟   ہم بھی تو اس معاشرے کا حصہ ہیں  ۔۔۔؟ تو ہم کسی سے پیچھے کیوں رہیں ۔؟ لہٰذا ہم بھی بولیں گے ،بلکہ بے نقط بولیں گے یعنی کھری کھری سنائیں گے۔گونگے تھوڑے ہی  ہیں ، یا ہم میں کوئی شُعُور کی کمی ہے ۔ ہم تو ضرور بولیں گے اور لکھیں گے بھی۔

جب سے میڈیا کو آزادی ملی ہے ۔ ہمارا  میڈیا بھی مغربی میڈیا  کی طرح آزاد ہوگیا ہے ۔لیکن ہمارے میڈیا کو اتنا معلوم ہونا چاہیئے کہ وہاں اصول و ضوابط ہیں ۔حکومت ِ وقت بھی اپنی ذمہ داریاں  نبھاتی ہے کوئی  ہمارے وزیرِ اعظم کی طرح  تو نہیں کہ قوم کو بجلی دینے کے چکر میں قوم کاہی بھر کس نکا ل دیں ۔ارے ارے یہ میں کس طرف نکل گیا ۔۔۔آج کا موضوع تو رمضان اور اس کی ٹرانسمیشن ہے۔ہاں جناب تو  جنرل پرویز مشرف کی خاص مہربانی سے یہ میڈیا آزاد ہوا ہے ۔اس کو بڑی مشکل سے جنرل ضیاء صاحب  سے چھٹکارا ملا ہے۔پہلے تو ٹی وی پر اینکر پرسن یا نیوز کاسٹر بغیر سر پر ڈوپٹہ اوڑھے پروگرام نہیں کر سکتیں تھیں ۔اب  تو ماشاء اللہ لباس اور فیشن کی تبدیلی کی وجہ ڈوپٹے کی ضرورت ہی نہیں رہی۔ حضرت علامہ اقبال ؒ  تو یہ کہتے کہتے رخصت ہو گئے ، کہ

اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر

کہ خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی

میرے معزز کرم فر ماؤ! حضرتِ اقبال  ؒ  کو ان ہی مغرب کے معززین نے “سر “کا خطاب دیا تھا اور “جناب تھامس آرنلڈ “نے فلسفہ پڑھوایا تھا ۔ لیکن ولیوں کے لسی کے گلاسوں نے حضرتِ اقبال ؒ  کی آنکھوں پر پٹی نہیں بندھنے دی اور وہ ہوش مندی کا دامن تھام کر قوم کی اصلاح کرتے رہے۔لیکن بھیا اس بے لگام میڈیا کے سرپٹ دوڑتے گھوڑے کو لگام دینے کیلئے اب کہاں  سے حضرتِ اقبال  ؒکو ڈھونڈ کر لائیں۔جو ہمارے معزز علمائے دین  ہیں ،وہ بے چارے سارے کے سارے رمضان ٹرانسمیشن میں  جو قوم کی  خدمت کر رہے ہیں ۔ وہ تو  قوم اچھی طرح جانتی ہے۔ جو اہلِ حق بوریا نشین  علماء ہیں  ۔وہ  نام و نمود ،  ظاہر داری اور جھوٹے دکھاوے کی وجہ سے ان اینکر پرسنز کو قابلِ اعتنا ء نہیں سمجھتے۔ ورنہ اگر یہ اولیا ء  صفت  علماء میڈیا  پر تشریف لے آئیں ،  تو اس میڈیا  اور ان کے نام نہاد اینکر پرسنز کی آنکھیں کھل جایئں ،  جو مفاد پرستوں کی طرف سے لگائے گئے روپے  پیسے کی  چکاچوند  کی وجہ سے بند ہوگئیں ہیں اور کھلنے کا نام ہی نہیں لے رہیں ہیں ۔

اے میری پیاری قوم!!!! آپ لوگ کیوں” صُم ُمم بکمن عمُیُن فہَمُ لا یعَقلِون” کے مِصداق ہو کر رہ گئے ہیں  ۔اگر حکومت کچھ نہیں کرتی تو آپ ہی اپنی مدد آپ کے تحت کچھ کر گزریں اور اگر کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم ایسے بے ہودہ پرو گراموں میں شرکت ہی نہ کریں۔بد قسمتی  سے ہماری قوم چند انعامات کے لالچ میں ان پروگراموں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے ۔اس طرح کے پروگرام بڑے دَھڑلے سے اسلام کو بدنام کرنے  میں بلواسطہ یا بلاواسطہ مصروفِ عمل ہیں  اور ہمارے علمائے کرام ان پروگراموں میں شریک ہوکر اس جرم میں برابر کے شریک بن رہے ہیں ۔

اب ان پروگرامز کی  تفصیلات  کی جانب بڑھتا ہوں۔ان میں مشہور ترین پروگرامز میں اے ۔آر ۔وائی  ٹی وی  چینل سے نشر ہونے والا ” جیتو پاکستان”ہے ۔   اے ۔آر ۔وائی  ٹی وی  چینل سے  ہی  نشر ہونے والا پروگرام “شانِ رمضان “ہے ۔جیو ٹی وی چینل سے نشر ہونے والا  پروگرام “انعام گھر ” اور  “عالم کے بول ” ہیں  ۔ اس کے علاوہ “فیضانِ رمضان ،رمضان پہچان ،رمضان  کی لذت،رونق رمضان اور شہرِ رمضان ” مزید قابلِ ذکر  مختلف ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والے پروگرامز  ہیں اور ان کے علاوہ نہ جانے ان ٹی وی چینلز پر کیا کیا ہو رہا ہے ۔

اب فہد مصطفیٰ کی عقل کی اللہ تعالیٰ حفاظت کرے اور اس کو ہدایت نصیب کرے کہ اس کو کس نے اجازت دے دی؟ کہ  پاکستان کو بیچ دو۔ایسا لگتا ہے کہ پاکستان ان کے باپ دادا نے خریدا ہے ۔دوسری جانب اے ۔آر ۔وائی کے مالکان کی مت ماری گئی ہے یا وہ دنیا  کی رنگینیوں میں ایسے کھو گئے ہیں کہ انہیں اچھے بُرے کی تمیز ہی نہیں رہی ہے ۔کم از کم اس پروگرام کا نام” پاکستان میں جیتو  “یا  “پاکستان میں جیت کے جیو   “بھی رکھوایا جا سکتاتھا مگر  باہر کے پیسے میں بڑا جادو ہے ، سو انہوں نے اپنے ملک کی عزت و آبرو کی کیا پرواہ کرنی ہے  ۔بس اپنے کار و بار کو دیکھنا ہے۔لیکن ان علماء کرام کا کیا کریں، جو ان حضرات  کے خلاف منہ میں چپ کا روزہ رکھ کے بیٹھے ہیں ، بلکہ ایسے پروگراموں میں شرکت بھی کر رہے ہیں ۔فہد مصطفیٰ کو بھی عقل کے ناخن لینے چاہیئے  کہ وہ دنیا کی خاطر اپنے دین کو برباد کررہے ہیں۔یہا ں کونسی بے ہودگی نہیں ہو رہی ہے ۔لوگ نماز روزہ چھوڑ کر ٹی وی پر  آنے کے چکر میں ان بے ہودہ پرو گراموں میں دوڑے چلے آتے ہیں ۔دین کو رُسوا کرکے یہ کیسی شہرت حاصل کی جارہی ہے؟ اور ان پروگراموں نے قوم  کو لالچی ،نیت خور اور خود غرض بنا دیا ہے۔ لوگ ذرا ذرا سے انعامات کے لالچ میں کیسی کیسی واہیات اور گھٹیا حرکتیں اپنی عوام کے سامنے کر گزرتے ہیں ۔ اس سے ان کی انا اور انکا وقار تو مجروح ہو ہی رہا ہے ،تو دوسری جانب ملک کا نام پوری دنیا میں بدنام ہو رہا ہے۔اور ہم بحیثیتِ قوم اپنی شناخت کھو رہے ہیں۔اور حضرتِ اقبال  ؒ   کا  “خودی اور خود شناسی  “کا تصور برباد ہو رہا ہے۔

دوسری “تصویر “پروگرام “شانِ رمضان “کی ہے کہ جو وقت ،خاص دعا کا ہے تو یہ ظاہری عُلمائے کرام “پی “جاتے ہیں ۔ارے یہ  “پیڈمولوی حضرات کی دعا  “قوم کے گناہ معاف کروائے گی ؟کیا ان دعاؤں میں  وہ اثر پیدا ہو پائے گا ؟جو خود بندہ اپنے گناہ کی  ندامت و  ہلاکت کو سمجھ کر رب تعالیٰ سے مانگتا ہے ؟ یہ “میک اپ زدہ “علماء وہ خشوع خضوع  ،روپیہ پیسے سے خرید سکتے ہیں؟ جو خود  رِقت کے وقت دعا میں پیدا ہوتا ہے؟  نہیں نہیں ،ہرگز نہیں اور تو اور میں وسیم بادامی صاحب سے پوچھتا ہو ں کہ وہ کیا پیسہ لئے بغیر یہ پروگرام ہوسٹ کر سکتے ہیں ؟ ہے ان میں اتنی جرت ؟ ہرگز نہیں  ہو سکتی ۔یہ سب ڈھونگ ہے ،یہ سب دھندہ ہے ۔غلباً یہ انتیسویں روزے کی بات ہے کہ ان کے پروگرام میں آذان روک کر ایڈ چلایا گیا ۔اسی پروگرام میں عین دعا کے بعد بے ہودہ بے ہودہ ایڈ چلائے جاتے ہیں۔کیا ان  ایڈز کو افطار کے بعد نہیں دکھایا جا سکتا ہے ؟لیکن انہوں نے چند روپیوں کی خاطر دین کی حمیت کو بیچ دیا ہے۔ اور اِن علماء کا کیا ہو گا  جو سَحَرَی اور اَفطاری میں وہیں بیٹھ کر ان ایڈز کے  بعد اپنی باری کا انتظا ر کرتے ہیں؟ اور جناب ان نعت خوانوں کا کیا ہوگا  ؟ کہ جنہوں نے آقا ﷺ کی تعریف کو کار وبار بنا  لیا ہے ۔میری معلومات کے مطابق مشہور ثناء خواں کروڑ پتی بن چکے ہیں ۔کیا رب  العا لمین نے انہیں اچھی آواز حضورﷺ  کی تعریف فروخت کرنے کیلئے دی تھی ؟  اور اگر ایسا نہیں ہے تو یہ لوگ بلا معاوضہ سرورِ کونین ﷺ کی ثناء خوانی کیوں نہیں کرتے؟  تو وسیم بادامی صاحب اگلی مرتبہ کچھ اچھا سوچئیے گا ۔دیکھیں ؟آپ اچھے اور درد مند انسان ہیں  ۔لیکن آپ اپنی صلاحیتوں کا  درست استعمال نہیں کرپارہے ہیں ۔ آپ دوسرے پروگرامز کی طرف ٹھیک جا رہے ہیں ۔”اِلیوِنتھ آور ” آپ کا قیمتی پروگرام  ہے اور یہ آپ کو زیب دیتا ہے ۔آپ طاغوتی قوتوں کی چال کو سمجھئے ۔اللہ تعالیٰ آپ سے  کام لینا چاہتاہے ۔بس آپ  قدرت کا اشارہ سمجھنے کی کوشش کیجئے ۔ہمیں ان ہی کے درمیان رہ کر ان کا مقابلہ کرنا ہے کہ جیسے حضرتِ اقبال ؒاور حضرتِ قائدِ اعظم ؒ نے کیا تھا ۔

اس ضمن میں دوسری قابلِ ذکر ہستی ڈاکٹر عامر لیاقت صاحب کی ہے ۔ان کی  ڈاکٹر کی ڈگری پر تحفظات ہیں ۔میں یہ نہیں کہتا کہ یہ ان کی ڈگریاں  جعلی ہیں ۔مگر اس پر بہت لے دے ہو چکی ہے ۔جناب کئی ” رُوپ اور ٹیوی چینل ” بدل چکے ہیں ۔پہلے آپ سیاست میں رہے ۔پھر آپ میڈیا میں تشریف لے آئے ۔آپ کی وجہ شہرت “انعا م گھر “نہیں بلکہ ” عالم آن لائن ” ہے ۔اس پروگرام میں آپ نے مختلف مکتبہ فکر کے علماء کو لائیو شو میں جمع کرکے  عوام اور علماء کے سوال جواب کی شکل میں خوب مناظرے کروائے ہیں ۔جس سے آپ کی شہرت اور عوام کے علم میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ اب آپ “عالم کے بول ” میں بھی یہی فریضہ سر انجام دے رہے ہیں ،بلکہ اب تو آپ “عالم آن لائن ” کی  حدود کو بھی پار کر گئے ہیں ۔لیکن میں تو آپ کے “انعام گھر   اور عالم کے بول  ”   پروگرامز پر سیرِ حاصل تبصرہ کروں گا ،جو “بول ٹی وی چینل “کی شہرت کے باعث بن رہے   ہیں ۔  ان پروگرامز میں  آپ نے بڑی آسانی سے مسلمانوں کی عزت کو تار تار کیا ہے ۔ اور قوم کو بہت تھوڑا انعام دلواکر بہت زیادہ بے عزت کیا ہے۔آپ کا “گبر “کی طرح “تکا لگاؤ مسلمانوں” ڈائیلاگ بہت مشہور ہوا ہے ۔ اب آپ “عالم کے بول” پروگرام میں بھی مذہبی منافرت پھیلا رہے ہیں ۔ اس پروگرام میں بھی آپ نے “عالم آن لائن “والی عُلماء کو لڑانے والی بہت سی کارستانیاں دکھائی ہیں ۔آپ  نے ایک  چھپکلی کے مسئلے کو لے کر علماء( جو کہ میرے حساب سے نام نہاد علماء ہیں ) ،کو خوب لڑیا ہے۔ کبھی آپ تراویح کے مسئلے پر پروگرام کرتے ہیں اور کبھی آپ کسی اور عُنوان پر پروگرام کرتے ہیں ۔اس سے جناب نفرتیں بڑھ رہی ہیں کم نہیں ہو رہی ہیں ۔ میرے حساب سے آپ جانے انجانے میں اُن طاقتوں کا آلہ کار بن رہیں ہیں ،جو اسلام اور اسلامی سلطنتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتی ہیں ۔ کیوں جناب عامر صاحب! کیا میں غلط کہہ رہا ہوں ؟ اس میں کوئی شک نہیں  کہ واقعی آپ میں بے پناہ لیاقت ہے ۔خدارا میں آپ سے دین  کی عزت کی خاطراپنے ہاتھ جوڑ کر التجا کرتا ہوں کہ کچھ اسلام کیلئے کر جایئے ۔یہ مال وزر آنی جانی شئے ہے ۔مال کی آپ کے پاس کوئی کمی بھی نہیں ہے ۔اور مجھے ایک بات بتائیے کہ یورپ میں غالباً 360 زبانیں بولی جاتی ہیں ۔تو جناب اتنی قومیتیں رکھنے والا یورپ متحد ہو سکتا ہے ۔تو پھر ایک قرآن ،ایک رسولﷺ کی غلامی کرنے والے اور ایک دین  اسلام کو ماننے والے متحد کیوں نہیں ہو سکتے ؟ ڈاکٹر صاحب صرف شُعُور کی ضرورت ہے ،جو آپ جیسے حضرات قوم کو دے سکتے ہیں ۔

اسی طرح ہمارے ملک کی بڑی بڑی اداکارائیں سارے سال بے حیائی کا ارتکاب کرتی رہتی ہیں اور ماہِ رمضان میں اپنے سروں  پر ڈوپٹے اوڑھ کر نام نہاد علماء کو لے کر بیٹھ جاتی ہیں ۔جن کو نہ  پوری طرح سے دین کی جانکاری ہوتی ہے اور نہ ہی یہ حجاب میں ہوتی ہیں ۔دین کا  درس دینے اور دین سکھانے بیٹھ جاتی ہیں ۔اور ہمارے یہ نام نہاد علماء ان بے پردہ عورتوں سے بے تکلف ہو کر اور ہنس ہنس کر گفت و شنید فرماتے ہیں ۔یہ  کون سی دینی خدمات سر انجام دے رہے ہیں ؟ جناب یہ صرف اپنا پیٹ بھر رہے ہیں ۔اسی طرح مرد آرٹسٹ بھی چند نام نہاد علماء کو لے کر بیٹھ جاتے ہیں ۔اس طرح ماہِ رمضان میں بھولے بھالے مسلمانوں  کو باقاعدہ دین سے دور کرتے ہیں اور لوگ انکے پروگراموں کے چکر میں اپنی جماعت سے نمازیں گنواتے ہیں اور ان کے گھٹیا پروگراموں کو دیکھنے کے چکر میں اپنا قیمتی وقت اور پیسہ بھی  برباد کرتے ہیں ۔یقیناً ان نام نہاد  اینکر پرسنز کو بھاری قیمتیں ادا کی جارہی ہیں ۔آپ صرف فہد مصطفیٰ کی ماہانہ انکم کا اندازہ لگاکر دیکھ لیں ۔

بقیہ چینلز  کی کارگزاری کی اور تفصیلات کی میں ضرورت نہیں سمجھتا!!! صرف اتنا کہہ دینا ضروری سمجھتا ہوں  کہ  یہ میڈیا والے  ،  حکومت کے کرتا دھرتا  اور فوج سب مل کر اگر بہتری کی کوشش کریں تو ملک کے حالات سدھر  سکتے ہیں اور ملک بیرونی سازشوں سے بھی محفوظ رہ سکتاہے ۔اکیلی فوج کو یہ کام مشکل ضرور ہے لیکن نا ممکن نہیں ۔اسی لئے اکیلی فوج ہی تمام محاذ پر دشمنوں سے نبرد آزما ہے۔

لہٰذا میں یہ  بات بہ بانگِ دہل کہ سکتا ہوں کہ رمضان ٹرانسمیشن ایک ڈھکوسلہ ہے ایک سازش ہے ۔یہ کسی تماشے سے کم نہیں اور ہم سب تماشائی بن کر ان کے ہاتھوں  میں  اپنی مرضی سے کھلونا بنے ہوئے ہیں۔اللہ عزوجل ہماری ،پاکستان اور دنیا کے تمام مسلمانوں کی حفاظت کرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آمین و آخر و دعوانا عن الحمدُ للہِ رب العا لمین ۔

رات بہت ہو چکی ہے ۔دل کی بھڑاس بھی نکل چکی ہے ۔لہٰذا اب میں بھی آپ تمام حضرات سے  درج ذیل  قطعہ  پیش کرتے ہوئے اجازت چاہتا ہوں۔

اس دنیا کی دولت کے پیچھے  یو ں مت بھاگو

کہ  ایمان   جائے اور   عزت   بھی  لُٹ  جائے

کام ایسا کر کے جاؤ دنیا  میں کہ رہتی دنیا تک

نام تمہارا! لوگوں  کے دلوں میں  اَمر ہوجائے

سکندرؔ

اسلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ،

احقر ،سید سکندرؔ سجاد۔

مورخہ27 ،جوں 2017

Advertisements

One thought on “رمضان شریف میں ٹی وی چینلز پر رمضان ٹرانسمیشن کا تماشا

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s