اظہارِ خیال حالیہ چیمپئنز ٹرافی منعقدہ انگلستان میں پاکستان بھارت کا فائنل میچ

 

سید سکندر سجاد کے قلم سے۔۔۔۔۔

سید میر تقی میرؔ نے کیا خوب فرمایا تھا  کہ

سارے عالم پہ ہوں میں چھایا ہوا

مستند    ہے   میرا    فرمایا    ہوا

اللہ کرے کہ میرا لکھا ہو ا بھی مستند ہو جائے ۔اس کی گواہی تو میرے معتبر پڑھنے والے ہی دیں گے ۔ہاں تو میں یہ کہہ رہا تھا کہ آج کل کرکٹ کا بہت چرچہ ہے ۔ہر کوئی اپنی اپنی معلومات کے مطابق گفت و شنید میں مصروف ہے ۔وزیرِ اعظم ہوں وزرائے اعلیٰ ہوں فوج کے سربراہان ہوں ،سب کے سب کرکٹ فوبیہ میں مبتلا نظر آتے ہیں اور کیوں نہ ہو ں ؟کہ جب بات آجائے انڈیا اور پاکستان کے میچ کی۔تاریخ گواہ ہے کہ انڈیا    کے عوام  اور انکے ہیروز نے  اس میچ کو ایک جنگی جنون بنا دیا تھا  ۔میں یہ نہیں کہتا کہ پاکستانی بھی کسی طرح ان سے کم ہیں ۔لیکن کم از کم وہ کبھی پہل نہیں کرتے ۔

ہم سب کو یہ بات اچھی طرح معلوم  ہے کہ انڈین میڈیا اپنی  مہم چلانے میں بہت ماہر ہے۔لہٰذا ان لوگوں نے اتنی مہم چلائی کہ اپنے لوگوں کو آسمان کی بلندیوں پر پہنچا دیا اور پاکستانی ٹیم کو گلی محلے کی ایک بچہ ٹیم بنا دیا ۔تو اس انڈین میڈیا کے جھوٹے اور بے ہودہ پروپیگنڈے کی وجہ سے انڈین ہیروز بڑھکیں مارنے لگے اور اپنی اوقات کے پابند دائرے سے باہر نکل گئے۔اور پھر نتیجہ ہم سب کے سامنے ہے۔اس گلی محلے کی ٹیم نے اس ایونٹ میں دنیا کی ہر بڑی ٹیم کو ہرایا وہ بھی بڑے مارجن سے ۔یہ ہماری بحث کا حصہ نہیں ہے سو اس کو پھر کبھی کیلئے اٹھا رکھتے ہیں ۔

 ہاں  تو میں کہہ رہا تھا کہ کرکٹ کےناجائز پاپا ویرندر سہواگ نے نشے میں جو کہ وہ ہر وقت لگتے ہیں ۔اپنی  (بکواس معذرت کے ساتھ میں جذبات کی رو میں بہہ گیا تھا ) پیش گوئی  کا اعلان کرتے ہوئے فرمادیا تھا کہ” پاکستان اور انڈیا کا کوئی جوڑ نہیں ۔کہاں  کرکٹ  کے نادان بچے اور کہاں کرکٹ کے بڑے  پاپا  ۔یہ کوئی مقابلا نہ ہو گا بلکہ پاکستانی ٹیم فادرز ڈے کے دن انڈیا کو یعنی پاپا کو سیلیبریٹ کرے گی” ۔ان کی گئی گزری عقل پر ماتم کرنے کو دل چاہتا ہے۔ لیکن میں اپنا قیمتی وقت ان بے ہودہ سے صاحب پر ضائع نہیں کروں گا ۔انہوں نے جب یہ بڑ ماری تو پھر کیسی منہ کی کھائی  ؟ یہ آپ سب مجھ سے بہتر جانتے ہیں ۔مجھے جتانے کی ضرورت نہیں ۔دنیا کو بڑے واضح طریقے سے معلوم ہوگیا کہ”  با ادب ابا حضور کون ہیں “۔لیکن کیا کریں غیرت نام کی کوئی چیز ان کے پاس ہو تو کچھ کھا پی کر میرا مطلب ہے کہ زہر وہر کھا کر اس دنیا کی جان چھوڑدیں ۔لیکن یہ ایسا نہیں کریں گے کیوں کہ شیطان کا وعدہ تو قیا مت تک کا ہے سو وہ تو یہ پورا ہی کریں گے۔

اب احوال سنیئے انڈین فلم انڈسٹری کے ریٹائرڈ بی کلاس ہیرو رشی کپورے صاحب کا ! نہ جانے شراب کے نشے میں کیا کچھ کہہ  گئے جناب ۔لیکن جب نتیجہ سامنے آیا تو پھر اپنی پٹری بدلی ، لیکن اب کیا ہو سکتا تھا ۔تیر تو داغ دیا تھا ،سو جوابی حملہ تو پاکستانی قوم کی طرف سے بنتا   تھا ۔اس لئے  دلچسب جواب بول ٹی وی کی طرف سے عامر لیا قت نے دیا اور ان کے تمام کپورے انہیں یعنی رشی کپورے صاحب کو بمع خاندان کھلا کر دم لئے۔  اس کے علاوہ اور بھی بہت سارے برساتی مینڈک ہیں جو میچ سے پہلے ٹر ٹر۔۔ ٹر ٹر ۔۔۔ٹر ٹر۔۔۔۔ کر رہے تھے ۔ مگر میچ کے بعد ان کو ان کا ہی کالا ناگ دیوتا ڈس گیا تھا۔  سو وہ تذکرے کے قابل ہی نہیں ۔

اب ذرا میچ کی طرف چلتے ہیں ۔ لیجئے جناب انگلینڈ  میں  انڈیا نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دے کر اپنے نصیب پر پہلا دھپا      مارا ۔پاکستان نےاظہر علی اور  فخر زمان کی اوپنر جوڑی  میدان میں اتاری۔   ہمارے جیالے اوپنرز نے ان کو دھونا شروع کیا جیسے کہ راقم ہٰذا نے اپنے مضمون کے ابتدائی حصے میں بھارتی  بڑ بولوں کو دھویا تھا  ۔”اظہر علی “تو مس انڈر اسٹینڈنگ کی وجہ سے” 70″  رنز بنا کر  “رن  آؤٹ  “ہوگئے ورنہ انڈین ٹیم میں  اتنا حوصلہ کہاں تھا ۔بہر ہال دوسری جانب فخرِ مردان “فخر زمان ” نے انڈین بالرز کی خوب دُرگت بنائی اور اپنی پہلی سینچری داغ دی  ۔اس کاروائی میں وہ شروع میں “بومرا “کی بال پر دھونی کے ہاتھوں کیچ ہوگئے ۔لیکن بھارت کی قسمت کا کیا کریں کہ بومرا  بے چارے نے یہ بال “نو” کر دی اور فخر زمان وکٹ پر دوبارہ واپس آئے۔پھر کیا تھا ان کے بیٹ نے رنز اگلنا شروع کردئے۔انہونے گراؤنڈ کے چاروں طرف  آزادانہ اسٹروک  کھیل کر اپنے باپ ہونے کا بھر پور ثبوت دیا اور اپنی اس اننگ میں “105 ”  گیندوں پر” 114″ قیمتی رنز کا اضافہ کیا ۔

ادھر “اظہر  علی “کے آؤٹ ہونے کے بعد “بابر عظیم “آئے  ۔اس نوجوان کھلاڑی نے بھی انڈین گیندبازوں کی خوب دُرگت بنائی۔کافی دیرتک یہ جوڑی بھی پہلی جوڑی کی طرح کریز پر ڈٹی رہی ۔پھر فخر زمان آؤٹ ہوئے اور” شعیب ملک “آئے شاید “بیگم کی محبت “نے انہیں ذراجلدی جانے پر مجبور کردیا  تھا ۔ وہ  مجبوری میں ایک شاندار چھکا جڑنے کے بعد 12 رنز بناکر پویلین سدھارے اور  نئے خون “عماد وسیم “کو آنے کا موقع دیا  اور انہونے 21 گیندوں پر قیمتی 25 رنز کا اضافہ کیا اور ناٹ آؤٹ رہے ۔اسی اثناء میں “بابر عظیم “اپنا حصہ جوڑکر پویلین سدھارے۔انہوں نے 49 گیندوں پر قیمتی 44 رنز اسکور کئے اور “محمد حفیظ “کو کھل کر کھیلنے کا موقع دیا ۔اور “محمد حفیظ “نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف ” 37  گیندوں پر 57 “رنز کی اننگ کھیلی اور ناٹ آؤٹ رہے ۔اس طرح انڈیا کو   ” 338″ رنز کا پہاڑ جیسا  ہدف ملا  اس اننگ میں 9 چھکے اور 28 چوکے لگے ۔اس اننگ میں “دو ”  ففٹیاں اور  “ایک “سینچری اسکور ہوئی۔ ۔جو انڈیا کے ہاتھ پاؤں پھلا  دینے کیلئے کافی تھی ۔کیوں کہ ماہرین” 280″ رنز  کو “وننگ ہدف “قرار دے چکے تھے ۔ یہ بات سچ بھی ثابت ہوئی کیوں کہ انڈین بڑی تجربہ کا ر ٹیم ! صرف 258  رنز پر اپنا شکست خوردہ منہ لیکر بوریہ بستر سمیٹ چکی تھی۔

محمد عامر کا  پہلا ہی اوور  کامیاب ثابت ہوا ۔   روہت شرما بغیر کھاتا کھولے ہی  محمد عامر کی تیسری گیند پر پویلین سدھار گئے اور قوم کی ڈھیر ساری لعنتیں سمیٹنے میں کامیاب رہے۔شیکھر د ھون  اور ویرات کوہلی کریز پر تھے ۔بیچارے ویرات کوہلی  !!!!محمد عامر کے دوسر ےاوور  کی تیسری گیند پر ایک چانس ملنے کے باوجود اگلی ہی گیند پر  شاداب خان کے ہاتھوں کیچ کا شکار بنے  اور یوں قوم سے ڈھیروں لعنتیں سمیٹیں ۔ہونا بھی یہ چاہیئے کیوں  کہ قو م کپتان سے بہت سی امیدیں وابستہ  رکھتی ہے اور یہ حضرت صرف بڑ بولے ہی ثابت ہوئے اور یوں عظیم بھارتی ٹیم صرف 7 رنز پر اپنی 2 قیمتی وکٹیں عامر کے ہاتھوں گنوا چکی تھی ۔

اس کے بعد شیکھر دھون بھی زیادہ دیر تک وکٹ پر نہ رک پائے ،انہیں کپتان کی جدائی شاید کھل رہی تھی ۔وہ 22 گیندوں پر 21 قیمتی رنز جوڑ کر  پویلین سدھارے۔اس کے بعد دھونی آئے اور چلے گئے ان کا پتا بھی نہ چلا ،اِنہونے 13 گیندوں پر صرف 4 رنز جوڑے اور اپنی  قوم سے کروڑوں (لعنتوں کی شکل میں )  دعائیں پائیں ۔  ان موصوف کو حسن علی نے ٹھکانے لگایا ۔

 چھکے ماسٹر جناب یو راج سنگھ بھی چھکوں کی طرح میدان چھوڑ چکے تھے ،انہونے اس بار 31 گیندوں پر صرف 22 قیمتی رنز جوڑے تھے ،لہٰذا قوم کی ڈھیر ساری دعائیں ان پر بھی بنتی تھیں ، سو دامن بھر بھر کر ملی ہوں گی ۔ اور پھر کیدار یادو بھی  13 گیندوں پر 12 رنز بنا کر انڈیا پر احسان جتا  کر  چلے گئے ۔ یہ جناب شاداب خان کا شکار بنے ۔لیکن انڈیا کے پنڈیہ نے پاکستانی شیروں کو کچھ دیر پریشان کیا ۔لیکن وہ بھی کیا کرتے اور 70 رنز پر اپنے ہی بھائی کی بے وفائی کا شکار بنے ۔”جڈیجا ”نے اس سیٹ  بیٹسمین کو خوب ٹھکانے لگایا ۔اس کو کہتے ہیں کہ راون نے لنکا ڈھادی اور جڈیجا “پنڈیہ” کیلئے “راون” سے کچھ کم نہ تھے۔لیکن میں تو اس کہاوت  سے کام لونگا کہ ”گھر کو آگ لگ  گئی گھر کے چراغ سے”آخر کار انڈیا کو ہر شعبے میں ذلت کا منہ دیکھنا پڑا ۔اور پاکستانی نوجوان کھلاڑی میدان میں کھیل کے ہر شعبے میں چھائے رہے ۔

آخر کار پاکستان نے پورے 19 سال بعد چیمپئنز ٹرافی میں یہ ٹائٹل بھی بھاری مارجن سے اپنے نام کر لیا۔اب آگے کا حال سنا نے کی مطلقاً ضرورت   نہیں کہ وہ سب حال تمام پاکستانیوں کے ساتھ پوری دنیا نے مختلف ٹی وی چینلز ،فیس بک ، ٹیوٹر ، واٹس اپ اور انسٹا گرام پر دیکھ لیا ہوگا۔ رات بہت ہو چکی ہے ۔دل کی بڑاس بھی نکل چکی ہے ۔لہٰذا اب میں بھی آپ تمام حضرات سے  درج ذیل  قطعہ  پیش کرتے ہوئے اجازت چاہتا ہوں۔

مت ایسے بڑے  بول  بولو کہ  ندامت  سے  سر جھک  جائے

اورعزت بھی  پوری قوم کی ! پل بھر میں مٹی میں مل جائے

عمل تمہارا دنیا میں ؛شرافت کا   ایسا  مثالی نمونہ ہو دوستو

کہ  غرور و تکبر کا  تمہارے پاس سے نام و نشان مٹ جائے

سکندرؔ

اسلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ،

احقر ،سید سکندرؔ سجاد۔

مورخہ 25 ،جوں 2017

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s