Notes-Set 3 (Matriculation)

نظريہ پاکستان

فقرات کی تشریح

فقرہ نمبر ۱۔ 

    نظریہ یاکستان کا مقصد پاکستان کوایک اسلام فلاحی مملکت بنانا ہے۔    

حوالہ:

تشریح طلب فقرہ نصاب میں شامل سبق  نظر یہ پاکستان سے  ماخوذ ہے ۔  اس کے مصنف درویش صفت بزرگ جناب  ڈاکٹر غلام مصطفئ خان ہیں۔

مصنف کا مختصر تعارف:

اردو ادب میں ڈاکٹرغلام  مصطفیٰ خان کثیر التصانیف بزرگ تسلیم کئے جاتے ہیں ۔آپ نے ’’ ناگپور یونیورسٹی (بھارت) ‘‘ سے فارسی میں پی ۔ایچ۔ ڈی ،اور اردو میں  ڈی ۔لٹ۔ کی ڈگریاں حاصل کیں۔آپ ساری زندگی شعبہءِ تعلیم سے وابستہ رہے۔اپنے آخری دور میں سندھ یونیورسٹی کے شعبہءِ اردو کے ’’ صدر ‘‘ کی حیثیت سے سبکدوش ہوئے۔

تصانیف:

حالی کا ذہنی ارتقاء۔۔۔۔۔فارسی پر اردو کا اثر۔۔۔۔۔۔علمی نقوش۔۔۔۔۔حضرتِ مجدد الف ثانی ؒ  ۔۔۔۔۔۔اقبال اور قرآن وغیرہ وغیرہ آپ کی مایہ ناز تصانیف ہیں۔

تشریح:

غلام مصطفئ خان اس فقرے میں نظریہ پاکستان کے مقصد کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے مگر اس کا مقصد صرف یہ نہیں تھا کہ ہم ایک جغرافیائی ملک بنائیں بلکہ اس کا مقصد یہ تھا کہ ایسا ملک جو مسلمانوں کے لئے ہو اور جہاں مسلمان آزادی سے اپنے اسلام کے اصولوں کےمطابق زندگی بسر کریں اور یہ مملکت دنیا کی تمام اسلامی ملکوں کے لئے مثالی نمونہ ہو۔

فقرہ نمبر ۲۔  

  یہ وطنی قومیت جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کو تحفظ دینے میں تو باکل نا کام تھا۔

تشریح:

اس فقرے میں مصنف مزید و ضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دنیا میں قومیت کے دو بنیادی نظر یہ مغربی مفکرین کا قائم کردہ جو خاندانی ،نسلی اور قبائلی بنیادوں میں ذراوسعت پیدا کر کے قومیت کی بنیادجغرافیائی حدود پر رکھتے ہیں اور ان کے مطابق قوم وطن سے بنتی ہے یہ وطنی قومیت تباہی اور بربادی کے دہانے پر لاکھڑاکرتی ہے۔ اس میں انسانیت کی بھلائی ممکن ہی نہیں۔ اس نظریہ کے تحت ہندوستان کا رہنے والا ہندوستانی چاہے وہ مسلمان ہو اس نظریے کے تحت مسلمان ایک مجبور اقلیت بن کر رہ گئے تھے۔ اس وطنی قومیت کی وجہ سے جنوبی ایشیا کے مسلمان عدم تحفظ کا شکار ہوگئے تھے۔

فقرہ نمبر ۳۔

مسلمان کی قومیت ایک نظریاتی قومیت ہے جو لا الہ الا اللہ پر قائم ہے۔

تشریح:

ڈاکٹر  غلام مصطفی اس جملے میں مسلمانوں کی نظریاتی قومیت کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مسلمانوں کی قومیت کا دارومدارکلی طور پر کلمہ توحید پر ہے۔ ان میں رنگ  ونسل کا کوئی فرق نہیں۔ امیری ، غریبی کوئی معنی نہیں رکھتی۔علاقائیت کی پابندی نہیں۔ مسلمان کا اللہ ایک ، قرآن ایک اور قبلہ ایک ہے۔ اور اس عقیدے کو ماننے  والے سب ملت اسلامیہ کا حصہ ہیں۔ اس لیے اسے مسلمانوں کی نظریاتی قومیت کہا جاتا ہے۔ جس میں کوئی امتیاز نہیں بلکہ مساوات ہے۔ ہر انسان کے حقوق و فرائض ہیں۔خواہ وہ کمزور ہو یا طاقتور ، اور اسی عقیدے کی روشنی میں اسلامی نظام حیات دائم قائم ہے۔ اس لئے مسلمان نظریاتی قومیت پر یقین رکھتے اور عمل پیرا ہیں۔ وہ مغربی نظریہ کو باکل تسلیم نہیں کر سکتے۔

فقرہ نمبر ۴۔

انہوں نے مسلمانوں کو ان کے  کا روبار  سے محروم کرنے کی کوشش کی اور ملازمتوں پر بھی قابض ہوگئے۔

تشریح:

غلام مصطفئ خان اس فقرے میں ہندووں کی مسلم دشمنی کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بر صغیر پاک وہند کی قوموں نے مل کر ایک جماعت کا نگریس کے نام سے تشکیل دی جس کا مقصد انگریزوں سے ملک کو آزاد کرانا تھا مگر مسلمان کو جلد ہی اس بات کا اندازہ ہوگیا کہ یہ جماعت صرف ہندووں کی فلاح و بہبود چاہتی ہے۔مسلمانوں کے مفادات سے اسے کوئی غرض نہیں کیونکہ کا نگریس نےاپنی دشمنی کی بنیاد پر مسلمانوں کو ملازمتوں سے بر طرف کرنا شروع کردیا۔ان کی جائیدادیں اور املاکیں ضبط کرلیں۔ سرکاری ملازمتوں سے بھی بے دخل کردیا تا کہ مسلمان مفلوک الحالی اور بے بسی ، تباہی و بربادی کا شکار ہوجائیں۔ اعلی عہدے اور سرکاری عہدے خود سنبھالے تا کہ مسلمان ذلت و رسوائی سے زندگی گزارنے پر مجبور ہوجائیں۔

اقتباسات کی تشریح

اقتباس نمبر ۱۔

مسلمانوں نے ہمیشہ رواداری کو اپنا شیوہ بنایا ہے لیکن جب کفروالحاد اپنا غلبہ حاصل کرنا چاہتا ہے تو مسلمان اس کے مقابلے کے لیے ڈٹ کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ بادشاہ اکبر کی بے جا رواداری اور ملکی سیاست میں ہندووں کے عمل دخل کی وجہ سے ملک میں کافرانہ طور طریقے اس قدد رائج ہوگئے تھےکہ مسلمانوں کی آزادی خود ان کے دینی معاملات میں بھی ختم ہوگئی تھی۔ چناں چہ اکبر کے آخری دور میں اسلام کی سربلندی کے لیے حضرت مجدد الف ثانی کھڑے ہوئے۔ آپ نے جہانگیر کے زمانے میں محض دین کی خاطر قیدوبند کی سختیاں جھیلیں اور اسلامی قدروں کو نئے سرے سے فروغ دیا۔

حوالہ:

تشریح طلب فقرہ نصاب میں شامل سبق  نظر یہ پاکستان سے  ماخوذ ہے ۔  اس کے مصنف درویش صفت بزرگ جناب  ڈاکٹر غلام مصطفئ خان ہیں۔

مصنف کا مختصر تعارف:

اردو ادب میں ڈاکٹرغلام  مصطفیٰ خان کثیر التصانیف بزرگ تسلیم کئے جاتے ہیں ۔آپ نے ’’ ناگپور یونیورسٹی (بھارت) ‘‘ سے فارسی میں پی ۔ایچ۔ ڈی ،اور اردو میں  ڈی ۔لٹ۔ کی ڈگریاں حاصل کیں۔آپ ساری زندگی شعبہءِ تعلیم سے وابستہ رہے۔اپنے آخری دور میں سندھ یونیورسٹی کے شعبہءِ اردو کے ’’ صدر ‘‘ کی حیثیت سے سبکدوش ہوئے۔

تصانیف:

حالی کا ذہنی ارتقاء۔۔۔۔۔فارسی پر اردو کا اثر۔۔۔۔۔۔علمی نقوش۔۔۔۔۔حضرتِ مجدد الف ثانی ؒ  ۔۔۔۔۔۔اقبال اور قرآن وغیرہ وغیرہ آپ کی مایہ ناز تصانیف ہیں۔

تشریح:

اس فن پارے میں مصنف نظریہ پاکستان کے پس منظر کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ پس منظر ہمارے ملک کی نئی نسلوں کو معلوم ہونا چاہتے۔ اس بنیادی ضرورت کو پیش نظر رکھ کر انہوں نے مسلمانوں کی قومیت کو تفصیل سے بیان کیا بلکہ یہ بھی باور کرایا کہ پاکستان کیوں ضروری تھا ؟ اس پیرایہ میں وہ کہتے ہیں کہ مسلمان ہمیشہ سے اسلامی اصولوں پر کاربند رہے۔ انہوں نے ہمیشہ دوسری قوموں کے ساتھ بہتر اور عمدہ تعلقات استوار کرنے کی کوشش کی۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ رواداری اور حسن سلوک کو پیش نظررکھا جائے۔ جب کبھی غیر مسلم قوموں نے مسلمانوں پر غالب آنا چاہا انہوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔

شہنشاہ اکبر نے اپنے دور حکومت میں ہندووں کے ساتھ بے جا حسن سلوک اور رواداری برتی جس کے نتیجے میں ہندوانہ رسم و رواج مذہب میں داخل ہونے لگے اور اس حدتک مسلمان اپنے مذہبی معمولات میں بھی پابند ہونے لگے ان کی آزادی ختم ہونے لگی ، اس صورت حال کے پیش آخر کار حضرت شیخ احمد سرہندی فاروقی جن کا لقب حضرت مجددالف ثانی مشہور ہے اسلامی و قار کے تحفظ کے لیے کھڑے ہوئے۔ اسلامی طور طریقوں کو فروغ دینے کے لیے انہیں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں تک کہ گوالیارمیں انہیں قلعے میں قید کردیا۔ مگر انہوں نے ان تکالیف اور مشکلات کی کوئی پروانہ کیاانہیں رہائی اور کامیابی حاصل ہوئی اور ہندووں کونا  پڑا۔اکبر کے یہ طریقے جہانگیر کے دورحکومت میں کسی حدتک کم ہوگئے۔

اقتباس نمبر ۲۔

یہاں یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ دنیا میں قومیت کی تشکیل کی دو بنیادیں ہیں۔ ایک وہ جو مغربی مفکرین نے قائم کی ہے۔ دوسری وہ جو رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلّم کی قائم کی ہوئی ہے۔ اہل مغرب نے خاندانی ، نسلی اور قبائلی بنیادوں میں ذرا وسعت پیدا کرکے قومیت کی بنیادیں جغرافیائی حدود پر استوارکیں اور کہا کہ قوم وطن سے بنتی ہے۔ اس نظریے کی وجہ سے دنیا کے انسانوں کے درمیان تباہی کا جو دروازہ کھلا وہ دو عالمی جنگوں کے ہونے سے  بخوبی ظاہر ہے۔ یہ وطنی قومیت ہی کی بنیاد پر لڑی گئی تھیں اور یہ وطنی قومیت جنوبی ایشیا کےمسلمانوں کو تحفظ دینے میں تو بالکل ہی ناکام تھی کیوں کہ جنوبی ایشیا کے مسلمان اس نظریے کے تحت ایک مجبور اقلیت بن جاتے۔

تشریح:

مصنف اس فن پارے میں نظریہ پاکستان کی مزید و ضاحت کرتے ہوئے کہتےہیں کہ ہمیں اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین کرنا چاہیے کہ تمام ممالک سیاسی قومیت اور جغرافیائی حدوں کی بنیاد پر بنائے گئے ہیں جو کہ مغربی نظریہ ہے۔ مگرپاکستان مشرقی اور اسلامی نظریہ کی بنیاد پر بنا۔ اس لیے یہ مغربیت  سے جدا ہے۔ مغربی نظریہ کی بنیاد خاندان، نسل ، قبائلی ، زبان اور جغرافیائی حدود پر قائم ہے۔جیسے ہندوستان کا رہنے والا ہندوستانی ، جرمن کا جرمنی ، برطانوی ، انگریز، امریکی انگریز وغیرہ اس نظریہ ایک ملک اپنے مفاد کی خاطر دوسرے ملک کا دشمن بن جاتا ہے اور جنگیں ہوتی ہیں۔ موجودہ  جنگیں اس بات کا واضح ثبوت ہیں۔ وطن اور نظام کے لحاظ سے جنوبی ایشیاکے مسلمان اس نظام حکومت کو نہیں اپنا سکتے۔ اگر وہ ہندوستان  میں رہنے کی بناء پر ہندوستانی بن جاتے تو ہندو قوم اکثریت کے زور پر ہر وہ قدم اٹھاتی جو مسلمانوں کےخلاف ہوتا اور اس طرح مسلمان بے بس اور مجبور قوم بن جاتے۔ ان کا جیتا دو بھر ہو جاتا۔ زندگی کا دائرہ تنگ ہوجاتا۔ انہیں اقلیت قرار دے دیا جاتا۔ ان کی مذہبی آذادی ختم کردی جاتی ۔ عالمگیرجنگوں کی بنیاد یہی نظریہ ہے۔ اس کے برعکس مسلمانوں کا نظریہ قومیت جس کی بنیاد حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلّم کی قائم کردہ ہے۔ اس نظریہ کے تحت مذہب، عقیدے اور توحید پر ایمان رکھنے والے ملت اسلامیہ کہلاتے ہیں اور پاکستان اسی نظریہ کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے۔ اس لیے مسلمان ایک قوم ہیں۔ خواہ وہ کسی بھی ملک کے رہنے والے ہوں۔

اقتباس نمبر ۳۔

مسلمان کی قومیت ایک نظریاتی قومیت ہے جو لا الا الا اللہ پر قائم ہے، یعنی یہ کہ نسل، رنگ اور وطن کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک نظریے، ایک عقیدے، ایک کلمے کی بنیادپر وجود میں آئی ہے اور اس نظریاتی پہلو کو نمایاں کرنے کے لیے اسے ملت کہا گیا ہے۔ ایسی نظریاتی قومیت میں ہر نسل، ہر رنگ اور جغرافیائی خطے کے لوگوں کے لیے جگہ ہوتی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ جنوبی ایشیا کے مسلمان جن میں ہر نسل، ہر رنگ اور مختلف جغرافیائی خطوں کے لوگ شامل تھے۔ ان کو ایک ایسی قوم کے ماتحت اقلیت بن کر رہنا منظور نہ تھا جو اسلامی قومیت کے برعکس ذات پات۔ چھوت چھات اور بت پرستی کے بندھنوں میں جگڑی ہوئی تھی۔

سیاق و سباق اور حوالہ مصنف نثر پارہ نمبر ۱سے اخذ کریں۔

تشریح:

مصنف اس فن پارےمیں مسلمانوں  کی قومیت اور مغربی قومیت کے نظریہ کا جائرہ پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مسلمانوں کی قومیت اور مغربی نظریہ ایک دوسرے کے برعکس ہیں ۔ مسلمانوں کی قومیت اور نظریہ کے تحت پاکستان وجود میں آیا۔ جس کی بنیاد کلمہ توحید پر ہے۔ اس نظریہ کے تحت رنگ و نسل ، زبان اور وطن کی کوئی حیثیت نہیں بلکہ جو کلمہ توحید پر یقین رکھتا ہے وہ مسلمان ہے۔خواہ کسی بھی خاندان سے تعلق رکھتا ہویا کسی بھی نسل کاہو کسی بھی ملک یا وطن کا رہنے والا ہو ۔ وہ مسلمان ہے اور مسلمان ایک قوم ہیں۔ دنیا بھر میں مسلمان خواہ کسی بھی خطے میں رہتے ہوں یا گورے، بس مسلمان ہیں۔ ملت اسلامیہ کا ہر فرد ایک ہے۔ ان  کا خدا ایک قرآن ایک قبلہ ایک ، اگر کسی بھی ملک پر مسلمانوں پر کوئی پریشانی اور مشکل آتی ہے تو سب ایک ہوجاتے ہیں ۔ دوسرے ممالک میں رہنے والے مسلمانوں کو یہی اسلامی نظریہ ان کو با عزت مقام دلا سکتاہے۔ورنہ وہ غیر مسلم اکثریت  کے غلام بن کر رہ جاتے۔ ہمارے ملک میں مختلف قومیں آباد ہیں۔ ہندودھرم جس نے اپنے ہی لوگوں کو چار ٹکڑوں میں بانٹ دیا ہے۔ اور چھوت چھات کے قائل ہیں۔ یہ لوگ خود مختلف ذاتوں کے ہیں اور آپس میں میل جول کے قائل نہیں۔ تو وہ مسلمانوں کا ساتھ کیسے قبول کر سکتے ہیں۔ عیسائی اور یہودی بھی یکسانیت کے قائل نہیں۔تو وہ مسلمانوں کا ساتھ کیسے قبول کر سکتے ہیں۔ عیسائی اور یہودی بھی یکسانیت کے قائل نہیں مگر صرف اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس میں ملت واحد کا تصور موجود ہے اور عقیدےکی بنیاد پر سب ایک ہیں۔

اقتباس  نمبر ۴۔

 پاکستان قائم کرنے کا فیصلہ ہندوؤں کو بہت ناگوار گذرا۔ انھوں نے پوری کوشش کی کہ یہ مملکت قائم نہ ہونے پائے ۔ ان کے پاس دولت اور طاقت تھی۔ جنوبی ایشیا میں ان کی اکثریت تھی لیکن چوں کہ قیام پاکستان کا مطالبہ حق اور انصاف پر مبنی تھا اس لیے حکومت برطانیہ کو مجبور ہونا پڑا اور اتحاد اور عمل پیہم کی وجہ سے ۱۴اگست سنہ ۱۹۴۷ء کو پاکستان معرض وجود میں آگیا۔

تشریح:

اس فن پارے میں مصنف پاکستان کے وجود میں آنے کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان بنانے  کے لیے ۲۳ مارچ ۱۹۴۰ء کو لاہور میں ایک قرارداد پیش کی گئی اس سے قبل چوہدری رحمت علی نے نام پاکستان تجویز کر کے اپنے پمفلٹ جس کا اجراء ۱۹۳۳ء میں کر چکے تھے۔ ہندوؤں کو پاکستان کے نام سے بننے والا ایک الگ وطن کسی طور پر گوارانہ تھا ۔ اس لیے انہوں نے اپنےاخبارات میں خوب مذاق اڑایا اور قرار داد لاہور کو پاکستان ہی کہا۔ اس سلسلہ میں ہندوؤں نے مسلمانوں پر بڑا ظلم و تشدد کیا۔ ہر صورت روکنے کی کوشش کی مسلمانوں کو اپنی جماعت کانگریس میں شامل کرنے کے سبز باغ دکھائے۔ بے دریغ دولت خرچ کی۔ پاکستان کو ایک خواب کہا کہ یہ کبھی پورانہ ہوسکے گا۔ مگر مسلمانوں کا یہ مطالبہ حق و انصاب پر بنی تھا کیونکہ مسلمان ایک پلیٹ فارم پر جمع تھے اور قائداعظم کی رہنمائی حاصل تھی ۔ اس لیے اس خواب کو ہر حال میں ایک حقیقت بننا اور بنانا تھا۔ ہندوؤں کی دولت اور طاقت حق و انصاف  اور اتحاد کے سامنے بے کارثابت ہوئی اور مسلمانوں کو اپنے یقین کامل اتحاد اور مسلسل جدوجہد کرتے رہنے کی وجہ سے کامیابی ہوئی اور آخرکار ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو پاکستان ایک حقیقت کے روپے میں دنیا کے نقشے پر ابھرا۔

اقتباس نمبر ۵۔

 پاکستان نے اپنے قیام سے اب تک بڑی ترقی کی ہے اور اس  کا شمار  دنیا کے اہم ملکوں میں ہوتا ہے ۔ اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان اور زیادہ ترقی کرے اور ہمیشہ ترقی کرے تو ہمیں نظریٔہ پاکستان کو ہر وقت پیش نظر رکھنا پڑے گا۔ اس کی بدولت ہم پاکستان کو زیادہ مستحکم اور شاندار بنا سکتے ہیں۔

تشریح:

مصنف اس فن پارے میں پاکستان کے قیام کے بعد آنے والے حالات کا ذکر کرتے ہوئے ہیں کہ ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو پاکستان وجود میں آیا ۔ اس کے بعد پاکستان کو مشکل ترین حالات کا سامنا تھامگر پاکستان نے بڑی تیزرفتاری سے ترقی کی منازل طے کیں جبکہ مخالفین ہی کہتے رہے کہ پاکستان کی سر زمین میں ایسا کچھ نہیں ہے اور ملک کوئی ترقی نہیں کررہا۔ وہ ہمیشہ اس نوزائیدہ ملک کا مقابلہ دوسرے ترقی یافتہ  ممالک سے کرتے رہتے ہیں جبکہ ہمارے ملک نے ترقی کی اور بڑی طاقتوں سے مقابلہ بھی کیا جو ہم سے کئی گنا زیادہ ترقی یافتہ ہیں۔پاکستان نے اس عرصہ میں زراعت ، صنعت ، تعلیمی اور تجارتی لحاظ سے حیرت انگیز ترقی کی ۔ حالانکہ چین واحد ملک ہے جو قیام پاکستان کے ایک سال بعدبنا اور ترقی میں اتنا آگے ہے کہ سپر طاقتیں بھی آبادی اور وسائل کے اعتبار سے اس کا مقابلہ نہیں کر سکیں مگر حقیقت تو یہ ہے کہ اگر ہم اب بھی اپنے اسلامی اصولوں پر کار بند رہیں اور دیانت داری سے اپنے فرائض انجام دیں تو بہت جلد ہم سپر پاور جیسے ممالک سے بھی آگے جاسکتے ہیں کیونکہ اللہ تعا لیٰ نے پاکستان کو بڑی دولت سے نوازا ہے۔

اقتباس  نمبر ۶۔

نظریٔہ پاکستان کا مقصد پاکستان کو ایک اسلامی اور فلاحی مملکت بنانا ہے۔ ہمیں ایسا کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہتے  جس کی وجہ سے خدا اور اس کے رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم کے سامنے شرمندہ ہونا پڑے۔ ہمارا جینا اور مرنا پاکستان کے لیے ہو نا چاہتے ۔ قومی مفاد کے سامنے ذاتی مفاد کو دل سے نکال دینا چاہتے۔ہر قسم کی گروہ بندی سے بالاتر ہو کر تمام پاکستانیوں  کی فلاح و بہبود کی کوشش کرنا نظریٔہ پاکستان کو پیش نظر رکھا اور اپنی سیرت اور کردار کو اس کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی تو دنیا کی دوسری قوموں  میں بھی ہمیں امتیاز حاصل ہوگا اور ہم اسلامی اصولوں کی روشنی میں روشنی میں پاکستان کو توانا، مستحکم ، شاندار اور عظمت بنانے میں پوری طرح کامیاب ہوں گے۔

تشریح:

مصنف اس نثر پارے میں نظریہ پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد کے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان کے حال اور مستقبل کا انحصار نظریٔہ پاکستان پر  ہی بنی ہے ۔ ہمیں اپنے ملک کو ایسی اسلامی اور فلاحی ریاست بنانا ہے جو نہ صرف دوسرے ممالک کے لیے مثال ہو بلکہ ہر مسلمان کے لیے ترقی کے راستے مناسب ، موزوں اور یکساں ہوں۔ مسلمان  قرآن وسنت کے مطابق زندگی گزادیں ۔ اپنے وطن سے محبت کریں ، ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو پیش نظر رکھیں ۔ کسی  بھی طرح کی قربانی دینے سے دریغ نہ کریں۔ سارے گروہ اور علاقوں کی بنیادوں پر الگ الگ ہیں مل کر ایک ملت  اسلامیہ بن جائیں تو بہت جلد اپنی نہ صرف کھوئی ہوئی عظمت کو دوبارہ حاصل کرلیں گے بلکہ پوری دنیا میں سرخرو ہو کر زندگی گزاریں گے ۔ ہمیں اپنے اخلاق اور اعمال کو اسلامی طریقوں پر چل کر مثالی بنانا ہے اب ضرورت ہے کہ ہم خود کو سنبھالیں ، اسلامی تعلیم پر عمل کریں ، تب ہی پاکستان مضبوط اور شاندار ہوسکے گا۔

٭٭٭

سچی ہمدردی

فقرات کی تشریح

فقرہ نمبر ۱۔

برسوں کا نانواں اور روح کی ٹال مٹول۔

حوالہ:

تشریح طلب فقرہ نصاب میں شامل سبق ’’ سچی ہمدردی‘‘ سےلیا گیا  ہے جو  کہ ’’ تو بتہ النصوح  ‘‘سے ماخوذ ہے جس کے مصنف  پہلے ناول نگار  شمس العلماء ڈپٹی نذیر احمد  دہلوی ہیں ۔

مصنف کا مختصر تعارف:

ڈپٹی نذیر احمد دہلوی سر سید کی کہکشاں کے سب سے روشن اور نمایاں ستارے ہیں۔عناصرِ خمسہ میں شامل اس شخصیت کو            ۱۸۸۷؁ میں سرکارِ برطانیہ نے ’’ شمس العلماء ‘‘ کے خطاب سے نوازا۔ایڈنبرا یونیورسٹی نے آپ کو  ’’ڈی ۔او۔ایل۔‘‘ کی اعزازی ڈگری سے نوازا۔ آپ کا اسلوبِ بیان  عالمانہ ، واعظانہ،ناصحانہ اور ادیبانہ ہے۔ شاہد احمد دہلوی  رقم طراز ہیں کہ ’’آپ اپنی تحریر میں محاورات کے روڑے نہیں بلکہ پہاڑ کھڑے کر دیتے ہیں۔ ‘‘

تصانیف:

مراۃ العروس۔۔۔۔۔ ایامیٰ۔۔۔۔۔ ابن الوقت۔۔۔۔۔ فسانہءِ مبتلا۔۔۔۔۔ توبۃالنصوح۔۔۔۔۔۔رویائے صادقہ۔۔۔۔۔۔امہات الامہ۔۔۔۔۔تعزیراتِ ہند  آپ کی مایہ ناز تصانیف ہیں۔

پس منظر:

کہانی سچی ہمدردی کا ایک کردار خان صاحب کا ہے جو ایک غریب گھرانے کے سربراہ ہیں۔ اپنی کسی اشد ضرورت کی وجہ سے بنیے سے قرضہ لیا جو وقت پرادانہ کر سکے جس کی وصولی کے لیے بنیے نے ڈگری کرادی ۔ اہل محلّہ نے بنیے اور عدالت کے لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی جس کے جواب میں بنیے نے یہ جملہ اداکیا۔

تشریح:

اس فقرے میں بنیے نے نہایت غصہ میں لوگوں کے سمجھانے پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ خان صاحب نے ایک طویل مدت سے یعنی کئی سالوں سے مجھ سے ادھار لے رکھا ہے اور دینے کے وقت بہانے بنا رہے ہیں۔ یہ کوئی ایک دن کی بات تھوڑی ہے۔ اب میں صبر نہیں کرسکتا۔ مجھے تو اپنی رقم  چاہیے۔

فقرہ نمبر ۲۔

مگر میں کیا کروں اس وقت بالکل تہی دست ہوں۔

تشریح:

بنیے نے رقم نہ ملنے پر خان صاحب پر ڈگری کروادی اور وہ سرکاری پیادوں سمیت خان صاحب کے گھر پر آکر شور مچانے لگا جس سے اور لوگ بھی جمع ہوگئے ۔ خان صاحب بنیے کو بہت سمجھانے لگے۔ اس وقت انہوں نے کہا کہ میں مانتا ہوں کہ میں  نے تم سے قرض لیا ہے اور یہ قرض میں ضرور ادا کروں گا مگر میں مجبور اور لاچار ہوں۔ اس وقت بے بسی اور مفلسی کا شکار ہوں۔ میرے پاس تمہیں دینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ میں خالی ہاتھ ہوں۔ مزید  یہ کہ میں بے روزگار ہوں۔ لہذا میں تمہارا قرضہ کیسے ادا کروں ۔ مجھے کچھ اور مہلت دے دو میں تمہارا قرضہ ادا کرنے سے منکر نہیں ہوں۔

فقرہ نمبر ۳۔

 وہ لڑکی اس حسرت سے روئی کہ مجھ سے ضبط نہ ہو سکا۔

تشریح:

بنیے  نے قرضہ ادانہ کرنے کی صورت میں ڈگری کرادی تو وصول یا بی کے لیے سرکاری پیادوں کے ساتھ آکر تذلیل کرنے لگا ۔ تو خان صاحب نے گھر کا کل اثاثہ اس کے حوالے کر دیا جب بھی رقم پوری نہ ہوئی تو انہوں نے اپنی چھوٹی بیٹی کے کانوں سے چاندی کی کانوں سے چاندی کی بالیاں اتاریں۔ بچی  چھوٹی تھی ، بالیاں اتارنے پر مچلنے اور رونے لگی۔ اس کا رونا دیکھنے والوں کو بھی اشک بار کرنے لگا۔ علیم بھی یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ اس سے بھی برداشت نہ ہوا کیونکہ وہ بچی اس کی چھوٹی بہن حمیدہ کی ہم عمر تھی۔ علیم سے ضبط نہ ہوا کہ بچی کی بالیاں اتاری جائیں۔ اس لیے اس نے اس خاندان کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔

فقرہ نمبر ۴۔

روپیہ خرچ کرکے مجھ کو عمر بھر ایسی خوشی نہیں ہوئی جتنی اس دن ہوئی۔

تشریح:

اس فقرے میں مصنف علیم کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ جب علیم نے اس خاندان کی مدد کی اور بنیاد اپنا قرضہ و صول کرکے رخصت ہوگیا تو خان صاحب کی بیوی اور بچے علیم کے بے حد شکر گزار ہوئے۔ یہ دیکھ کر علیم کو جو روحانی خوشی ہورہی تھی اس کا الفاظ میں ذکر کرنا ممکن نہیں۔ اتنی خوشی تو اور نیک کام کر کے اس سے کہیں زیادہ روپیہ خرچ کر کے علیم نے کبھی محسوس نہ کی تھی۔ یہ خوشی اسی وقت محسوس ہوتی ہے جب انسان خلوص دل سے انجانے لوگوں کے لیے کچھ کرتا ہے اور وہ ایک بڑی مشکل سے نجات پاکر بڑی عزت و شکر گزاری کی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ جس کا صلہ نیکی کرنے والا نہیں چاہتا۔

فقرہ نمبر ۵۔

اس نے جو اتنی احسان مندی ظاہر کی تو میں الٹا اسی کا ممنون ہوا۔

تشریح:

علیم نے جب مظلوم خاندان کو بنیے سے نجات دلادی تو دونوں میاں بیوی شکر گزار ہوئے اور احسان مند ہوئے ۔ علیم ان کو اتنا احسان مند  ہوتے دیکھ کر خود بہت شکر گزار ہو رہا تھا۔پہلے تو وہ سمجھ رہے تھے کہ یہ رقم جو علیم نے ادا کی ہے ہمیں واپس کرنی ہے مگر جب انہیں اس بات کا پتہ چلا کہ یہ رقم واجب الادانہیں ہے تو وہ اور بھی زیادہ خوش ہوئے ۔ بہت دعائیں دے رہے تھے۔ اتنا زیادہ احسان مند دیکھ کر  علیم بھی بہت احسان مند ہوا اور وہ بھی اس لوگوں کا شکریہ اسا کرنے لگا اور ممنون ہوا۔ خان صاحب کی بیوی نے علیم کو ہزاروں دعائیں دیں۔ اتنی عاجزی اور انکسای دیکھ کر علیم بہت ممنون ہوا۔

فقرہ نمبر ۶۔

 ہمارے حق میں تو یہ لڑکا کیا ہے ’ رحمت کا فرشتہ ہے۔

تشریح:

ہمدردی اور دوسروں کی مدد کا جذبہ ہر انسان میں ہوتا ہے کیونکہ انسان کی تخلیق کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے۔ علیم نےبھی اسی بنیادی مقصد کو پیش نظر رکھ کر اس خاندان کی بے لوث مدد کی ۔ قرضہ ادا کر کے بنیے سے نجات دلانے پر خان صاحب اور ان کی بیوی بہت شکرگزار اور احسان مند ہوئے۔یہ جملہ خان صاحب کی بیوی نے اس وقت ادا جب انہیں  پتہ چلا کہ علیم نے یہ رقم واپس لینے کی خاطر بھی نہیں دی ہے۔ خان صاحب کی بیوی نے علیم کی ہمدردی ’ خلوص و محبت کا احساس کرتے ہوئے کہا کہ یہ لڑکا کیا ہے ’ اللہ تعا لیٰ کی طرف سے بھیجا ہوا ہمارےلیے فرشتہ ہے کہ بروقت مدد کرکے اس نے ہماری عزت بھی بچالی اور اب رقم بھی واپس نہیں لی ۔ اس سے زیادہ بڑھ کر نیک اور عمدہ عمل اور کیا ہوسکتا ہے۔ یہ انسانی شکل میں فرشتہ ہی ہوسکتا ہے۔ اس لیے اس کی بیوی نے علیم کو ڈھیروں دعائیں دیں۔ وہ اس طرح واری جارہی تھی کہ بس نہیں چلتا تھا کہ کہاں بٹھائے اور کہاں اٹھائے ۔ یعنی وہ علیم کی بے حد عزت کر رہی تھی اور احسان مند نظروں سے دیکھ رہی تھی۔

فقرہ نمبر ۷۔

جیسے خوش دل اور شکر گزار رعایا میں کوئی بادشاہ یا حلقہ مریدان ارادتمند میں کوئی پیر و مرشد۔

تشریح:

علیم نے جب خان صاحب کے مظلوم خاندان کو بنیے کے ہاتھوں بے عزت ہوتے دیکھا تو اس نے خان صاحب کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنی قیمتی ٹوپی فروخت کرکے قرضہ ادا کر دیا۔ علیم کے اس ہمدردانہ اقدام کے بعد خان صاحب کا پورا گھرانہ علیم کا انتہائی مشکور تھا اور علیم ان کے درمیان ایسی عزت اور محبت سے بیٹھا تھا جیسے وہ کوئی رحم دل بادشاہ ہو۔ جس کی رعایا اس سے انتہائی خوش ہویا پھر وہ کوئی پیرومرشد ہو جس کے عقیدت مندا سے گھیرے بیٹھے ہوں۔ ان کا یہ رویہ دراصل ان کی  احسان مندی ظاہر کررہا تھا۔ وہ سب علیم کے بہت زیادہ احسان مند اور شکر گزار تھے۔

اقتباسات کی تشریح

اقتباس  نمبر ۱۔

 وہ شخص جس پر ڈگری چاری تھی غریب تو تھا لیکن  غیرت مند بھی تھا۔ بنیے نے جو عزت اتروانے کا نام لیا سرخ ہوگیا اور گھر میں گھس تلوار میاں سے نکال ، چاہتا تھا کہ بنیے کا سر الگ کر دے کہ اس کی بیوی اس کے پیروں میں لپٹ گئی اور رو کر کہنے لگی : ‘خدا کے لیے کیا غضب کرتے ہو ! یہی تمہارا غصّہ ہے تو پہلے مجھ پر اور بچوّں پر ہاتھ صاف کرو۔ کیوں کہ تمھارے بعد ہمارا تو کہیں بھی ٹھکانہ نہیں’۔

حوالہ:

تشریح طلب فقرہ نصاب میں شامل سبق ’’ سچی ہمدردی‘‘ سےلیا گیا  ہے جو  کہ ’’ تو بتہ النصوح  ‘‘سے ماخوذ ہے جس کے مصنف  پہلے ناول نگار  شمس العلماء ڈپٹی نذیر احمد  دہلوی ہیں ۔

مصنف کا مختصر تعارف:

ڈپٹی نذیر احمد دہلوی سر سید کی کہکشاں کے سب سے روشن اور نمایاں ستارے ہیں۔عناصرِ خمسہ میں شامل اس شخصیت کو            ۱۸۸۷؁ میں سرکارِ برطانیہ نے ’’ شمس العلماء ‘‘ کے خطاب سے نوازا۔ایڈنبرا یونیورسٹی نے آپ کو  ’’ڈی ۔او۔ایل۔‘‘ کی اعزازی ڈگری سے نوازا۔ آپ کا اسلوبِ بیان  عالمانہ ، واعظانہ،ناصحانہ اور ادیبانہ ہے۔ شاہد احمد دہلوی  رقم طراز ہیں کہ ’’آپ اپنی تحریر میں محاورات کے روڑے نہیں بلکہ پہاڑ کھڑے کر دیتے ہیں۔ ‘‘

تصانیف:

مراۃ العروس۔۔۔۔۔ ایامیٰ۔۔۔۔۔ ابن الوقت۔۔۔۔۔ فسانہءِ مبتلا۔۔۔۔۔ توبۃالنصوح۔۔۔۔۔۔رویائے صادقہ۔۔۔۔۔۔امہات الامہ۔۔۔۔۔تعزیراتِ ہند  آپ کی مایہ ناز تصانیف ہیں۔

پس منظر:

کہانی سچی ہمدردی کا ایک کردار خان صاحب کا ہے جو ایک غریب گھرانے کے سربراہ ہیں۔ اپنی کسی اشد ضرورت کی وجہ سے بنیے سے قرضہ لیا جو وقت پرادانہ کر سکے جس کی وصولی کے لیے بنیے نے ڈگری کرادی ۔ اہل محلّہ نے بنیے اور عدالت کے لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی جس کے جواب میں بنیے نے یہ جملہ اداکیا۔

تشریح:

ڈپٹی نذیر احمد اس فن پارے میں سچی ہمدردی کے جذبے کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ جذبہ ہر انسان میں موجود ہوتا ہےاور  انسان کی تخلیق کا بنیادی مقصد ہے۔ اس حصہ میں خان صاحب جو ایک انتہائی غریب گھرانے کے سربراہ تھے انہوں نے ضرورت کے تحت ایک بنیے سے قرضہ لیا تھا مگر وہ بر وقت ادانہ کرسکے ۔ پھر ان کی نوکری بھی چھوٹ گئی جس کی وجہ سے وہ اور زیادہ پریشان اور مفلوک الحالی کا شکار  ہوگیا تھا۔ بنیے نے اپنا قرضہ نہ ملنے کی صورت میں سرکاری حکم کے مطابق ان کا سامان ضبط کر لیا۔ ادھر خان صاحب غریب ہونے کے ساتھ ساتھ عزت دار بھی تھے ۔ بنیے نے جو عزت اتروانے یعنی ذلیل کرنے کی بات کی تو خان صاحب کو شدید غصہ آیا۔ وہ غصہ میں سرخ ہوگئے۔ گھر میں جا کر تلوار نکالی مگر ان کی بیوی پیروں میں لپٹ گئی اور روکر کہنے لگی۔ خدا کے لیے ایسا غضب نہ کرو کیونکہ اس دنیا تمہارے سوا میرا اور بچوں کا کوئی نہیں ہے۔ یہ  بچے یتیم ہوجائیں گے۔ اس سے پہلے تم مجھے اور بچوں کو ختم کر دو کیونکہ تمہارے بعد ہمارا کوئی نہیں اور نہ ہی کوئی ٹھکانا ہے۔

اقتباس نمبر ۲۔

 بلا سے جو چیزیں گھر میں ہے اس کو دے کر اس طرح اپنا پنڈ چھڑاؤ۔ تم کسی طرح رہ جاؤ تو پھر جیسی ہوگی دیکھی جائے گی ۔ توا، چکّی ، پانی پینے کا کٹورا، نہیں معلوم کن وقتوں کی ہلکی ہلکی بے قلعی دو  پتیلیاں ، بس یہی اس گھر کی کل کائنات تھی ۔ چاندی کی دو چوڑیاں لیکن ایسی پتلی جیسے تار اس نیک بخت عورت کے ہاتھوں میں تھیں۔ یہ سب سامان خاں صاحب نے باہر لاکر اس بنیے کے روبرو رکھ دیا۔

تشریح:

اس فن پارے میں مصنف خان صاحب کی بے بسی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب بنیاد کسی صورت نہ مانا تو طے پایا کہ گھر کا کل سامان دے کر قرضہ کی رقم ادا کردی جائے۔ اس بات کو مانتے ہوئے خان صاحب کی بیوی نے کہا کوئی بات نہیں ، سامان عزت سے قیمتی نہیں۔ پروا کرنے کی ضرورت نہیں۔ تم گھر کا سارا سامان دے کر کسی صورت عزت بچاؤ۔ کیونکہ سب سے بڑھ کر عزت اور تمہاری ذات اس گھر اور بچوں کے لیے ازحد ضروری ہے۔ گھر کا سارا سامان چکی ، کٹور، پرانی دو پتیلیاں ، چاندی کی ہلکی سی دو چوڑیاں، یہ وہ سامان تھا جوان کے گھر کی کل کائنات تھی ، لاکر بنیے کے سامنے رکھ دی تاکہ قرضہ کی رقم ادا ہوجائے۔

اقتباس  نمبر ۳۔

 دعا دو اس بندے کی جان و مال کو جس نے  آج باپ کی اور تم سب کی جانیں رکھ لیں۔ نہیں تو ٹکڑا بھی مانگے نہ ملتا۔ کوئی چچا یا ماموں بیٹھا تھا کہ اس کو تمہارا درد ہوتا اور اس مصیبت کے دم کا سہارا ہے کہ اللہ رکھے اس کے ہاتھ پاؤں چلتے ہیں تو محنت سے مزدوری سے خدا کا شکر ہے روکھی سوکھی روز کے روز دو وقت نہیں تو یہ لڑکا کیا ہے رحمت کا فرشتہ ہے۔ نہ جان نہ پہچان ، نہ رشتہ نہ ناتا اور اس اللہ کے بندے نے مٹھی بھر روپے دے کر آج ہم سب کو نئے سرے سے زندہ کیا۔

تشریح:

ڈپٹی نذیر احمد اس فن پارے میں علیم کے ہمدردانہ رویہ اور خان صاحب کی بیوی کی احسان مندی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ جب علیم نے دیکھا کہ بنیاکسی صورت خان صاحب کو چھوڑنے پر رضا مند نہیں تو اس نے اپنی قیمتی ٹوپی چھ روپے میں فروخت کی اور ایک روپیہ نقدی جو جیت میں موجود تھا، مل کر کل رقم سات روپے خان صاحب کی بیوی کے ہاتھ پر رکھ دی اور خان  صاحب کو چھڑالیا۔ بیوی نے فوراََ رقم ہمسائے کو دی جو فوراََ ہی ادا کرکے خان صاحب کو واپس   لے آیا۔ ان کے آنے سے رونق آگئی ۔ بچے اور بیوی بہت خوش تھے ۔ اس وقت خان صاحب کی بیوی نے علیم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بڑی احسان مندی اور شکرگزاری کی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا  کہ دعا دو اس نیک بندے کو جس نے اس مشکل اور کڑے وقت میں  ہمارا ساتھ دیا۔جس سے نہ ہمارا کوئی رشتہ ہے نہ جان پہنچان۔پھر بھی اسے ہمارے دکھ کا احساس ہوا۔ صرف ہمارے لیے اور بچوں کے لیے ایک باپ کا سہارا ہی تھا۔ اللہ تعا لیٰ انہیں زندگی اور صحت دے ۔ محنت مزدوری کر کے دوروٹی کمالیں گے۔ یہ لڑکا ہمارے لیے کسی صورت فرشتے سے کم نہیں۔ جس نے بر وقت ہماری مدد کر  کے ہمیں نئے سرے سے جینے کا سہارا عطا کیا اور ہم محنت مزوری کر کے پھر سے ایک وقت کی روٹی کھالیں گے۔ اگر یہ لڑکا ہماری مدد نہ کر تا تو ہم تو جیتے جی مرہی جاتے۔

اقتباس  نمبر ۴۔

 اس عورت کے منہ مارے خوشی اور شکر گزاری کے بات نہیں نکلتی تھی۔ بار بار میری بلائیں لیتی تھی اور میرے ہاتھوں کو چومتی اور آنکھوں کو لگاتی تھی۔ اس کی  بلاؤں میں رومال سر پر سے کھسک گیا تو اس نے دیکھا کہ میرے سر پر ٹوپی نہیں ۔ پوچھا تو مجھ کو کہنا پڑا کہ دہی ٹوپی بیچ کر میں نے روپیہ دیا۔ پھر تو اس کا یہ حال تھا کہ بچھی جاتی تھی ۔ سات روپے کی بھی کچھ حقیقت تھی مگر اس نے  مجھ کو سیکڑوں ہزاروں ہی دعائیں دی ہوں گی ۔ اس نے جو اتنی احسان مندی ظاہر کی تو میں الٹا اسی کا ممنوں ہوا۔

تشریح:

مصنف اس فن پارے میں خان صاحب کی بیوی کی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب علیم کی مدد کرنے سے خان صاحب جب گھر آگئے تو خان صاحب کی بیوی علیم کی بڑی احسان مند ہوئی ۔ وہ اپنے شوہر کے واپس آنے پر بے خوش تھی اور اس کا سہرا علیم کے سر تھا۔ اس لیے وہ شکر بھری نظروں سے علیم کو دیکھ رہی تھی اور بار بار سر پر ہاتھ پھیر کر بلائیں لے رہی تھی کہ علیم کے سر سے باندھا ہوا رومال سرک گیا۔ تو اس نے ٹوپی کے بارے میں پوچھا ۔ جب علیم کے بتانے پر اسے پتا چلا کہ وہ ٹوپی بیچ کر ہی میں نے خان صاحب کا قرضہ ادا کیاہے تو پھر وہ بڑی عاجزی اور انکساری کے ساتھ علیم کو دیکھتی تھی ۔ ہزاروں دعائیں دے رہی تھی۔ اس کے اس سچے جذبے کو علیم نے محسوس کیا اور علیم بھی اپنی جگہ خود اس کا احسان مند ہورہا تھا۔ پر خلوص ، نیک نیتی اور سچی نیکی انسان کو بڑا بنا دیتی ہے۔ علیم کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ بس انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت علیم نے اس کا ساتھ دیا جبکہ کوئی تعلق اور رشتہ نہ تھا۔ یہی نیکی اللہ تعا لیٰ کو پسند ہے۔ اوراسی نیکی سے انسان کو روحانی اور سچی خوش ملتی ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔

٭٭٭

سومناتھ کی فتح

فقرات کی تشریح

فقرہ  نمر ۱۔

سب نے خیال کے عیار اور فکر کے جاسوس چاروں طرف دوڑائے۔

حوالہ:

درجہ بالافقرہ  سبق ’’سومناتھ کی فتح ‘‘ سے ماخوذ ہےجس کے مصنف محمد حسین آزاد ہیں۔

مصنف کا مختصر تعارف:

مولانا محمد حسین آزاد اردو ادب کے پہلے انشاء پرداز ہیں ۔۱۸۶۴؁  میں آپ نے جدید شاعری کی بنیاد رکھی۔آپ نے اردو ادب کو ’’دلہن ‘‘ کی طرح سجایا ۔آپ بہترین تمثیل نگار ہیں،اسی لئے علامہ شبلی نعمانی آپ کے متعلق رقم طراز ہیں۔ ’’آزاد گپ مار دیں تو وحی معلوم ہوتی ہے۔‘‘آپ کا طرزِ تحریر دلکش ،مقفع و مسجع اور اپنے اندر ایک خاص تنوع لئے ہوئے ہے، جو عام  قاری کی دسترس سے باہر ہے۔ انہیں آقائے اردو بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔

تصانیف:

نیرنگ خیال ۔۔۔۔۔آبِ حیات۔۔۔۔۔سخندانِ فارس۔۔۔۔۔۔آئینِ اکبری  اور بچوں کی درسی کتابیں  وغیرہ وغیرہ آپ کی مایہ ناز تصانیف ہیں۔

تشریح:

ایک دن دربار میں محمود غزنوی نے اپنے مصاحبوں میں سے کسی ایسی سلطنت کے بارے میں دریافت کیا جہاں حملہ کر کے دینی اور دنیاوی دونوں فائدے حاصل ہوسکیں ۔ یعنی دولت بھی مل جائے اور اسلام کی اشاعت بھی ہو۔ تو سب نے اپنی اپنی معلومات کے مطابق سوچ بچار شروع کردی یعنی سب درباری غور کرنے اور اپنے اردگرد کے ماحول اور ممالک کا جائزہ لینے لگے۔

فقرہ  نمر ۲۔

غرض ان لق ودق میدانوں کولپٹ سپٹ کر دفعتاَََ اجمیر جا پہنچا۔

تشریح:

محمود غزنوی جب سومناتھ پر حملہ کرنے کے لیے روانہ ہوا تو راستہ بڑا دشوار گزار تھا۔ صحرائی علاقہ ’چٹیل اور ویران جنگلات ’ کوسوں تک نہ آدمی نہ آدم زاد۔محمود نے یہ طویل اور دشوار گزار سفر انتہائی تیز رفتاری سے طے کیا بلکہ پلک جھپکتے ہی وہ ہندوستان کے شہرا جمیر جا پہنچا۔

فقرہ  نمر ۳۔

دیکھا تو یہی دیکھا کہ فوج کا دل بادل چھا گیا ہے اور نشان محمودی لہرارہا ہے۔

تشریح:

مولانا محمد مسین آزاد نے ‘دل بادل ’ کی اصطلاح محمود غزنوی کے لشکر جرارکے لیے استعمال کی ہے۔ محمود غزنوی اپنے لشکر کے ساتھ انتہائی تیز رفتاری  سے سفر کی دشواریوں اور مشکلات سے نبرد آزما ہوتا ہوا سامناتھ جا پہنچا اور قلعے کے باہر خیمہ زن ہوا۔ قلعہ والوں نے جب باہر نظر دوڑائی تو انہیں حدِ نگاہ تک محمود کا لشکر نظر آیا اور محمود کی فوج کا مخصوص جھنڈا لہراتا نظر آیا۔

فقرہ  نمر ۴۔

مشرق کا شہسوار ستاروں کی فوج کو شکست دے کر شعاع کا نیزہ ہاتھ میں لیے نکلا۔

تشریح:

محمد حسین آزاد نے اس فقرہ میں تشبیہات کا بہترین استعمال کرتے ہوئے اپنی نثر کو خوبصورت بنایا ہے۔ مشرق کے شہسوار سے مراد مشرق کی جانب سے طلوع ہونے والا سورج رات کی تاریکی میں آسمان پر پھیلے ہوئے ڈھیروں ستاروں کو دھکیلتا ہوا اپنی کرنوں کی روشنی سے آسمان سے غائب کردیتا ہے۔ یعنی سورج کی کرنوں کے سامنے ستاروں کی روشنی اور جھلملاہٹ ختم ہوگئی۔ سورج کی روشنی نے ہر طرف اجالے بکھیر دیے اور دن کا آغاز ہوا۔

فقرہ  نمر ۵۔

شام نے آکر اندھیرے کی سپر بیچ میں رکھ دی۔

تشریح:

محمود غزنوی کے سپاہی اور سومناتھ کے محافظ بڑھ چڑھ کر ایک دوسرے پر حملے کررہے تھے ۔ گھمسان کی جنگ جاری تھی ۔ تمام دن یہ جنگ پوری شدت سے جاری رہی۔ یہاں تک کہ دن ڈھلنے لگا اور رات کی سیاہ چادر رفتہ رفتہ دن کی روشنی پر غالب آنے لگی ۔ یہاں تک کہ دونوں لشکروں کے درمیان اندھیرے کی ایک دیوارسی کھڑی ہوگئی۔ جسے مصنف نے ڈھال قرار دیا۔ رات کی تاریکی کی وجہ سے جنگ رک گئی۔ دونوں  طرف کی فوجیں اپنے اپنے مورچوں پر واپس چلی گئیں۔

اقتباسات کی تشریحات

اقتباس نمر ۱۔

ہندوستان  جنت نشان جس کا دروازہ باب سلطان سبکتگین نے کھولا ہوا تھا ’ محمود غزنوی (بیٹے) نے اسے گیارہ دفعہ زیر وزبر کیا اور اپنے نام کو سلطان کے لقب سے تا جدار کیا جو اس وقت تک کسی بادشاہ اسلام کو نصیب نہ ہوا تھا۔

حوالہ:

درجہ بالافقرہ  سبق ’’سومناتھ کی فتح ‘‘ سے ماخوذ ہےجس کے مصنف محمد حسین آزاد ہیں۔

مصنف کا مختصر تعارف:

مولانا محمد حسین آزاد اردو ادب کے پہلے انشاء پرداز ہیں ۔۱۸۶۴؁  میں آپ نے جدید شاعری کی بنیاد رکھی۔آپ نے اردو ادب کو ’’دلہن ‘‘ کی طرح سجایا ۔آپ بہترین تمثیل نگار ہیں،اسی لئے علامہ شبلی نعمانی آپ کے متعلق رقم طراز ہیں۔ ’’آزاد گپ مار دیں تو وحی معلوم ہوتی ہے۔‘‘آپ کا طرزِ تحریر دلکش ،مقفع و مسجع اور اپنے اندر ایک خاص تنوع لئے ہوئے ہے، جو عام  قاری کی دسترس سے باہر ہے۔ انہیں آقائے اردو بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔

تصانیف:

نیرنگ خیال ۔۔۔۔۔آبِ حیات۔۔۔۔۔سخندانِ فارس۔۔۔۔۔۔آئینِ اکبری  اور بچوں کی درسی کتابیں  وغیرہ وغیرہ آپ کی مایہ ناز تصانیف ہیں۔

سیاق و سباق:

درجہ بالافن پارہ سومناتھ کی فتح سے لیا گیا ہے جو مولانا محمد حسین آزاد کی مشہور تصنیف قصص الہند سے ماخوذ ہے۔

تشریح:

اس نثر پارے میں محمد حسین آزاد تاریخ ہند کی ابتداء کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ ہندوستان ابتداء سے جنت کی طرح حسین ’خوبصورت تصور کیا جاتا تھا۔ یہاں کی زخیز سر زمین کی وجہ سے وہ سر سبز وشاداب تھا۔ اس سرزمین پر سب سے پہلےافغان حکمران سبکتگین نے قدم رکھا۔ باپ کی اس روایت کو بر قرار رکھتے ہوئے اس کے بیٹے محمود غزنوی نے بھی ہندوستان کی اس سر زمین پر گیارہ بار حملہ کیا اور اپنی اس کاوش کے صلے میں مرکز خلافت اسلامی یعنی بغداد سے سلطان کا لقب حاصل کرکے اپنے نام کا حصہ بنایا۔

اقتباس نمر ۲۔

ایک دن مصاحبوں کے ساتھ بیٹھ کر اِدھر ادھر نظر دوڑائی ’ صدیا کوس تک کوئی مملکت نظرنہ آئی جس کی فتح سے پر مال خزانے کو مالا مال کرے۔ ارکان ِ دولت کو جمع کیا۔ سب نے خیال کے عیار اور فکر کے جاسوس چاروں طرف دوڑائے۔آخر معلوم ہوا کہ اسی خراب آباد ہندوستان کے کنارے ایک شہر عظیم الشّان ہے اور اس میں ایک عبادت خانہ ہنود کا ہے کہ اپنے دیوتا کے نام سے سومناتھ کہلاتا ہے اور چوں کہ ہزاروں برس ہوئے راجہ سے لے کرپر جا تک ملک ملک کی خلقت اسے صدق دل سے مانتی ہے اس لیے نہ مال و دولت کا ٹھکانا ہے نہ زرو جواہر کی کچھ انتہا ہے۔

تشریح:

اس فن پارے میں محمد حسین آزاد’ محمود غزنوی کی فتوحات کا ذکر کرتے  ہوئے کہتے ہیں کہ محمود غزنوی ایک بہادر ’ دلیر اور سچامر د مومن تھا۔ وہ اپنی فوج کا سپہ سالاربھی تھا۔ ایک دن اپنے دربار میں درباریوں کر ساتھ جلوہ افروز تھا اور اس بارے میں غور کر رہا تھا کہ اب  ایسی کون سی مملکت ہے جہاں مسلمانوں کے قدم نہیں پہنچے’ جس پر حملہ آورہو کر وہ دینوی اور دنیاوی فیض حاصل کرسکے۔ دربار کے تمام وزراء اور مشاہیر غورو فکر کرنے لگے۔ اس سلسلے میں معلومات فراہم کی گئیں تو پتہ چلا کہ ہندوستان کا ایک شہر سومناتھ ہے جو وہاں کے مندر کے بڑے دیوتا کے نام سے منسوب ہے اور سومناتھ کہلاتا ہے۔ یہاں کے زروجواہر کا کوئی ٹھکا نا نہیں ۔ یہاں لوگ بڑے خوشحال ہیں اور ہندوستان  کے تمام راجا اور مہاراجا یہاں سے بڑی عقیدت رکھتے ہیں اور اپنے اس دیوتا کو بہت مانتے ہیں۔ پورے ہندوستان سے ہندو پوجا کے لیے یہاں آتے ہیں اور اپنی اپنی حیثیت کے مطابق چڑھاوے چڑھاتے ہیں ۔ اس لیے اس مندر کی مالیت کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ اسے فتح کر کے دولت حاصل کی جاسکتی ہے۔

اقتباس نمر ۳۔

قبلہ عالم! میں نے وہاں کے عجیب وغریب حالات سنے ہیں ۔ کہتے ہیں کہ جس مکان میں سومناتھ دیوتا ہے ، باہر کی روشنی کو وہاں دخل نہیں ۔ جواہرات اور الماس جو درودیوار میں جڑے اور جڑاؤ  قندیلوں میں لگے ہیں ان کی جگمگاہٹ سے دن رات برابر ہے ۔ بیچ میں ایک بڑی بھاری سونے کی زنجیر لٹکتی ہے کہ اس میں گھنٹے اور گھڑیاں  آویزاں ہیں ۔ جب پوجا کا وقت ہوتا ہے تو جس طرح ہم اذان دیتے ہیں ، وہ اسے ہلاتے ہیں کہ سب کو خبر ہوجائے ۔ ملک ملک کے راجاؤں نے جو جاگیریں دے رکھی ہیں انھیں جمع کریں تو دوہزار گاؤں ہوتا  ہے۔ ہر چند کہ گنگا وہاں سے چھ سوکوس پر ہے ۔ مگر روز تازے گنگاجل سے اس کا اشنان ہوتا ہے ۔

تشریح:

محمدحسین آزاد اس فن پارے میں محمود غزنوی کے ایک وزیر حسین میمندی کی سومناتھ مندر کے بارے میں معلومات کاذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حسین میمندی نے حسب روایت محمود غزنوی کی خدمت میں قدم بوسی کی اور گویا ہوا کہ بادشاہ ِ عالم ! اس مندر میں سب سے بڑا بت جسے سومناتھ کہا جاتا ہے رکھا ہے۔ وہاں زروجواہر کی اتنی چمک دمک ہے کہ باہر کی روشنی کو دخل نہیں ۔ یعنی سورج کی روشنی کا گزر نہیں ۔ دن ہویا رات ’وہاں کی زرو جواہر کی روشنی سے ایک ساسماں ہوتا ہے کیونکہ دیواروں پر نہایت  قیمتی’نادرونایاب زروجواہر جڑے ہیں ۔ جن کی جگمگاہٹ سے آنکھیں بھی چکا چوند ہوتی ہیں ۔ یہ پورا منظر اتنا حسین ’خوبصورت اور سحرانگیز ہے کہ یوں لگتا ہے کہ جیسے ہم کسی پرستان میں ہوں یا پھر جنت کا کوئی گوشہ۔اس مندر کے درمیان میں ایک زنجیر لٹک رہی ہے جس میں ایک بڑی سی گھنٹی آویزاں ہے۔ پوجا کے وقت پجاری اس گھنٹی کو ہلاتے ہیں اور پوجا کے لیے جاتے ہیں۔ گھنٹی کی یہ آواز ایک طرح سے بلاوے کا اعلان ہے۔جس طرح ہم اذان دیتے ہیں اور لوگ عبادت کے لیے آتے ہیں۔ اس مندر میں اتنی دولت اس لیے ہے کہ  پورے ہندوستان کے راجاؤں ’مہاراجاؤں نے اتنی جاگیریں دی ہیں جو دوہزار گاؤں تک پھیلی ہیں۔ دریائے گنگا اس مندر سے کوسوں دور ہے مگر پھر بھی روز سومناتھ کے دیوتا کے غسل کے لیے تازہ پانی گنگا سے لایا جاتا ہے۔

وزیر نے مزید بیان جاری رکھتے ہوئے کہا کہ قبلہ عالم ! آپ اس شہر کی خوشحالی اور دولت کی ریل پیل کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ دوہزا ر کی تعداد میں وہاں کے پجاری ہیں ’ پانچ سوبھجن گانے والیاں اورتین سوبھجن گانے والے ہیں جو پوجا کے وقت نا چتے اور گاتے ہیں اور ان سب کے کھانے پینے’ رہنے’ لباس اور زیورات کے اخراجات اسی مندر سے پورے کیے جاتے ہیں۔

اقتباس نمر ۴۔

دوسرے دن جب مشرق کا شہسوار ستاروں کی فوج کو شکست دے کر شعاع کا نیزہ ہاتھ میں لیے نکلا’ محمود سر سے پاؤں تک لوہے میں غرق ، ہوا کے گھوڑے پر سوار ، چتر لگائے ، میدان ِ جنگ میں آکر کھڑاہوا۔ نقّارے پر چوٹ پڑی کہ دل سینوں میں دہل گئے ۔ دلیروں نے قلعے کی طرف بڑھ کر ایسے تیر برسانے شروع کیے کہ ہندوؤں کو فصیل چھوڑتے ہی بن آئی ۔ قلعے سے مندر میں بھی راہ تھی۔ سب گھبرا کر ادھر گھس گئے ۔ مسلمان جھٹ سیڑھیاں لگا کمندیں ڈال فیصلوں پر چڑھ گئے اور اللہ اکبر ، اللہ اکبر کے نعرے مارنے شروع کیے۔ کہ قلعے سے لے کر کوہ و دشت  تک گونج اٹھا۔

تشریح:

محمد حسین آزاد اس فن پارے میں سومناتھ کی فتح اور محمود غزنوی کے عزم وحوصلہ کی تعریف کرتے ہوئے   کہہ رہے ہیں کہ جب محمود کے لشکر یوں نے قلعہ کے سامنے پڑاؤ ڈالا تو قلعہ کے لوگ حیران اور خوفزدہ ہوئے ۔ دوسرے دن کا آغاز مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج نے کیا۔ رات بھر تاروں کی چمک دمک ’ سورج کی کرنوں سے غائب ہوگئی۔ محمود نے جنگ کی تیاری کی ۔ خود کو فوجی لباس سے آراستہ کیا۔ اپنے تیز رفتار گھوڑے پر سوار ہوا۔ چھتری کے سائے میں نقارے بجاتا ہوا یعنی اعلان جنگ کرتاہوا میدانِ جنگ میں آن پہنچا۔ نقاروں اور نعروں  کی آوازوں سے ہندوؤں کے دل دہل گئے۔ مسلمان سپاہیوں نے حملہ کیا’تیر برسانے شروع کیے۔ جس سے قلعہ کی دیواروں پر جو ہندو موجود تھے بھاگ گئے۔ ایک راستہ جو مندر میں جاتا تھا سب وہاں پہنچنے لگے ۔ ادھر محمود کے سپاہی اللہ اکبر کے نعرے لگاتے سیڑھیاں لگا کر کمندویں ڈال کر قلعہ کی دیواروں پر چڑھ گئے ۔ قلعہ سے لے کر میدانِ جنگ تک اللہ اکبر کے گونج رہے تھے ۔ جس سے ہندو حواس با ختہ اور خوفزدہ تھے۔

اقتباس نمر۵۔

اتنے میں شام نے آکر اندھیرے کی ، سپر بیچ میں رکھ دی ۔ دونوں لشکر اپنے اپنے مقام پر آئے ۔ شب خون کی روک تھام کا بندوبست ہوا ۔ حکم تھا کہ چراغ کا تو کیا ذکر ہے، آگ کی چنگاری تک نہ چمکنے پائے۔ مگر دلوں کی بیقراری اور مایوسی کچھ کہی نہ جاتی تھی ۔ادھر تو محمود کے لشکری سناٹے میں تھے کہ کہاں وہ کوہ دشتِ پر بہار اور خدائی گلزار۔ کہاں یہ ریگستان بیابان! گھروں سے ہزاروں کوس آن  پڑے ۔ اللہ ہے جو پھر بھی اہل وعیال کا منہ دیکھنا نصیب ہو۔

تشریح:

محمد حسین آزاد اس فن پارے میں خوبصورت منظر کشی کے ساتھ ساتھ محمود کی دلیری اور چابک دستی کی روادبیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ گھمسان کی جنگ جاری تھی ’ دونوں طرف کا پلہ بھاری تھا مگر قدرے قلعہ والوں کا پلہ زیادہ بھاری تھا کہ شام ہونے لگی تھی۔جس طرح ڈھال تلوار کے ہروار کو روکتی ہے بالکل اسی طرح شام کے اندھیرے کی وجہ سے دونوں طرف کے سپاہی اپنے اپنے مورچوں کی طرف واپس آگئے ۔ مگر محمود اور اس کے لشکریوں کو اس بات کا خدشہ تھا کہ دشمن کہیں رات میں حملہ آورنہ ہوجائے ۔ اس لیے منادی کرادی گئی کہ لشکر میں چراغ نہ جلائے جائیں تاکہ دشمن کو خیموں تک پہنچنے میں آسانی نہ ہو کیونکہ ایک چنگاری بھی آگ لگانے کافی ہوتی ہے۔ محمود کے لشکری بھی اس خطرناک صورت حال سے خوفزدہ تھے کیونکہ وہ جن علاقوں اور  سرزمین سے تعلق رکھتے  تھے وہ آبادیاں سرسبز وشاداب  تھیں اور یہاں کا ماحول اس کے بالکل برعکس تھا۔گھور اندھیرا ’ چٹیل بیاباں ’تاریکی’ سناٹا’ پھر یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ یہ جنگ کتنے دن رہے گی۔اندازہ نہیں ہورہا تھا کہ وہ فتح بھی حاصل کرلیں گے یا نہیں ۔ یہاں سے زندہ سلامت اپنے گھروں کو لوٹ بھی پائیں گے یا نہیں ۔ اسی شش وپنج میں گرفتار تھے ۔ ان کے ذہن بھٹکے ہوئے تھے اور وہ اپنے سرسبز وشاداب سرسبز وشاداب سرزمین اور گھروالوں سے کوسوں دور تھے۔ انہیں اس جنگ صورت حال سے بڑی پریشانی تھی کہ نہ جانے کب وہ اپنے گھروں کو لوٹیں گے۔

اقتباس نمر ۶۔

فلاں فلاں شہر کے راجا اس اس قدر فوج کی جمعیت سے آن پہنچے ’ شاہِ باتدبیر نے اس خبر کو یہیں بندرکھا۔ اگر لڑائی ہوئی ’فوج کویہ خبرِ دہشت ناک پہنچی تو سارے لشکر میں ہل چل پڑجائے گی ۔ فوراََ  اپنی  رکاب کی فوج لے کر برق و باد کی طرح لپکا اور اس کالی آندھی کے سامنے جاکر پہاڑ کی طرح ڈٹ گیا۔ اوّل پیغام بھیجا کہ اس وقت قلعے والوں سے ہمارا  مقابلہ  ہو رہا ہے۔ شایانِ جوانمردی  یہ ہے کہ جب تک ہم ادھر سے فارغ نہ ہولیں تم ہم پر حملہ نہ کرو۔

تشریح:

محمد حسین آزاد اس فن پارے میں محمود غزنوی کے سومناتھ کے مندر پر حملہ کے بارے میں بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دوسرے دن محمود نے اپنے لشکر کواز سر نو ترتیب دے کر حملہ آور ہوا تو ایک خاص پہرے پر مقرردستے کے سپاہی جو لشکر کے اردگردگھوم کر خبردار سانی اور نگرانی کا کام کرتے تھے’ایک سپاہی نے بادشاہ کو اطلاع دی کہ فلاں فلاں شہر کا راجا اپنی فوج کے ساتھ قلعہ والوں کی مدد کے لیے آگیا ہے۔ محمود غزنوی نے عقل مندی سے کام لیتے ہوئے اس خبر کو فوراََ  وہیں روک دیا کہ سپاہیوں تک نہ پہنچے ورنہ وہ ہمت ہار بیٹھیں گے اور بددل ہوجائیں گے اور خود ایک خاص دستے کو ستے کولے کر بجلی اور آندھی کی سی تیزی کے ساتھ اس راجا کے لشکر کے سامنے جا  پہنچا مگر وہ لشکر بھی کسی طرح کم نہ تھا۔ اس سے قبل کہ اس راجا  کا لشکر محمود پر حملہ کرتا’ محمود خود پہنچا اور پیغام بھیجا کہ ابھی ہم قلعہ والوں سے لڑائی میں مصروف ہیں۔ اس لیے بہتر یہ ہوگا کہ تم اس وقت حملہ کرنا جب ہم فارغ ہوجائیں ۔ مگر جواب نفی میں آیا۔ محمود کے لیے اتنی مہلت کافی تھی ۔ اسی اثناء میں وہ اپنی تیاری کر چکاتھا۔

اقتباس نمر ۷۔

اے شیرو! دلیرو! دیکھو!دشمن نے چاروں طرف سے گھیر لیا ہے ، خراسان اور ترکستان یہاں سے سیکڑوں نہیں ، ہزاروں کوس کا پلّہ ہے۔ اگر پر بھی لگا کر اڑو گے تو بھی جان لے کر وہاں نہ پہنچ سکو گے۔ اے مسلمانو! باایمانو! اب سوائے خدائے وحدہ لاشریک کے کسی کا سہارا نہیں ۔ یا اس کا آسرا ہے ۔ یا  ہمّت مردانہ اور بازوئے  دلیرانہ کا ۔ بھاگ کر مرنے سے مارکر مرنا بہتر ہے۔ نام تو رہے گا کہ غازی بھی ہوئے اور شہید بھی ۔ دیکھو !اس میدان سے گھر دور ہے مگر بہشت قریب ہے۔ شہادت کا تاج لو اور بہشت میں داخل ہو ۔

تشریح:

محمد حسین  آزاد اس فن پارے میں محمود غزنوی کی بہادری کے بارے میں بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ ایک سچا مجاہد تھا۔ اس نے  بڑی دانائی سے اپنے فوجی دستے کے ساتھ راجا سے مقابلہ کیا۔ یہ جنگ جاری تھی کہ اسی دوران نہر والا راجا بھی اپنے لشکر سمیت ہندوؤں کی مدد کو آگیا ۔ محمود کے لشکر چاروں طرف سے گھر جائیں گے اور ہمتیں  ٹوٹ جائیں گی’ اس نے قلعہ میں لڑنے والے سپاہیوں کو بلایا۔ گھوڑے سے اتر کر اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ کیا اور پھر اپنے لشکر سے مخاطب ہو کر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اے بہادرو! اللہ پر یقین رکھنے والو! تم اپنے وطن سے ہزاروں میل کے فاصلے پر ہو’اگر چاہو کہ اڑ کر پہنچ جاؤ تو یہ بھی ممکن نہیں ۔ اب ہمارے سامنے دشمن ہے۔ اگر چاہو تو ہتھیار ڈال دو اور بے موت مر جاؤ یا پھر لڑکر بہادری سے جان دو۔ عقل مندی یہی ہے کہ دشمن پر حملہ کردو اور اسے مارو یا مر جاؤ۔ بہتر ہے اس طرح تم بے جگری سے لڑو گے تو جیت کر غازی بھی ہوسکتے ہوورنہ شہادت کی موت سے جنت یقینی ہے ۔ محمود کی اس تقریر کا سپاہیوں پر زیادہ اثر ہوا اور محمود  کے سپاہی بے جگری سے مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہوگئے ۔ محمود کی تقریر نے ان میں ایک نیا جوش اور دلولہ پیدا کردیا۔ انہوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور کامیاب ہوئے۔

اقتباس نمر ۸۔

محمود معِ فوج کے فتح کا نقارہ بجاتا قلعے میں داخل ہوا اور دروازے پر نشانِ محمودی لہرانے لگا۔ اب دل کو تاب کہاں تھی ، سیدھا مندر  میں پہنچا۔ عمارت کی شان و شوکت  دیکھ کر آنکھیں کھل گئیں ۔ چھپن ستونوں پر گنبدی چھت بیضہء عنقا کی طرح دھری تھی کہ ہر ستون ایک ڈال سنگ مرمر کا تراشا ہوا تھا اور سر سے پاؤں تک جواہرات  سے مرصع  تھا ۔ پچی کاری کی گلکاری چین کے نقش ونگار مٹاتی تھی اور کندن کی ڈلک ستاروں پر آنکھ مارتی تھی ۔ بیچوں بیچ میں ایک جراؤ زنجیر لٹکتی تھی۔ اس میں ایک سونے کا چراغ دن رات دھڑ دھڑ جلتا تھا۔ خدا جانے کنِ وقتوں سے اسی طرح روشن چلا آتا تھا۔ جس کی قسمت میں آج کے دن اس آندھی سے گل ہو نا لکھا تھا۔

تشریح:

محمد حسین آزاد اس فن پارے میں محمود غزنوی کے پر جوش اندازِبیان کے بارے میں کہتے ہیں کہ جب محمود نے اپنے افسردہ سپاہیوں کے سامنے جو تسلی بخش تقریر کی تو ان میں تازگی پیدا ہوگئی جس کی وجہ سے دشمن فوج پر ٹوٹ پڑے اور ایسا  ڈٹ کر مقابلہ کیا فتح یقینی ہوگئی۔ دشمن کے کئی سپاہی مارے گئے۔ جو بچے ’ وہ بھاگنے پر مجبور ہوگئے کیونکہ مسلمان مجاہدوں کے سامنے ان کی ہمتیں ٹوٹ گئی تھیں ۔ میدانِ جنگ کا یہ منظر دیکھ کر قلعہ والے سپاہیوں کی بھی ہمتیں جواب دے گئیں ۔ محمود شاہانہ انداز سے قلعہ  میں داخل ہوا تو اسے کچھ سپاہیوں سے مقابلہ کرنا پڑا۔ پھر وہ قلعہ کے اس کمرے میں پہنچا جہاں سومناتھ دیوتا کی مورتی تھی۔ اس نے دیکھا کہ اس عمارت کی چھت بیضوی یعنی انڈہ نما تھی۔ جو چھ ستونوں پر کھڑی تھی اور ان ستونوں پر ہیرے جواہرات لگے تھے ۔ چھت بھی خوبصورت نقش و نگار سے مزین تھی ۔ چھت کے بیچ میں سونے کی زنجیر تھی جس سونے کا چراغ جل رہا تھا۔ یہ چراغ صدیوں سے روشن تھا لیکن آج محمودغزنوی سے اس چراغ کوگل ہونا تھا جو آندھی طوفان کی طرح اس چراغ کو گل کرنے یہاں آیا تھا۔ دروازے کے سامنے ہی سومناتھ دیوتا بڑی شان وشوکت کے ساتھ کھڑا تھا۔ جس کا قد پانچ گز کا تھا۔ جو دو گز زمین کے اندر اور تین گز زمین کے اوپر تھا۔

اقتباس نمر ۹۔

محمود نے خود ایک تیر کمان میں جوڑ کر اس کی ناک پر مارا اور توڑنے کا حکم دیا۔ تمام پجاری  بچارے دوڑ کر پاؤں پر گر پڑے اور کہا کہ اسے نہ توڑو اور بہت سے خزانے نذرانے لو: وزیر نے بھی سفارش کی مگر بادشاہ نے سوچ سوچ کر کہا کہ میرے نزدیک بت فروش نام پانے سے بت شکن ہونا بہتر ہے۔ یہ کہ کر گرزِ فولادی جو ہاتھ میں تھا اس زور سے مارا کہ وہ  پر تما جو سونے کی ڈھلی  اور اندر سے کھوکھلی تھی ، ٹکڑے ٹکڑے ہوکر گر پڑی ۔ اقبال کے خزانے پر نظر کرو کہ جو روپیہ پجاری دیتے تھے اس سے چند در چند زیادہ کا جواہرات اس میں سے نکل پڑا۔ محمود مارے خوشی کے باغ باغ ہوگیا۔ دو ٹکڑے اس کے مکّے اور مدینے  بھیجے اور دو غزنی کو بھیجوائے کہ ایک جامع مسجد اور ایک دیوان عام کے دروازے پر ڈال دیں۔

تشریح:

محمد حسین آزاد اس فن پارے میں محمود غزنوی کی فتح کا حال بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب محمود ایک فاتح کی حیثیت سے مندر پہنچا تو سومناتھ دیوتا اس کے سامنے تھا ۔ محمود نے ایک تیر کمان میں جوڑ کر اس کی ناک پر مارا اور اسے توڑنے کا حکم دیا تو تمام مندر کے پجاری اس کے قدموں میں آکر اور ہاتھ جوڑ کر عرض کرنے لگے کہ تم اسے نہ مارو اس کے  بدلے ہم تمہیں بے شمار خزانہ دینے کے لیے تیار ہیں۔ کچھ وزراء نے محمود غزنوی سے یہ بھی کہا کہ رہنے دیں یہ ان کے عقیدے کا سوال ہے۔ مگر محمود نے سوچا کہ اگر میں ایسا نہ کروں گا توبت فروش کہلاؤں گا ۔ یہ مجھے ہر گز گوارا نہیں ۔ اس لیے اس نے اس پیش کش کو ٹھکرادیا کیونکہ وہ بت فروش نہیں بت شکن بننا زیادہ پسند کرتا تھا۔ جیسے ہی بت توڑا گیا اس کے اندر سے بے شمار ہیرے جواہرات نکل پڑے ۔ یہ محمود غزنوی کی ثابت قدمی ’ سچائی اور مردِ مومن ہونے کا صلہ تھا کہ وہ تاریخ میں زندہ رہا اور دنیاوی اعتبار سے سر فراز ہوا۔ اس نے بت کے دو ٹکڑے مکے اور مدینہ بھیجے اور دوغزنی بھجوائے ۔ ایک جامع مسجد اور دیوان عام کے دروازے پر ڈال دیے اوریوں محمود غزنوی نے کامیابی حاصل کی۔

٭٭٭

قرطبہ کا قاضی

فقرات کی تشریح

فقرہ  نمر ۱۔

میری بوڑھی زبان سے اللہ تعا لیٰ کا  عفوورحم کئی بار بولا لیکن اس نے سننے والے کانوں کو بہراپایا۔

حوالہ:

درجہ بالافقرہ سبق  یک بابی ڈرامہ ’’ قرطبہ کا قاضی‘‘ سے ماخوذ ہےجس کے مصنف امتیاز علی تاج  ہیں۔

مصنف کا مختصر تعارف:

امتیاز علی تاج جدید ڈرامہ نگاری کے ماتھے کا جھومر ہیں۔آپ کے والدین خود معروف ادیب تھے۔زمانہءِ طالبعلمی میں آپ نے رسالہ ’’کہکشاں ‘‘ جاری کیا۔ صرف بائیس (۲۲) سال کی عمر میں اپنا لافانی ڈرامہ ’’انارکلی ‘‘ تخلیق کیا ۔آپ کا طرزِ تحریر روزمرّہ اور محاورات کی چاشنی سے مزیّن ہے۔ تحریر دلکش ،شگفتہ اور سادہ ہے ،جو براہِ راست قاری کے دل پر اثر کرتی ہے۔

تصانیف:

آپ نے ریڈیو اور فلم کیلئے کئی ڈرامے تخلیق کئے۔انارکلی۔۔۔۔۔محاصرہءِ غرناطہ ۔۔۔۔۔۔چچا چھکن۔۔۔۔۔قرطبہ کا قاضی۔۔۔۔۔۔آرام و سکون اور ہیبت ناک  آپ کی مایہ ناز تصانیف ہیں۔

تشریح:

ڈرامہ ‘قرطبہ کا قاضی ’ اسلام کی امتیاز ی شان عدل وانصاف کی روشن مثال ہے۔ مذکورہ بالا جملہ زبیر کی رضاعی ماں حلاوہ نے اس وقت ادا کیا جب قاضی یحییٰ بن منصور نے خود اپنے بیٹے زبیر کع قتل کے جرم میں پھانسی  کی سزا سنائی اور ہر طرح کے دباؤ کے باوجود اپنے فیصلے کو بدلنے پر تیار نہ ہوا۔ حلاوہ اپنی مامتا سے مجبور ہو کر کئی بار قاضی سے زبیر کی معافی کی التجا کرتی رہی اور قاضی ہر بار اس کی درخوات رد کرتا رہا۔ اس پر حلاوہ نے اللہ تعا لیٰ  کی ایک صفت عفوورحم کا حوالہ دے کر کئی مرتبہ قاضی سے زبیر کی معافی کے لیے التجا کی لیکن قاضی نے اس کی درخواست پرنہ کان دھرانہ ہی اپنے فیصلے میں کوئی ردوبدل کیا۔

فقرہ  نمر ۲۔

الہٰی آج کا آفتاب یہ کیا دیکھ رہا ہے’ آج کی روشنی میں یہ کیا ہورہا ہے۔

تشریح:

مذکورہ بالا جملہ زبیر کی رضاعی  ماں حلاوہ کی بے  قراری ’ دکھ اور تکلیف کا آئینہ دار ہے۔ جب قاضی یحییٰ بن منصور ہر طرف سے مایوس ہو کر خود اپنے ہی ہاتھوں اپنے بیٹے زبیر کو سولی  پر لٹکا رہا تھا تو یہ دہشت ناک منظر دریچہ سے حلاوہ نے بھی دیکھا اور وہ خوف سے چلا اٹھی کہ الہٰی آج کا یہ سورج جو صدیوں سے روز طلوع ہوتا آیا ہے جس نے زمانے کے کئی رنگ دیکھے ہوں گے آج کا یہ سورج جیسا عجیب وغریب نظارہ دیکھ رہا ہے وہ کبھی نہیں ہوا ہوگا کہ ایک باپ خود ہی اپنے ہاتھوں سے اپنے بیٹے کو پھانسی پر چڑھا رہا ہے۔ تاریخ میں عدل وانصاف کی ایسی مثال ملنا مشکل ہے کہ انصاف اور قانون کے راستے میں کوئی رشتہ حائل نہیں ہوسکتا۔

فقرہ  نمر ۳۔

کالی آندھیوں کے لیے ان بدفالوں کے لیے جوگھٹنوں پر سررکھے نحس کلمے منہ سے نکالتے ہیں۔

تشریح:

مصنف اس فن پارے میں عبداللہ کی کیفیت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عبداللہ جو قاضی یحییٰ بن منصور کا ملازم اور حلا وہ کا شوہر ہے۔وہ زبیر سے بے محبت کرتا ہے۔ بالکل باپ کی طرح شفقت کیونکہ اس نے بھی بچپن سے پالا تھا اور دیکھ بھال کی تھی ۔ اسے یقین کا مل تھا کہ زبیر کو پھانسی نہیں دی جاسکتی کیونکہ قرطبہ کے تمام لوگ زبیر کو پسند کرتے تھے اور انہوں نے قسم کھائی تھی کہ کسی طرح سے بھی زبیر کو پھانسی نہ ہونے دیں گے۔ ادھر سر کاری اہل کاروں نے بھی اس سلسلہ میں قاضی کا ساتھ دینے سے انکار کردیا تھا ۔ اس لیے عبداللہ کچھ مطمئن تھامگر حلاوہ جو اس کی انّا تھی جس نے پال پوس کر پروان چڑھایا تھا۔ وہ بہت پریشان تھی۔ اسے یقین تھا کہ زبیر کو پھانسی ضرور ہوگی اس جملے میں عبداللہ اپنی حلاوہ سے کہتا ہے کہ آنے والی صبح کالی ہوگی’ ان لوگوں کے لیے جو اندھےہیں۔ ان کے لیے جو برے ارادے رکھتے ہیں۔ جو گھٹنوں میں سر رکھ کر برے کلمات منہ سے نکالتے ہیں۔ یعنی جو سوگوار ہیں۔ گھٹنوں میں سر رکھ کر بین کرنا منحوسیت اور سوگ کی علامت ہے کیونکہ حلاوہ کے نزدیک یہ رات کالی تھی کہ صبح اس کے بیٹے کو پھانسی دی جانی تھی اور عبداللہ کے نزدیک رات کالی اس لیے تھی کہ اس کے خیال میں جو لوگ زبیر کے خلاف تھے یا زبیر کے لیے برے خیالات رکھتے تھے۔

فقرہ  نمر ۴۔

ہم اب اسے زندگی بھر کبھی نہ دیکھ سکیں گے ۔ کبھی زندہ نہ دیکھ سکیں گے۔

تشریح:

اس فقرہ میں مصنف ڈرامے کے اختتام کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب یحییٰ بن منصور نے اپنے بیٹے کو پھانسی دے دی تو وہ اپنے کمرے میں واپس آئے ۔ کھڑکیوں اور دروازوں کو بند کرلیا۔ یہ منظر دیکھ کر حلاوہ کہتی ہے اب لوگ دوبارہ بیٹے کے علاوہ قاضی کو بھی دوبارہ نہ دیکھ سکیں گے کیونکہ قاضی نے اسلامی شان کو پیش نظر رکھ کر اپنے اکلوتے بیٹے کو پھانسی دے دی مگر وہ ایک باپ بھی توتھے ۔ بیٹے کی موت کا صدمہ ایک باپ بھلا کیسے برداشت کوسکتا تھا۔ شایداب لوگ انہیں بھی زندہ نہ دیکھ سکیں گے۔ اب یہ دروازہ بھی نہیں کھلے گا۔

اقتباسات کی تشریحات

اقتباس نمر ۱۔

گلی میں قاضی کے بھاری آہستہ قدموں کی آواز سنائی دیتی ہے۔حلاوہ کھڑی ہوجاتی ہے اور بے حس وحرکت مگر متوقع انداز میں کھڑی رہتی ہے۔ عبداللہ کو بھی قدموں کی آواز سنائی دیتی ہے ۔ مڑکر دیکھتا ہے اور ایک طرف ہٹ جاتا ہے۔

حوالہ سبق:

درجہ بالافن پارہ یک بابی ڈرامہ ’’قرطبہ کا قاضی‘‘سے ماخوذ ہے جس کے مصنف سیدامتیاز علی تاج ہیں۔

حوالہ مصنف:

تشریح:

اس فن پارے میں مصنف ڈرامہ کو اختتام کی طرف لے جاتے ہیں کہ تمام لوگوں کے تعاون نہ کرنے پر قاضی یحییٰ بن منصور عدل وانصاف کی روایت کو بر قرار رکھتے ہوئے اپنے بیٹے کو خود اپنے ہاتھوں سے پھانسی دینے کے بعد بھاری قدموں سے واپسی آتے ہیں تو حلاوہ اور عبداللہ جو قاضی کے ملازم تھے اور زبیر کے ماں باپ کی طرح تھے وہ پھانسی ہونے کے بعد بہت اداس ’مغموم اور افسردہ تھے کہ انہیں آہستہ آہستہ بھاری قدموں کی چاپ سنائی دیتی ہے۔ یحییٰ بن منصور اپنے بیٹے کو پھانسی دینے کے بعد جب آتے ہیں تو حلاوہ بے حس و حرکت کھڑی تھی جو زبیر کی موت کو برداشت نہیں کر پا رہی تھی ۔ ادھر عبداللہ بھی وہ اس صدمے کو برداشت کرنے کی کوشش کررہا تھا۔ قدموں کی آواز پر چونک کر پلٹ کر دیکھتا ہے تو قاضی کو سامنے پا کر راستے سے ہٹ جاتا ہے۔

اقتباس نمر ۲۔

ہونی کوکون روک سکتاہے؟میری یہی آنکھیں نہیں، جنھیں آنسوؤں نے بے نور کردیا ہے۔ میری اور آنکھیں ہیں جو دیکھ سکتی ہیں اور جو دیکھ چکی ہیں۔ سولی اور اس سے لٹکی ہوئی لاش ! میرا ننھا ! میری جان ننھا ! میرا سجیلا نوجوان ! جس کا جسم میرے دودھ نے بنایا۔ جس کے خون اور ہڈیوں میں میرا دودھ ہے ۔ میں اسے مردہ دیکھ چکی ! کہتی جو ہوں کہ یوں ہی ہوگا۔ سچ نہ ہوتا تو یہ بات میری زبان سے نکلتی؟

تشریح:

اس فن پارے میں مصنف حلاوہ اور عبداللہ کے درمیان ہونے والی گفتگو کے بارے میں کہہ رہے ہیں کہ عبداللہ کو مکمل یقین تھا کہ زبیر کو پھانسی نہیں ہوسکتی کیونکہ شہر کے لوگوں نے قاضی سے تعاون نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ جلاوبھی عین وقت پر غائب ہوگیا۔ داخلی تمام راستوں کو بند کردیا گیا تو پھر کوئی صورت ایسی نہیں کہ زبیر کو پھانسی ہو ۔ اس کے برعکس حلاوہ کو یقین تھا کہ زبیر  کو پھانسی ضرور ہوگی جو قسمت میں ہو ’ ہو کر رہتا ہے ۔ گرچہ روتے روتے میری آنکھیں بے نور ہوگئی ہیں مگر میری یہ بے نور اور نا بینا آنکھیں جانتی ہیں کہ زبیر کے ساتھ جو سانحہ پیش آنے والا ہے وہ ضرور ہوگا ۔ میں اسے مردہ دیکھ چکی ہوں جسے میں نے اپنا دودھ پلا کر پروان چڑھایا تھا۔ وہ ہیجانی کیفیت میں مبتلا ہے۔ اپنے شوہر سے کہہ رہی ہے۔ ہونے والا حادثہ ٹل نہیں سکتا۔ میری یہ بات سچ ہے۔ یہ بات میری زبان سے نہ نکلتی کیونکہ حلاوہ اچھی طرح قاضی یحییٰ بن منصور کو جانتی تھی کہ وہ جو کچھ زبان سے ادا کرتے ہیں اسے ہر حال میں پورا کرتے ہیں ۔ وہ ہر حال میں اپنے قول  کو پورا کریں گے کیونکہ وہ انصاف پسند اور اصولوں کے پکے ہیں۔ ہر حالت میں زبیر کو پھانسی دے کررہیں گے۔

اقتباس نمر ۳۔

وہ آیا! وہ اسے لے آئے ! میرا بچّہ ! میری آنکھ کا تارا! ارے دیکھو تو کیسے  تن کر چل رہا ہے۔ اس کا باہر نکلا ہوا سینہ دیکھو ۔ سانس کس بے خوفی سے آجارہا ہے۔ شاباش میرے لاڈلے شاباش ! سر اٹھائے رکھ ، تجھ پر ہم سب کو ناز ہے۔ تجھ پر ، میرے دلارے تجھ پر، جسے مرجانا ہے۔ دیکھ لو ، اسے دیکھ لو جس کے بدن میں گرم خون لہریں مارتا تھا۔

تشریح:

مصنف اس فن پارے میں حلاوہ کی کیفیت اور زبیر کی تختہ دار تک روانگی کو بیان کرتے ہیں۔ قاضی یحییٰ بن منصور کے حکم سے زبیر کو قید خانے سے تختہ دار کے چبوترے تک لایا جاتا ہے۔حلاوہ کھڑکی کھول کر اپنے بیٹے زبیر کے چہرے پر کوئی ڈریا خوف نہیں ہے۔ اسے دیکھ کریوں لگتا ہے جیسے اسے موت کی کوئی پروانہیں۔ وہ بالکل مطمئن اور پرسکون ہے۔ حلاوہ پر محبت کی وجہ سے ہیجانی کیفیت طاری ہے۔ وہ بڑ بڑاتی ہے دیکھو میرا بیٹا کتنے شاہانہ انداز سے آرہا ہے۔ شاباش میرے لاڈلے شاباش مجھے تجھ پر ناز ہے۔ اسی طرح سربلند رکھنا۔ اسی بہادری سے سینہ نکال کر چلنا اس کے جسم میں میرا لہو دوڑ رہا ہے۔ اس کا گرم لہواب کچھ ہی دیر میں ٹھنڈا ہو جائے گا۔

٭٭٭

ادیبوں کے خطوط

خطوط غالب

خط نمبر ۱

(میری مہدی مجروح کے نام)

خط کی خاص خاص باتیں

میری مہدی مجروح مرزاغالب کے عزیز ترین شاگردوں میں سے تھے۔ جنہیں وہ بلا تکلف خط لکھتے۔ درجہ بالا خط بھی بے تکلفانہ انداز لیے ہوئے ہے۔ غالب اپنے بھانجے زین العابدین کے لڑکوں کو رامپور لے گئے۔ وہاں انہوں نے بہت پریشان کیا۔ وہاں انہوں نے بہت پریشان کیا۔ اس معمولی واقعے کو کیا دلچسپ روپ عطا ہے۔

  1. مرزا غالب نواب صاحب رام پور کے بے حداصرار کے باوجود نہیں ٹھہرے۔ دوسری وجہ رمضان المبارک قریب تھے اور دہلی کی جامع مسجد میں تراویح ادا کیا کرتے تھے۔

  2. نواب رام پورا نہیں ایک سوروپے ماہانہ دیتے تھے اور پیش کش کی کہ اگر غالب رام پور میں رہیں تو دوسوروپے ماہانہ ملے گا۔

  3. نواب رام پور نے استاد اور شاگردانہ سلوک کیا اور دوستوں کی طرح پیش آئے۔

  4. انگریزوں نے غالب کودس ہزار روپیہ دینا منظور کیا تھا لیکن انہیں صرف ساڑھے سات سوروپے ملتے تھے۔

  5. غالب جس حالت میں خط لکھ رہے تھے کہ کو ٹھری میں بیٹھے تھے’ خس کی ٹٹی لگی ہوئی تھی ’ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا آرہی تھی ۔ ٹھنڈے پانی کا جھجر رکھا تھا اور حقہ پی رہے تھے۔

خط نمبر ۲

(مرزاامین الدین خاں کے نام)

یہ خط غالب نے اپنے عزیز دوست کے پوتے کو لکھا جن کا خط بطور طرز تحریر انہیں بہت پسند آیا۔ اچھا لکھنے کی تعریف کی اور دعادی۔

  1. مرزا غالب نے امین الدین کو دنیا کو دیکھنے اور سمجھنے والی آنکھ (یعنی امین الدین جن کے باپ مرزا علاؤالدین کی پتلی کہا)کی پتلی کہا۔

  2. غالب دعا گوہیں کہ مرزا امین الدین اپنے باپ اور دادا کی طرح عزت حاصل کریں۔

  3. غالب کہتے ہیں کہ تمہارے دادا نواب امین الدین خان تھے اور میں تمہارا دل دادہ ہوں ۔ مرزا غالب نے بات سے بات پیدا کی ہے۔

خط نمبر ۳

(تفضّل حسین کے نام)

  1. غالب نے اس خط میں تفضّل حسین سے اپنا دیوان مانگا تھا کہ جو کلام ان کے پاس ہےوہ دے دیں۔ اسے نقل کرکے دیوان واپس کردیں گے لیکن تفضّل صاحب نے نہیں دیا۔ جس کا گلہ کیا۔

  2. غالب نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے دوبارہ مانگا اور قسم کھائی اور لکھا کہ جو کلام ان کے پاس نہیں ہے وہ نقل کرکے واپس کردیں گے اگرنہ کروں تو مجھ پر لعنت اور اگر تم دیوان نہ دو تو تمہیں شاباش ہے۔(یہ طنز یہ کہا ہے)

خط نمبر ۴

(مولوی عبدالحق)

  1. مولوی عبدالحق نے یہ خط اپنے ایک عزیز کو لکھا ہے ۔ مشاہیر کے خطوط جمع کر کے چھاپنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور مولوی صاحب کو مطلع کرتے ہیں کہ دیمک ان کے بیش قیمت اوراق کھا گئی ہے۔

  2. مولوی عبدالحق ایک ترجمہ کی اشاعت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ بھاری مصارف کے پیش نظر اس کو محدود تعداد میں چھپوایا جائے۔

  3. اس کے بعد مولوی عبدالحق نے مکتوب نگار کے خط میں ایک تحریر جس کا عنوان ‘سائنس کے آدمی ’ پر اعتراض کیا ہے۔ آخر میں سلام ودعا۔

خط نمبر ۵

(ڈپٹی نذیر احمد)

  1. ڈپٹی نذیر احمد نے اپنے نوجوان بیٹے بشیر کو میٹرک کے امتحان میں پاس ہونے پر بہ طور مبارک بادلکھا ہے۔

  2. وہ لکھتے ہیں کہ خود کو لائق ثابت کرنا فرض ہے اور پھر جس کو مالی آسودگی حاصل ہوا سے تو پڑھائی پر خاص توجہ دینا ضروری ہے۔

  3. خط کے آخر میں ڈپٹی نذیر احمد اپنے بیٹے کو اور زیادہ محنت کرنے کی تلقین کرتے ہیں کہ تمہیں اپنی خامیوں کا جائزہ لینا چاہیے اور ان کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ آخر میں اپنے طالب علمی کے زمانے کی تنگدستی کا ذکر بھی کرتے ہیں۔

فقرات کی تشریح

فقرہ  نمر ۱۔

تمہارے دادا نواب امین الدین خان بہادر ہیں’میں تمہارا دلدادہ ہوں۔

حوالہ :

درجہ بالا فقرہ  ’’ادیبوں کے خطوط ‘‘سے ماخوذ ہے۔ جس کے مصنف مرزااسداللہ غالب ہیں اور مکتوب الیہ مرزاامین الدین خان بہادر ہیں ۔

مصنف کا مختصر تعارف:

ناقدین نے غالب کو اردو ادب کا پہلا فلسفی شاعر تسلیم کیا ہے۔ڈاکٹر رام بابو سکسینہ نے غالب کے کلام کو ’’ الہامی ‘‘ قرار دیا ہے۔ اردو نثر کو آپ نے نئی جہت، جدید طرز اور انوکھا  اسلوب عطا کیا ۔ خطوط نگاری سے متعلق آپ خود رقم طراز ہیں کہ ’’ میں نے مراسلے کو مکالمہ بنا دیا۔‘‘ اسی لئے آپ کو اردو نثر کا ’’ مجتہد ‘‘  مانا جاتا ہے۔

تصانیف:

لطائفِ غیبی ۔۔۔۔۔۔عودِ ہندی۔۔۔۔۔اردوئے معلّیٰ۔۔۔۔۔۔ نامہ غالب اور مکاتیبِ غالب  وغیرہ وغیرہ آپ کا مایہ ناز نثری سرمایہ ہے۔

تشریح:

مرزا غالب جدید خطوط نگاری کے بانی تسلیم کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے خط لکھنے کا جدید اور سادہ ترین انداز اختیار کیا اور مراسلے کو مکالمہ بنادیا۔

غالب اس فقرہ میں اپنی بے ساختہ پسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نواب صاحب تمہارے دادا ہیں ’تم ان کی اولاد کی اولاد ہو۔ اس لیے تمہیں چاہنا یا پسند کرنا فطری عمل  ہے لیکن میں تمہیں تمہاری خوبیوں کی وجہ سے پسند کرتا ہوں۔ تمہارے کردار اور شخصیت کا معترف ہوں۔ اس لیے میری محبت اور پسندیدگی بغیر کسی رشتے کے ہے۔

فقرہ  نمر۲۔

معانقہ و تعظیم جس طرح احباب میں اہم ہے وہ صورت ملاقات کی ہے۔

حوالہ :

درجہ بالا فقرہ  ’’ادیبوں کے خطوط ‘‘سے ماخوذ ہے۔ جس کے مصنف مرزااسداللہ غالب ہیں اور مکتوب الیہ میر مہدی مجروح ہیں جوان کے عزیز ترین شاگرد ہیں۔

تشریح:

غالب جدید خطوط نگاری کے بانی تسلیم کیے جاتے ہیں انہوں کے خط لکھنے کا جدید اور سادہ ترین انداز اختیار کیا اور مراسلے کو مکالمہ بنادیا ۔ انداز بر جستہ ہے۔

یہ فقرہ غالب نے میر مہدی مجروح کے نام خط میں تحریر کیا ہے جس میں وہ نواب رام پور کی قدردانی اور حسن سلوک کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر چہ میں ان کا وظفیہ خوار ہوں لیکن یہ ان کی محبت ہے کہ وہ مجھ سے بالکل دوستوں کی طرح برتاؤ کرتے ہیں۔ جس طرح دوست آپس میں گلے ملتے ہیں اور اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ اسی طرح نواب صاحب  بھی میرا استقبال خوش دلی اور اپنائیت سے کرتے ہیں۔ تعظیماَََ کھڑے ہوتے اور محبت میں گلے ملتے ہیں۔

فقرہ  نمر۳۔

اب بشرط حیات جریدہ بعد برسات جاؤں گا۔

تشریح:

یہ فقرہ ان کے مخصوص انداز کو ظاہر کرتا ہے ۔ وہ جب رام پور تشریف لے گئے تو اپنے ساتھ دوبھانجوں کو بھی لے گئے ۔ جن کی وجہ سے انہیں جلد لوٹنا پڑا جبکہ نواب رام پور نے انہیں روکنے کی بڑی کوشش کی ۔ موسم برسات اور آموں کا بھی لالچ دیا مگر مجھے لڑکوں نے بہت تنگ کیا۔ اکیلا انہیں بھیجنا درست نہ تھا۔ اس لیے واپس آگیا۔ اگر زندگی رہی تو موسم برسات کے بعد رام پور جاؤں گا اور زیادہ دن وہاں ٹھہروں گا۔

فقرہ  نمر۴۔

استاد کا مل نہ ہونے کے باوصف تم نے یہ کمال حاصل کیا آفرین صدآفرین۔

حوالہ :

درجہ بالا فقرہ  ’’ادیبوں کے خطوط ‘‘سے ماخوذ ہے۔ جس کے مصنف مرزااسداللہ غالب ہیں اور مکتوب الیہ مرزا امیرالدین  احمد خان ہیں ۔

تشریح:

غالب اس خط میں بڑی محبت اور خلوص کے ساتھ ابتدا میں لکھے ہوئے القاب کے معنی کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تمہارا انداز تحریر خوب ہے۔ اس خط میں غالب نے ان کے انداز تحریر کو نہ سراہا بلکہ حوصلہ بڑھایا ہے تاکہ مزید عمدہ تحریر کی طرف راغب ہوں ۔ پھر بھی وہ کہتے ہیں کہ تم ابھی اتنے ماہر نہیں ہواور نہ ہی زبان کو اچھی طرح جانتے ہو مگر پھر بھی جو کچھ تم نے تحریر کیا مجھے بہت پسند آیا۔ ابھی تمہارا تجربہ کم ہے۔ مزید مشق کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد ہی تمہاری تحریر میں جان پیدا ہوسکتی ہے۔

فقرہ  نمر۵۔

لیاقت عجب چیز ہے’ ساری عمر آدمی کو مسرت دینے والی چیز عسر اور یسر دونوں میں لیاقت ہے۔

حوالہ :

درجہ بالا فقرہ  ’’ادیبوں کے خطوط ‘‘سے ماخوذ ہے۔ جسے ڈپٹی نذیر احمد نے اپنے بیٹے بشیر کے نام تحریر کیا ہے۔

مصنف کا مختصر تعارف:

ڈپٹی نذیر احمد دہلوی سر سید کی کہکشاں کے سب سے روشن اور نمایاں ستارے ہیں۔آپ کے خطوط نصیحت آمیز اور معلوماتی ہیں ۔آپ کا اسلوبِ بیان  عالمانہ ، واعظانہ،ناصحانہ اور ادیبانہ ہے۔ شاہد احمد دہلوی  رقم طراز ہیں کہ ’’آپ اپنی تحریر میں محاورات کے روڑے نہیں بلکہ پہاڑ کھڑے کر دیتے ہیں۔ ‘‘

تصانیف:

مراۃ العروس۔۔۔۔۔ ایامیٰ۔۔۔۔۔ ابن الوقت۔۔۔۔۔ فسانہءِ مبتلا۔۔۔۔۔ توبۃالنصوح۔۔۔۔۔۔رویائے صادقہ۔۔۔۔۔۔امہات الامہ۔۔۔۔۔تعزیراتِ ہند  آپ کی مایہ ناز تصانیف ہیں۔

تشریح:

ڈپٹی نذیر احمد اپنے بیٹے کے نام نصیحت آموز خط میں لکھتے ہیں کہ ذہانت ’ شعور اور علم اللہ تعا لیٰ کی عطا کردہ نعمتیں ہیں جو ہر حال میں انسان کی مددگار رہتی ہیں۔ انسان اگر غربت کا شکار ہے تو اس کو صبر و شکر ’ قناعت سے جینے اور اپنے حالات کو بہتر بنانے میں رہنمائی کرتی ہے اور یہی خصوصیت خوشحالی کی تعلیمات میں ہے جو ہمیں حدود بتاتی ہیں جو اللہ نے ہمارے لیے اتاری ہیں یہ ساری زندگی انسان کوخوشیاں فراہم کرتی ہیں یعنی کہ انسان کی قابلیت میں خوشی اور آسودگی دونوں ہیں جو ہر حال مددگار اور کارآمد ہے جس سے انسان خوش و خرم رہتا ہے۔

فقرہ  نمر۶۔

اقتضائے ہمت یہ ہے کہ آدمی اَقران واَمثال میں ممتاز ہو۔

حوالہ :

درجہ بالا فقرہ  ’’ادیبوں کے خطوط ‘‘سے ماخوذ ہے۔ جسے ڈپٹی نذیر احمد نے اپنے بیٹے بشیر کے نام تحریر کیا ہے۔

تشریح:

ڈپٹی نذیر احمد اپنے بیتے کے نام خط میں لکھتے ہیں کہ انسان کو ہمیشہ باہمت ہونا چاہیے ۔ ہمت سے کام لے کر اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا چاہیے ۔ ان صلاحیتوں کو اس طرح استعمال کرنا چاہیے کہ اپنے زمانے کے لوگوں میں نمایاں ہو ۔ جو بھی کام کیا جائے وہ ایک کارنامہ ہو۔ دوسروں کے لیے نمونہ اور قابل تقلید ہو۔ اپنے زمانے کے لوگوں میں سر فہرست رہے اور یہ تب ہی ممکن ہے کہ جب انسان اپنی ہمت اور محنت سے کام لے۔

فقرہ  نمر۷۔

یعقوب صاحب کیا سائنس کے بھی آدمی ہوتے ہیں۔ ساری تباہیاں ان ہی حضرات کی بدولت تو ہیں۔

حوالہ :

درجہ بالا فقرہ  ’’ادیبوں کے خطوط ‘‘سے ماخوذ ہے جسے مولوی عبدالحق نے یعقوب صاحب  کے نام تحریر کیا ہے۔

مصنف کا مختصر تعارف:

مولوی عبدالحق کو ناقدین نے ’’بابائے اردو ‘‘ کے خطاب سے نوازا۔ ان کی تحریروں میں حالی کی سادگی ،شبلی کی رنگینی، نذیر احمد کی محاورہ بندی اور مرزا فرحت اللہ بیگ کے مزاح کا حسین امتزاج موجود ہے۔آپ کے خطوط لکھنے کا انداز نہایت سادہ ہے۔ آپ کے خطوط معلومات کا خزانہ معلوم ہوتے ہیں۔پیشِ نظر خط بھی اپنے ایک نیاز مند کو لکھا ہے،جسے مشاہیر کے خطوط چھاپنے کا نہایت شوق تھا۔

تصانیف:

چند ہمعصر ۔۔۔۔۔اردو کی ترقی میں صوفیائے کرام کا حصہ۔۔۔۔۔۔۔۔مقدمہ باغ و بہار۔۔۔۔۔۔خطاباتِ عبدالحق۔۔۔۔۔۔مقدماتِ عبدالحق۔۔۔۔۔۔۔نصرتی اور  قائدالغات وغیرہ  آپ کی مایہ ناز تصانیف ہیں۔

تشریح:

مولوی عبدالحق نے اپنے ایک دوست یعقوب صاحب کو یہ جملہ ان کے جملے کے جواب میں تحریر کیا ہے۔ ان کے دوست نے لکھا تھا اور کہا تھا کہ وہ سائنس کے آدمی ہیں۔ شاید ان کا مطلب ہو کہ ان کا تعلق سائنس کے مضامین سے ہے۔ مگر مولوی عبدالحق نے یہاں طنزیہ و مزاحیہ انداز میں دریافت کیا ہے کہ کیا سائنس کے بھی آدمی ہوتے ہیں۔ یعنی ان کا مطلب یہ بھی تھا کہ سائنس کے ماہرین میں انسانیت اور ہمدردی نہیں ہوتی اور شدید یہ بھی کہ سائنس کی بدولت جو چیزیں ایجاد ہوئی ہیں وہ انسانوں کے فائدے کی بجائے زیادہ تر نقصان دہ ثابت ہورہی ہیں۔ یہ خط اس وقت کا ہے جب دوسری عالمی جنگ کے اثرات کی وجہ سے تباہی پھیلی ہوئی تھی ۔ مثلاَََ سائنسی ایجاد کے تحت جو اسلحہ ایجاد کیا گیا تھا ایٹم بم وغیرہ اور ایٹم بم کی تباہ کاریوں سے بھلا کون واقف نہیں اس لیے مولوی عبدالحق نے لکھا ہے کہ آج کے دور میں تمام تر تباہیاں سائنسی ایجادات کی وجہ سے ہی ہورہی ہیں۔ اس لیے نہ تو سائنس اور نہ ہی سائنسدان انسانوں کے ہمدرد ہوسکتے ہیں۔اس لیے یہ سمجھنا کہ یہ ہماری بھلائی کے لیے ہیں ’ درست نہیں ہے۔

اقتباسات کی تشریحات

اقتباس نمر ۱۔

نواب صاحب مانع رہے اور منع کرتے رہے ۔ برسات کے آموں کا لالچ دیتے رہے’ مگر بھائی میں ایسے انداز سے چلا کہ چاند رات کے دن یہاں آپہنچا۔ یکشنبہ کو غَرَّہ  ماہِ مقدس ہوا، اسی دن سے ہر صبح کو حامد علی خاں کی مسجد میں جاکر جناب مولوی جعفر علی صاحب سے قرآن سنتا ہوں۔ شب کو مسجد جامع جاکر تراویح پڑْھتا ہوں۔ کبھی جو،جی میں آتا ہے تو وقت صوم ، مہتاب باغ میں جاکر روزہ کھولتا ہوں اور سرد پانی پیتا ہوں۔ واہ واہ کیا اچھی طرح عمر بسر ہوتی ہے۔

حوالہ:

درجہ بالا اقتباس ’’ادیبوں کے خطوط ‘‘سے ماخوذ ہے۔ جس کے مصنف مرزااسداللہ غالب ہیں اور مکتوب الیہ عزیز ترین شاگرد میر مہدی مجروح ہیں ۔

تشریح:

غالب اس فن پارے میں رام پور سے دہلی آنے کی وجہ لکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب میں رام پور تھا تو نواب صاحب نے مجھے بہت روکا۔ برسات کے آموں کا بھی لالچ دیا لیکن میں نہ  ٹھہرا۔ جبکہ آم میری کمزوری ہیں’ وہ رام پور سے اس طرح روانہ ہوئے کہ عین چاند رات کو دہلی پہنچ گئے۔ اگلے دن اتوار تھااور رمضان کی پہلی تاریخ ’ میں نے رمضان کا پروگرام اس طرح ترتیب دیا کہ صبح کو حامد علی کی مسجد میں جا کر مولوی جعفر علی سے قرآن پاک سنتا ہوں۔ رات کو جامع مسجد میں تراویح پڑھتا ہوں’ جب جی میں آتا ہے تو مہتاب باغ میں روزہ افطار کرتا ہوں۔ ٹھنڈاپانی پیتاہوں۔ اس طرح شب و روز بڑی اچھی طرح گزررہے ہیں۔

اقتباس نمر ۲۔

کلام اس میں ہے کہ نواب صاحب دوستانہ شاگردانہ رہتے ہیں، مجھ کو نوکر نہیں سمجھتے ۔ ملاقات بھی  دوستانہ رہی ۔ معانقہ و تعظیم جس طرح احباب میں رسم ہے وہ صورت ملاقات کی ہے۔ لڑکوں سے میں نے نذر دلوائی تھی۔ بس بہر حال غنیمت ہے۔ رزق کے اچھی  طرح ملنے کا شکر چاہتے، کمی کا شکوہ کیا۔

حوالہ:

درجہ بالا اقتباس ’’ادیبوں کے خطوط ‘‘سے ماخوذ ہے۔ جس کے مصنف مرزااسداللہ غالب ہیں اور مکتوب الیہ عزیز ترین شاگرد میر مہدی مجروح ہیں ۔

تشریح:

زیر نظر فن پارے میں غالب میر مہدی مجروح کو خط لکھ کر بتاتے ہیں کہ نواب صاحب رام پورا نہیں سو روپیہ ماہوار بطوروظیفہ بھیجتے ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ اگر میں رام پور میں رہوں تو دوسوروپے ماہوار بطور وظیفہ دیں گے مگر میں وہاں نہ ٹھہر سکا کیونکہ اہمیت روپیہ پیسہ کی نہیں ہوتی بلکہ عزت واحترام کی ہے کہ وہ میرا احترام دوست اور شاگرد کی طرح کرتے ہیں۔ ایسے قدردان نصیب والوں کوملتے ہیں۔ اس سلسلہ میں ’ میں خوش نصیت ہوں مگر میں یہاں اپنے ساتھ(اپنی بیوی کے بھانجے زین العابدین خاں عارف جن کو منہ بولا بیٹا بنا کر پالا تھا ’ وہ جوانی میں انتقال کر گئے ۔ ان کے دوبیٹے حسن علی خاں اور حسین علی خاں تھے) بھانجوں کو لے گیا تھا جن کی پرورش میرے ذمہ ہے۔ (رسم کے مطابق جب کوئی مہمان ملاقات کے لیے آتا ہے تو کوئی تحفہ دیتاہے) جسے نذر کرنا کہتے ہیں۔

غالب نے ان بچوں کے ذریعے نواب صاحب کو تحفے پیش کیے تھے مگران لڑکوں نے مجھے بہت تنگ کیا جس کی وجہ سے میں جلد دہلی آگیا جبکہ سوروپے ماہوار نقصان ہوا۔ خیر رزق ہویا روپیہ  پیسہ ’بس ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کیونکہ دینے والا وہی خالق ہے۔ اب اس وقت اپنے کمرے میں بیٹھا ہوں ’ خس کی ٹٹی لگی ہوئی ’ ٹھنڈی ہوا آرہی ہے۔ مٹکے میں ٹھنڈا پانی رکھا ہے۔ حقہ پی رہا ہوں ۔ خط لکھ رہا ہوں ۔ بھلا اس سے زیادہ مزے دار زندگی کیا ہوسکتی ہے۔ میر سر فراز حسین میرن صاحب اور میر نصیرالدین  کو دعا دینا۔

اقتباس نمر ۳۔

اے مردم چشم جہاں بین غالب !پہلے القاب کے معنی سمجھ لو ، یعنی چشم جہاں بینِ غالب کی پتلی ۔ چشم جہاں بینِ تمھارا باپ مرزا علاءالدین خان بہادر اور پتلی تم ۔ آج میں نے تمھارا خط دیکھا ۔ مجھ کو بہت پسند آیا۔ استاد کامل نہ ہونے کے باوصف تم نے یہ کمال حاصل کیا۔ آفرین صد آفرین۔

حوالہ:

درجہ بالا اقتباس ’’ادیبوں کے خطوط ‘‘سے ماخوذ ہے۔ جس کے مصنف مرزااسداللہ غالب ہیں اور مکتوب الیہ مرزا امین الدین خان بہادر ہیں ۔

تشریح:

غالب امیرالدین کو خط میں لکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ تمہارا باپ مرزا علاؤالدین جو  مجھے جان سے بھی زیادہ عزیز تھا اور تم اس کے نورعین یعنی آنکھوں کے نور ہو۔ اس کے بیٹے ہو۔ اس لیے تم بھی مجھے اتنے ہی عزیز ہو ۔ تمہارا طرز تحریر بہت عمدہ ہے۔ وہ یہاں تعریف کرتے ہیں اور ہمت و حوصلہ دلاتے ہیں کہ تمہاری تحریر اچھی ہے مگر اس میں ابھی پختگی کی کمی ہے۔ ابھی تمہیں اور زیادہ مشق کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ زیادہ لکھتے رہنے سے ہی تحریر میں پختگی اور گہرائی آتی ہے۔ ابھی تمہیں زیادہ مطالعہ کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ تم نے جو لکھا ہے مجھے پسند آیا۔ مزید محنت کرو۔ رفتہ رفتہ تمہاری عزیز اس سے بھی زیادہ بہتر ہوجائے گی۔

اقتباس نمر ۴۔

یہ بھی فیشن میں داخل ہوگیاہےکہ ہر کس و ناکس کے خط جمع کرکے شایع کر دیے جاتے ہیں اور غریب لکھنے والے کی خوب تشہیر کی جاتی ہے۔ نجی خط سب کے سب شایع کرنے کے قابل نہیں ہوتے ۔ کاتب بے تکلفی یا بے خیالی میں کچھ کا کچھ لکھ جاتا ہے۔ وہ صرف مکتوب  الیہ کے لیے ہوتا ہے۔ منظر عام پر لانے کے لیے نہیں ہوتا لیکن اسے کوئی نہیں دیکھتا۔ مشیخت کے مارے سب ہی خط چھاپ دیے جاتے ہیں۔

حوالہ :

درجہ بالا فقرہ  ’’ادیبوں کے خطوط ‘‘سے ماخوذ ہے جسے مولوی عبدالحق نے یعقوب صاحب  کے نام تحریر کیا ہے۔

تشریح:

مولوی عبدالحق اس خط میں تذکرہ کررہے ہیں کہ یہ آج کل نیا رواج  ہوگیا ہے کہ کسی کے خط جوان کے نام آئیں انہیں جمع کرکے چھاپ دیا جائے ۔ یہ بات انہیں نا گوار گزری ۔ انہوں نے لکھا۔ کاش وہ خط دیمک کھا جاتی تو زیادہ اچھا ہوتا۔ جو بھی کوئی خط لکھتا ہے وہ اکثر  ایسی باتیں بھی لکھ جاتا ہے جو قابل اشاعت نہیں ہوتیں ۔ جو صرف ذاتی ہوتی ہیں ۔ بعض اوقات رواروی میں ایسے جملے ادا ہوجاتے ہیں جو چھپنے کے بعد شرمندگی کا باعث بنتے ہیں کیونکہ اس وقت لکھنے والا صرف اپنی ذاتی رائے یا بات بیان کررہا ہوتا ہے۔ ہر ایک کے لیے وہ بات اتنی اہمیت نہیں رکھتی ۔ مجھے یہ نازیبا حرکت لگتی ہے۔

اقتباس نمر ۵۔

اگر تمھاری طرح مجھ کو ایک امیر باپ ملا ہوتا اور تمھاری طرح آسودگی اور عافیت مجھ کو حاصل رہی ہوتی ، جب کہ میری عمر حاصل کرنے کی تھی تو بشیر ! یقین جانو کہ آج میں یکتائے روزگار ہوتا کیوں کہ شکر ہے میرے سر میں اچّھا بھیجا رکھا گیاہے۔ لیکن مردِ خدا جو مجھ سے نہیں ہو سکا تم کرو۔

حوالہ :

درجہ بالا فقرہ  ’’ادیبوں کے خطوط ‘‘سے ماخوذ ہے۔ جسے ڈپٹی نذیر احمد نے اپنے بیٹے بشیر کے نام تحریر کیا ہے۔

تشریح:

یہ اقتباس ‘ڈپٹی نذیر احمد ’ کے خط سے لیا گیا ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے بشیر کو لکھا ۔ اس میں انہوں نے کچھ نصیحتیں فرمائی ہیں اور چند ایک مشورے بھی دئے ہیں۔ وہ اپنی تعلیم کاپس منظر بیان کرتے ہوئے بیٹے کو لکھتے ہیں کہ اگر مجھے تمہاری طرح ایک امیر  باپ ملا ہوتا اور تمہاری طرح مجھے خوشحالی اور راحت ملی ہوتی تو میں علم و فضل میں بے مثال ہوتا۔ پھر بھی اللہ کا شکر ہے کہ اس نے میرے سر میں ایک اچھا دماغ دیا۔ میرے بیٹے ! جو میں حاصل نہیں کرسکا وہ مقام تم حاصل کرو۔

٭٭٭

ہمت کرے انسان تو

فقرات کی تشریح

فقرہ  نمر۱۔

اللہ تعا لیٰ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ اپنی حالت خود بدلنے کا تہیہ نہ کرلے۔

حوالہ :

تشریح طلب فقرہ نصاب میں شامل سبق  ’’ ہمت کرے انسان تو ‘‘ سے لیا گیا ہے ۔ اس کے مصنف صحافی ،دانشور اور ماہرِ تعلیم ’’ تاج محمد صاحب  ‘‘ ہیں۔

مصنف کا مختصر تعارف:

تاج  محمد اسلام آباد میں وزارتِ تعلیم سے وابستہ ہیں۔اس وقت اسسٹینٹ ایجوکیشن ایڈوائزر کے عہدے پر فائز ہیں۔آپ نے طلباء کی فلاح وبہبود کیلئے کئی اصلاحی مضامین تخلیق فرمائے ہیں ،جن میں ایک مضمون  ’’ ہمت کرے انسان تو ‘‘ ہمارے نصاب میں شامل ہے۔

تصانیف:

 ہمت کرے انسان تو  وغیرہ وغیرہ آپ کے مایہ ناز مضامین ہیں۔

تشریح:

اس فقرے میں مصنف کہتے ہیں کہ حالات کبھی یکساں نہیں رہتے۔ ہر قوم عروج و زوال سے دوچار ہوتی ہے۔ اگر کوئی قوم تنزلی کا شکار ہوتی ہے تو ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے کہ حالات جلد سے جلد بہتر ہوجائیں لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جب تک انسان خود ذاتی طور پر اپنے حالات کو بدلنے کی جدوجہد نہیں کرے گا حالات تبدیل نہیں ہو سکتے ۔ محض آرزوئیں کرتے رہیں اور عمل نہ کریں تو کامیابی بالکل بھی ممکن نہیں۔ اللہ تعا لیٰ بھی انہی لوگوں کا ساتھ دیتا ہے جو کوشش اور جدوجہد کرتے ہیں۔

فقرہ  نمر۲۔

حرکت میں برکت ہے۔

تشریح:

اس فقرے میں مصنف کہتے ہیں کہ جو شخص صرف آرزو اور خواہش دل میں کرتا رہے صرف منصوبے بناتا رہے ، ان کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی جدوجہد نہ کرے وہ بھلا کیسے کامیاب ہو سکتا ہے اور اللہ تعا لیٰ اس کی کیسے مدد کرسکتا ہے۔ محنت میں عظمت ہے، کوشش کرنے سے پھل ملتا ہے اور محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ کوشش کرنے سے راستے بھی نکلتے ہیں اور رہنمائی کرنے والے بھی ملتے ہیں ۔ جس طرح گل خان نے محنت کی تو اسے صلہ بھی ملا۔ اللہ تعا لیٰ بھی فرماتا ہے۔

فقرہ  نمر۳۔

ہنر مند انسان اللہ کا دوست ہے۔

تشریح:

مذکورہ الفاظ گل خان نے سلائی مرکزکے دروازے پر لکھے ہوئے دیکھے جس سے وہ بے حد متاثر ہوا۔ ہنر مند انسان اس لیے اللہ تعا لیٰ کا دوست ہوتا ہے کہ اللہ تعا لیٰ کو محنت و مشقت سے حلال روزی کمانے والا بے  حد  پسند ہے ہنر مند انسان اپنے ہنر سے محنت کر کے رزق حلال کما سکتا ہے ایسا انسان خود دار ہوتا ہے اور اللہ کے سوا کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتا۔

فقرہ  نمر۴۔

ماں باپ دل ہی دل میں اس کی بلائیں لینے لگے۔

تشریح:

جب گل خان نے اپنے گھر کے حالات بدلنے کے لیے اپنے خیالات کا اظہار والدین سے کیا تو اس کے والدین اس کے عزم اور ذہانت سے بہت خوش ہوئے ۔ انہیں اس بات کی بڑی خوشی تھی کہ ابھی گل خان پر گھر کی کوئی ذمہ داری نہ تھی ، تب بھی وہ گھر کی خوشحالی  کے بارے میں فکرمند ہے اور چاہتا ہے کہ کسی طرح گھر کے افراد آسودگی کی زندگی گزاریں۔ اس کی اس سوچ سے وہ خوش تھے اور اسے محبت سے دیکھنے لگے۔

فقرہ  نمر۵۔

گل خان کے خواب حقیقت کا روپ دھار چکے تھے۔

تشریح:

گل خان جو ہر وقت اپنے گھر سے غربت دور کرنے اور خوشحالی کے خواب بنتا رہتا تھا۔ اس نے پورے عزم وہمت ، نیک نیتی کے جذبے اور لگن کے ساتھ کام کا آغاز کیا تو اللہ نے بھی کامیابی عطا کی ۔ اس کا کاروبار خوب چمکا ، اس کے خوابوں نے حقیقت کا روپ دھارلیا۔ گھر میں خوشحالی آئی ۔ بہن ہنرمند ہوئی اور ساتھ ساتھ گھر کی تمام پریشانیاں دور ہوگئیں۔

٭٭٭

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s