Notes -Set 1 (Matriculation)

اسباق کے سوالات و جوابات

سواال نمبر ۱۔       نواب نور محل نے خواب میں کیا دیکھا؟

جواب :             نواب نور محل نے خواب میں دیکھا کہ بہادر شاہ ظفر زنجیروں میں جکڑے ہوئے کھڑے ہیں ،اور ان سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ: ’’ آج ہم غریبوں کیلئے یہ کانٹوں بھرا خاک کا بچھونا فرشِ مخمل سے بڑھ کر ہے۔نور محل! گھبرانانہیں ،ہمت سے کام لینا۔تقدیر میں لکھا تھا کہ بڑھاپے میں یہ سختیاں برداشت کروں۔ذرا میری کلثوم کو دکھا دو ۔جیل جانے سے پہلے اسے دیکھوں گا۔‘‘

سوال نمبر ۲۔          قافلے میں شاہی خاندان کے کون کون لوگ موجود تھے؟

جواب:               قافلے میں شاہی خاندان کے کل پانچ افراد موجود تھے،جن میں تین عورتیں اور دو مرد تھے۔عورتوں میں کلثوم زمانی بیگم، نواب نور محل اور حافظ سلطان بادشاہ کی سمدھن تھیں۔مردوں میں میاں ضیا الدین  کلثوم زمانی بیگم کے خاوند  اور عمر سلطان بادشاہ کے بہنوئی تھے اور ایک ڈھائی سالہ بچی زینب زمانی بیگم شامل تھی۔

سوال نمبر ۳۔   کورالی گاؤں میں ان خانما برباد لوگوں پر کیا گزری؟

جواب:             کورالی گاؤں میں شاہی خاندان نے  اپنے گاڑی بان کے گھر پر قیام کیا۔ ایک دن تو خیریت سے گزر گیا،دوسرے دن گرد و نواح کے لوگوں نے ان کے قیمتی کپڑے اور جواہرات  لوٹ لئے۔ ان کے پاس ایک وقت کی روٹی کیلئے بھی پیسے نہ بچے۔

سوال نمبر ۴۔     بستی کون تھا ؟ اس نے شاہی خاندان کی کس طرح مدد کی؟

جواب:          ’’ بستی ‘‘ کورالی گاؤں کا ایک  کھا تا پیتا  آدمی تھا۔ کلثوم زمانی بیگم نے اسے بھائی کہ کر بلایا  تو اسنے بھی انہیں بہن سمجھا  اور آخری دم تک ساتھ نبھایا۔پہلے اپنی گاڑی میں اجاڑہ (ضلع میرٹھ ) ،پھر وہاں سے حیدر آباد لے گیا  اور تمام سفر ان کے ساتھ رہا۔

سوال نمبر۵۔  کلثوم زمانی بیگم کے رخصت ہوتے وقت بادشاہ نے کیا دعا مانگی؟

جواب :             ’’ خدا وند! یہ بے وارث بچے تیرے حوالے کرتا ہوں ۔یہ محلوں کے رہنے والے جنگل ویرانوں میں جاتے ہیں۔دنیا  میں ان کا کوئی یر و مددگار نہیں  رہا۔ تیمور کے نام کی عزت رکھیو اور ان بیکس عورتوں کی آبرو بچائیو۔ پروردگار ! یہی نہیں بلکہ ہندوستان کے تمام مسلمان اور ہندو میری اولاد ہیں اور آجکل سب پر مصیبت چھائی ہوئی ہے۔میرے اعمال کی شامت سے ان کو رسوا نہ کر اور سب کو پریشانیوں سے نجات دے۔‘‘

سوال نمبر ۵۔            اللہ تعالیٰ کس قوم کی حالت بدلتا ہے؟

جواب: اللہ عزوجل اسی قوم کی حالت بدلتا ہےجو اپنی حالت خود بدلنے کا تہیہ کر لیتی ہے۔ پاکستان کا حصول بھی اسی کاوش کا نتیجہ ہے۔

سوال نمبر ۶۔کس بات نے گل خان کو متاثّر کیا؟

جواب:گل خان کو سلائی مرکز کے صدر دروازے پر جلی حروف میں لکھی ہوئی اس عبارت نے متاثر کیا کہ ’’ ہنر مند انسان اللہ کا دوست ہے۔‘‘

سوال نمبر۷۔گل خان کے گھر کے حالات کس طرح  بدلے؟

جواب: گل خان کے گھر کے حالات  اس کی محنت سے بدل گئے۔اس نے ایک پولٹری فارم قائم کیا ، بہن کو سلائی مرکز میں داخل کرایا۔ پولٹری فارم  کی آمدنی نے اس کے گھر کے مردہ جسم میں نئی جان ڈالدی۔اس کی بہن سلائی مرکز سے فارغ ہو کر اپنے گاؤں میں کام کرنے لگی۔اس طرح اس کا خاندان خوشحال ہو گیا۔

سوال نمبر ۸۔گل خان اکثر   کیا  سوچتا  رہتا تھا ؟

جواب: گل خان اکژر سوچتا رہتا تھا  کہ کیا ان کے حالات کبھی نہیں بدلیں گے۔

سوال نمبر ۹ ۔ شروع شروع میں گل خان کے گھر کے حالات کیسے تھے؟

جواب: شروع شروع میں گل خان کے گھر کے حالات اچھے نہیں تھے۔اس کا خاندان غربت کا شکار تھا۔ اس کی اور اس کے اہلِ خانہ کی گزر بسر مشکل سے ہوتی تھی۔

سوال نمبر ۱۰۔سر سید احمد خان کی زندگی سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟

جواب :سر سید کی زندگی سے ہمیں درج ذیل سبق ملتا ہے۔

(i)قومی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیئے۔

(ii)درست بات کا اظہار کرنے میں کوئی مصلحت اور کسی قسم کا خوف نہیں ہونا چاہیئے۔

(iii)نیک مقصد کے حصول کیلئے کسی بھی قربانی سے دروغ نہیں کرنا چاہیئے۔

سوال نمبر ۱۱۔ سر سید احمد خان نے اسلام کی کیا  بے نطیر خدمت کی؟

جواب: ولیم میور کی  گستاخانہ کتاب  (لائف آف  محمد ﷺ ) کا ردّ   لکھ کر  اور مخالفین کو منہ توڑ جواب دے کر  سر سید نے اسلام کی بے نظیر خدمت سر انجام دی۔

سوال نمبر ۱۲۔ سر سید احمد خان  کی کوئی  زندہ دلی کا واقعہ بیان کیجئے ؟

جواب : ایک دفعہ ننگے سر بیٹھے  خربوزے کھا رہے تھے۔ایک بے تکلف دوست نے ان  کے سر پر چپت رسید کر دی۔وہ بھلا کہا ں چوکنے والے تھے۔ فوراً بولے ’’ بزرگوں نے سچ کہا ہے  کہ ننگے  سر کوئی چیز نہیں  کھانی چاہیئے،شیطان چپت مارتا ہے۔آج اس کاعملی تجربہ ہو گیا۔‘‘

سوال نمبر ۱۳۔ سر سید احمد خان کے کردار کی چند خوبیاں تحریر کیجئے؟

جواب: (i)مخالف قوتوں کا دلیری سے مقابلہ کرتے۔

(ii)تساہل اور کاہلی کو نزدیک بھی نہ پھٹکنے دیتے۔

(iii)بے ریائی اور صداقت سے ہمیشہ کام لیتے۔

(iv)محنت و مشقت سے کبھی جی نہ چراتے۔

سوال نمبر ۱۴۔ کم نظر  لوگ سر سید پر اکثر کیوں کرتے رہتے ہیں؟

جواب : سر سید پر تنقید کی دو وجوہات تھیں :

(الف)  آپ جدت پسند تھے  اور تقلید کے بالکل قائل نہ تھے۔آپ  بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ خیالات کو بدلنے پر زیادہ زور دیتے تھے۔

(ب)  مسلمان تعلیمی فقدان کے باعث آپ کے  عظیم الشان  مشن کی افادیت کو نہیں سمجھ پائے۔وہ ذاتی مفاد اور سطحی علم کی وجہ سے آپ  کو تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔

سوال نمبر۱۵۔چین میں اردو زبان کی مقبولیت کا اندازہ کن باتوں سے لگایا جا  سکتا ہے؟

جواب :چین میں اردو زبان کی مقبولیت کا اندازہ ان باتوں سے لگایا جا  سکتا ہے کہ وہاں کی یونیورسٹیوں میں با قاعدہ اردو کا شعبہ قائم ہے۔ اردو پڑھنے والے طلباء کی خاصی تعداد ہے۔مادام شان یون نے  بھی اردو ایک چینی سے پڑھی تھی۔’’افکار اور روزنامہ جنگ ‘‘وہاں باقائدگی سے پڑھےجاتےہیں۔لائیبریریوں  میں اردو کی ادبی کتب کا بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے۔

سوال نمبر ۱۶۔ پیکنگ (بیجنگ) یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کیا کچھ پڑھایا جاتا ہے؟

جواب:وہاں باقاعدہ اردو کا مکمل نصاب موجود ہے۔پہلا سبق ہی صدر ایوب کا دورہ چین پر ہے۔اس کے عِلاوہ جنگ اخبار کے اداریئے ، مضامین اور خبروں کو سائیکلواسٹائل کروا کر طلباء میں تقسیم کروا دیا جاتا ہے۔

سوال نمبر ۱۷۔چینی طلبہ و طالبات کی اردو دانی کے متعلق انشاء صاحب نے کیا لکھا ؟

جواب:چینی طلبہ و طالبات کی اردو دانی کے متعلق انشاء صاحب نے لکھا ہے کہ اکثر بڑی روانی سے اردو بولتے تھے اور بعض اٹک اٹک کر۔تذکیر وتانیث اور املاء میں طلباء ماہر تھے۔ان کا خط بھی بہت پختہ تھا۔

سوال نمبر ۱۸۔ حلاوہ کون تھی اور وہ اس قدرپریشان کیوں تھی؟

جواب : حلاوہ قاضی یحیٰ منصور کی ملازمہ تھی۔زبیر کی والدہ کے انتقال کے بعد اس نے زبیر کو اپنا دودھ پلا کر جوان کیا تھا۔لہٰذا وہ زبیر کی رضائی ماں تھی۔وہ اس لئے پریشان تھی کہ زبیر کو قتل کے جرم میں موت کی سزا ہوئی تھی۔

سوال نمبر ۱۹۔ زبیر کون تھا ؟اس نے کیا جرم کیا تھا؟

جواب: زبیر  قاضی  یحیی منصور کا اکلوتا بیٹا تھا۔اس نے رِقابت میں آکر ایک نوجوان جو کہ اس کےگھر کا مہمان تھا ،قتل کر دیا تھا۔

سوال نمبر ۲۰۔ ڈرامہ قرطبہ کا قاضی دینِ اسلام کی کس شان کو ظاہر کرتا ہے؟

جواب: ’’قرطبہ کا قاضی‘‘ اسلام مین عدل و انصاف کی اہمیت ،قانون کی اطاعت اور فرض شناسی کی شان کو ظاہر کرتا ہے۔

سوال نمبر۲۱۔قرطبہ کے قاضی کے کردار کی نمایاں خوبی کیا ہے؟

جواب: قاضی یحیٰ منصور کے کردار کی عظمت کا  اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہےکہ عدل و انصاف کو قائم رکھنے کیلئے اپنے خونی رشتے کی پرواہ  نہ کرتے ہوئے اپنے ہی بیٹے کو سولی پر لٹکا دیا۔یہ اس کے کردار کی نمایاں خوبی ہے۔

سوال نمبر ۲۲۔توصیف نے خواب میں کیا دیکھا؟

جواب : توصیف نے خواب میں دیکھا کہ کوئی شخص اس کے سامنے کھڑا کہ رہا ہے ’’خدا کا اصلی گھر تو بچھڑے ہوئے کلیم کی ما ں کا دل تھا، تونے اس کی مامتاکی قدر کی ۔تیرا بچہ تجھ کو مبارک ہو۔تونے ایک غریب ماں کو اس کا بچہ دلوا دیا ۔اٹھ تو بھی اپنے کلیم سے مل۔‘‘

سوال نمبر ۲۳۔ توصیف نے  اپنے سسرال والوں کا دل کس طرح جیتا؟

جواب:شوہر کی اطاعت اور فرمانبرداری،ساس سسر کی خدمت اور خوشنودی حاصل کرکے اس نے اپنے سسرال والوں کا دل جیت لیا۔

سوال نمبر۲۴۔توصیف سلطان اپنی شادی کے وقت یہ کیوں سوچ رہی تھی کہ اس شادی کا کامیاب ہونا مشکل ہے؟

جواب : توصیف غریب ماں باپ کی بیٹی تھی۔اس کی شکل و صورت بھی واجبی سی تھی۔اس کے برعکس اس کا  شوہر ایک کروڑ پتی باپ کا اکلوتا بیٹا ، بڑا وجیہ و شکیل نوجوان تھا ۔اس لئے اسے اس شادی کا کامیاب ہونا  مشکل نظر آرہاتھا۔

سوال نمبر۲۵۔ سبق  ’’توصیف کا خواب ‘‘ میں کونسے دو اہم نکات بیان کئے گئے ہیں؟

جواب :نکات مندرجہ ذیل ہیں:

(الف) اچھی سیرت اور اچھی تربیت  نا ممکن کو ممکن بنا دیتی ہے۔

(ب)  غریبوں کی مدد کرنا  اللہ عزوجل کے نزدیک  خانہ خدا کی تعمیر سے زیادہ افضل ہے۔

سوال نمبر ۲۶۔ علیم نے مقروض  خاندان کی کس طرح مدد کی؟

جواب: علیم نے اپنی قیمتی ٹوپی چھے روپے میں فروخت کرکے اور ایک روپیہ اپنی جیب سے ملا کر کل سات روپے خان صاحب کی بیوی کو دے کر اس مقروض  خاندان کی مدد کی۔

سوال نمبر ۲۷۔علیم کو سب سے زیادہ کس چیز نے متاثر کیا؟

جواب: جب خان صاحب   نے اپنے گھر کا سارا اثاثہ جمع کر لیا تب بھی قرض کی رقم پوری  نہ ہوئی تو اس کی بیوی اپنی بچی کی پتلی پتلی چاندی کی بالیاں اس کے کانوں سے اتارنے لگی اس  پر وہ بچی بڑی حسرت سے روئی۔علیم یہ  منظر دیکھ کر بہت متاثر ہوا ،کیوں کہ بچی اس کی بہن کی ہم عمر تھی۔

سوال نمبر ۲۸۔ بنیئے  نے خان صاحب پر ڈگری کیوں جاری کر وائی تھی؟

جواب:بنیئے  نے خان صاحب پراس لئے   ڈگری جاری کر وائی تھی کہ خان صاحب بار بار تقاضے کے با وجوداس  کا قرض ادا کرنے سے قاصر تھے۔

سوال نمبر ۲۹۔ پاکستان میں کون کون سی علاقائی زبانیں بولی جاتی ہیں؟

جواب :پاکستان میں پنجابی ،سندھی،پشتو،بلوچی،کشمیری، ہندکو، براہوی،گجراتی اور دیگر علاقائی زبانیں بولی جاتی ہیں۔

سوال نمبر۳۰۔ علاقائی زبانوں کی موجودگی میں قومی زبان کی کیا اہمیت ہے؟

جواب:علاقائی زبانیں صرف مخصوص علاقوں تک اپنا دائرہ اثر رکھتی ہیں لیکن قومی زبان پورے ملک کی ترجمان ہے اور پورے ملک بلکہ پورے خطے میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔لہٰذا رابطے کی زبان کی بنا ء پر اس کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے۔

سوال نمبر۳۱۔نظرئیہ پاکستان کا مفہوم کیا ہے؟

جواب: نظریہ پاکستان کا مقصد دنیا میں ایک ایسی مملکت قائم کرنا ہے جس کی بنیاد لآ الہٰ الا اللہ پر ہو، جہاں اسلامی زندگی اور اقدار کا تصور بنیادی حیثیت رکھتا ہو۔اخوت ،مساوات، عدل، دیانت انسانی ہمدردی اور عظمتِ کردار جس کی اساس ہو۔

سوال نمبر ۳۲۔ حضرت شاہ ولی اللہ ؒ کی تحریک کا کیا مقصد تھا؟

جواب:شاہ ولی اللہ ؒ کی تحریک کا مقصد مسلمانوں کی اخلاقی اور معاشرتی برایئوں کو  دور  کرنا اور مسلم اثر و اقتدار کو استحکام بخشنا تھا۔

سوال نمبر ۳۳۔ دنیا میں قومیت کی تشکیل کے دو بنیادی نظرئے کون کون سے ہیں؟

جواب: دنیا میں قومیت کی تشکیل کے دو بنیادی نظرئیے ہیں ۔ایک بنیاد تو وہ ہے جو مغربی مفکرین نے قائم کی ہے ،جو وطنی عصبیت پر مبنی ہےکہ قوم وطن سے بنتی ہے۔اسی محدود نظرئیے پر دو عالمی جنگیں لڑی جا چکی ہیں۔قومیت کی دوسری بنیاد وہ ہے جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ملت اسلامیہ کی تشکیل کرتے وقت قایم فرمائی۔یہ نظریاتی قومیت ہے جو لا الہٰ الا اللہ پر قائم ہے۔

سوال نمبر ۳۴۔ ٹھٹھہ کی درسگاہوں میں کون کون سے مضامین پڑھائے جاتے تھے؟

جواب: ٹھٹھہ کی درس گاہوں میں کئی مضامین پڑھائے جاتے تھے۔جن میں لسانیات،سیاسیات اور اسلامیات قابلِ ذکر ہیں۔

سوال نمبر ۳۵۔ شیخ فرید بکھری اپنی کتاب ’’ ذخیرۃالخوانین ‘‘ میں کیا لکھتے ہیں؟

جواب:شیخ فرید بکھری اپنی کتاب ’’ ذخیرۃالخوانین ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ  ’’ ٹھٹھہ کے اولیاء ،علماء اور شعراء کی گنتی محال ہے۔یہاں صرف و نحو ،دینیات اور شاعری عام ہے۔مختصر یہ کہ ٹھٹھہ کو عراقِ ثانی سمجھنا چاہیئے۔

سوال نمبر ۳۶۔ سندھ کے علم و فضل کے بارے میں کپتان ہملٹن نے کیا لکھا ہے؟

جواب: کپتان ہملٹن جو    ۱۶۹۹؁  میں ٹھٹھہ آیا تھا ، سندھ کے علم و فضل کے بارے میں لکھتا ہے۔کہ شہر ٹھٹھہ دینیات ،لسانیات اور سیاسیات کی تعلیم کیلئے شہرت رکھتا ہے۔اس شہر میں چار سو کالج ہیں  جہاں ان علوم کی تعلیم دی جاتی ہے۔

سوال نمبر ۳۷۔حضرت عا ئشہ ؓ نے حضورِ انور ﷺکے اخلاق کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا؟

جواب:حضرت عا ئشہ ؓ نے حضورِ انور ﷺکے اخلاق کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ “کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا ہے؟ جو کچھ قرآن میں ہے وہ  حضور ﷺ کے اخلاق ہیں۔”

سوال نمبر ۳۸۔قرآنِ پاک نے رسولِ کریم ﷺ کے متعلّق کیا شہادت دی ہے؟

جواب: قرآنِ پاک نے رسولِ کریم ﷺ کے  اخلاقِ  حمیدہ سے متعلّق شہادت دی ہے کہ   “اِنّکَ لَعَلٰی خُلُقِ عَظِیم “بیشک اے محمد ﷺ آپ حسنِ اخلاق کے اعلیٰ مقام پر فا  ئز ہیں۔”

سوال نمبر ۳۹۔رسولِ کریم ﷺ نے عورتوں کے مرتبےکو بلند کرنے کیلئے کیا ارشاد فرمایا؟

جواب:اسلام سے  قبل عرب معاشرے میں  عورت کا کوئی مقام نہیں تھا۔ اسے حقیر اور کمتر سمجھا جاتا تھااور جس عورت کے بطن سے لڑکی پیدا ہوتی اسے سخت سزا دی جاتی۔حضورِ اکرم ﷺ نے انہیں جائز مقام عطا کیا،ان کے حقوق مقرر فرمائے اور ان کے  حقوق ادا کرنے کی تاکید فرمائی۔مزید  فرمایا کہ ” جنت ماؤں کے قدموں تلے ہے۔”

سوال نمبر ۴۰۔ہبار بن الاسود کون تھا اور اس نے کیا جرم کیا تھا۔نیز آپ ﷺ نے اس کے ساتھ کیا سلوک کیا؟

جواب: ہبار بن الاسوَد حضورِ کریم ﷺ کی صاحبزادی حضرتِ زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا قاتل تھا۔فتح مکہ کے موقعے پر وہ سیدھا آپ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوااور اپنے جرائم کی داستان سنائی۔مگر آپ ﷺ نے اسے معاف  فرمادیا۔

سوال نمبر ۴۱۔ جب محمود غزنوی سومناتھ کا بت توڑنے لگا تو پجاریوں نے اس سے کیا کہا،اور اس نے کیا جواب دیا؟

جواب:پجاری محمود کے قدموں میں گر کر بت نہ توڑنے کی درخواست کرنے لگےاور بدلے میں کثیر مال و زر کی پیشکش کرنے لگے۔مگر اس نے جواب میں بڑا تاریخی جملہ کہا کہ ” میرے نزدیک بت فروش نام پانے سے بت شکن ہونا  بہتر ہے۔”

سوال نمبر۴۲۔محمود غزنوی نے تارا گڑھ کے قلعے پر حملہ کیو ں نہیں کیا؟

جواب: محمود غزنوی کی اصل منزل سومناتھ تھی۔ تاراگڑھ کے قلعے میں خدا جانے کتنے دن لگ جاتے اور کیا پیش آتا۔اس لئے انہو ں  نے اس قلعے پر حملہ نہیں کیا۔

سوال نمبر۴۳۔ بوڑھا اپنے ماضی پر کیوں افسوس کر رہا تھا؟

جواب:اس بوڑھے نے اپنی گزری ہوئی زندگی میں کوئی بھی قومی بھلائی کا کام سر انجام نہیں دیا تھا۔جو تھوڑے بہت نیکی اور بھلائی کے کام کئے تھے تو وہ بھی اپنے فائدے کیلئے کئے تھے۔لہٰذا اب وہ اپنے ماضی پر سخت افسوس  کر رہا تھا۔

٭٭٭

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s