Notes-Set 2 (Matriculation)

اسباق کے مرکزی خیالات

سر سید احمد خان (سبق: گزرا ہوا زمانہ)

مصنف کا مختصر تعارف:

ناقدین نے سر سید احمد خان کو انیسویں صدی کا عظیم مصلح قوم تسلیم کیا ہے۔’’مولانا الطاف حسین حالی ‘‘ نے  اپنی مشہور سوانحی تصنیف ’’ حیاتِ جاوید ‘‘ میں آپ کو ’’ جدید اردو نثر کا بانی قرار دیا ہے۔آپ کا طرزِ تحریر سادہ ،سلیس، عام فہم،با مقصد اور قومی بھلائی سے مالا مال ہے.

تصانیف:

آثارالصنادید۔۔۔۔۔۔رسالہ اسباب بغاوتِ ہند۔۔۔۔۔۔۔تصحیح آئینِ اکبری۔۔۔۔۔۔ تاریخ  سرکشیءِ بجنور۔۔۔۔۔۔۔رسالہ تہذیب الاخلاق۔۔۔۔۔احکام الصلوٰۃ ۔۔۔۔۔۔خطباتِ احمدیہ  وغیرہ وغیرہ آپ کی مایہ ناز تصانیف ہیں۔

سبق کا مرکزی خیال:

اس سبق کا مرکزی خیال کچھ یوں ہے کہ انسان کو اپنی زندگی بے مقصد  کاموں میں صرف نہیں کرنی چاہیئے۔حصولِ تعلیم کے بعد قومی بھلائی اور  اصلاحی کاموں کی جانب اپنی توجہ مبذول رکھنی چاہیئے۔ بندگی کا اصل محور قومی بھلائی کے کاموں میں مضمر ہے۔   

٭٭٭

مولانا محمد حسین آزاد  (سبق: سومناتھ کی فتح)

مصنف کا مختصر تعارف:

مولانا محمد حسین آزاد اردو ادب کے پہلے انشاء پرداز ہیں ۔۱۸۶۴؁  میں آپ نے جدید شاعری کی بنیاد رکھی۔آپ نے اردو ادب کو ’’دلہن ‘‘ کی طرح سجایا ۔آپ بہترین تمثیل نگار ہیں،اسی لئے علامہ شبلی نعمانی آپ کے متعلق رقم طراز ہیں۔ ’’آزاد گپ مار دیں تو وحی معلوم ہوتی ہے۔‘‘آپ کا طرزِ تحریر دلکش ،مقفع و مسجع اور اپنے اندر ایک خاص تنوع لئے ہوئے ہے، جو عام  قاری کی دسترس سے باہر ہے۔

تصانیف:

نیرنگ خیال ۔۔۔۔۔آبِ حیات۔۔۔۔۔سخندانِ فارس۔۔۔۔۔۔آئینِ اکبری  اور بچوں کی درسی کتابیں  وغیرہ وغیرہ آپ کی مایہ ناز تصانیف ہیں۔

سبق کا مرکزی خیال:

اس سبق کا مرکزی خیال کچھ یوں ہے کہ  مسلمان دین کی سر بلندی کیلئے کفر کے میدانوں میں ہمیشہ سینہ سِپر رہتا ہے۔محمود غزنوی اور ان کے سپاہیوں نے بھی اسی  جذبے کے تحت ہندوستان پر حملہ کیا  اور اللہ عزوجل نے انہیں شاندار کامیابی عطا فرمائی۔ شکست کے بعد  پجاریوں نے سلطان کو طرح طرح کے لالچ دیئے  تا کہ وہ ان کے پرماتما کے بت کو نہ توڑے، مگر محمود نے رِضائے الٰہی کی خاطر بت فروش نام پانے سے بت شکن ہونا بہتر سمجھا۔

٭٭٭

علامہ سید سلیمان ندوی  (سبق: رسولِ اکرم ﷺکے اخلاق)

مصنف کا مختصر تعارف:

علامہ سید سلیمان ندوی ایک جید عالم ،بہترین ادیب  اور بلند پایہ محقق و  موءَرخ  ہیں ۔آپ کا سب سے بڑا کارنامہ سیرۃالنبیﷺ کی چار جلدیں  مکمل کرنا ہے۔چونکہ آپ  علامہ شبلی کے ہونہار شاگرد ہیں ،اسی لئے اعلیٰ پائے کے ماہرِ تعلیم بھی ہیں۔آپ کا طرزِ تحریر سادہ ،دلنشین اور عالمانہ ہے،جو قاری کے دل میں فوراَ َ گھر کر جاتا ہے۔

تصانیف:

سیرۃالنبیﷺ کی چار جلدیں ۔۔۔۔۔۔۔۔سیرِ افغانستان۔۔۔۔۔۔رحمتِ عالم ﷺ ۔۔۔۔۔۔عربوں کی جہاز رانی۔۔۔۔۔۔۔

امام مالک ؒ ۔۔۔۔۔۔۔نقوشِ سلیمانی اور خیام وغیرہ وغیرہ   آہ کی مایہ ناز تصانیف ہیں۔

سبق کا مرکزی خیال:

اس سبق کا مرکزی خیال کچھ یوں ہے کہ رسولِ مقبول ﷺ اخلاق کے بلند ترین مرتبے پر فائز ہیں ۔ قرآنِ مجید  نے اس کی شہادت دی ہے ۔آپ ﷺ تمام انسانوں کیلئے بہترین نمونہ ہیں ۔خاص طور پر مسلمان آپ ﷺ کے سیرتِ طیبہ کے اصولوں کو اپنا کر ایک فلاحی اور کامیاب زندگی گزار سکتے ہیں۔

٭٭٭

مولانا غلام رسول مہر  (سبق: سندھ میں علم و فضل)

مصنف کا مختصر تعارف:

مولانا غلام رسول مہر  صحافی ،شاعر، مؤرخ،محقق اور ادیب سب کچھ ہیں ۔آپ تحریکِ پاکستان کے سر گرم کارکن ہیں۔آپ کی تحریر میں ادب کی چاشنی کے ساتھ ساتھ ایک خاص ٹھہراؤ بھی ہے۔آپ کا اسلوبِ نگارش  سادہ ،سلیس  ، عام فہم  اور دل میں اتر جانے والا ہے۔

تصانیف:

سیرتِ سید احمد شہید۔۔۔۔۔۔شرحِ غالب۔۔۔۔شرحِ اقبال وغیرہ وغیرہ آپ کی مایہ ناز  تصانیف ہیں۔

سبق کا مرکزی خیال:

اس سبق کا مرکزی خیال کچھ یوں ہے کہ سندھ کی زمین ہمیشہ علم و ادب کا کرکز رہی ہے۔کلہوڑوں نے اپنے دورِ حکومت میں جو علمی کارنامے  سر زمینِ سندھ میں  سر انجام دئے ،وہ کسی طرح بھی اندلس(اسپین) اور بغداد کی علمی ترقی سے کم نہ تھے،جس کی شہادت کپتان ہملٹن اور فرید بکھری جیسے سیاحوں نے دی ہے۔مصنف ان علمی کارناموں سے طلباء کو روشناس  کرانا چاہتا ہے۔

٭٭٭

ڈاکٹر غلام  مصطفیٰ خان(سبق: نظریئہ پاکستان)

مصنف کا مختصر تعارف:

اردو ادب میں ڈاکٹرغلام  مصطفیٰ خان کثیر التصانیف بزرگ تسلیم کئے جاتے ہیں ۔آپ نے ’’ ناگپور یونیورسٹی (بھارت) ‘‘ سے فارسی میں پی ۔ایچ۔ ڈی ،اور اردو میں  ڈی ۔لٹ۔ کی ڈگریاں حاصل کیں۔آپ ساری زندگی شعبہءِ تعلیم سے وابستہ رہے۔اپنے آخری دور میں سندھ یونیورسٹی کے شعبہءِ اردو کے ’’ صدر ‘‘ کی حیثیت سے سبکدوش ہوئے۔

تصانیف:

حالی کا ذہنی ارتقاء۔۔۔۔۔فارسی پر اردو کا اثر۔۔۔۔۔۔علمی نقوش۔۔۔۔۔حضرتِ مجدد الف ثانی ؒ  ۔۔۔۔۔۔اقبال اور قرآن وغیرہ وغیرہ آپ کی مایہ ناز تصانیف ہیں۔

سبق کا مرکزی خیال:

اس سبق کا مرکزی خیال   کچھ یو ہے  کہ مغرب نے قومیت کی بنیاد جغرافیائی حدود پر استوار کیں ،جبکہ مسلمانوں کی قومیت کی بنیاد لا الٰہ الاللہ پر قائم ہے۔پاکستان کا قیام بھی اس نظرئیے کے تحت وجود میں آیا تھا۔اب ہمارا فرض ہے کہ پاکستان کو ایک فلاحی اور مکمل اسلامی ریاست بنائیں ۔یہ جب ہی ممکن ہے کہ ہم ذاتی مفاد کو اپنے قومی مفاد کی خاطر قربان کر دیں ۔قومی بھلائی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اپنے اخلاق کو اسلامی اصولوں کے مطابق ڈھال لیں  

٭٭٭

ڈپٹی نظیر احمد دہلوی (سبق: سچی ہمدردی)

مصنف کا مختصر تعارف:

ڈپٹی نذیر احمد دہلوی سر سید کی کہکشاں کے سب سے روشن اور نمایاں ستارے ہیں۔عناصرِ خمسہ میں شامل اس شخصیت کو            ۱۸۸۷؁ میں سرکارِ برطانیہ نے ’’ شمس العلماء ‘‘ کے خطاب سے نوازا۔ایڈنبرا یونیورسٹی نے آپ کو  ’’ڈی ۔او۔ایل۔‘‘ کی اعزازی ڈگری سے نوازا۔ آپ کا اسلوبِ بیان  عالمانہ ، واعظانہ،ناصحانہ اور ادیبانہ ہے۔ شاہد احمد دہلوی  رقم طراز ہیں کہ ’’آپ اپنی تحریر میں محاورات کے روڑے نہیں بلکہ پہاڑ کھڑے کر دیتے ہیں۔ ‘‘

تصانیف:                                                                                                                                                                            مراۃ العروس۔۔۔۔۔ ایامیٰ۔۔۔۔۔ ابن الوقت۔۔۔۔۔ فسانہءِ مبتلا۔۔۔۔۔ توبۃالنصوح۔۔۔۔۔۔رویائے صادقہ۔۔۔۔۔۔امہات الامہ۔۔۔۔۔تعزیراتِ ہند  آپ کی مایہ ناز تصانیف ہیں۔

سبق کا مرکزی خیال:

اس سبق کا مرکزی خیال کچھ یوں ہےکہ انسانی بھلائی اور ہمدردی ہی انسانی زندگی کا مقصد ہے۔اس عمل سے ہی سچی خوشی اور دلوں کا  چین حاصل ہوتا ہے۔اگر کوئی شخص صاحب ِ حیثیت ہے، تو اسے چاہیئے کہ وہ مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرے۔نیکی کو اپنی شہرت کا ذریعہ نہ بنائے۔علیم نے بھی اسی نظرئے کے تحت اس غریب خاندان کی مدد کی تھی۔

آپ ﷺ کا ارشادِ پاک ہے:

’’ تم میں سے بہترین شخص وہ ہے،جو دوسروں کو نفع پہنچائے۔‘‘

٭٭٭

سبق: توصیف کا خواب از علامہ راشد الخیری (مرکزی خیال)

مصنف کا مختصر تعارف:

علامہ راشد الخیری رشتے میں ڈپٹی نذیر احمد کے بھتیجے ہیں ۔لہٰذا اپنے مضامین کی اصلاح کیلئے اپنے پھوپھا ہی کا انتخاب کیا۔ آپ نے عورتوں کیلئے پوری زندگی وقف کی ۔اسی لئے ناقدین نے آپ کو  ’’عورتوں کا سرسید ‘‘ قرار دیا۔ آپ نے ساری زندگی عورتوں کے حقوق کیلئے آواز بلند کی۔اس محنت پر آپ کو ’’ مصورِ غم ‘‘ کے خطاب سے نوازا گیا۔

تصانیف:

صبح زندگی۔۔۔۔ شام زندگی۔۔۔۔۔ عروسِ کربلا ۔۔۔۔۔۔ ماہ ِعجم۔۔۔۔۔۔۔ سمرنہ کا چاند۔۔۔۔۔۔زہرہ ِ مغرب آپ کی یاد گار تصانیف ہیں۔

سبق کا مرکزی خیال:

اس سبق کا مرکزی خیال کچھ یوں ہےکہ انسان  خدمت ،محبت اور حسنِ خلق سے بڑے بڑے فراعین کے دل جیت لیتا ہے۔جیسے توصیف جو صرف نیک سیرت اور تعلیم کے زیور سے آراستہ تھی،مگر رنگت اورجوبن کا نہ ہونا، غریب ہونا اس کے مقدر میں تھا،لیکن اس کے باوجود اس نے اپنے شوہر موسیٰ کی اطاعت اور سسرال والوں کی تا بعداری سےان کے دل میں گھر کرلیا۔وہ موسیٰ جس نے کبھی خدا کے سامنے سر نہ جھکایا تھا ،آج بیوی کا کلمہ پڑھ رہا تھا۔حاصلِ کل یہ کہ جو شخص اپنے حسنِ اخلاق سے دوسروں کی خدمت سر انجام دیتا ہے، کامیابی اس کے قدم چومتی ہے۔

سبق کا مرکزی خیال:

اس سبق کا مرکزی خیال کچھ یوں ہے کہ حقیقی  خوشی اور کامیابی  تعلیم اور بے لوث خدمت میں مضمر ہے۔خوش خلقی اور خدمت سے کٹر سے کٹر پتھر دل انسان کو بھی نرمایا  جا  سکتا ہے۔جس طرح توصیف نے بد صورت  اور غریب  ہونے کے با وجود  موسیٰ جیسے مُتَمَوِّل اور خوبرو شخص کے دل میں اپنی تعلیم ،سگھڑ پن اور بے لوث خدمت سےگھر کرلیا۔

٭٭٭

 

خواجہ حسن نظامی (سبق: بنتِ بہادر شاہ)

مصنف کا مختصر تعارف:

ناقدین نے بلا شرکت غیرے آپ کو ’’ مصورِ فطرت ‘‘ تسلیم کیا ہے۔آپ حضرت نظام الدین اولیاء ؒ کے خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں ۔سولہ برس کی عمر میں ’’ہمدرد ‘‘ اخبار پڑھ کر لکھنا شروع کیا۔ آپ کا پہلا مضمون   ‘‘ انڈیا کی نازک حالت’’   ۱۸۹۷؁ میں اسی اخبار میں چھپا۔آپ کی پہلی کتاب   ‘‘مفلسی کا مجرب علاج ’’ ۱۹۰۰؁ میں شائع ہوئی۔ سلاست و روانی ،شگفتہ نگاری،اسلوب کی جدت،اختصار پسندی  اور درد و غم آپ کی تحریر کی  نمایاں خصوصیات ہیں۔                                                                              

  تصانیف:

                                             بیگمات کے آنسو ۔۔۔۔۔مفلسی کا مجرب علاج۔۔۔۔۔۔۔سیپارہءِ دل۔۔۔۔۔انگریزوں کی بپتا۔۔۔۔۔غدر کی صبح وشام۔۔۔۔۔ غدر دہلی کے افسانے۔۔۔۔۔۔۔محرّم نامہ۔۔۔۔۔۔ میلاد نامہ۔۔۔۔۔۔۔کرشن بیتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔چٹکیاں گدگدیاں اور جگ بیتی کہانیاں وغیرہ آپ کی مایہ ناز تصانیف ہیں۔

سبق کا مرکزی خیال:

اس سبق کا مرکزی خیال کچھ یوں ہے کہ سر زمین ِ ہند پر مسلمان تقریباَ ایک ہزار سال تک حکمراں رہے،مگر انقلابِ زمانہ سے محفوظ نہ رہے۔ کس طرح گردش ِ زمانہ نے بہادر شاہ ظفر کی حکومت ختم ہونے کے بعد شاہی خاندان پر کیسے کیسے مظالم ڈھائے ۔اپنے بزرگوں کی بد اعمالیوں کی سزا ،اس شاہی خاندان کو بھگتنا پڑی۔ یعنی جو کل تک اس سر زمین کےلوگوں کی قسمت کے تنہا مالک  تھے۔ اب وہی زمین ان پر تنگ تھی۔جب تک اسلامی قانون  اور اصولوں پر وہ کاربند رہے کامیابی ان کا مقدر رہی ۔جوں ہی وہ دین سے دور ہوئے ذلت ان کا مقدر بن گئی۔

٭٭٭

سبق: قرطبہ کا قاضی از سید امتیاز علی تاج (مرکزی خیال)

مصنف کا مختصر تعارف:

امتیاز علی تاج جدید ڈرامہ نگاری کے ماتھے کا جھومر ہیں۔آپ کے والدین خود معروف ادیب تھے۔زمانہءِ طالبعلمی میں آپ نے رسالہ ’’کہکشاں ‘‘ جاری کیا۔ صرف بائیس (۲۲) سال کی عمر میں اپنا لافانی ڈرامہ ’’انارکلی ‘‘ تخلیق کیا ۔آپ کا طرزِ تحریر روزمرّہ اور محاورات کی چاشنی سے مزیّن ہے۔ تحریر دلکش ،شگفتہ اور سادہ ہے ،جو براہِ راست قاری کے دل پر اثر کرتی ہے۔

تصانیف:

آپ نے ریڈیو اور فلم کیلئے کئی ڈرامے تخلیق کئے۔انارکلی۔۔۔۔۔محاصرہءِ غرناطہ ۔۔۔۔۔۔چچا چھکن۔۔۔۔۔قرطبہ کا قاضی۔۔۔۔۔۔آرام و سکون اور ہیبت ناک  آپ کی مایہ ناز تصانیف ہیں۔

سبق کا مرکزی خیال:

اس سبق  میں سید امتیاز علی تاج نے مسلمانوں کے اسلاف کے عدل و انصاف کا نقشہ کھینچا ہے۔ اس سبق کا مرکزی خیال کچھ یوں ہے کہ قاضی یحیٰ منصور کے بیٹے زبیر نے اپنے مہمان کو قتل کر دیا۔اسے قانون کے مطابق سزائے موت کا حکم ہوا۔عبداللہ اس کی بیوی حلاوہ اور ان کے حواریوں نے اس سزا کی سخت مخالفت کی۔یہاں تک کہ سرکاری کارندوں تک نے پھانسی کی سزا پر عملدرآمد کر نے سے صریحاََ انکار کردیا۔چنانچہ اسلامی عدل و انصاف کی بالا دستی قائم رکھنے کیلئے خود قاضی کو یہ کا م انجام دینا پڑا۔

٭٭٭

شیر محمدخان ابنِ انشاء (سبق: چین میں ایک دن اردو کے طالب علموں کے ساتھ)

مصنف کا مختصر تعارف:

شیر محمد ابنِ انشاء اپنے زمانے کی بڑی مشہور شخصیت ہیں ۔آپ بیک وقت ادیب ،شاعر، کالم نگار اور ممتاز صحافی ہیں۔کئی اخبارات میں ہلکے پھلکے مزاحیہ کالم لکھتے رہے۔نیشنل بک فاؤنڈیشن کراچی کے ڈائیریکٹر مقرر ہوئے۔یونیسکو کے مشیر کی حیثیت سے متعدد یورپی ممالک کا دورہ کیا ،وہاں کے تجربات بھی قلمبند کئے۔سلاست وروانی ،مشاہدے کی گہرائی،منظر نگاری اور واقعات کی دلکشی آپ کی تحریر کی نمایاں خوبیاں ہیں۔

تصانیف:

چاند نگر(پہلا نظموں ،گیتوں اور غزلوں کا مجموعہ)۔۔۔۔۔۔۔۔’’اس بستی کے اک کوچے میں‘‘ (دوسرا نظموں ،گیتوں اور غزلوں کا مجموعہ)۔۔۔۔۔۔اردو کی آخری کتاب۔۔۔۔۔۔۔۔خمارِ گندم ۔۔۔۔۔دنیا گول ہے۔۔۔۔۔۔چلتے ہو تو چین کو چلئے(سفرنامہ) ۔۔۔۔۔۔۔۔آوارہ گرد کی ڈائری(سفر نامہ)۔۔۔۔۔۔ابنِ بطوطہ کے تعاقب میں۔۔۔آپ کی مایہ ناز تصانیف ہیں۔

سبق کا مرکزی خیال:

اس سبق کا مرکزی خیال کچھ یوں ہے کہ ہمسایہ ملک چین میں عوام کو اردو زبان سے بڑا انس ہے ۔پیکنگ یونیورسٹی کے طلباء ذوق و شوق سے اردو سیکھتے ہیں اور بڑی روانی سے اردو بولتے ہیں ۔تعجب کی بات یہ ہے ان سب طلباء نے اردو زبان اپنے چینی اساتذہ سے ہی سیکھی ہے ۔

٭٭٭

ڈاکٹر مولوی عبدالحق (سبق: سر سید احمد خان)

مصنف کا مختصر تعارف:

مولوی عبدالحق کو ناقدین نے ’’بابائے اردو ‘‘ کے خطاب سے نوازا۔ آپ زمانہ ءِ  طالب علمی سے ہی کافی سنجیدہ اور گہری فکر و سوچ کے حامل تھے۔اسی لئے یونیورسٹی کے زمانے میں  ’’فلسفی عبدالحق‘‘مشہور رہے۔ساری زندگی ’’اردو کی خدمت ‘‘ ان کا اولین مقصد رہا۔ان کی تحریروں میں حالی کی سادگی ،شبلی کی رنگینی، نذیر احمد کی محاورہ بندی اور مرزا فرحت اللہ بیگ کے مزاح کا حسین امتزاج موجود ہے۔

تصانیف:

چند ہمعصر ۔۔۔۔۔اردو کی ترقی میں صوفیائے کرام کا حصہ۔۔۔۔۔۔۔۔مقدمہ باغ و بہار۔۔۔۔۔۔خطاباتِ عبدالحق۔۔۔۔۔۔مقدماتِ عبدالحق۔۔۔۔۔۔۔نصرتی اور  قائدالغات وغیرہ  آپ کی مایہ ناز تصانیف ہیں۔

سبق کا مرکزی خیال:

٭٭٭

مزاح نگار’’ سید احمد شاہ پطرس بخاری ‘‘(سبق: ہاسٹل میں پڑھنا)

مصنف کا مختصر تعارف:

پطرس بخاری خالص مزاح کے علمبردار تھے۔آپ بڑے طباع اور نکتہ سنج ادیب تھے۔آل انڈیا ریڈیوکے ڈائیریکٹر جنرل بنے۔قیامِ پاکستان کے بعد  گورنمنٹ کالج لاہور کے پرنسپل ہوئے ،بعدازاں پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کے مستقل نمائندےبن کر امریکہ گئے۔مدتِ ملازمت ختم ہونے کے بعد یو۔این۔او۔کے ڈپٹی سیکریٹری منتخب ہوئے۔آپ کی تحریر میں شوخی اور پرکاری کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔

تصانیف:

مرحومہ کی یاد میں۔۔۔۔۔۔لاہور کا جغرافیہ۔۔۔۔۔۔۔۔مرید پور کا پیر۔۔۔۔۔۔کتے۔۔۔۔۔۔ہاسٹل میں پڑھنا  ان کے بہترین مضامین ہیں ، جو مضامینِ پطرس کے  نام سے شائع ہو چکے ہیں۔

سبق کا مرکزی خیال:

اس سبق کا مرکزی خیال کچھ یوں ہے کہ  پطرس بخاری نے بڑے مزاحیہ اور دلچسپ پیرائے میں  طلباء کے اس طبقے کی ترجمانی کی ہے  جو پڑھائی کو تفریحِ طبع کا ذریعہ گردانتے ہیں ۔ بعض طلباء جو کہ امیر ہوتے ہیں ہوسٹل میں قیام کر کے زندگی کے مزے لوٹنا چاہتے ہیں۔  

٭٭٭

سید ابوالخیر کشفی(سبق: پہلا قدم شرط ہے)

مصنف کا مختصر تعارف:

سید ابالخیرکشفی  ۱۹۳۱ ؁  میں کانپور میں پیدا ہوئے۔۱۹۷۸ ؁ میں آپ نے کراچی یونی ورسٹی سے پی۔ایچ۔ ڈی۔ کی ڈگری حاصل کی۔آپ بیک وقت ماہرِ تعلیم ،صحافی،محقق اور کالم نگار ہیں۔آپ نے’’ الاسام ‘‘کے نام سے ایک رسالہ بھی جاری کیا۔آپ کراچی یونیورسٹی میں شعبہ اردو کے صدر بھی رہے۔امریکہ اور جاپان میں بھی آپ نے تدریسی خدمات انجام دیں۔آپ کا اسلوب صاف ۔رواں،دلچسپ اور سنجیدگی سے پر ہے۔ مقصدیت آپ کی تحریروں کا خاص جوہر ہے۔

تصانیف:

رسالہ الاسلام۔۔۔۔۔۔۔پہلا قدم شرط ہے اور دیگر مضامین بھی مختلف اخبارات میں چھپ چکے ہیں ۔

سبق کا مرکزی خیال:

اس سبق کا مرکزی خیال کچھ یوں ہے کہ  لوگوں کو رزقِ حلال  خاصل کرنا چاہیئے۔ مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کو بھی سماجی  کاموں میں عملی حصہ لینا چاہیئے۔اس سلسلے میں مصنف کی بیگم نے عملی کام کا آغاز کیا دیکھتے ہی دیکھتے گھریلو صنعتیں قائم ہو گئیں ۔شفا خانہ اور کتب خانہ بھی قائم ہوگیا ۔ اس طرح ایک چھوٹا سا محلہ اپنے اخراجات میں خود کفیل اور آسودہ حال ہو گیا ۔یہ سچ ہے کہ پہلا قدم شرط ہے ۔

٭٭٭

 

تاج محمد(سبق: ہمت کرے انسان تو)

مصنف کا مختصر تعارف:

تاج  محمد اسلام آباد میں وزارتِ تعلیم سے وابستہ ہیں۔اس وقت اسسٹینٹ ایجوکیشن ایڈوائزر کے عہدے پر فائز ہیں۔آپ نے طلباء کی فلاح وبہبود کیلئے کئی اصلاحی مضامین تخلیق فرمائے ہیں ،جن میں ایک مضمون  ’’ ہمت کرے انسان تو ‘‘ ہمارے نصاب میں شامل ہے۔

تصانیف:

 ہمت کرے انسان تو  وغیرہ وغیرہ آپ کے مایہ ناز مضامین ہیں۔

سبق کا مرکزی خیال:

اس سبق کا مرکزی خیال کچھ یوں ہے کہ اگر انسان محنت کرے تو وہ اپنے حالات بہتر کر سکتا ہے۔ جس طرح گل خان نے اپنے عزم اور بھر پور قوتِ ارادی سے اپنے گھر کے حالات بدلے ۔ گو کہ اس طرزِ عمل میں وہ خود تو اعلیٰ تعلیم حاصل نہ کر سکا ۔مگر اس نے اپنے دوسرے بہن بھائیوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی  ۔اس طرح گل خان کا گھرانہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور خوش حال ہو گیا۔

٭٭٭

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s